Categories
پا کستا ن

حکمران جماعت میں بغاوت کا خدشہ! پی ٹی آئی میں آنے والے الیکٹ ایبلز اس وقت کیا سوچ رہے ہیں؟ سہیل وڑائچ اور مجیب الرحمان شامی نے عمران خان کو بُری خبر سُنا دی

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) ایک طرف ملک میں مہنگائی سے عوام پریشان ہیں تو دوسری جانب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں بھی بغاوت کا خدشہ ظاہر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جیو کے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی میں اسٹیبلشمنٹ

کے ساتھ مخاصمت کا نیا رویہ شروع ہوا اس کی وجہ سے پارٹی میں بغاوت کا خدشہ ہے اور ملک میں ہونے والی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے لوگ حکومت سے مطمئن نہیں ہیں ، اس صورتحال میں جب ملک میں احتجاج اور لانگ مارچ ہوں گے تو اس حکومت پر دباؤ مزید بڑھے گا۔اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے پروگرام میں موجود ایک اور سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ تحریک انصاف میں کھلبلی مچی ہوئی ہے کیوں کہ وہاں بہت سے لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں اور پی ٹی آئی میں شامل الیکٹ ایبلز آزاد حیثیت یا کسی دوسری جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا سوچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے لوگوں کو روکنے کیلئے مسلم لیگ ن میں انتشار کی باتیں شروع کی ہیں کیوں کہ وزیراعظم عمران خان کے ووٹ بینک میں کمی نظر آرہی ہے، پی ٹی آئی پر ووٹروں کا دباؤ برقرار رہا تو دوسری طاقتیں بھی غیرجانبدار ہوجائیں گی۔ادھر پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور سینئرقانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عمران خان کے جانے کا امکان کم ہے اگر گیا تو اپنی غلطی سے جائے گا ‘ فارن فنڈنگ کیس کی زد میں تمام جماعتیں آئیں گی‘ بلاول بھٹو نوجوان شریف خاندان سے آگے نکل گیا ہے اور بہت تیزی سے سیکھ رہا ہے ، وہ اے آر وائی نیوز کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ، جہاں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے تو 23 مارچ کا اعلان کیا لیکن بلاول نے پہلے ہی اعلان کردیا تاہم لانگ مارچ سے حکومت گرانا اتنا آسان نہیں ہے اور میرے خیال میں تو عمران خان کے پی میں دوبارہ حکومت کرلے گا۔اعتزازاحسن نے کہا کہ نوازشریف اورن لیگ آج بھی فرمانبردارہے، شاہدخاقان نے کہا ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھ دو، واضح کہا گیا وہاں سے ہاتھ اٹھاؤ اور یہاں پر رکھو لیکن ریاست برداشت نہیں کرتی کہ سابق وزیراعظم وعدہ کرکے ملک سے جائے پھر واپس نہ آئے ، اس لیے اب نوازشریف کےاقتدارمیں آنے کی بات میرے لیے انوکھی بات ہوگی ، ن لیگ تو اب تتر بتر ہوچکی ہے۔

Categories
پا کستا ن

پی ٹی آئی کے 80 فیصد صفایا ہونے کا وقت! نواز شریف کب واطن واپس آرہے ہیں؟ حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دینے والا انکشاف

لاہور( نیوز ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ حکومتی نورتنوں نے تو ریکارڈ ہی توڑ دیا ہے۔92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ میری نظر میں جس نے منی بجٹ منظور کرانا تھا انہوں نے کرایا،جب بھی مسئلہ آتا ہے تو عمران خان اپنے ترجمانوں کا اجلاس بلا لیتے ہیں،نوازشریف کی واپسی کا شوشہ چھوڑا

