Categories
پاکستان

شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام!!! وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کا فوری رہائی کا حکم

لاہور: (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہے، ان کی رہائی کا حکم دیا ہے، کسی بھی خاتون کی گرفتاری ماشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کو گرفتار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شیریں مزاری کے خلاف ڈی جی خان میں ایک مقدمہ درج ہوا تھا جس پر انہیں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود میں گرفتار کیا۔ اسلام آباد پولیس نے بھی ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کو اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ پنجاب نے پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی نے بھی شیریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بتایا کہ شیریں مزاری کو کچھ دیر قبل ان کی رہائشگاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ افتخار درانی نے پاکستان تحریک انصاف کے تمام کارکنان کو تھانہ کوہسار کے باہر پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔ دوسری جانب شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری کا اس حوالے سے دعویٰ ہے کہ ان کی والدہ کو مرد پولیس اہلکاروں نے مارا، اینٹی کرپشن پنجاب کے مرد پولیس اہلکار شیریں مزاری کو مارتے ہوئے ساتھ لے گئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب والے شیریں مزاری کو لے کر ڈیرہ غازی خان روانہ ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کے طور پر لیا جائے گا اور اس گرفتاری سے شیریں مزاری کو نقصان نہیں بلکہ سیاسی طور پر بہت فائدہ ہو گا۔

Categories
منتخب کالم

اگر جلد انتخابات کا اعلان نہ ہوا اور عمران خان کی کال پر کارکنوں کو اسلام آباد داخل نہ ہونے دیا گیا تو کپتان کا اگلا پلان کیا ہو گا ؟ امکانات سامنے رکھ دیے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ابہام،مخمصہ ،کنفیوژن، بے یقینی اورگھبراہٹ ۔ سب نے جمع ہو کر سوال کی شکل اختیار کر لی ہے۔ سوال قطاریں بنا کر بے چینی سے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہیں اور اب رفتہ رفتہ دائروں کی شکل اختیار کرنے لگے ہیں ۔

دائروں میں کھڑے ان سوالوں کا جواب دینے والا شخص دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ۔ ابہام کنفیوژن میںبدل رہا ہے ، کنفیوژن بے چینی کی شکل اختیار کر رہی ہے ۔ بے چینی عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔ عدم استحکام سوالوں کا جواب نہ ملنے کی وجہ سے پھیلتا جا رہا ہے ۔ شاید جواب مل جائے تو لوگوں کوکچھ چین ہی آ جائے ۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ سوال کیا ہیں جن کے جواب یا تو کسی کے پاس ہیں نہیں یا پھر کوئی دینے کو تیار نہیں ہے ۔آئیے چند نمائندہ سوالوں پہ ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ بہت سے سوال تو معیشت ، مہنگائی اور کاروبار سے متعلق لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے جا رہی ہیں یا نہیں ؟آن کی آن میں ڈبل سینچری کرنے والا ڈالر کہاں جا کر رکے گا؟آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکج ملے گا یا نہیں ؟اسٹاک مارکیٹ کے حالات میں بہتری کی صورت کیا ہے؟مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا انتظار؟ کچھ سوال عمران خان کی ممکنہ حکمت عملی سے متعلق ہیں ۔عمران خان کا اسلام آباد پلان کیا ہے ؟ کیا عمران خان اسلام آباد میں دھرنا دینے جا رہے ہیں ؟ کیا عمران خان کو اسلام آباد آنے دیا جائے گا؟کیا عمران خان کا احتجاج پُرامن ہو گا؟اگر عمران خان کے کارکنوں کو روکا گیا تو کیا ہو گا؟کیا روکے جانے کی صورت میں عمران خان پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو جام کر سکتے ہیں؟ ملک جام ہو گیا تو نظام کیسے چلے گا؟

کیا عمران خان فوری انتخابات حاصل کر پائیں گے؟ اگر انتخابات کا اعلان ہو گیا تو وہ جیت جائیں گے کیا انہیں دوبارہ آنے دیا جائے گا؟نہ آ سکے تو کیا نتائج تسلیم کر کے گھر بیٹھ جائیں گے یا سڑکوں پہ نکلیں گے۔سڑکوں پہ نکل آئے تو کیا ملک میں سیاسی استحکام آئے گا یا بے چینی برقرار رہے گی؟ کیا نواز شریف بھی فوری انتخابات کے حق میں ہیں ؟کیا اس سلسلے میں نواز شریف اور شہباز شریف کی رائے مختلف ہے؟فوری انتخابات میں نہیں جاتے تو بگڑتی معیشت کو کیسے سنبھالیں گے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھائیں گے تو مہنگائی کو بڑھنے سے کیسے روکیں گے؟مہنگائی آسمان کو پہنچی تو اپنی ساکھ کیسے بچائیں گے اوربے رحم انتخابی میدان میں کیسے اتریں گے؟موجودہ حالات میں الیکشن ہوئے تو عوام کسے منتخب کریں گے؟ پانچ مہینے بعد انتخابات ہوئے تو عوام کا فیصلہ مختلف ہو گا؟ آرٹیکل 63-A کی تشریح کے بعد پنجاب کے حوالے سے بھی کئی سوال اٹھ گئے ہیں ۔ پنجاب میں کس کی حکومت ہے ؟ حمزہ شہباز وزیر اعلی رہے ہیں یا نہیں؟پنجاب میں اب اکثریت کس کے پاس ہے ؟ گورنر کون ہے؟ کیا گورنر حمزہ شہباز کو اعتماد کو ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے؟ اگرگورنر نے حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہ کہا تو کیا وہ اقلیت رکھتے ہوئے بھی وزیر اعلی برقرار رہ سکتے ہیں؟ پنجاب میں دوبارہ ووٹنگ ہوئی تو کون وزیر اعلی بنے گا؟ اگر پنجاب تحریک انصاف کے پاس واپس آ گیا تو عمران خان پنجاب اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کریں گے؟

پنجاب میں عدم استحکام برقرار رہا تو وفاق میں استحکام آ سکتا ہے؟ کیا پنجاب میں گورنر راج بھی لگ سکتا ہے ؟ سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کا شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟کیا سپریم کورٹ ایف آئی اے میں ہونے والی ٹرانسفرز پوسٹنگز روک دے گی۔ سپریم کورٹ نے تمام کیسوں کا ریکارڈ کیوں منگوایا ہے ؟ کیا ایف آئی اے شہباز شریف کے منی لانڈرنگ کیسز کی پراسکیوشن سے انکار کر سکتی ہے ؟ کیا واقعی ریکارڈ میں تیزی سے ردوبدل ہو رہا ہے؟ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد کیا شہبازشریف کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں؟ کیا شہباز شریف کا مختصر وقت کے لیے حکومت لینے کا مقصد اپنے کیسز ختم یا کمزور کرنا تھا؟ کیا شہباز شریف اب اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائیں گے؟ نواز شریف کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور ان کے کیسز کا کیا ہو گا؟کیا وہ جلد واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا موجودہ حکومت ان کی سزا ختم یا معطل کرنے پر غور کر رہی ہے؟ کیا سپریم کورٹ حکومت کو ایسا کرنے دے گی؟اگر نواز شریف واپس آ کر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیتے تو ن لیگ کی مہم پر کتنا اثر پڑے گا؟ عمران خان کی خواہش کیا ہو گی نواز شریف واپس آ کر جیل جائیں یا لندن میں ہی مقیم رہیں ۔تحریک انصاف اور ن لیگ کے لیے کونسی صورت فائدہ مند ہے ؟ مریم نواز کا مستقبل کیا ہے؟ کیا انتخابات سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلنے والی اپیلوں کا فیصلہ آ جائے گا؟ مریم کی سزا ختم ہو گئی تو ن لیگ کا وزیر اعظم کے لیے امیدوار کون ہو گا؟ مریم نواز کیسز سے نکل آئیں تو نواز شریف پھر بھی شہباز شریف کو ہی وزیر اعظم کا امیدوار بنانا چاہیں گے؟ چند اہم سوال اور بھی ہیں ۔اس سارے معاملے کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مقتدر حلقے کس طرح دیکھ رہے ہیں ؟یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس ساری صورتحال کو سیاستدانوں پر چھوڑ کر اطمینان سے بیٹھے ہوں۔پچھلی حکومت کی طرف سے دی گئی قومی سلامتی پالیسی میں واضح کیا گیا تھا کہ معیشت اور امن وامان کا آپس میں گہرا تعلق ہے، معاشی صورتحال گھمبیر ہوئی تو ملکی امن و امان خطرے میں پڑ سکتاہے۔لہذا اہم سوال یہ ہے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے؟ موجودہ صورتحال نے بے شمار سوالوں کو جنم دیا ہے اور ان سوالوں نے عوام کو گھیر رکھا ہے۔ابہام کنفیوژن میںبدل رہا ہے ، کنفیوژن بے چینی کی شکل اختیار کر رہی ہے ۔ بے چینی عدم استحکام کو جنم دے رہی ہے۔ عدم استحکام سوالوں کا جواب نہ ملنے کی وجہ سے پھیلتا جا رہا ہے ۔ شاید جواب مل جائے تو لوگوں کوکچھ چین ہی آ جائے ۔

Categories
منتخب کالم

ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو پاکستانی سیاست سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے ؟ بڑے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رانا زاہد اقبال اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حالیہ واقعات سے لگتا ہے کہ ہم مکمل انارکی کے قریب آ رہے ہے۔ جدید ریاست میں عوام کی تائید و حمایت سے قائم ہونے والے منتخب اداروں کو حاکمیت اعلیٰ کا حقدار تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی

ہے اور نظمِ ریاست چلانے کا اختیار منتخب اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ آئین سازی کے فرائض سر انجام دیتی رہی ہے اور اسی کو آئین میں ترمیم کا اختیار ہے۔ قانون سازی بھی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آئین میں طباعت کی حد تک تو یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر تاریخی تناظر میں دیکھیں تو عملی صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں مینڈیٹ کی چوری عام ہے۔ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی کی حکومت کو فارغ کیا گیا جس کا تذکرہ آج کل سابق وزیرِ اعظم عمران خان ملک کے طول و عرض میں کئے جانے والے جلسوں میں کر رہے ہیں۔ہماری سیاسی تاریخ میں یہ کوئی پہلی واردات نہیں تھی بلکہ اس سے قبل بھی یہ واردات کئی بار ہوئی۔ بس چہرے بدلتے رہے، کبھی کبھار طریقۂ واردات میں تبدیلی آتی رہی۔ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ منصوبے بناتی ہے کسی ایک گروہ کو ساتھ ملاتے اور آخر میں منصفوں سے اپنے حق میں فیصلہ لیتے۔ ہر دفعہ عوام کے مینڈیٹ کے دیواروں میں نقب لگتی لیکن مجبور اور بے بس عوام رو دھو کر چپ ہو جاتے۔ہم نے دیکھا کہ اسی کی دہائی کے آخر میں محمد خان جونیجو کی حکومت اورا سمبلی کے ساتھ یہ کھیل کھیلا گیا، جنرل ضیاء الحق مرحوم محمد خان جونیجو کو ایک کمزور شخصیت سمجھ کر اقتدار میں لائے، خیال تھا کہ ان کے کمزور کندھوں پر رکھ کر آمریت کی بن دوق چلتی رہے گی، اقتدار ضیاء الحق کا ہو گا، سامنا کرنا پڑے گا جونیجو حکومت اور ان

کی دکھاوے کی کابینہ کو۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ جونیجو مرحوم نے اپنی اتھارٹی رجسٹر کرانا شروع کر دی۔ جنیوا معاہدہ، ایمر جنسی کا خاتمہ، آئی بی کے سربراہ میجر جنرل (ر) آغا نیک محمد کی برطرفی، صاحبزادہ یعقوب خان کو کابینہ سے نکال باہر کرنا، بیورو کریسی کو نکیل ڈالنا وغیرہ وغیرہ ضیاء الحق اتنے تنگ آئے کہ انہوں 29 مئی 1988ء کو جونیجو حکومت برطرف کر دی، اسمبلی توڑ دی، الزام تھا کہ جونیجو حکومت بدعنوان ہے۔ امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور اسلامائزیشن کا عمل بھی بہت سست رفتار ہے۔ اسی دوران حاجی سیف اللہ اسمبلیوں کی برطرفی کو چیلنج کر چکے تھے، مقدمہ چلتا رہا، برطرفی کے الزامات اتنے مضحکہ خیز اور بے سروپا تھے کہ صاف نظر آنا شروع ہو گیا کہ سپریم کورٹ اسمبلی اور حکومت بحال کر دے گی۔ آخرکار 5 اکتوبر 1988ء فیصلے کا دن آ پہنچا۔ فیصلہ اس قدر یقینی تھا کہ جونیجو مرحوم اپنی ساری کابینہ کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے لیکن جو فیصلہ آیا اس کے مطابق جونیجو حکومت کی برطرفی غیر آئینی اور غیر قانونی تھی،لیکن چونکہ عام انتخابات کا اعلان ہو چکا، قوم انتخابی عمل کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا اسمبلی اور حکومت بحال نہیں کی جا سکتی۔ مرحوم جنرل اسلم بیگ سے ریٹائر منٹ کے بعد 4فروری 1993ء کو لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں مدعو تھے، تب اسلم بیگ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا 5 اکتوبر 1988ء کو جونیجو کی حکومت اور اسمبلی بحال ہونے کا فیصلہ ہو

