ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔۔۔ ڈائیلسز اور ایکسرے مشین سمیت کون کون سی مشینر ی اب پاکستان میں بنے گی؟ خوشخبری سنادی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ فیصل آباد انڈسٹریل زون میں 200 ایکڑ پر طبی آلات بنانے کا زون قائم کردیا گیا جہاں سرنج، سوئیاں، ڈائیلسز مشین، اسٹنٹس، ایکسرے مشین اور کینولا بنائے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی

وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ فیصل آباد انڈسٹریل زون میں 200 ایکڑ پر طبی آلات بنانے کا زون قائم کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ طبی آلات کی 1.4 ارب ڈالر کی درآمدات بہت کم ہوجائیں گی۔ ہم پاکستان میں سرنج، سوئیاں، ڈائیلسز مشین، اسٹنٹس، ایکسرے مشین اور کینولا پاکستان میں بنیں گے۔فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ طبی آلات بنانے کا اگلا زون سیالکوٹ ہوگا۔گزشتہ روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹرز پاکستان میں بننے شروع ہو گئے ہیں، آج پاکستان ہر ماہ 11 سو وینٹی لیٹرز بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے ماسک، سینی ٹائزر اور حفاظتی کٹس بنائیں، بہت جلد لیتھیم آئن بیٹریز بھی بنانا شروع کریں گے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ فیصل آباد میں میڈیکل انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، سیالکوٹ میں سمبڑیال کے مقام پر تکنیکی سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے۔ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ فیصل آباد انڈسٹریل زون میں 200 ایکڑ پر طبی آلات بنانے کا زون قائم کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ طبی آلات کی 1.4 ارب ڈالر کی درآمدات بہت کم ہوجائیں گی۔ ہم پاکستان میں سرنج، سوئیاں، ڈائیلسز مشین، اسٹنٹس، ایکسرے مشین اور کینولا پاکستان میں بنیں گے۔فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ طبی آلات بنانے کا اگلا زون سیالکوٹ ہوگا۔گزشتہ روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹرز پاکستان میں بننے شروع ہو گئے ہیں، آج پاکستان ہر ماہ 11 سو وینٹی لیٹرز بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے ماسک، سینی ٹائزر اور حفاظتی کٹس بنائیں، بہت جلد لیتھیم آئن بیٹریز بھی بنانا شروع کریں گے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ فیصل آباد میں میڈیکل انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، سیالکوٹ میں سمبڑیال کے مقام پر تکنیکی سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے۔