گیا۔نوازشریف بھی آنا نہیں چاہتے ،انہیں جب اشارہ ملے گا تو پیدل آ جائیں گے،پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ہوتے ہی پی ٹی آئی کا 80 فیصد صفایا ہو جائے گا۔یہاں واضح رہے کہ صوبائی وزیر بلدیات میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15مئی 2022ء کو منعقد ہوں گے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مقامی سطح پر بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر کام کرانے کی ذمہ داری ممبران قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کی نہیں ہوتی بلکہ مقامی نمائندوں کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کو قانون سازی کیلئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے متعدد مسائل کے باوجود مقامی اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے اقدامات کئے اورخیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں میئر کے عوام کی جانب سے براہ راست انتخابات کی تجویز سمیت کئی اصلاحات متعارف کراوئی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کو مضبوط کرنے کیلئے یہ تجویز بھی ایکٹ میں شامل کی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی حکومت بلدیاتی حکومت کو ختم کر دے تو الیکشن کمیشن 90سے 120دن کے اندر اگلے انتخابات کروائے۔انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کیلئے حلقہ بندیاں 25سال تک کرنے کی تجویز بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہوں گے۔ انہوں نے ڈپلومہ کے اجراء پر ڈاکٹر ارم خالد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے سوسائٹی میں آگاہی پیدا ہوگی اور لوکل باڈی سسٹم کو فروغ ملے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر نیازاحمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے گزشتہ تین برسوں میں سماجی و قتصادی مشکلات کے سد باب کیلئے کئی پروگرامز متعارف کراوئے ہیں۔

Categories
پا کستا ن

سانحہ مری!کونسے 2 بڑے بیوروکریٹس کو بچا کر ملبہ دیگر افراد پر ڈالا گیا؟ سینئر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف پنجاب سے فارغ ہے، پرویز الہیٰ نے مشورہ دیا ہے کہ اگر پنجاب میں الیکشن جیتنا ہے تو مہنگائی کم، ترقیاتی کام اور صوبے میں گڈ گورننس لانا ہو گی۔میری اطلاع کے مطابق مارچ سے پہلے بہت کام کیا جائے گا۔مئی تک مہنگائی میں

خاصا فرق آ چکا ہو گا اور ترقیاتی کام بھی ہو چکے ہوں گے۔شہباز شریف نے رائے پیش کی کہ موجود حالات میں احتجاجی مارچ پر نظرثانی کی جائے۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ سانحہ مری پر پنجاب کے دو بڑے بیوروکریٹس کو بچا گیا ہے۔یہاں واضح رہے کہ سانحہ مری کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے اور صورتحال کو سمجھ ہی نہ سکے۔سانحہ مری کی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو پیش کر گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق تمام متعلقہ محکمو ں کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ افسران واٹس ایپ پر چلتے رہے اور صورتحال کو سمجھ ہی نہ سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسران نے صورتحال کوسنجیدہ لیا نہ کسی پلان پرعمل کیا جبکہ کئی افسران نے واٹس ایپ میسج بھی تاخیر سے دیکھے۔ سی پی او، سی ٹی او بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے جبکہ محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122 کا مقامی آفس بھی ڈلیور نہ کرسکا اور ہائی وے محکمہ بھی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکو سانحہ مری کی انکوائری رپورٹ پیش کردی گئی اور15افسروں کو عہدوں سے ہٹا دیاگیاہے۔ان میں کمشنر راولپنڈی ڈویژن،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی،سی پی او،اے سی مری اوردیگر افسران شامل ہیں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے وزیراعلیٰ آفس میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات میں 15افسروں کو عہدوں سے ہٹا کرکارروائی کی جارہی ہے ۔کمشنر راولپنڈی ڈویژن کو عہدے سے ہٹاکر وفاقی حکومت کو بھیج دیاگیا ہے اورانہیں معطل کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کردی گئی ہیں اور انہیں معطل کرنے اورانضباطی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ اے سی مری کو معطل کر کے انضباطی کارروائی کاحکم دیاگیا ہے ۔سی پی او راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا کر ان کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کرکے معطل کرنے اورانضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔

Categories
خبریں

’’ اب تو بیشک مجھے ۔۔۔۔‘‘ ویڈیو دیکھنے کے بعد شرمیلا فاروقی کا نادیہ خان سے رابطہ، اداکارہ نے کیا جواب دیا؟