چکا تھا۔اسلم بیگ کے بقول جونہی ان کو خفیہ ایجنسیوں نے اطلاع پہنچائی وہ فوراً متحرک ہو گئے اور اس بات کو دباؤ ڈال کر یقینی بنایا کہ اسمبلیاں بحال نہ کی جائیں۔ جونیجو حکومت کا مینڈیٹ چوری ہوا۔ ایسی چوری اور وارداتوں کی نہ جانے کتنی وارداتیں وقت کے سینے میں پوشیدہ ہیں۔ اب ایک بار پھر پی ٹی آئی کی حکومت کو جس طرح فارغ کیا گیا وہ بھی بڑا مثالی ہے جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کی معاونت سے کام سر انجام دیا وہ کوئی اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور عوام اس پر سراپا احتجاج ہیں اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے واضح طور پر آج کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کو چارج شیٹ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ نیوٹرلز سے میری مراد فوج ہی ہوتی ہے۔ میری حکومت کو انہوں نے کبھی مضبوط ہی نہیں ہونے دیا۔ یہ چاہتے تو نیب اور عدالتیں بدعنوانی کیسز میں فیصلہ دیتیں۔ 1988ء کی جونیجو حکومت کے بعد جس طرح حکومتیں تبدیل ہوئیں سب سامنے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سیاست میں بہت گہرائی تک اتر چکی ہے۔ اسے یہاں سے نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے یہ محض الیکشنوں سے نہیں نکل سکے گی بلکہ اس کے لئے فوج کو خود سے سوچنا ہو گا کہ ملک کا مفاد کس بات میں ہے اور عوام کیا چاہتے ہیں موجودہ حالات میں عوام کا غصہ ہر ایک کو نظر آ رہا ہے۔1912ء سے لے کر 2001ء تک ترکی میں فوج بہت طاقتور تھی۔ لباس سے لے کر نصاب تک ملک کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے کرتی تھی لیکن پھرسیاستدان متحد ہوئے انہوں نے گڈ گورنس اور پر فارمنس کو اپنایا، طیب اردوان جیسا لیڈر سامنے آیا، وہ استنبول کا مئیر بنا، اس نے استنبول کی حالت بدل دی، عوام نے ساتھ دیا لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اسے ایک نظم پڑھنے کے جرم میں قید کر دیا۔ عبداللہ گل نے اس کا پرچم اٹھایا، جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے انتخاب جیتا، آئین میں تبدیلی کی طیب اردوان کو قید سے نکالا، وزیرِ اعظم بنایا اور طیب اردوان نے سات سال میں معاشی طور پر مسائل کا شکار ترکی کو دنیا کی16ویں بڑی معیشت بنا دیا۔طیب اردوان نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کر دیا اور آج فوج بیرکوں میں جا چکی ہے۔ اب پاکستان میں بھی عمران خان اسی کوشش میں ہے اس وقت تمام پارٹیوں کو سیاستدانوں کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ اسی میں ملک کا اور سیاستدانوں بھلا ہے۔ اسی صورت میں انہیں کسی لیٹر گیٹ سکینڈل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Categories
منتخب کالم

ایک فیصل آبادی نوجوان کو نجومی بابا نے بتایا تمہارے ہاتھوں میں شادی کی لکیر نہیں ہے ۔۔۔۔شرارتی نوجوان نے بے ساختہ کیا جواب دیا ؟ چٹکلوں اور جگتوں سے سجی دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔دوستو، ان دنوں سوشل میڈیا یا ٹی وی سکرینز، ہر جگہ نئے پاکستان اور پرانے پاکستان کی بحث چھڑی نظر آتی ہے، پہلے ایسے ہوتا تھا، اب ایسا کیوں ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ جو کچھ نئے پاکستان میں ہوا یا پرانے

پاکستان میں ہورہا ہے، وہ لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ نئے اور پرانے پاکستان کی جگہ صرف ’’پاکستان‘‘ ہمارے لئے اہم ہے، اگر یہ ملک ہے تو پھر نیا بھی اپنا ہے اور پرانا بھی اپنا ہے۔۔ لیکن خدانخواستہ یہ ملک ہی نہ رہا، دیوالیہ ہوگیا تو سوچو،نئے پاکستان کا اچار ڈالیں گے؟ یا پرانے پاکستان پر چٹنی ڈال کر اسے چاٹیں گے؟؟پاکستان کی فکر کرنا ہوگی، پاکستان کے لئے سوچنا ہوگا،اس کی تعمیر و ترقی کے لئے تن، من، دھن کی قربانی دینا ہو گی۔۔ برا وقت سب پر آتا ہے، مل بانٹ کر اس وقت کو گزاریں تو سب کے لئے اچھا ہی ہوگا۔۔بات ہورہی تھی پہلے یہ ہوتا تھا اب ایسا ہوتا ہے۔۔ اسی بحث کی تفصیل میں جائیں تو پہلے۔۔ وہ کنویں کا میلا اور گدلا پانی پی کر 100 سال جی لیتے تھے۔۔ اب خالص شفاف پانی (منرل واٹر)پی کر بھی چالیس سال میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔۔پہلے وہ گھانی کا میلا سا تیل کھا کر اور سر پر لگا کر بڑھاپے میں بھی محنت کر لیتے تھے۔۔۔اب ہم ڈبل فلٹر اور جدید پلانٹ پر تیار کوکنگ آئل اور گھی میں پکا کھانا کھا کر جوانی میں ہی ہانپ رہے ہیں۔۔پہلے وہ ڈلے والا نمک کھا کر بیمار نہ پڑتے تھے۔۔اب ہم آیوڈین والا نمک کھا کر ہائی اور لو بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔۔۔پہلے وہ نیم، ببول، کوئلہ اور نمک سے دانت چمکاتے تھے اور 80 سال کی عمر تک بھی چبا چبا کر کھاتے تھے۔۔اب طرح طرح کے جدید اور مہنگے ترین ٹوتھ پیسٹ

لگا کر بھی ڈینٹسٹ کے چکر لگاتے ہیں۔۔پہلے صرف روکھی سوکھی روٹی کھا کر فٹ رہتے تھے ۔۔اب برگر، چکن کڑاہی، شوارمے،پیزا، وٹامن اور فوڈ سپلیمنٹ کھا کر بھی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔۔پہلے لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے۔۔اب ماسٹر لیول ہو کر بھی جہالت کی انتہا پر ہیں۔۔پہلے حکیم نبض پکڑ کر بیماری بتا دیتے تھے۔۔ اب سپیشلسٹ درجنوں ٹیسٹ کرانے کے بعد بھی بیماری نہیں جان پاتے۔۔پہلے وہ سات آٹھ بچے پیدا کرنے والی مائیں، جنہیں شاید ہی ڈاکٹر میسر آتا تھا 80 سال کی ہونے پر بھی کھیتوں میں کام کرتی تھی۔۔اب ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں رہتے ہوئے بھی نا وہ ہمت نا وہ طاقت رہی۔۔پہلے کالے پیلے گڑ کی مٹھائیاں ٹھوس ٹھوس کر کھاتے تھے۔۔اب مٹھائی کی بات کرنے سے پہلے ہی شوگر کی بیماری ہوجاتی ہے۔۔پہلے بزرگوں کے کبھی گھٹنے نہیں دکھتے تھے۔۔اب جوان بھی گھٹنوں اور کمر درد کا شکار ہیں۔۔۔پہلے 100 واٹ کے بلب ساری رات جلاتے اور 200 واٹ کا ٹی وی چلا کر بھی بجلی کا بل 200 روپیہ مہینہ آتا تھا۔۔اب 5 واٹ کا ایل ای ڈی انرجی سیور اور 30 واٹ کےLED ٹی وی میں پا نچ سے دس ہزار مہینہ بل آتا ہے۔۔پہلے خط لکھ کرسب کی خبر رکھتے تھے۔۔اب ٹیلی فون، موبائل فون، انٹرنیٹ ہو کر بھی رشتے داروں کی کوئی خیر خبر نہیں۔۔پہلے غریب اور کم آمدنی والے بھی پورے کپڑے پہنتے تھے۔۔اب جتنا کوئی امیر ہوتا ہے اس کے کپڑے اتنے کم ہوتے جاتے ہیں۔۔پہلے محلے میں سب کو ایک دوسرے کا پتہ

ہوتا تھا،خوشی غمی میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا۔۔اب پڑوس میں ڈکیتی ہورہی ہوتو بے خبر رہتے ہیں، کوئی مرجائے تو ایک ہفتہ بعد حیرت سے پوچھتے ہیں ، ارے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟ سمجھ نہیں آتا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیوں کھڑے ہیں؟کیا کھویا کیا پایا؟پہلے ساس کا زمانہ ہوتا تھا اب بہوئیں کسی سے کم نہیں۔۔ شادی کے اگلے دن بہو آرام سے گیارہ بجے سو کر اٹھی تو ساس کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔۔ صبح جلدی اٹھ جایا کرو، ہم لوگ چھ بجے چائے پی لیتے ہیں۔ تمہاری یہ عادتیں ہم لوگ برداشت نہ کریں گے۔۔تمہاری ماں کا گھر نہیں ہے۔۔بہو نے کوئی جواب نہیں دیا،اپنے کمرے میں گئی اور ایک ڈائری،پین اور دو بیگ لے کر واپس آئی اور کہنے لگی۔۔ ساسو ماں، یہ وہ لسٹ ہے جو شادی سے پہلے آپ لوگوں نے میرے گھر بھیجی تھی، آپ ملالیں جہیز میں کوئی چیز کم تو نہیں رہ گئی؟؟ سوئفٹ کار مالیت ستائیس لاکھ روپے۔۔ سمارٹ ٹی وی بیالیس انچ قیمت پچاس ہزار۔ فریج ستاون ہزار۔واشنگ مشین آٹومیٹک ستائیس ہزار۔۔اوون، اے سی، سوفہ سیٹ، ڈائننگ ٹیبل، ڈبل بیڈ، کپ بورڈ، کراکری، بیڈ شیٹس تقریباً چار لاکھ۔۔نقد سلامی کے دس لاکھ روپے،زیورات سات تولہ مالیت گیارہ لاکھ روپے۔۔یہ رہیں رسیدیں۔۔ آپ لوگوں نے اپنے لڑکے کی قیمت لگائی، میرے والدین نے قیمت ادا کرکے میرے لئے شوہر خریدا ہے۔۔اب آپ بتائیں میرے بارے میں کوئی ڈیمانڈ نہیں کی گئی تھی کہ لڑکی کیسی ہونی چاہئے؟؟ پھر نئی نویلی دلہن نے اپنے خوب صورت سے بیگ کی زپ کھولی،

سب دلچسپی سے کھڑے دیکھ رہے تھے۔۔ ساس نے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بہو بولی۔۔میرے والد نے یہ چھوٹا ہتھیار دیا ہے اور کہا تھا کہ بیٹی تم یہاں تھیں تو تمہاری حفاظت میرا فرض تھا،اب تمہیں خود اپنی حفاظت کرنا ہو گی۔۔ ساس نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابوپایا اور جلدی سے کہنے لگی۔۔ بہو، تم ابھی سوکر اٹھی ہو کمرے میں چلو میں تمہارے لئے چائے بناکر لاتی ہوں۔۔نئے اور پرانے کا جھگڑا صدیوں پرانا ہے۔۔پرانی اور روایتی قسم کی ساس نے طنزیہ انداز میں بہو سے کہا۔۔ بیٹا! کبھی تھکتی نہیں ہو اس موبائل سے؟۔۔بہو آج کے ماڈرن دور کی تھی، پٹاخ سے بولی۔۔ تھک جاتی ہوں تبھی تو لیپ ٹاپ آن کر لیتی ہوں۔۔ایک اور ساس نے پوچھا۔۔ نئی نویلی دلہن ہو ہاتھ کیوں خالی ہیں؟۔۔دلہن کہنے لگی۔۔ وہ دراصل موبائل چارج پر لگایا ہے۔ آج کے نوجوان کو جب نجومی نے کہا کہ تمہارے ہاتھ میں شادی کی لکیر نہیں ہے تو نوجوان بیساختہ بولا۔۔ بابا جی پاؤں میں دیکھ لیں کہیں وہاں نا ہو۔۔پرانے قسم کے رشتہ دار نے شہر سے آئے نوجوان سے پوچھا۔۔ بیٹا چائے لو گے یا بوتل؟؟نوجوان کہنے لگا۔۔ جب تک چائے بن رہی ہے تب تک بوتل پی لوں گا۔۔پرانا پھر پرانا ہوتا ہے۔۔تجربے کا کوئی توڑ نہیں۔۔ بیٹے نے پوچھا۔۔اباجی! شناختی کارڈ پہ شناختی علامت کیا لکھواؤں؟ابا نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔پتر سجے ہتھ وچ موبائل فون لکھوا دے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔وطن عزیز میں گزشتہ بہتر سال سے اگلے بہتر گھنٹے اہم ترین ہی رہے ہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Categories
منتخب کالم