کراچی(نیوزڈیسک ) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے والدہ انیسہ فاروقی کے ساتھ نامناسب انداز میں ویڈیو بنانے کے معاملے پر اداکارہ و ٹی وی میزبان نادیہ خان کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کردیا۔نادیہ خان کی جانب سے رکن سندھ اسمبلی کی والدہ کے ساتھ چند دن قبل اداکارہ صبور علی اور علی

انصاری کی شادی کے دوران ویڈیو بنائی گئی تھی، جو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جہاں دیگر لوگوں نے نادیہ خان پر تنقید کی، وہیں شرمیلا فاروقی نے بھی ان کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔شرمیلا فاروقی نے ’دی کرنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے نادیہ خان کے رویے کو سستی شہرت کا طریقہ قرار دیتے ہوئے ان کے لیے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ نادیہ خان کو ایک عمر رسیدہ خاتون کے ہمراہ نامناسب انداز میں ویڈیو بنانے سے قبل کچھ شرم کرنا چاہیے تھا، انہیں سستی شہرت کے لیے ایسا رویہ نہیں اختیار کرنا چاہیے تھا۔رکن سندھ اسمبلی نے بتایا کہ انہوں نے والدہ کے ہمراہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نادیہ خان کو مسییج بھی کیا، جس پر میزبان نے انہیں بتایا کہ انہوں نے کوئی غلط ویڈیو نہیں بنائی اور نہ ہی انہوں نے کوئی نامناسب سوال پوچھا ہے، اس لیے ان کے خلاف واویلا بند کیا جائے۔شرمیلا فاروقی نے نادیہ خان کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میزبان ان کی والدہ کے بجائے کسی اور خاتون کے ساتھ بھی ایسی ویڈیو بناتیں تو بھی ان کے خلاف ایکشن لیتیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما کا کہنا تھا کہ وہ شوبز کے لوگوں کی بہت عزت قدر کرتی ہیں، فنکار برادری سخت محنت طلب کام کرتے ہیں مگر نادیہ خان کا رویہ ناقابل برداشت تھا، کیوں کہ ان کی والدہ اس وقت مشکل وقت سے گزر رہی ہیں۔شرمیلا فاروقی کے مطابق تین ماہ قبل ہی ان کے والد انتقال کر گئے تھے اور ان کی عمر رسیدہ والدہ شوہر کی وفات کے بعد پہلی بار کسی شادی کی تقریب میں گئی تھیں مگر نادیہ خان نے ان کے ساتھ میک اپ کے معاملے پر نامناسب انداز میں ویڈیو بنائی۔شرمیلا فاروقی نے اعلان کیا کہ وہ نادیہ خان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی، وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم کو تحریری درخواست دیں گی جب کہ انہیں عدالت سے بھی رجوع کرنا پڑا تو بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔دوسری جانب نادیہ خان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عام لوگوں نے بھی ان پر تنقید کی اور میزبان کے رویے کو نامناسب قرار دیا اور لکھا کہ وہ کون ہوتی ہیں دوسرے کے فیشن، لباس اور میک اپ پر سوال اٹھانے والی؟وائرل ہونے والی ویڈیو میں نادیہ خان کو شرمیلا فاروقی کی عمر رسیدہ والدہ سے میک اپ، لباس اور زیورات سے متعلق سوال کیے گئے مگر میزبان کا انداز تمسخر اڑانے والا تھا، جس وجہ سے ان پر خوب تنقید کی جا رہی ہے۔نادیہ خان نے فوری طور پر لوگوں کی تنقید اور شرمیلا فاروقی کی جانب سے قانونی کارروائی کے اعلان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

Categories
پا کستا ن

بیان حلفی کیس!! اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم پر فرد جرم عائد کردی گئی ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافیوں کے خلاف فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی

سماعت ہوئی ، عدالت نے رانا شمیم کے بیان حلفی کو فرد جرم کا حصہ بنایا ، دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا رانا شمیم سے مکالمہ ہوا ، جس میں انہوں نے کہا کہ میں آپ پر فرد جرم عائد کر رہا ہوں آپ سنیں ، اس کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے رانا شمیم کو فرد جرم پڑھ کر سنائی ، جس میں کہا گیا کہ آپ نے انگلینڈ میں بیان حلفی ریکارڈ کرایا ، آپ نے کہا چیف جسٹس ثاقب نثار چھٹیوں پر گلگت بلتستان آئے ، آپ کے مطابق انہوں نے ہدایات دیں کہ نواز شریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے چاہئیں ۔اس دوران رانا شمیم نے صحت جرم سے انکار کردیا ، انہوں نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک تاریخ دے دیتے ہیں آپ جواب جمع کرادیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی۔ قبل ازیں عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اخبار کے ایک آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثار سے نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے ، لوگوں کو بتایا گیا کہ اس کورٹ کے ججز کمپرومائزڈ ہیں ، ایک کیس 2 دن بعد سماعت کے لیے فکس تھا جب خبر شائع کی گئی ، کھل کر بات کرتا ہوں ہمارے پاس چھپانے کو کچھ بھی نہیں ہے ، ہمارا ثاقب نثار سے یا کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے ، کیا کریں ہم خاموشی سے بیٹھ کر لوگوں کا اعتماد ختم ہونے دیں ، اگر کوئی غلطی تھی تو ہمیں بتا دیں ہم بھی اس پر ایکشن لیں گے ، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو ہم چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا؟ اتنا بڑا اخبار کہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہو گی۔

Categories
اسپشیل اسٹوریز

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اس تصویر کے پیچھے کیاکہانی ہے؟

لاہور(ویب ڈیسک)رپورٹس کے مطابق یہ تصویر جنوری 2021 میں برازیل( جو کہ کورونا سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے) میں کورونا ویکسینیشن مہم کے آغاز پر لی گئی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں ویکسین لگوانے کیلئے مقامی افرادکتنی جدوجہد کرتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی

کے مطابق انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اس تصویر میں ایک مقامی شخص اپنے والد کو پیٹھ پر اٹھائے کورونا ویکسین لگوانے کیلئے لے جارہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ تصویر ڈاکٹر ایرک جیننگز سیموز نے کھینچی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کورونا ویکیسن لگنے کے بعد 24 سالہ تاوی نے 67 سالہ واہو کو اپنی پیٹھ پر بٹھا رکھا ہے جنہیں ویکسینیشن سینڑ تک پہنچنے کیلئے جنگل سے گھنٹوں پیدل سفر کر نا پڑا۔تاوی اور واہو کا تعلق برازیل کی زوئی مقامی کمیونٹی سے ہے جس کے تقریباً 325 ارکان ہیں، وہ شمالی پارا ریاست میں 1.2 ملین فٹ بال کے میدانوں کے برابر علاقے میں درجنوں دیہاتوں میں نسبتاً تنہائی میں رہتے ہیں۔تصویر لینے والے ڈاکٹر سیموز نے کہا کہ واہو مشکل سے کچھ دیکھ اور پیشاب کی دائمی پریشانیوں کی وجہ سے مشکل سے چل سکتا تھا۔ڈاکٹر سیموز کے مطابق تاوی اپنے والد کو 5 سے 6گھنٹے تک اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے تھا جبکہ یہ باپ بیٹے کے درمیان پیارے تعلقات کا ایک بہت ہی خوبصورت منظر تھا۔ڈاکٹر سیموز نے اس تصویر کو پہلی بار اس سال 1 جنوری کو انسٹاگرام پر شیئر کیا تاکہ وہ نئے سال کے آغاز پر ایک مثبت پیغام بھیج سکیں۔اطلاعات کے مطابق جب برازیل میں کورونا کے خلاف ویکسینیشن شروع ہوئی تو مقامی لوگوں کو ترجیحی گروپ سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں آنے والی میڈیکل کی ٹیموں کے لیے ایک چیلنج تھا کہ وہ ہر گاؤں میں جاکر سب کو ویکسین لگائیں جس میں کئی ہفتے لگتے۔چنانچہ میڈیکل ٹیموں نے جنگل میں جھونپڑیاں قائم کیں اور ریڈیو کے ذریعے کمیونٹیز کے ساتھ ویکسینیشن کے نظام پر اتفاق کیا۔ڈاکٹر سیموز کے مطابق ہم نے ویکسینیشن کیلئے ایسے طریقوں کو اپنایا جو زوئی کے لوگوں کی ثقافت اور علم کا احترام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ستمبر میں واہو کی موت ہوئی تاہم اس کی موت کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں جبکہ تاوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے اور حال ہی میں اس نے اپنی ویکسین کی تیسری خوراک لی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برازیل میں 853 مقامی افراد کورونا کی وجہ سے مر چکے ہیں لیکن مقامی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ برازیل کی ایک این جی او ایپب کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ صرف مارچ 2020 سے مارچ 2021 کے درمیان کورونا سے ایک ہزار مقامی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Categories
اسپشیل اسٹوریز