اسٹیبلشمنٹ اور زرداری کی مشترکہ سازش: شہباز شریف کو وزیراعظم کیوں بنایا گیا ؟ (ن) لیگی کارکن ان دنوں کیا سوچ رہے ہیں ؟ اندر کے حالات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔نواز لیگ والے آج کل سخت پریشان ہیں، ان میں سے کئی رو دھو رہے ہیں اور کچھ نے تو باقاعدہ چیخ و پکار شروع کر رکھی ہے کہ ان کی پارٹی اور محبوب قائد کے خلاف کوئی بہت بڑی سازش ہو گئی ہے۔

میں جب ان سے اس کی تفصیلات پو چھتا ہوں تو آہیں بھرتے اور سسکیاں لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسٹیبلمشنٹ اور زرداری صاحب نے مشترکا سازش کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیراعظم بنادیا ہے اورا س کے نتیجے میں مسلم لیگ نون غیر مقبول ہو گئی ہے جبکہ عمران خان دوبارہ مقبول ۔ آپ تو جانتے ہیں کہ مجھے اپنے پٹواری دوستوں سے بہت ہمدردی ہے اور میں نے ہمیشہ ان کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آواز بلند کی ہے اور اب بھی میرا دل اس سازش پر پھٹ کر رہ گیا ہے۔ بات یہا ں تک ہی نہیں کہ سازش ہو ئی ہے بلکہ اس سازش کا جناب عمران خان کو بھی پتا چل گیا ہے اور انہوں نے بھی ایک جلسے میں کہہ دیا ہے کہ زرداری ، نواز لیگ کو پھنسا کے خود مزے لے رہا ہے یعنی یہ وہ نکتہ ہے جس پر پٹواری اور عمران خان دونوں ایک ہی طرح سوچ رہے ہیں۔مجھے میرے دوست بھولے نے بتایا ہے کہ اس کے محبوب قائد نواز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے بھائی کو وزیراعظم بناکے اور ان کی پارٹی کو جیلوں سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا کے مقتدر حلقوں اور پیپلزپارٹی نے سخت قسم کی سازش کی ہے اور اب بھی سازش جاری ہے کہ شہباز شریف کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا لہذا وہ فوری انتخابات کے حامی ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ شہباز شریف کو کون کام نہیں کرنے دے رہا تو جواب ملا کہ آپ نہیں دیکھ رہے

کہ سپریم کورٹ کس قسم کے سوو موٹو نوٹس لے رہی ہے، ایسے حالات میں کون کام کر سکتا ہے۔میں بہت سارے دنو ں سے ایسی باتیں سن رہا ہوں اور میرادل دکھ سے بھرا ہو ا ہے کہ کتنے معصوم سے لوگوں کو کیسے چالاک لوگوں نے بے وقوف بنا کے وفاق اورپنجاب میں حکومتیں دے دی ہیں حالانکہ بہت پرانی بات نہیں جب یہی لوگ جیلوں میں ہوا کرتے تھے اور عمران خان ایوان وزیراعظم میں ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہتے تو اگلے انتخابات میں وہ فل ان پاپولر ہوچکے ہوتے اور اس وقت ووٹروں کے تاحد نظر طویل قافلے نکلتے جو صرف شیر پر مہریں لگاتے اوراس کے نتیجے میں ان کے محبوب قائد نواز شریف تمام عدالتی فیصلے پاؤں تلے روندتے ہوئے فاتحانہ انداز میں ایوان وزیراعظم میں پڑے ہوئے بڑے سے تخت پر براجمان ہوجاتے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر پاکستان واپس لوٹ آئیں تو الیکشن جیت جائیں گے۔ پٹواری اس پر دلیل دیتے ہیں کہ اگر شہباز شریف ان کی وطن واپسی پر جلوس لے کر لاہور ائیرپورٹ پہنچ جاتے تو ائیرپورٹ کی دیواریں گر جاتیں، فورسز کے دستے ان لیگیوں سے شکست کھا جاتے اور نواز شریف وہاں سے قید خانے کی بجائے وزیراعظم ہاؤس پہنچ جاتے۔چلیں چھوڑیں، ماضی کو رہنے دیں، پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا، اب اگر میرے پٹواری بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کے خلاف بہت بڑی سازش ہو گئی ہے

تو ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے قائد کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر مہم چلائیں کہ شہباز شریف حکومت چھوڑ دیں ، وہ چاہیں تو اسمبلیاں توڑ دیں اور نئے الیکشن کی طرف چلے جائیں جو اس وقت عمران خان کا سب سے بڑا مطالبہ ہے۔ میں پورا یقین رکھتا ہوں کہ جو لوگ بیانئیے کی لڑائی میں عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکے وہ انتخابی مہم میں بھی نہیں کر سکیں گے لہٰذا انتخابات کا اعلان عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی، اخلاقی بھی اور سیاسی بھی ۔ میرا مشورہ اس سے بھی آگے کا ہے کہ اگر وہ واقعی اپنی حکومت کو سازش اور ناکامی سمجھتے ہیں تو اسے ریورس کر دیں،یہ سازش اور ناکامی عمران خان کے حوالے کر دیں یعنی حکومت اور اپنی قیادت کو فوری طور پرقید میں بھیج دیں۔پٹواری ، عمران خان صاحب سے معذرت بھی کریں کہ انہوں نے زرداری صاحب کے ہاتھوں بے وقوف بن کے ان کی حکومت گرائی کہ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ حکومت چلانا اتنا مشکل کام ہے ۔ جب حکومت عمران خان کے پاس چلی جائے گی تو پھر وہ ناکام ہو ں گے اور پٹواری کامیاب۔ یہ کامیابی اس وقت مزید شاندارہوجائے گی جب عمران خان شہباز شریف ہی نہیں بلکہ مریم نواز کو بھی دوبارہ قید میں ڈالیں گے اور پھر سرکاری وسائل پرانتخابی مہم بھی چلائیں گے۔ مجھے ایک پٹواری نے روتے ہوئے کہا کہ زرداری نے ہمیں حکومت میں پھنسوا دیا جبکہ عمران خان فارغ ہو کے مزے سے جلسے کر رہا ہے۔ میں پٹواریوں کی ذہنی صلاحیت کا کم و بیش

اتنا ہی مداح ہوں جتنا کہ یوتھیوں کی لہذا انہیں مشورہ ہے کہ وہ فوری طور پر جہاں پھنسے ہوئے ہیں وہاں سے نکلیں اور پھر اس کے بعد مزے سے جلسے کرتے رہیں۔پٹواریوں کی سیاسی جماعت دنیا کی واحد سیاسی جماعت ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ ان کی قیادت قید میں ہے یا جلاو طن ہے تو وہ بہتر ہے لیکن اگر ان کی پارٹی کا صدروزیراعظم بن گیا ہے تو یہ ان کے خلاف سازش ہوگئی ہے۔ اب مجھے یہ بالکل علم نہیں کہ پٹواریوں کی سیاسی جماعت کو پرفارم کرنے سے کون روک رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سپریم کورٹ نے ان کے خلاف سوو موٹو نوٹس لینے شروع کئے ہیں اس طرح تو کام نہیں ہوسکتا تو پھر ان کے لئے جواب ہے کہ پاکستان میں تو اسی طرح کی سیاست ہوسکتی ہے اور اگر نہیں کرنی تو پھر وہ بھی اپنے قائد کی طرح لندن چلے جائیں او رموجیں ماریں۔ جب آپ جنگل میں جائیں گے تو شیر کا تو ڈر ہو گا اور اگر آپ شیر سے ڈرتے ہیں تو پھر جنگل میں ہی نہ جائیں۔ پٹواری اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ اگر پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو تحریک انصاف شور مچائے گی تو اس کا جواب بھی وہی ہے کہ حکومت عمران خان کو دے دیں، وہ پٹرول کی قیمت بھی بڑھا لے گا اور بجٹ بھی دے لے گا۔ آپ سخت فیصلے نہیں کر سکتے تو نرم فیصلہ کریں اور اقتدار کے کانٹوں بھرے بستر سے اپوزیشن کے نرم و نازک گدے پر منتقل ہوجائیں۔مجھے یہ بتانے میں عار نہیں کہ اس وقت نواز شریف کا بھی وہی موقف ہے جو مقتدر حلقوں اور عمران خان کا ہے کہ فوری انتخابات، نواز شریف کا یہ موقف کیوں ہے وہ کسی سیاسی تجزیہ کار کی سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ اس وقت مسئلہ ملک کا ہے جو شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس اقتصادی بحران کے خاتمے کا طریقہ یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت کم ہو، ڈالر کی قیمت کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سخت فیصلے ہوں، سخت فیصلوں کے لئے ضروری ہے جلد انتخابات کا خوف نہ ہواور حکومت مدت پوری کرے تو ایسے میں نواز شریف لندن سے فوری الیکشن کے لئے دباو کیوں ڈال رہے ہیں، وہ شہباز شریف کو ناکام کرنے کے ایجنڈے پر کیا عمران خان کے اتحادی ہیں، کیا وہ بھی چاہتے ہیں کہ شہباز شریف ناکام ہوں؟

Categories
پاکستان

عمران خان کے بعد ایک اور کرکٹر نے میدان سیاست میں آنے کا اعلان کردیا

کراچی(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے بعد ایک اور معروف پاکستانی کرکٹر نے جلد سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کر دیا۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے بھی جلد پاکستانی سیاست میں انٹری کا

اعلان کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ملک کی سیاسی صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ لوگ دو سے تین سال میں انہیں ملکی سیاست میں دیکھیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان کا جھکاؤ کس طرف ہے اور وہ کس سیاسی جماعت کاحصہ بنیں گے اس سے لوگ کافی حد تک واقف ہیں۔واضح رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر نے 1992 سے 2005 تک قومی ٹیم کی نمائندگی کی، اس دوران اپنے کیرئر میں انہوں نے 37 بین الاقوامی ٹیسٹ اور 166 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

مشہور زمانہ بالی وڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون کے شوبز میں داخلے کی حیران کن کہانی ، بی بی سی کی زبانی

ممبئی (ویب ڈیسک) معروف بھارتی خاتون مضمون نگار وندنا بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی زندگی کے ہر سین میں سٹار ہوں۔‘ 2010 میں ہندی فلم ’بریک کے بعد‘ کا یہ ڈائیلاگ دیپیکا پاڈوکون کا ہے اور آج 12 سال بعد یہ فلمی ڈائیلاگ ان کی حقیقت

بن چکا ہے۔18 سال کی نئی ماڈل جو ٹی وی اشتہارات میں نظر آتی تھیں، سب سے پہلے ہمیش ریشمیا کی میوزک ویڈیو میں نظر آئیں۔ آج وہی دیپیکا پاڈوکون ہندی فلم انڈسٹری کی ٹاپ ہیروئنز میں سے ایک ہیں۔ وہ ہالی ووڈ میں کام کر چکی ہیں، ان کا اپنا پروڈکشن ہاؤس ہے اور اس سال دیپیکا کا نام ٹائم میگزین کی ٹائم امپیکٹ 100 کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔آج دیپیکا کی شبیہہ نہ صرف ایک مشہور فلم سٹار بلکہ ایک فنکار کے طور پر بھی ہے جو فلموں سے باہر بھی بہت سے معاملات پر اپنے خیالات رکھتی ہیں۔جب 2020 میں دلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی یعنی جے این یو میں طلباء پر دھاوا بولنے کا واقعہ ہوا تو وہ یونیورسٹی جا کر طلباء کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔وہ اپنے ڈپریشن اور ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں۔ کئی بار وہ فلم کے سیٹ پر ایک تھراپسٹ کو اپنے ساتھ رکھتی ہیں اوراس بات کو چھپاتی نہیں ہیں۔فلموں کی بات کریں تو ان کی شبیہہ ایک محنتی اور پیشہ ور فنکار کی ہے۔ذرا تصور کریں کہ ایک فلم کا سیٹ ہے جہاں ایک بڑی سٹار اپنے ساتھ ایک پنسل باکس لیکر آتی ہے، رولر اور پنسلوں کے ساتھ اپنے مکالمے کے نیچے لکیریں کھینچتی ہے، ہر کردار کو الگ رنگ دیکر اور ہر ایک کے مکالمے کو مختلف رنگوں میں ڈھالتی ہے تاکہ جب وہ سکرپٹ دیکھے تو ہر کردار اپنے رنگ کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے رہے۔کچھ ایسی ہی ہیں دیپیکا پاڈوکون اور اس وقت دیپیکا واقعی

اپنی زندگی کے ہر سین میں سٹار ہیں۔اس بار کانز فلم فیسٹیول میں ان کے سٹارڈم کو ایک نئی عالمی جہت ملی ہے۔ اس بار جن فنکاروں کو جیوری میں رکھا گیا ہے ان میں دیپیکا پڈوکون بھی شامل ہیں۔انڈیا سے اب تک صرف ایشوریہ رائے، شیکھر کپور، ودیا بالن، نندیتا داس اور شرمیلا ٹیگور ہی جیوری کا حصہ رہے ہیں۔دیپیکا کی کہانی بھی ہندی فلم کے سکرین پلے سے ملتی جلتی ہے۔ ایک ایسا سکرین پلے جس میں انٹری دھماکے دار ہے لیکن کہانی پھر ڈھلان کی طرف جانے لگتی ہے اور جیسے جیسے فلم کلائمکس کی طرف بڑھتی ہے، سکرین پلے میں زبردست انرجی آنے لگتی ہے اور پھر ایک دھماکے دار ری انٹری ہوتی ہے، دیپیکا کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔لوگوں نے پہلی بار 18 سالہ دیپیکا کو ٹی وی پر لیرل صابن اور کلوز اپ ٹوتھ پیسٹ کے اشتہارات میں بطور ایک ماڈل دیکھا تھا۔ناظرین کو ہمیش ریشمیا کا وہ میوزک ویڈیو بھی یاد ہوگا جب ہمیش ایک بڑے سٹار تھے اور انڈسٹری میں نئی آنے والی دیپیکا نے ان کی ویڈیو میں کام کیا تھا۔اور پھر انھوں نے ہندی فلموں میں اس وقت دھماکے دار اینٹری کی جب 2007 میں شاہ رخ خان کے ساتھ وہ فلم ’اوم شانتی اوم‘ میں نظر آئیں جس میں وہ بطور شانتی اور سینڈی ڈبل رول میں تھیں۔اوم شانتی اوم‘ کے اس کردار سے لے کر فلم ’گہرائیاں‘ تک، دیپیکا نے اپنی رینج اور قابلیت کا بھر پور ثبوت دیا۔ان کے مختلف کرداروں میں ہر طرح کے رنگ اور رویے نظر آئے ہیں۔

کبھی وہ فلم ’رام لیلا‘ (2013) کی تیز مزاج لیلا ہوتی ہیں، جو کہتی ہے، ’بے شرم، گستاخ، خود غرض ہوتا ہے، لیکن پیار تو ایسا ہوتا ہے‘۔تو کبھی وہ فلم ’تلاش‘ (2015) کی تارا ہیں، جو محبت کے معاملے میں مخمصے میں ہے، تو کبھی پیار میں ڈوبی مستانی۔کبھی وہ ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ کی اندر سے نرم، نازک لیکن مضبوط نینا ہے جو رہتی تو آج میں ہے لیکن اس کے دل کے کسی کونے میں ماضی کی یادیں دفن ہیں، جو یقین کرتی ہے کہ ’یادیں مٹھائی کے ڈبے‘کی طرح ہوتی ہیں۔ جو ایک بار کھولا تو آپ صرف ایک ٹکڑا نہیں کھا سکیں گے۔پیکو‘، ’چھپاک‘، ’گہرائیاں‘، ’پدماوت‘، ’ہیپی نیو ایئر‘، ’چنائی ایکسپریس‘، گزشتہ 10 سالوں میں دیپیکا نے ہر طرح کی فلمیں اور کردار ادا کیے اور خود کو ثابت کیا۔ لیکن دیپیکا کی یہ کامیابی دھیمی آنچ پر ہانڈی میں پکائی جانے والی کھیر کی طرح ہے، جو آہستہ آہستہ ابلتی ہے اور پھر اس کی مٹھاس کو تحلیل کر دیتی ہے۔ہم نے دیپیکا کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب ان کی فلمیں نہیں چل رہی تھیں۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ایک بُرے دور سے گزر رہی تھیں۔ شروع میں، بہت سے لوگ ان کے جنوبی انڈین لہجے کی وجہ سے انھیں اپنی فلموں میں کاسٹ کرنا بھی نہیں چاہتے تھے۔چند فلموں کے علاوہ 2008 سے 2012 کے درمیان دیپیکا نے کچھ ایسی فلمیں کیں، جس کے بعد ان کی فلم کے انتخاب کی سمجھ پر سوال اٹھنے لگے۔لیکن اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ رویہ کی وجہ سے دیپیکا نے زبردست واپسی کی۔

بالکل ایک ایسے کھلاڑی کی طرح جو میچ میں اچھی شروعات کرتا ہے، لیکن اس کے سامنے رکاوٹیں آتی رہتی ہیں اور دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے لیکن کبھی ہار نہیں مانتا، دیپیکا بھی اس کھلاڑی کی طرح ہے۔دیپیکا واقعی ایک کھلاڑی ہیں۔ 5 جنوری 1986 کو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پیدا ہونے والی دیپیکا قومی سطح کی بیڈمنٹن کھلاڑی رہ چکی ہیں۔دیپیکا کے والد پرکاش پاڈوکون انڈیا کے نمبر ون بیڈمنٹن کھلاڑی تھے، اسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے دیپیکا نے بھی اس کھیل کو اپنایا اور قومی سطح پر کھیلیں۔ برسوں سے ان کا معمول یہ تھا کہ وہ صبح سویرے پریکٹس کے لیے اٹھتیں اور پھر سکول جاتیں۔لیکن آہستہ آہستہ انھیں ماڈلنگ میں دلچسپی ہونے لگی اور انھوں نے سکول کے زمانے سے ہی بطور ماڈل کام کرنا شروع کر دیا۔لیکن اس کھلاڑی کی تربیت اس کے فلمی کیریئر میں بھی نظر آتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے ناکامی کا دور بھی دیکھا ہو۔ہارپر بازار کے ساتھ ایک انٹرویو میں دیپیکا نے کہا تھا: ’ایک کھلاڑی کے طور پر آپ آخر تک لڑتے ہیں۔ جب آپ کوئی میچ کھیلتے ہیں، تو آپ اس کھیل کو درمیان میں نہیں چھوڑتے، آپ آخر تک کھیلتے ہیں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آخر میں کیا ہو جائے۔‘ایسا نہیں ہے کہ سٹار والی امیج کے ساتھ دیپیکا نے کبھی خود کو تنہا نہیں پایا۔2015 میں دیپیکا نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب انھوں نے بتایا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں اور اپنی تھراپی کرا رہی تھیں۔

2019 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دیپیکا نے کہا تھا: ’2013 میری فلموں کے حوالے سے بہت ہٹ رہا، یہ میرے لیے ایک اچھا لیکن بہت مصروف سال تھا۔ مجھے یاد ہے کہ 15 فروری 2014 کی صبح جب میں بیدار ہوئی تو مجھے ایک عجیب سا احساس ہو رہا تھا، مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، میں کبھی بھی رو پڑتی تھی اور خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے اپنے وجود پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ میں نہیں جانتی تھی کہ یہ دراصل ڈپریشن تھا۔ میں نے دوائیں نہیں لیں کیونکہ میں نے سنا تھا کہ وہ سرورآور ہوتی ہیں اور انکی لت لگ جاتی ہے۔ مجھے ڈپریشن کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا،ڈپریشن ایک بدنما داغ سمجھا جاتا تھا۔ میں یہ سب کسی کو نہیں بتا سکتی تھی، لیکن پھر میں نے سوچا کہ مجھے اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔‘اس کے بعد دیپیکا نے نہ صرف ڈپریشن کے بارے میں بات کرنا شروع کی بلکہ 2015 میں ’لیو لو لائف‘ کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی تاکہ دماغی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے اور لوگوں کی مدد کی جا سکے۔دیپیکا خود بھی ایک پروڈیوسر ہیں اور اپنے انٹرویوز میں دیپیکا نے کئی بار کہا ہے کہ فلم کے سیٹ پر ہر ایک کے لیے دماغی صحت کا ماہر موجود ہونا چاہیے جو فلم کے عملے کی مدد کر سکے اور ہر ایک کے کام اور نجی زندگی میں توازن ہونا چاہیے۔دیپیکا ان چند

اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو پروڈکشن میں بھی کام کر رہی ہیں۔ دیپیکا کے پروڈکشن ہاؤس کا نام ’کا پروڈکشن‘ ہے۔ مصری زبان میں اس کا مطلب روح ہے، خاص طور پر وہ حصہ جسے آپ اپنے جانے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔دیپیکا کا سیاست میں تو کبھی دخل نہیں رہا لیکن 2020 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے تنازع کے بعد جب وہ یونیورسٹی کے طلباء سے ملنے گئیں تو بہت سے لوگوں نے اسے ایک طرح کیا سیاسی قدم قرار دیا۔دیپیکا نے تب کہا تھا کہ ’مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوئی کہ طالب علموں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ امید کرتی ہوں کہ یہ معمول کی بات نہیں بن جائے گی۔ یہ خوفناک ہے۔ ہمارے ملک کی بنیاد اس طرح نہیں رکھی گئی تھیں۔‘اس پر کچھ نے دیپیکا کی ہمت کی تعریف کی تو کچھ نے احتجاج بھی کیا۔کسی بھی بڑی شخصیت کی طرح دیپیکا کو تعریف کے ساتھ کئی تنازعات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔2015 میں، دیپیکا نے ووگ میگزین کے لیے ’ہیش ٹیگ مائی چوائس‘ کے نام سے ایک ویڈیو شوٹ کیا گیا۔ اس ویڈیو میں وہ خواتین کے حقوق اور اپنی شرائط پر زندگی گزارنے کی بات کر رہی تھیں۔ویڈیو میں دیپیکا نے یہ بھی کہا تھا کہ ’شادی سے باہر تعلقات رکھنا، شادی کے بغیر تعلقات رکھنا اور شادی نہ کرنا ان کی مرضی ہے۔‘تب کئی لوگوں نے دیپیکا کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ’خواتین کے حقوق کی بات کرنا ایک بات ہے لیکن شادی سے باہر تعلق کی بات کو جائز

قرار دینا کہاں درست ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔‘فلموں کی بات کی جائے تو فلم ’کاک ٹیل‘ جیسی ان کی فلم کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ یہ فلم ہٹ رہی اور دیپیکا کے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ بھی ثابت ہوئی۔ لیکن بہت سے فلمی ناقدین نے اسے ایک رجعت پسند فلم قرار دیا اور ایک خاتون آئیکن ہونے کے ناطے، بہت سے لوگوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا دیپیکا کو ایسا کردار ادا کرنا چاہیے تھا جس میں وہ اپنی شناخت اور آزادی کھونے کی قیمت پر ایک ’سنسکاری‘ لڑکی بننا چاہتی ہے وہ بھی صرف ایک لڑکے کے لیے۔دیپیکا سوال اٹھانے والوں کو جواب دینا بھی جانتی ہیں۔ رنویر سنگھ کے ساتھ شادی کے بعد جب انھوں نے فلم ‘چھپاک’ بنائی تو ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ ’فلم آپ نے پروڈیوس کی ہے، اگر دیکھا جائے تو رنویر بھی پروڈیوسر بن گئے ہیں، کیونکہ گھر کا ہی پیسہ ہے۔‘جس کے جواب میں دیپیکا نے کہا تھا کہ ’سوری سر، یہ میرا پیسہ ہے۔‘یہ میرا پیسہ ہےمجھے اشتہارات سے متعلق ایک دلچسپ قصہ یاد آتا ہے۔ کلوز اپ ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار دیپیکا کے ابتدائی دور کا تھا۔ جس میں وہ ٹوتھ پیسٹ کو دیکھ کر اس کے ساتھ ڈانس کرتی ہیں۔ عکسبندی کے دوران ٹوتھ پیسٹ ٹیوب دراصل وہاں تھی ہی نہیں۔عکسبندی کے بعد وہ اینیمیٹ کیا گیا تھا لیکن جب عکسبندی ہو رہی تھی تو اسے درحقیقت انھیں ایک چھڑی کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی حرکات ریکارڈ کروانی تھیں تھی جس پر نشانات لگے ہوئے تھے کہ آنکھوں کو کیسے حرکت دینی ہے۔یہ شاید دیپیکا کا ہنر اور کیمرے کے سامنے اعتماد کی ابتدائی علامت تھی۔ آج وہی دیپیکا دنیا کے بڑے برانڈز کے اشتہارات کرتی ہیں۔ وہ پہلی بالی ووڈ اداکارہ ہیں جنھوں نے ’لوئی وٹون‘ جیسے برانڈ کے لیے کام کیا۔2018 میں وہ ٹائم کی سب سے زیادہ با اثر لوگوں کی فہرست میں اور 2022 میں ’ہنڈریڈ ٹائم امپیکٹ‘ کی فہرست میں شامل تھیں۔ یعنی امپیکٹ ٹو امپیکٹ کا سفر دیپیکا نے چند سالوں میں طے کر لیا ہے۔ان کا یہ سفر ان کے کرداروں میں بھی نظر آتا ہے۔ اس میں ’پیکو‘ کی بیٹی نظر آرہی ہے جو سنگل ہے۔ وہ رشتے بھی نہیں بناتی اور اپنے والد کے ساتھ رہتی ہے، تاکہ ان کی دیکھ بھال کر سکے کہ وہ تنہا نہ رہ جائیں۔ایسے کرداروں کا سفر اپنے ساتھ لے کر دیپیکا پاڈوکون آج کانز فلم فیسٹیول میں پہنچ گئی ہیں۔ اوم شانتی اوم سے کانز تک…تو یہاں وہی ڈائیلاگ یاد آتا جو شروع میں لکھا تھا: ’میں اپنی زندگی کے ہر سین میں ایک سٹار ہوں۔‘

Categories
پاکستان

کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے جلسوں کے دباؤ میں آچکی ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شہزاد ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قائم ہونے والی مخلوط حکومت کو اس وقت ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں مشکلات کا سامنا