کیا اسلام میں عدت کے اندر نکاح کرنے کی اجازت ہے ؟نامور کالم نگار انصار عباسی نے لاہور ہائی کورٹ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے دریا کو کوزے میں بند کر دیا

’’لاہور(ویب ڈیسک)ایک شخص امیر بخش کی بیوی نے عدالت سے خلع حاصل کی اور اُس سے اگلے روز دوسرے شخص اسماعیل سے نکاح کر لیا، اس پر سابق شوہر امیر بخش نے اپنی سابقہ بیوی اور اسماعیل پر زنا کا مقدمہ دائر کیا کہ ان دونوں نے عدت کے اندر نکاح کیا ہے جو شریعت کی رو سے ممنوع ہے۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ یہ نکاح باطل نہیں ہے، بے قاعدہ ہے اور اس بنا پر انہوں نے مدعی کے مقدمے کو خارج کر دیا، اس بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے؟‘‘ حال ہی میں قومی اخبارات میں اس بارے میں خبر شائع ہونے پر یہ سوال محترم مفتی منیب الرحمان سے کسی شہری نے پوچھا جس پر اُنہوں نے تفصیلاً کوئی چھ صفحات کا فتوی جاری کیا۔مفتی صاحب نے قرآن و سنت کا حوالے دیتے ہوے کہا کہ جو عورت طلاق، خلع یا وفات کی عدت گزار رہی ہے، اس کے لیے عدت پوری ہونے سے پہلے کسی اجنبی شخص سے نکاح کرنا شریعت کی روح سے حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ طلاق و وفات کی عدت گزارنا لازم اور فرض ہے اور جب عدت پوری ہو جائے تو عورت اپنی آزادانہ مرضی سے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ مفتی منیب کے فتوی کے مطابق اگر جانتے بوجھتے اور حرمت کا علم ہونے کے باوجود عدت کے اندر نکاح ہوا تو یہ نکاح باطل اور سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا اور بعض اہل علم کے بقول ایسے شخص پر حد زنا جاری کی جائے گی۔ اور اگر نکاح کی حرمت کا علم نہ ہو تو نکاح فاسد طور پر منعقد ہو جائے گا، لیکن دونوں صورتوں میں زوجین پر فوراً علیحدگی اور فرقت اختیار کرنا لازم و فرض ہے۔مفتی صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص معتدہ سے نکاح کا علم ہونے کے باوجود اس فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے تو