دکھائی دے رہا ہے۔ایک جانب معاشی محاذ پر مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے، ملک کے کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی مشکل ہے اور دوسری جانب وہ کوئی بھی سخت اور مشکل فیصلے لے کر اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریزاں ہے۔ ادھر سیاسی محاذ پر بھی سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے موجودہ حکومت کو آئینی و سیاسی الجھنوں میں الجھا رکھا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت جانے کے بعد سے سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی رابطہ مہم کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں اور ان میں وہ ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومتی اراکین پر قائم مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں ملک کی عدلیہ کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کو ملنے والا ریلیف ہو، 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمیٰ کی تشریح یا حکومت کی جانب سے تحقیقاتی اداروں میں مبینہ مداخلت پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس، ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک بحث نے جنم لیا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو عمران خان کی عوامی مقبولیت کا دباؤ محسوس ہو رہا ہے؟بی بی سی نے اس ضمن میں پارٹی رہنماؤں اور سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ دباؤ محسوس کر رہے ہیں؟پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو آئینی طریقے

سے ہٹایا گیا اور اس وقت ملک کے جو اقتصادی حالات موجودہ حکومت کو ورثے میں ملے ہیں ان کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے ملک کے تمام آئینی ادارے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ابھی اس مخلوط حکومت کو آئے ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اور یہ امید رکھی جائے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال بہتری کی طرف جائے گی۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی آئینی ادارے سے آئین سے ہٹ کر حکومت کی مدد کرنے کا نہیں کہہ رہی اور صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک کی بقا کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔انھوں نے کہا کہ اداروں کی طرف سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ کسی دباؤ میں آکر کوئی اقدامات کر رہے ہیں یا وہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سمیت اس مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کو بھی علم تھا کہ ملک کے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ملک کی بقا اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انھوں نے اتنا بڑا سیاسی رسک لیا ہے کیونکہ حکومت میں آنے کے بعد یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ جیسے انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر ناکامیاں اپنے سر لے لی ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب ملک میں

غیر یقینی کی صورت حال ہو تو ایسے غیر معمولی حالات میں انھیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے چاہیے جس سے ملک میں استحکام آئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر ادارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو اس سے بہتر ہے کہ ان سیاسی جماعتوں کو حکومت سے الگ ہوکر انتخابات کی طرف ہی جانا چاہیے۔محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کا حل نگراں حکومت اور انتخابات نہیں ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے جتنی سپورٹ عمران خان کی حکومت کو دی ہے اس سے آدھی سپورٹ بھی اس حکومت کو مل جائے تو وہ حالات پر قابو پالیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کا کہنا تھا جس طریقے سے ان کی حکومت کو ہٹایا گیا وہ سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھا اور یہ سہولت کار کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان کے اداروں میں سے ہی تھے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عوام کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں دیکھ رہی۔ انھوں نے کہا کہ جتنا مایوس عدلیہ نے انھیں کیا ہے اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔وہ کہتے ہیں کہ ’آج بھی ان کی جماعت اور کارکنوں کو شدید تحفظات ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت رات بارہ بجے عدالتیں کیوں لگائی گئیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کی موجودہ لاٹ عدالتی نظام میں بہتری نہیں لاسکتی۔‘

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے دی تو سب سے بڑا نقصان عدلیہ کا ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والے حالیہ فیصلوں سے تو ان کی جماعت کو ریلیف ملا ہوگا تو اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اب معاملہ اس سے بہت آگے نکل چکا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم یا بلوچستان عوامی پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت کو کسی میجر یا کرنل کے کہنے پر تو نہیں چھوڑا ہوگا بلکہ سب کو معلوم ہے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت ختم کی گئی اور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا تو ان تمام پارٹیوں کے تمام لیڈروں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر ان کی جماعت اپنا موثر کردار ادا نہیں کرسکے گی لیکن پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ جب وہ عوام میں اصل صورت حال کے بارے میں بتائیں گے تو وہ یقینا ان کے ساتھ ہوں گے۔اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ایسے لوگ بھی آرہے ہیں جنھوں نے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام نے ان کی جماعت اور لوگوں کو مکمل طور پر مایوس کیا ہے۔ اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے لے کر اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی تک وہ ایسی بہت سی باتوں سے واقف ہیں

جو کہ کبھی مناسب وقت پر منظر عام پر لائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نہ تو اسٹیلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہے اور نہ ہی ان کی جماعت کو اب بیساکھیوں کی ضرورت ہے۔کیا پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی عوامی مقبولیت کے باعث ملکی ادارے دباؤ محسوس کر رہے ہیں اس پر تجزیہ کاروں نے ملا جلا تبصرہ کیا۔تجزیہ کار حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ اور بلخصوص سپریم کورٹ تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کے بعد دباؤ میں آئی ہے اور 63 اے کے تحت صدارتی ریفرنس پر جس طریقے سے رائے دی گئی آئینی ماہرین کے مطابق تو سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم ہی کر دی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے خلاف کیسز کا معاملہ عمران حان نے عوامی جلسوں میں اٹھایا تھا اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس پر کارروائی کا آغاز کر دیا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ بظاہر از خود نوٹس ایک جج کے نوٹ پر لیا گیا لیکن عوام میں اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران خان کے مطالبے کے بعد شروع کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ’بظاہر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے جلسوں سے متاثر نہیں ہوئی اور ان کا ابھی تک یہی موقف ہے کہ فوج اس معاملے میں نیوٹرل ہے اور اس کا سیاسی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘ حامد میر کا کہنا تھا کہ چونکہ فوج آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے اس لیے انھیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا ہے کہ ججز کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور وہ ان چیزوں کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں جو کہ شاید عام آدمی اس نظر سے نہ دیکھ رہا ہو۔انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عدالتیں کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے دیتی ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ عدالتوں کو فیصلہ دیتے ہوئے اس بات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ کہیں آئین میں دیے گئے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کر رہیں۔انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی لیڈر کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Categories
پاکستان

عمر سرفراز چیمہ اب بھی گورنر پنجاب ۔۔۔۔ صدر مملکت عارف علوی کا تازہ ترین بیان سامنے آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے گورنر پنجاب کی تعیناتی کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کے خط کا جواب دیتے ہوئےسابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے سے انکار کر دیا۔ صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف گورنر پنجاب کی تقرری

سے متعلق اپنی تجویز پر نظرثانی کریں، آرٹیکل 101 (2) کے تحت گورنر صدر کی خوشنودی تک عہدے پر فائز رہے گا، عمر سرفراز چیمہ اب بھی گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز ہیں، نئی تقرری کا کوئی جواز نہیں۔ صدر مملکت نے اپنے جواب میں مزید لکھا کہ گورنر کے خط اور رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ارکان پنجاب اسمبلی کی وفاداریاں بدلی گئیں، ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ موجودہ گورنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔ صدر عارف علوی نے وزیراعظم کو اپنے جواب میں یہ بھی لکھا کہ پنجاب میں غیر قانونی طریقے سے اکثریت حاصل کر کے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی گئی، غیر قانونی اقدامات سے پنجاب میں گورننس کے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ صدر مملکت نے مزید لکھا کہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے گورنر کے اصولی مؤقف کی توثیق ہوئی جبکہ الیکشن کمیشن کے 20 مئی کےفیصلے سے بھی گورنر پنجاب کا مؤقف مستحکم ہوا، الیکشن کمیشن نے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کے انحراف کی تصدیق کی۔ صدر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کو جوابی خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن نے وفاداریاں بدلنے کو ووٹر اور پارٹی پالیسی کو دھوکا دینےکی بدترین شکل کہا اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق 25 منحرف ایم پی اے پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کی دو سمریاں صدر مملکت کو ارسال کی تھیں تاہم صدر مملکت کی جانب سے سمری مسترد کر دی گئی تھی جس کے باعث آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عمر سرفراز چیمہ کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

Categories
پاکستان

شیریں مزاری کی گرفتاری : شیخ رشید کا سخت ترین رد عمل آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل میں شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکومت نے لڑائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے لڑائی کا فیصلہ کرلیا، شیریں مزاری کی گرفتاری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

حکومت حالات مزید خراب کرنے جارہی ہے شیری مزاری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں،یہ تو کچھ بھی کرسکتے ہیں یہ تاریخ کو مزید قریب کرالیں گےان سے ڈیڑھ سال کا وقت مانگا تھا لیکن انہوں نے دیا،ممکن ہے عمران خان کی گرفتاری بھی ہوجائے۔ دوسری جانب گورنر عمران اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کا واقعہ امپورٹڈ حکومت کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی پھرتیاں ایک قاتل وزیر داخلہ مقدمات میں لگا رہا اتنی اگر دیگر معاملات میں لگاتے تو ان کی حکومت کو شرمندگی نہ ہوتی، امپورٹڈ حکومت خود معاملات کو کشیدگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ واضح رہے کہ اینٹی کرپشن لاہور نے پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شیریں مزاری کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا، اینٹی کرپشن لاہور نے انہیں گرفتار کر کے تھانہ مارگلہ منتقل کردیا، تھانہ مارگلہ سے انہیں لاہور منتقل کیا جارہا ہے۔

Categories
پاکستان

پنجاب اسمبلی کا غیر معمولی اجلاس طلب ۔۔۔ مگر یہ اجلاس کس نے اور کس مقصد سے طلب کیا ہے ؟ اہم خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل، 22 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اجلاس کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 22 مئی کو طلب کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پہلے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 30 مئی کو طلب کیا گیا تھا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے منی لانڈرنگ کیس میں وکلا کے دلائل کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی جبکہ سلمان شہباز، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ خصوصی عدالت کے جج اعجاز اعوان نےکیس کی سماعت کی اس دوران دلائل دیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں تین ملزمان اشتہاری ہیں، ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دی ہے، تمام ملزمان پر ایک ساتھ ہی فرد جرم کی جائے۔ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جو تین ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اشتہاریوں کے خلاف تو ضابطے کی کارروائی مجسٹریٹ کی عدالت سے ہو چکی ہے۔ پراسیکیورٹر نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ جو ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی مکمل کریں، اگر اس کیس کو ایسے ہی لے کر چلا گیا تو آگے جا کر ملزمان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کہہ رہے ہیں گزشتہ پروسکیوشن نے 4 ماہ ملزمان کو فائدہ دیا۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2008 سے 2018 کے دوران کے جوالزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سے بہت سارے الزامات کو پروسیکیوشن ٹیم نے چالان میں ختم کر دیا ہے، کہا گیا کہ جعلی کمپنیز کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا ہے۔ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ کہا گیا تھا کہ ایک اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں، سابقہ تفتیشی ٹیم نے ایف آئی اے میں جو الزامات لگائے ان میں سے متعدد الزامات کو چالان میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر اور چالان میں زمین آسمان کا فرق ہے، شہباز شریف کے خلاف ساری تحقیقات کی سربراہی سابق مشیر احتساب نے کی۔وکیل امجد پرویز نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جن 14 اکاؤنٹس کا ذکر ہوا وہ سب بینکنگ چینل کے ہیں، اس کیس میں ڈیڑھ سال تک بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، ملزمان نے بغیر ثبوت کے بدنامی برداشت کی۔

Categories
پاکستان

عمران خان کی گرفتاری کا امکان ۔۔۔۔پورے ملک میں ہلچل مچا دینے والی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے۔ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردِ عمل دیا ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا ہے

کہ شیریں مزاری کی گرفتاری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، عمران خان بھی گرفتار ہوسکتے ہیں، گرفتاریوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ ملک کو انارکی کی طرف لے جارہے ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی میں نیا آئی جی لگایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ڈیڑھ سال کی چھوٹ نہیں ملی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے نئے آئی جی تعینات کر دیئے گئے، انہوں نے گرفتاریوں کے لیے فہرستیں تیار کر لی ہیں، ایس ایچ او لگا دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق زمین پر قبضے کے کیس میں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے شیریں مزاری کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم انہیں گرفتار کرنے اسلام آباد پہنچی تھی۔ اسلام آباد پولیس نے بھی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے شیری مزاری کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔یاد رہے کہ رہنما پی ٹی آئی افتخار درانی نے کہاہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو کچھ دیر پہلے ان کے گھر کے باہر سے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ افتخار درانی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو کچھ دیر قبل ان گھر کے باہر سے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، تمام کارکنان کوہسار پولیس سٹیشن پہنچیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو ای سیون اسلام آباد سے حراست میں لیا گیا ۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سےعہدیداران اور ورکرز کو فوری تھانہ کوہسار پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کیس ڈیرہ غازی خان میں رجسٹرڈ ہوا اور اینٹی کرپشن پنجاب نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے گرفتار کیا ۔ ذرائع کے مطابق زمین پر قبضے کے کیس میں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے شیریں مزاری کو گرفتار کیا ہے۔ یادرہے آئی جی اسلام آباد احسن یونس اور ایس ایس پی آپریشنز کو آج ہی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا ، ڈاکٹر اکبر ناصر خان کو آئی جی اسلام آباد تعینات کر دیا گیا،واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر رکھا ہے اور ہر قسم کے تقرر اور تبادلوں پر پابندی عائد تھی تاہم الیکشن کمیشن نے دو دن کے لئے اپنا بلدیاتی شیڈول واپس لیا جس کے بعد یہ اعلی سطی تبادلے ہوئے۔

Categories
پاکستان

پی ٹی آئی کے ایک جلسے پر کتنا خرچ آتا ہے؟اعداد وشمار آُپ کو حیران کر دیں گے

اسلام آباد(وی ڈیسک) نجی نیوز ادارے نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ لگانے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان جلسوں کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ان دنوں غیریقینی کی سی صورت حال ہے، جہاں سابق

وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد آنے والی نئی حکومت انتخابات کروانے یا ’سخت‘ معاشی فیصلے لینے کے درمیان الجھی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مسلسل عوامی رابطوں میں مصروف ہے جہاں انہوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے تاہم تاحال تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے جبکہ ان کی جانب سے فوری انتخابات کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک اور پھر ووٹنگ کے نتیجے میں جس دن عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا، اس کے اگلے ہی روز سے پاکستان تحریک انصاف نے اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر دیا تھا اور اب تک اس سلسلے میں وہ پاکستان کے متعدد شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ ان دنوں دیگر سیاسی جماعتیں بھی جلسے کرنے میں مصروف ہیں، جن میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی بھی پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔تاہم پی ٹی آئی فی الحال اس میدان میں کچھ زیادہ آگے ہے، جو اب تک کراچی، پشاور، سیالکوٹ، لاہور سمیت کئی دیگر شہروں میں جلسے کر چکی ہے۔اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان، صوابی اور کوہاٹ میں بھی جلسوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی مخالفین کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ’اب ان کی اے ٹیم بھی نہیں رہی ہے،‘ مگر پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں کو دیکھ کر ایسا بالکل بھی نہیں لگتا

کہ انہیں بظاہر ’فنڈز‘ کا کوئی مسئلہ درپیش ہے۔نجی نیوز ادارے نے پی ٹی آئی جلسوں پر اخراجات کا تخینہ لگانے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی یہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے کہ ان جلسوں کے لیے فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ جلسے کہاں منعقد کیے جاتے ہیں۔ صوابی جلسے کی اگر بات کی جائے، تو وہ جلسہ ایک سرکاری گراؤنڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔ سرکاری گراؤنڈ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے جلسہ منعقد کرنے کا کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا، تاہم مقامی حکومت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتی ہے۔کسی بھی جلسے کے انعقاد پر سب سے زیادہ اخراجات ساؤنڈ سسٹم کے ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ساؤنڈ سسٹم زیادہ تر مواقع پر لاہور سے تعلق رکھنے والی معروف کمپنی ’ڈی جے بٹ‘ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔جیسا کہ گذشتہ عام انتخابات سے قبل اسلام آباد میں عمران خان کے 120 سے زائد دنوں پر محیط دھرنے میں بھی یہ ذمہ داری ڈی جے بٹ کی تھی۔ بعد میں ڈی جے کا پیسوں پر جماعت سے تنازع بھی پیدا ہوا تھا۔ساؤنڈ سسٹم کے علاوہ کرسیاں کسی بھی جلسے کا اہم جز ہوتے ہیں اور اسی پر خرچ بھی سب سے زیادہ آتا ہے۔ 17مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے کوہاٹ میں جلسہ منعقد کیا گیا۔ ہم اسی جلسے کے ممکنہ اخراجات کا ہی تخمینہ لگانے کی کوشش کر لیتے ہیں۔کوہاٹ جلسے میں لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم کی ذمہ داری خان ڈی جے نامی کمپنی کو سونپی گئی تھی۔خان ڈے جے کے عہدیدار ندیم خان نے نجی نیوز ادارے کو بتایا

کہ جلسے میں ساؤنڈ سسٹم اور لائٹیں لگانے کا ٹھیکہ انہیں دیا گیا تھا، جس کے انہوں نے 65 لاکھ روپے لیے ہیں۔اسی طرح جلسہ گاہ میں لگائی جانے والی ’فوم والی کرسیاں‘ دیگر سٹیل کی کرسیوں سے تھوڑی مہنگی ہوتی ہیں۔ ان پر آنے والے خرچ کے حوالے سے کیٹرنگ کے کاروبار سے وابستہ محمد سلیم نے نجی نیوز ادارے کو بتایا کہ کوہاٹ جلسے میں جو کرسیاں لگائی گئی تھیں ان کا فی کرسی کرایہ 25 سے 30 روپے تک ہے۔اب اگر دس ہزار کرسیوں کا بھی حساب لگایا جائے تو ان کا کرایہ تقریباً تین لاکھ روپے بنتا ہے۔ سلیم نے بتایا کہ ’کرسیوں کے ساتھ اکثر سٹیج کے لیے کارپٹ وغیرہ بھی رکھے جاتے ہیں جس کا کرایہ الگ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے کارپٹ کا کرایہ تقریباً دو سو روپے ہے۔‘ساؤنڈ اور کرسیوں کی بات تو ہو گئی، لیکن پی ٹی آئی کے جلسوں میں ویڈیو، سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ فیڈ کے لیے الگ کمپنی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔کوہاٹ جلسے کو ویڈیو اور سیٹلائٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے ایک عہدیدار نے نجی نیوز ادارے کو بتایا کہ سیٹلائٹ کیمروں کا ایک دن کا کرایہ ایک لاکھ روپے تک ہے۔اسی طرح پشاور میں پروڈکشن ہاؤس کے مالک محمد آفتاب نے بتایا کہ ویڈیو سسٹم جس میں اگر پانچ کیمرے شامل ہوں اور ساتھ میں ڈرون کیمرے بھی ہوں تو اس پر تین لاکھ تک خرچ آتا ہے۔آفتاب نے بتایا کہ ’یہ خرچ جلسے کے چھوٹے بڑے ہونے پر بھی منحصر ہے اور جلسہ انتظامیہ پر بھی، کہ ان کو کتنے کیمروں کی ضرورت ہے اور اسی حساب سے کیمروں کا کرایہ چارج کیا جاتا ہے۔

‘اب مجموعی طور پر اگر ایک جلسے پر خرچے کا تخمینہ لگایا جائے تو ساؤنڈ سسٹم، ویڈیو خدمات، کرسیاں اور دیگر انتظامات پر کوہاٹ کے جلسے میں تقریباً 72 لاکھ روپے کا خرچ آیا۔ اس خرچے میں جلسے کے لیے لائے گئے کنٹینرز جو سٹیج وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہیلی کاپٹر شامل نہیں ہیں۔پی ٹی آئی نے گذشتہ روز ضلع مردان میں جلسہ کیا تھا، جس میں اسلام آباد سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ عمران خان سرکاری ہیلی کاپٹر میں جلسہ گاہ پہنچے تھے۔ اسی طرح ایبٹ آباد میں جلسے کے لیے بھی عمران خان خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر میں ہی گئے تھے۔اسی حوالے سے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر علی محمد سیف نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان سرکاری امور کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد میں تھے اور وہ خود مردان جلسے کے لیے جا رہے تھے، تو عمران خان کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔بیرسٹر سیف نے بتایا تھا: ’یہ وزیراعلیٰ کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں کس کو بٹھاتے ہیں۔‘یاد رہے کہ 2018 میں بھی جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو انہیں قومی احتساب بیورو نے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ’غیرقانونی‘ استعمال کی وجہ سے طلب تھا۔اس کیس میں نیب کا موقف تھا کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر کا جو کرایہ ادا کیا وہ بہت کم ہے۔انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت عمران خان نے ایم آئی 17 اور ایکروئیول ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا جو خیبر پختونخوا حکومت کا تھا اور انہوں نے فی گھنٹے کے حساب سے حکومت کو صرف 28 ہزار روپے ادا کیے تھے۔تاہم نیب کا موقف تھا

کہ اگر یہی ہیلی کاپٹر عمران خان کسی نجی کمپنی سے ہائر کرتے تو ان کو ایم آئی 17 کے لیے فی گھنٹہ تقریباً دس لاکھ روپے جبکہ ایکروئیول ہیلی کاپٹر کے لیے فی گھنٹہ تقریباً پانچ لاکھ ادا کرنے ہوتے، لیکن انہوں نے حکومت کو صرف 28 ہزار فی گھنٹہ ادا کیا۔اسی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے پاس موجود ہیلی کاپٹر کا فی گھنٹہ کرایہ تقریباً دو لاکھ روپے ہے اور یہی ہیلی کاپٹر عمران خان اور وزیراعلیٰ جلسوں میں شرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایئرفورس ٹیکنالوجی نامی ویب سائٹ کے مطابق ایم آئی 17 ہیلی کی سپیڈ فی گھنٹہ کے حساب سے 250 کلومیٹر ہے۔اب اگر اسی حساب سے اسلام آباد اور مردان کے فاصلے کو دیکھا جائے تو اس پر تقریباً ایک لاکھ کا خرچ آئے گا۔کسی بھی سیاسی جلسے کے لیے سکیورٹی پولیس فراہم کرتی ہے اور بڑے جلسوں کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں پولیس تعینات کی جاتی ہے۔ تاہم بعض سیاست دان اپنی نجی سکیورٹی بھی رکھتے ہیں۔اسی حوالے سے انڈپیندنٹ اردو نے پولیس حکام سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جلسوں کو سکیورٹی فرہم کرنے پر کتنا خرچہ آتا ہے، لیکن کسی بھی اہلکار نے اس پر آن ریکارڈ بات کرنے سے گریز کیا۔ نجی نیوز ادارے نے عمران خان کے ایک جلسے میں شرکا سے پوچھا کہ آپ کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہوتا ہے، تو فیصل آباد سے آنے والے ایک گروپ نے بتایا کہ ہمیں ہمارا ایم این اے لے کر آیا ہے اور اسی کی طرف سے ہمیں کھانے کے پیکٹ مل جاتے ہیں۔ باقی بوتل اور سگریٹ وغیرہ کا خرچ ہم خود پورا کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ صرف چند لوگوں سے گفتگو پر مبنی ہے، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ جلسے میں شرکت کرنے والے ہر شخص کو کھانا پی ٹی آئی کی طرف سے ملتا ہے۔اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسوں کے احاطے سے باہر کھانے پینے کی ریڑھیوں کا ایک بازار اکٹھا ہو جاتا ہے جہاں آئس کریم اور شربت سے لے کر برگر تک دستیاب ہوتے ہیں۔ گویا ان جلسوں کی وجہ سے بہت سے چھوٹے کاروباری حضرات کا بھی بھلا ہو جاتا ہے۔تقریباً ایک ماہ قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ ان پارٹی نے ’نامنظور ڈاٹ کام‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ لانچ کی تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندہ اکھٹا کیا جا سکے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے خلاف مہم چلانے کے لیے فنڈ کی ضرورت ہو گی۔‘نامنظور ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر ان تمام افراد اور ممالک کے نام درج ہیں جو بیرون ملک سے اس فنڈ میں پیسے بھیج رہے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق اب تک اس فنڈ میں سب سے زیادہ چندہ برطانیہ سے آیا ہے جو مجموعی فنڈ کا تقریباً 30 فیصد ہے۔اسی طرح دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جہاں سے 28 فیصد سے زیادہ چندہ اکھٹا کیا جا چکا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے جہاں سے اب تک 11 فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔چوتھے اور پانچویں نمبر پر کینیڈا اور سعودی عرب ہیں جہاں سے اب تک 10 اور چھ فیصد سے زائد چندہ اکٹھا ہوا ہے۔تاہم ویب سائٹ پر چندے کے حوالے سے مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں جیسے کہ اب تک مجموعی طور پر کتنا چندہ اکٹھا ہوا ہے۔اسی فنڈ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل نے پورٹل کھلنے کے بعد ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پورٹل کھولنے کے 24 گھنٹوں میں ہی سات لاکھ ڈالرز جمع ہو گئے ہیں تاہم نجی نیوز ادارے نے جب اس ٹویٹ کو چیک کیا تو اسے ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی مجموعی جمع شدہ چندے کے باجرے میں معلومات عام کرنا نہیں چاہتی۔جلسوں کے لیے فنڈ کہاں سے آتے ہیں؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے نجی نیوز ادارے نے شہباز گِل اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما فواد چوہدری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ان رہنماؤں سے وٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی،

Categories
پاکستان

منی لانڈرنگ کیس: ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ، یہ شخص دراصل کون ہے ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں سلیمان شہباز، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی گئی ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب

حمزہ شہباز ایف آئی اے کے سولہ ارب روپے کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں لاہور کی اسپیشل کورٹ میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پرایف آئی اے نے شہباز شریف سمیت تمام ملزمان پر فوری فرد جرم عائد کرنے کی مخالفت کر دی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ گزارش ہے چالان میں اشتہاری ملزموں کیخلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں پراسیکیوشن کی طرف سے پیش ہوا ہوں ۔اسپیشل پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسا قانونی نکتہ چھوڑنے پر ملزم فائدہ لے سکتے ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ 4 ماہ پراسیکیوشن کیوں خاموش رہی ہے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں 3 ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، سلمان شہباز، مقصود اور طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جائے، جس پر جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ یہ ملزمان تو مجسٹریٹ کی عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ درخواست ریکارڈ پر آ گئی ہے، عدالت مناسب حکم جاری کر دے۔عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔سماعت کے دوران وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ 2008 سے 2018 کے دوران الزامات لگائے گئے، بہت سے الزامات کو پراسیکیوشن ٹیم نے چالان میں ختم کر دیا، کہا گیا فیک کمپنیوں کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا، کہا گیا ایک اکاؤنٹ میں 2 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، ایف آئی آر اور چالان میں زمین آسمان کا فرق ہے، شہباز شریف کیخلاف تحقیقات کی سربراہی سابق مشیر احتساب نے کی۔ وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور کہا کہ لندن کرائم ایجنسی نے تحقیقات کیں، ایک دھیلے کی بھی کرپشن کی ہوتی تو آج لندن نہیں جا سکتا تھا، میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، میرے خلاف دبئی، فرانس، سوئٹزرلینڈ میں تحقیقات کرائی گئیں، پونے 2 سال تحقیقات ہوئیں، جلا وطنی میں لندن اور امریکا میں قیام کیا، میرے پاس حرام کا پیسہ نہیں تھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ میرے تمام اثاثے ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہیں، تحقیقات میں کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہوسکا، برطانیہ میں رہا، کشکول تو نہیں اٹھانا تھا، وہاں کاروبار کیا، میرے خلاف کرپشن کے سیاسی کیسز بنائے گئے۔ ایف آئی اے سنٹرل کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا یہ کیسی سکیورٹی ہے کہ سائلین کا داخلہ بند کر دیا گیا ؟ ایسا تو کبھی نہیں دیکھا جو حالات اس عدالت کے باہر ہوگئے۔ عدالت نے فوری سکیورٹی انچارج کو طلب کرلیا۔ شہباز شریف نے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جناب میں اس سارے معاملے کو دیکھتا ہوں۔

Categories
پاکستان

موجودہ حکومت اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرے گی یا نہیں ؟ بڑا اعلان

لاہور(ویب ڈیسک) دوحہ میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے درمیان حکومت 10 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ برائے سال 23-2022 پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نجی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری خزانہ حمید یعقوب شیخ نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے

کہ ‘مالی سال 2022-23 کا سالانہ بجٹ فنانس بل 2022 کے ساتھ جمعہ 10 جون 2022 کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا’۔حمید شیخ نے سیکریٹری کابینہ ڈویژن سے یہ بھی کہا کہ ‘برائے مہربانی بجٹ کی تجاویز پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس بلایا جائے’۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اجلاس بلائے گی، جس کا آغاز جون کے پہلے ہفتے میں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) سے کیا جائے گا تاکہ 16 منقطع شدہ وزارتوں کے تحت صوبائی منصوبوں کے لیے مختص کیے جانے والے تقریباً 700 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کو حتمی شکل دی جا سکے۔اسی طرح قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 7 جون کو بلانے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے بعد 10 جون کو بجٹ پر کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں آئندہ سال کے لیے مالیاتی فریم ورک پر بات ہوئی جس کی بنیاد پر اگلے سال کا وفاقی ترقیاتی پروگرام 700 ارب روپے سے زیادہ کا متحمل نہیں ہوسکتا ورنہ ٹیکس کا بوجھ بڑھانا پڑے گا۔ذرائع نے بتایا کہ سیکریٹری خزانہ نے آئی ایم ایف کے مذاکرات میں شرکت کی تھی اور حکومت کی جانب سے 45 دن سے دو ماہ کے عرصے میں ایندھن اور بجلی کی سبسڈی کو بتدریج ختم کرنے کے عزم سے آگاہ کیا تا کہ عوام کو اچانک دھچکا لگنے سے بچایا جا سکے۔تاہم سبسڈی میں کمی کے متفقہ منصوبے کے تحت کیا جائے گا، وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا پیر کو مذاکرات میں شامل ہوں گے۔

ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سبسڈی میں کمی کے منصوبے کا پہلا حصہ بدھ کو آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کے اختتام سے پہلے پیر سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کو ریکارڈ مالیاتی خسارے کے ساتھ گزرا ہوا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے جس میں موجودہ حکومت سابقہ حکومت کے تمام فیصلوں کی لاگت کو رواں سال میں ڈالنا چاہتی ہے۔تاہم، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ جاری مذاکرات کو مثبت انداز میں ختم کرنے سے پہلے سبسڈی میں کمی سے متعلق اقدامات کیے جائیں۔ذرائع نے بتایا کہ حکام نے وفاقی بجٹ کے مسلسل بوجھ کو کم کرنے اور اپنی آمدنی کو مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرنے کے لیے حصص کی تقسیم اور پبلک سیکٹر کے اداروں خصوصاً توانائی کے شعبے کی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے ایک عارضی منصوبہ بھی شیئر کیا ہے۔جس کے شیڈول کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی مشاورت سے حتمی شکل دی جائے گی اور اسے اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا۔مفتاح اسمٰعیل نے آئی ایم ایف کو سخت فیصلے لینے، پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے اصل فنڈ پروگرام میں کی گئی اصلاحات اور مکمل اسٹرکچرل بینچ مارک کی یقین دہانی کرائی ہے، ان اقدامات کو ساختی بینچ مارکس کے بیک لاگ کو صاف کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔دونوں فریقین نے عمومی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پروگرام کی مدت میں ایک سال کی توسیع اور پروگرام کے حجم میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ مالیاتی اہداف کو پورا کرنے کے بجائے بنیادی وجوہات کو حل کرنے والے اسٹریٹیجک اسٹرکچرل بینچ مارک سے منسلک ہونا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایسے معیارات قائم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس کے تحت بنیادی چیلنجز دور نہیں کیے جاتے اور تکلیف دہ اقدامات کے باوجود بار بار واپس آتے ہیں۔اس طرح پاور کمپنیوں اور دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کو نظرثانی شدہ اور8 ارب ڈالر کے اپ گریڈڈ فنڈ پروگرام میں اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ گردشی قرضوں کے بہاؤ کو ہمیشہ کے لیے حل کیا جائے اور نجکاری کے ذریعے قرضوں کے ذخیرے کو تحلیل کیا جائے۔

Categories
پاکستان

منی لانڈرنگ کیس:شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کیا مہلت مل گئی ؟ اہم خبر

لاہور(ویب ڈیسک) خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے منی لانڈرنگ کیس میں وکلا کے دلائل کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی جبکہ سلمان شہباز، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔

خصوصی عدالت کے جج اعجاز اعوان نےکیس کی سماعت کی اس دوران دلائل دیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں تین ملزمان اشتہاری ہیں، ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دی ہے، تمام ملزمان پر ایک ساتھ ہی فرد جرم کی جائے۔ ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جو تین ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اشتہاریوں کے خلاف تو ضابطے کی کارروائی مجسٹریٹ کی عدالت سے ہو چکی ہے۔پراسیکیورٹر نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ جو ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی مکمل کریں، اگر اس کیس کو ایسے ہی لے کر چلا گیا تو آگے جا کر ملزمان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کہہ رہے ہیں گزشتہ پروسکیوشن نے 4 ماہ ملزمان کو فائدہ دیا۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2008 سے 2018 کے دوران کے جوالزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سے بہت سارے الزامات کو پروسیکیوشن ٹیم نے چالان میں ختم کر دیا ہے، کہا گیا کہ جعلی کمپنیز کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا ہے۔ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ کہا گیا تھا کہ ایک اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں، سابقہ تفتیشی ٹیم نے ایف آئی اے میں جو الزامات لگائے ان میں سے متعدد الزامات کو چالان میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر اور چالان میں زمین آسمان کا فرق ہے، شہباز شریف کے خلاف ساری تحقیقات کی سربراہی سابق مشیر احتساب نے کی۔

وکیل امجد پرویز نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جن 14 اکاؤنٹس کا ذکر ہوا وہ سب بینکنگ چینل کے ہیں، اس کیس میں ڈیڑھ سال تک بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، ملزمان نے بغیر ثبوت کے بدنامی برداشت کی۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے ایف آئی آر نیٹ فلیکس چینل سے متاثر ہو کر لکھی گٸی ہے، نیٹ فلیکس پر فلمیں بہت آتی ہیں یہ بھی ایک فلمی ایف آئی آر ہے۔جج اعجاز حسن اعوان نے ریمارکس دیے کہ میں نے تو اشتہاری قرار دینے کا آرڈر جاری کر رکھا ہے، جس پر خصوصی پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ کوئی بھی قانونی نکتہ چھوڑنے پر ملزم فائدہ لے سکتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ 4 ماہ سے پروسکیوشن کیوں خاموش رہی ہے؟ جس پر خصوصی پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے کہا کہ میں پروسکیوشن کی طرف سے پیش ہوا ہوں یہی گزارش ہے کہ چالان میں اشتہاری ملزموں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔عدالت نے سلمان شہباز سمیت دیگر کو اشتہاری قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت جاری رکھی۔سماعت کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لندن کی این سی اے میں میرے خلاف تحقیقات کروائی گئیں لیکن کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہیں ہوسکا، میں برطانیہ میں رہا کشکول تو نہیں اٹھانا تھا وہاں کاروبار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کرپشن کے سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ 10 سال بطور خادم اعلیٰ کام کیا لیکن سیلری نہیں لی، میری کروڑ روپے کی تنخواہ بنتی ہے لیکن نہیں لی۔شہباز شریف نے کہا کہ میں نے سرکاری دورے بھی اپنی جیب سے کیے،

سرکاری گاڑی میں پیٹرول بھی اپنی جیب سے ڈالواتا تھا، قوم کے اربوں روپے بچائے۔وزیر اعظم کے وکیل نے بتایا کہ 18 دسمبر کو ایف آئی اے کی جانب سے شہباز شریف کو جیل میں سوالنامہ دیا گیا تھا، میرے مؤکل سے تفتیش کی گئی، 8 جنوری 2021 کو میرے مؤکل سے جیل میں تفیش کی گئی تھی۔دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 8 جنوری سے جون 2021 تک اس مقدمے میں ایف آئی اے مکمل خاموش رہی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کی۔انہوں نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں میرٹ پر ضمانت منظور کی گئی تھی، 15 جون 2021 کو ایف آئی اے نے شہباز شریف کو نوٹس بھیج دییے،5 ماہ کی خاموشی کے بعد نوٹس بھیجا گیا، یہ نوٹس اس وقت بھیجا گیا جب بجٹ پیش ہونے والا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، شہباز شریف اور حمزہ شہباز وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ہیں پھر بھی عدالت کے سامنے پیش ہیں۔ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ یہ وقت صوبے اور ملک کے لیے کام کرنے کا ہے۔وکیل امجد پرویز نے مزید کہا کہ عدالت اس بارے میں رہنمائی کرے کہ یہ اس مقدمے کا ٹرائل کونسی عدالت میں ہوسکتا ہے، یہ دیکھنا ہے کہ اگر جرم بنتا ہے تو وہ کس قانون کے تحت بنتا ہے۔وکیل نے کہا کہ اس کیس میں ابھی متعدد مسائل ہیں، ضمانت کا فیصلہ خلا میں کیا جائےگا نہ ہی ہوا میں کیا جائےگا، ضمانت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہونا ہے۔

دوران سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ آج ضمانت پر دلائل مکمل ہونا ممکن نہیں ہے، ابھی ہم نے بھی دلائل دینے ہیں تفتیشی افسر بھی موجود نہیں ہیں۔وزیر اعظم کے وکیل نے استدعا کی کہ آپ ملزمان کو جانے کی اجازت دے دیں ہم جہاں تک ہو سکے گا دلائل دیں گے، اگر ہم روازنہ کی بنیاد پر بھی سماعت کریں تو بھی ہفتے سے پہلے دلائل مکمل نہیں ہوسکتے، اس کیس میں اور بھی ملزم ہیں ان کے وکیل بھی دلائل دیں گے۔وکیل امجد پرویز نے استدعا کی کہ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردیں ہم آئندہ سماعت پر کھانا اور بستر بھی ساتھ لے آئیں گے۔عدالت نے کچھ دیر کا وقفہ لیتے ہوئے سماعت ملتوی کی تھی، تاہم مختصر وقفے بعد شروع ہونے والی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 14 اکاوئنٹس سے 10 سال کے عرصے میں ایک پائی بھی کبھی شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی شہادت نہیں ہے کہ ان اکاوئنٹس میں سے کبھی شہباز شریف نے کوئی پیسے لیے ہوں، کہا جاتا رہا بوریوں میں پیسے لیکر جائے جاتے تھے اور منی لانڈرنگ کی گئی ہے، منی لانڈرنگ کے ثبوت کہاں ہیں۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ صرف جھوٹے الزامات لگائے گیے اسکے علاوہ کچھ نہیں، سابق مشیر احتساب نے بھی الزامات لگائے لیکن ثبوت دیئے۔خصوصی عدالت کے جج نے استفسار کیا کہ جو پیسہ آیا اورگیا اسکے ذرائع بھی تو بتانے ہیں جس پر امجد پرویز نے جواب دیا کہ شہباز شریف کے اکاؤنٹس میں ایک روپیہ بھی نہیں آیا،