اسلامی حکومت اس کو تعزیراً سزا دے سکتی ہے اور یہ قاضی کے صوابدید پر ہے۔ مفتی صاحب کے مطابق چاروں فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا، جو کسی اور کی عدت میں تھی، تو نکاح فاسد ہے۔ اسلامی حوالوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:’’خلاصہ یہ کہ عدالتِ عالیہ کا فیصلہ اس حد تک درست ہے کہ مذکورہ کیس میں مرد اور عورت دونوں پر زنا کی حد واجب نہیں ہو گی، لیکن شریعت کی رو سے یہ فیصلہ ناقص اور نامکمل ہے، عدالت پر لازم تھا کہ فوراً ان دونوں کے درمیان تفریق کر دیتی اور ان دونوں کو تعزیراً کوئی نہ کوئی سزا دی جاتی تاکہ آئندہ لوگوں کو ایسے فعلِ حرام کے ارتکاب پر تنبیہ ہو اور سب کے علم میں یہ بات آ جائے۔ اس کے برعکس عدالت نے ان کے ناجائز نکاح کو محض ’بے قاعدہ‘ کہہ کر رشتہ ازدواج کو جاری رکھا، یہ شریعت کی رو سے درست نہیں ہے، کیوں کہ عدت کے دوران علم کے باوجود نکاح اصلاً منعقد نہیں ہوا، پس عدالت کو اپنے فیصلہ پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔‘‘میں نے جب اخبار میں یہ خبر پڑھی تو سوچا کہ عدالت نے یہ کیسا فیصلہ کیا ہے لیکن جب مفتی منیب صاحب کا تفصیلی فتوی پڑھا تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہواکہ ہے ہماری عدالتیں جو انگریز دور کی پیداوار ہیں وہ اسلامی اور شرعی معاملات پر کیوں ایسے فیصلے دیتی ہیں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔ ایسے مقدمات خود سننے کی بجائے یا تو وفاقی شرعی عدالت کو بجھوا دیا کریں یا شرعی نوعیت کے سوالات اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج کر رہنمائی حاصل کر لیا کریں۔ ایسا نہیں ہو گا تو ایسے ہی فیصلے ہوں گے، جن سے اسلامی احکامات کے منافی عمل کو سختی سے رد کرنے کی بجائے جائز قرار دیا جاتا رہے گا جو اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک اور مسلمانوں کے معاشرہ میں خربیاں پیدا کرنے کا تو سبب بن سکتا ہے لیکن ایسے فیصلوں سے کوئی بھلائی اور خیر برآمد نہیں ہو سکتی بلکہ معاشرہ گناہ کی طرف گامزن ہو گا ۔ میری چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ کا فوری نوٹس لیں۔

Categories
اسپشیل اسٹوریز

ایک کلو سونے سے تیار کردہ سورۃ رحمٰن عالمی نمائش کیلئے پیش ، تصاویر دیکھ کر آپ بھی سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

لاہور(ویب ڈیسک)عالمی نمائش دبئی ایکسپو 2020 میں پاکستانی پویلین میں دنیا کے سب سے بڑے قرآن پاک میں شامل سورۃ رحمٰن کو بھی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی نمائش میں کراچی سے تعلق رکھنے والے شاہد رسام کا تیار کردہ دنیا کے سب سے بڑے قرآن پاک کا

نسخہ پیش کیا جائے گا۔نمائش میں ایوارڈ یافتہ آرٹسٹ اور یو اے ای میں مقیم پاکستانی شاہد رسام 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار کینوس پر ایلومینیم اور سونے سے لکھے گئے قرآن پاک میں شامل سورۃ رحمٰن پیش کریں گے۔عرب میڈیا کے مطابق شاہد رسام کا پراجیکٹ 24 جنوری کو دبئی ایکسپو 2020 میں پاکستانی پویلین کے باہر پیش کیا جائے گا۔خلیج ٹائمز کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں شاہد رسام کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کے نسخے کی نمائش نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی بلکہ اپنی نوعیت کی منفرد نمائش ہوگی، یہ اس حوالے سے زیادہ منفرد ہے کہ اس کے لفظ سیاہی سے لکھنے کے بجائے سونے سے تیار کیے گئے ہیں۔شاہد رسام نے بتایا کہ 1585 حروف، 352 کلمات، 78 آیات اور 3 رکوع پر مشتمل سورۃ رحمٰن کو اعلیٰ معیار کے کینوس پر سونے اور ایلومینیم کے ساتھ تیارکیا گیا ہے، سورۃ رحمٰن کی تیاری میں 15 کلو ایلومینیم اور ایک کلو سونے کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس پراجیکٹ کو 200 آرٹسٹ، پینٹرز ، کیلیگرافرز، ڈیزائنرز اور اسکلپٹرز کی مدد سے 4 ماہ میں تیار کیا گیا ہے۔شاہد رسام کے مطابق نمائش میں سورۃ رحمٰن 6 صفحات پر پیش کی جائے گی، پہلے دو صفحات کے ہر صفحے پر 5 سطریں جبکہ باقی 4 صفحات پر 10،10سطریں اور مکمل سورۃ میں 50 سطریں ہیں۔