چپڑاسی والا ہو یا کوئی صفائی والا اگر اسکے اکاؤنٹ میں آنے والے پیسے ناجائز نہیں تو یہ جرم نہیں ہے۔عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کرتے ہوئے سلمان شہباز ، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، کیس کی سماعت 28 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔پیشی کے موقع پر پولیس کی جانب سے میڈیا کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا جبکہ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات تھی۔شہباز شریف کے عدالت کے روبرو پیش ہونے پر منتظم جج اعجاز ایوان نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے باہر حالات ٹھیک نہیں ہیں یہ تو وزیر اعظم صاحب کو دیکھنا چاہیے، میری گاڑی کو بھی روکا گیا۔انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپک ے وکلا اور ملزمان کو بھی اندر نہیں آنے دیا جا رہا تھا، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میں جیسے ہی آیا ہوں میں نے کہا ہے کہ صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دی جائے ۔اس موقع پر جج کا کہنا تھا کہ ایسا تو کبھی نہیں دیکھا جو حالات اس عدالت کے باہر ہو گئے ہیں، تاہم عدالت نے فوری طور پر سیکیورٹی انچارج کو طلب کر لیا۔جج نے وزیر اعظم کو ہدایت کی کہ کورٹ کے باہر جو حالات ہیں وہ ٹھیک ہونے چاہیے، آپ یہاں بھی وزیر اعظم ہیں۔دوران سماعت شہباز شریف نے کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ سر میں اس سارے معاملے کو دیکھتا ہوں۔بعد ازاں ایس پی سول لائن عدالت کے روبرو پیش ہوئے، عدالت نے انہیں کہا کہ آپ کو دو دفعہ میسج بھجوایا ہے آپ کیوں عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ایس پی سول لائن نے اعتراف کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہم سے مس کوآرڈینیشن ہوئی ہے، میری گزارش ہے شوکاز نوٹس نہ دیں میں ذمے داران کے خلاف کارروائی کروں گا۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ سیکیورٹی ہے کہ آپ ججز کی گاڑیوں کو بھی روک لیتے ہیںدوسری جانب سماعت شروع ہونے سے قبل عطا تارڑ نے صحافیوں کے ساتھ کمرہ عدالت کے باہر دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ جب تک صحافی کمرہ عدالت میں نہیں جائیں گے وزیر اعظم صاحب کو بھی کمرہ عدالت میں جانے نہیں دوں گا۔عطا تارڑ اور صحافیوں کے احتجاج پر سیکیورٹی سٹاف نے میڈیا کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

Categories
پاکستان

لاہور : میٹرک کے امتحانات ۔۔۔۔ سپرٹنڈنٹس پر بڑی پابندی عائد کر دی گئی

لاہور(ویب ڈیسک) تعلیمی بورڈز کے تحت میٹرک اور انٹر کے سالانہ پیپرز مسلسل آوٹ ہونے کا خدشہ ،میٹرک کے امتحانات میں سپرنٹینڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ امتحانی عملہ اور طلباء پیپر شروع ہونے سے پہلے موبائل فون سپرنٹینڈٹ کے پاس جمع کروائیں گے،طلباء پر بھی

کمرہ جماعت میں موبائل فون لانے پر سخت پابندی عائد ہوگی۔سپرنٹینڈنٹ امتحانی عملے سے وصول شدہ موبائل فونز سوئچ آف کرکے اپنے پاس رکھیں گے ،دوران چیکنگ موبائل فون آن ہونے پر ضبط کرلیا جائے گا۔ ضبط شدہ موبائل فونز کی مکمل جانچ پڑتال کیجائے گی ،موبائل کے ذریعے پیپر لیک کرنے والے عملے یا امیدوار کیخلاف قانونی کاروائی کیجائے گی۔ضبط شدہ موبائل فونز طالبعلم اور امتحانی عملہ کو واپس نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے تعلیمی بورڈز نے تمام امتحانی مراکز کے سپرنٹینڈنٹ کو ہدایت جاری کردیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پیرس سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ماحولیاتی تبدیلی کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو پچھلے دو ماہ سے گرمی کی تباہ کن لہر نے لپیٹ میں لیا ہوا ہے جو غیرمعمولی ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلی تیزی سے جاری ہے جس سے صورت حال شاید زیادہ خراب ہو۔ نجی نیوز کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے حوالے سے بتایا گیا کہ رواں ہفتے شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ عالمی درجہ حرارت میں بغیر کسی اضافے کے بھی جنوبی ایشیا میں بھی کیلیفورنیا طرز کے ایک بڑے زلزلے کے خطرات ہیں۔ بھارت اور پڑوسی ملک پاکستان میں مارچ اور اپریل میں شدید گرمی کے باعث ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 فارن ہائیٹ) کے جھلسانے والے گرمی کا سامنا رہا جبکہ سال کے گرم ترین دنوں کا آنا بھی باقی ہے۔ ماحولیاتی سائنسی تحقیق کرنے والے غیر منافع بخش ادارے برکلے ارتھ کے بڑے سائنسدان رابرٹ روہڈے نے ٹوئٹ میں بتایا کہ اس گرمی کی لہر سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوسکتے ہیں۔

Categories
پاکستان

فلور ملز کی شامت آگئی ، حکومت پنجاب نے بڑا فیصلہ کر لیا

لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت کا فلور ملز کے لیے گندم کے اجرا کی پالیسی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق فلور ملز کے لیے گندم کے اجرا کی پالیسی پر نئی شرائط لاگو ہوں گیں۔نئی لائسنس یافتہ فلو ملز کو گندم کے کوٹے کی فہرست باہر نکال دیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق ڈیفلاٹر ملز کو کوٹے کے تحت گندم کا اجرا بالکل نہیں کیا جائے گا ۔فلور ملوں کے لیے گندم کی ایکسٹیریکشن کا تناسب 70:18:12 مقرر کی جائے گی ۔فلور ملز کے لیے سٹاک اور گندم کے اجرا کی مانیٹرنگ سخت کی جائے گی ۔محکمہ خوراک کی ٹیموں کو فلور ملوں کی انسپیکشن کے لیے کھلی اجازت ہوگی ۔اس کے علاوہ فلور ملوں کو گندم کے ان آؤٹ پر مکمل اندراج کی فہرست دینا لازم ہوگی ۔ای پرمٹ والی فلور ملوں کو ہی صرف گندم کی موومنٹ کی اجازت ہوگی ۔ملوں کے لیے ماہانہ 650 کلو واٹ بجلی کا استعمال بھی لازم ہوگا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے منی لانڈرنگ کیس میں وکلا کے دلائل کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کردی جبکہ سلمان شہباز، طاہر نقوی اور ملک مقصود کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ خصوصی عدالت کے جج اعجاز اعوان نےکیس کی سماعت کی اس دوران دلائل دیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں تین ملزمان اشتہاری ہیں، ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دی ہے، تمام ملزمان پر ایک ساتھ ہی فرد جرم کی جائے۔ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جو تین ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اشتہاریوں کے خلاف تو ضابطے کی کارروائی مجسٹریٹ کی عدالت سے ہو چکی ہے۔پراسیکیورٹر نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ جو ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی مکمل کریں، اگر اس کیس کو ایسے ہی لے کر چلا گیا تو آگے جا کر ملزمان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کہہ رہے ہیں گزشتہ پروسکیوشن نے 4 ماہ ملزمان کو فائدہ دیا۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2008 سے 2018 کے دوران کے جوالزامات لگائے گئے ہیں، ان میں سے بہت سارے الزامات کو پروسیکیوشن ٹیم نے چالان میں ختم کر دیا ہے، کہا گیا کہ جعلی کمپنیز کے ذریعے معاملات کو چلایا گیا ہے۔ایڈووکیٹ امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ کہا گیا تھا کہ ایک اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ہوئی تھیں، سابقہ تفتیشی ٹیم نے ایف آئی اے میں جو الزامات لگائے ان میں سے متعدد الزامات کو چالان میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

Categories
پاکستان

عمران خان کا مریم نواز کے بارے میں بیان : حمزہ شہباز کا رد عمل آگیا

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی عمران خان کے مریم نواز کے بارے میں نازیبا جملوں اور بازاری زبان کی بھرپور مذمت،ملک کی تمام خواتین کو اس گھٹیا سوچ کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ تفصیلات کےمطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا اپنے بیان میں کہناتھا کہ مریم نواز شریف کے بارے میں

عمران نیازی کی بازاری سوچ قابل مذمت ہےاخلاقیات ، روایات اور سیاست کا جنازہ نکالنے کے بعد اب عمران نیازی خواتین پر رکیک حملے بھی کر رہا ہے۔ ملک کی تمام خواتین کو اس گھٹیا سوچ کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے،ایسی بدزبانی ہمارے سیاسی کلچر کے طور پر بڑھانا نئی نسل کے لئے زہر قاتل ہے،عمران نیازی ملک میں انارکی کے ساتھ غلیظ خیالات کی ترویج اور اخلاقیات کا جنازہ نکالنے پر بھی تلا ہوا ہے، خواتین کے بارے میں اس کے بازاری خیالات قوم کے سامنے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ ملک کی معیشت، عوام کو تباہ کرنے والے عمران خان ہیں، عمران خان نے معاشرے کی اخلاقی قدروں کا بھی جنازہ نکال دیا ہے، عمران خان کا منہ گندانالہ بن چکا ہے،ہم نے اپنا جذبہ اور جنون دکھایا تو عمران نیازی سے برداشت نہیں ہوگا۔ رانا ثنا اللہ نے مریم نواز سے متعلق بیان پر عمران خان کو تبنیہ کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان اپنی زبان کو لگام دو ورنہ گندگی پھیلانے والی زبان ہمیں کھینچنا آتی ہے،تم قوم کی بیٹی مریم نواز شریف کے بارے میں جملے بازی کرکے پوری قوم کی خواتین کی توہین کر رہے ہو. عمران خان کی گندی تربیت اور کردار کا عکس ہے،یہ ہے وہ لوفر لفنگا جو وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کرسی پر چار سال گند پھیلاتا رہا ۔

Categories
پاکستان

بنی گالہ میں حالات خراب ۔۔۔بڑے آپریشن کی خبر آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بنی گالا میں رات گئے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس سرچ آپریشن کے لیے پہنچی، پولیس کی آمد پر کارکن خیموں سے باہر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے مارچ سے پہلے سیاسی پارہ بڑھنے لگا، کیپٹل پولیس رات گئے

بنی گالا کے باہر پہنچ گئی۔ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی نفری کے ہمراہ بنی گالا پہنچے، بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وین، سی ٹی ڈی، بم ڈسپوزل سکواڈ اور سپیشل برانچ کی نفری بھی پولیس کے ہمراہ تھی۔پولیس دیکھ کر عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر خیبرپختونخوا سے آئے تحریک انصاف کے 200 سے زائد کارکن خیموں سے باہر نکل آئے اور ڈنڈے پکڑے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ علی امین گنڈا پور بھی بنی گالا پہنچ گئے۔ پولیس کے مطابق وہ کسی کارکن کو گرفتار کرنے کے لیے نہیں بلکہ بنی گالا کے باہر سرچ آپریشن کے لیے آئی تھی، تاہم ایک گھنٹے تک کھڑی رہنے والی اسلام آباد پولیس بنا کسی سرچ آپریشن کے واپس روانہ ہوگئی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم اورپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ اگرہم سیاست کا سوچتے تو موجودہ حکومت کو مزید چلنے دیتے، ہمیں پتا ہے جتنی زیادہ یہ حکومت کریں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا والی صورتحال کی طرف لیکر جائینگے، جلدی سے جلدی الیکشن کی تاریخ دو اوراسمبلیوں کوتحلیل کرو۔ پشاور میں کور کمیٹی کا اجلاس ہو گا، جس میں 25 اور 29 مئی کے درمیان لانگ مارچ کی تاریخ مل جائے گی۔ ملتان میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں نوجوانوں اور خواتین کے بغیر کوئی بھی انقلاب کامیاب نہیں ہوتا، شاندار استقبال پر ملتان کا شکریہ اداکرتا ہوں، یہ انقلاب آرہا ہے، مجھے کہاگیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، قرآن میں ہے جولوگ ایمان لے آئے، اللہ ان کے خوف دورکردیتا ہے، ذلت، مرنے، رزق کا خوف بڑے انسان کوایک چھوٹا سا انسان بنادیتا ہے۔ جب تک آپ خوف کے بت کو نہیں توڑیں عظیم قوم نہیں بنا سکتے، کہاگیا بلٹ پروف شیشہ لگاو، میری قوم کسی سپرپاور،چور اور ڈاکووں کے سامنے نہیں جھکی۔ اللہ سے ہمیشہ دعا کرتا تھا میری قوم کو جگا دے۔دنیا میں جس نے بھی بڑے کام کیے پہلے خوف کوختم کیا۔ خوف کے بت کو توڑے بغیر قوم کوایک عظیم قوم نہیں بناسکتے، ہمارے نبی ﷺنے پہلے لوگوں کوپیسے کی لالچ اورخوف سے آزاد کردیا تھا۔ہمارے نبی ﷺ نے دنیا کی امامت کی تھی۔ جس بیٹسمین کو تیز گیند لگنے کا خوف ہو وہ بڑا بیٹسمین نہیں بن سکتا۔ قوم سے کہنا چاہتا ہوں کرپٹ اوربزدل حکمرانوں نے خوف دلایا ہوا ہے، انہوں نے خوف دلایا جب تک امریکا کے جوتے پالش نہیں کریں گے آگے نہیں بڑھ سکتے۔