Categories
اسپشیل اسٹوریز

دنیا کے پراسرار دروازے جو آج تک نہیں کھولے جاسکے، ان میں کیا بڑے راز پوشیدہ ہیں؟ جانئے

لاہور(ویب ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کئی ایسے پراسرار دروازے ہیں جو ایک لمبے عرصے سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر اسرار دروازوں کو نہ تو آج تک کوئی کھول پایا ہے اور نہ ہی کسی نے کھولنے کی کوشش کی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان دروازوں کو شاید

کسی منتر کی مدد سے تالہ لگایا گیا ہے کہ جسے کھول پانا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ یہ بات اب تک واضح نہیں ہو سکی کہ ان دروازوں کو کس نے بند کیا تھا۔آج ہم ایسے ہی کچھ ایسے ہی پراسرار دروازوں کا ذکر کرنے والے ہیں جو آج تک نہیں کھلے ہیں ۔ Padmanabhaswamy Temple یہ مندر انڈیا کی ریاست میں ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے مہنگا مندر بھی کہلاتا ہے کیونکہ اس کو سونے کی مدد سے بنایا گیا تھا۔ یہ دراصل ہندوؤں کے بھگوان وشنو کا مندر ہے ۔ ایک شاہی فیملی نے اپنا بہت سا پیسہ لگاکر اس کی مرمت کروائی تھی ۔اور اپنا بہت سا خزانہ اس فیملی نے اس مندر کے تہہ خانوں میں چھپا دیا تھا ۔یہ تجوریاں گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑی تھی اور اسے کھولنے کی اجازت کسی کوبھی نہیں تھی سال 2011 میں جب حکومت نے اسے کھولنے کی منظوری دی تو وہاں کے لوگوں نے انھیں خبردار کیا کہ اگر اس دروازے کو کھولا گیا تو ہر چیز تباہ ہوجائے گی ۔لیکن اس دروازے کو کھولنے کے لیے ایک کمیٹی بنی جنہوں نے اس دروازے اور تجوریوں کو کھولا تو انھیں 6 میں سے 5 تجوریوں میں قیمتی اشیا ملی اور 1 تجوری اب تک کھولی نہیں جاسکی- The Hall of Record آپ نے ٹی وی وغیرہ میں مصر میں واقع the great spain of giza کی مورتی تو دیکھی ہوگی۔ اس مورتی کا سر انسان نما اور دھڑ کسی بڑے جنگلی شیر جیسا ہے۔ایسا ممکن نہیں کہ اس کے

اندر کوئی پر اسراریت نہ ہو۔ اس پر آج بھی ماہرین کی تحقیق کا سلسلہ جاری ہے ۔ کچھ سائنسدانوں کے مطابق اس مورتی کے اندر بڑے بڑے ہال ہیں ۔لیکن کیا اس ہال کے نیچے کچھ ایسا دفن ہے جسے کھودنے کی اجازت مصری حکومت آج تک نہ دے پائی۔ لیکن کچھ اہل عقل یہ بھی بیان کرتے نظر آئے ہیں کہ ان دروازوں کو بند ہی رہنا چاہیے اور ان راز کو راز ہی رہنا چاہیے ۔ Mausoleum of First Qin Emperor دو بھائی چین کے ایک شہر میں کنویں کی کھدائی میں مصروف تھے ۔تو انھیں اس دوران انسانی تاریخ کے کے سب سے بڑے آثارِ قدیمہ کا سراغ ملااور انھیں زیر زمین مٹی کے پتلے ملنے شروع ہوئے ۔ غرض کہ انھیں اس جگہ سے مزید ایسے ہزاروں پتلوں کا احساس ہوا۔ان میں سے کئی پتلے قدیم سپاہیوں کے تھے جنھیں نہایت مہارت سے تراشا گیا تھا۔ یہ پتلوں کا بڑا قبرستان دراصل ایک چینی بادشاہ کی سلطنت تھی ۔اس قبرستان کے ارد گرد کا حصہ بہت بڑا ہے جسے کھودنے میں دہائیاں لگ سکتی پیں۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس کو بند ہی رہنا چاہیے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جن دو بھائی نے اس چیز کو دریافت کیا تھا ۔وہ لوگ بیماریوں کی زد میں آکر مر گئے ۔ان کے انجام کو دیکھنے کے بعد اس مزار کے دروازے کھولنے سے لوگ آج بھی خوف زدہ ہیں ۔ Banff Springs Hotel Room 873ایک ہوٹل روم اتنا ڈراؤنا ہوسکتا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے تالہ لگانا پڑسکتا ہے- یہ ایک ایسا ہوٹل ہے جو کہ کینڈا میں واقع ہے۔ اس ہوٹل کے بارے میں مشہور ہے کہ اس میں ایک ایسا کمرہ موجود ہے جس کا نمبر 873 ہے اور اس میں ایک فیملی ٹہری تھی ۔مگر جب صبح ملازمین نے دروازہ کھولا تو پوری فیملی کو مردہ حالت میں پایا اور دیواروں پر خون کے نشان تھے ۔جس کے بعد اس کمرے کو سب کے لیے بند کردیا گیا آج بھی اس ہوٹل میں ٹہرنے والے لوگوں کو کچھ پراسرار چیزیں نظر آتی ہیں ۔اور اس کمرے کے تالے کو آج تک نہ کھولا جاسکا۔ The Hidden Chamber of Taj Mahal تاج محل سات عجوبوں میں سے ایک دلکش عجوبہ ہے ۔جس کے بارے میں ہم سب ہی جانتے ہیں مگر اس کے اندر پائے جانے والے خفیہ چیمبر سے بہت کم لوگ واقفیت رکھتے ہیں ۔۔ اسے شاہ جہان نے اپنی لاڈلی بیگم ممتاز کے لیے بنایا تھا ۔ تاج محل کے کئی خفیہ دروازے بھی بنائے گئے تھے لیکں آج ان دروازوں کو مکمل سیل کردیا گیا ہے ۔کچھ لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ ان کے پیچھے ان کے دیوتاؤں کی مورتیاں چھپائی گئی ہیں ۔ کہا جاتا ہے یہ مورتیاں یہاں اس لیے چھپائی گئی تھی کیوںکہ تاج محل پہلے مندر تھا لیکن اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا غلط ہوگا-

Categories
اسپشیل اسٹوریز

چاند پر موجود پراسرار گھر، یہ کس کا ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

بیجنگ (ویب ڈیسک )چین کا خلائی مشن چاند کے تاریک حصے پر اترنے والا دنیا کا پہلا مشن تھا جس نے 2019 کے آغاز میں یہ کامیابی حاصل کی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس مشن کے یوٹو 2 نامی روور نے دسمبر 2020 میں چاند کے اس دور دراز حصے مین ایک پراسرار ہٹ یا گھرکیتصاویر کھینچی تھیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور متعدد افواہیں بھی پھیلیں۔اب جاکر چینی روور نے اس پراسرار ہٹ کا راز جان لیا ۔درحقیقت یہ ہٹ ایک چٹانی پتھر ہے جس کی نئی تصاویر اب اس روور نے ارسال کیں جس کے بعد

یہ راز کھل گیا۔کیوب ساخت کا یہ ہٹ ایک چھوٹی چٹان ہے جو ایک گڑھے کے کنارے پر موجود ہے۔پہلی تصویر میں بہت دور ہونے کی وجہ سے یہ چٹان زیادہ بڑی اور زیادہ پراسرار لگی تھی مگر اس کے قریب جانے پر روور اس کی حقیقت جاننے میں کامیاب ہوا۔اس چٹان کی ساخت دیکھتے ہوئے اسے جیڈ ریبٹ کی عرفیت دی گئی ہے کیونکہ وہ کسی ایسے خرگوش کی طرح نظر آتی ہے جس کے سامنے کچھ گاجریں موجود ہوں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یوٹو 2 روور کا ترجمہ جیڈ ریبٹ ہی بنتا ہے تو اس نے اپنا میسکوٹ چاند پر دریافت کرلیا ہے۔