سائیں سرکار نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، سکول کے ایک ڈیسک کی قیمت کیا لگا دی؟ جان کر پورا پاکستان غصے سے آگ بگولہ ہوگیا

کراچی ( نیوز ڈیسک) سندھ حکومت کا نیا کارنامہ، سکول کے ایک ڈیسک کی قیمت 22 ہزار روپے لگا دی، تفصیلات کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے نجی ٹی وی کے صحافی امتیاز چانڈیو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایمانداری سے بتائیں اس ڈیسک کی قیمت کیا ہوگی؟؟امتیاز چانڈیو نے مزید کہا کہ اسکولز کے

لیے یہ ایک ڈیسک حکومت سندھ 22 ہزار روپے میں خرید رہی ہے اور ڈیڑھ لاکھ ڈیسک کی قیمت ساڑھے 3 ارب لگائی جا رہی ہے۔ ایمرجنسی میں خریدنے کا مطلب گئی بھینس پانی میں، اس ٹیبل میں کونسے ہیرے جڑے ہوئے ہوئیں۔


اس پر ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ یہ ڈیسک 6350 کا بنا ہے۔باقی خود اندازہ لگا لو۔ میٹریل کا اور کرپشن کا؟؟؟

سوشل میڈیا صارف رانا شانی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے گویٹ سکول کے لیے ایسے ہی ڈیسک 3300 میں بنوایا ہے 20 بنواے تھے 66000 کے ۔


ایک اور صارف نے کہا کہ خبردار یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے جنہوں نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے کتنی قربانیان دی ہے ان پر کرپشن کا الزام گناہ کبیرہ ہے۔

جاوید پنہار نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ 22 ھزار کی بات کر رہے ہو میں تو کہتا ہو 22 ھزار میں ہی سہی لیکن یے ڈیسکیں اسکولوں میں صحیح سلامت پہنچ جائیں تو یہ پ پ پ کا سنہری دور کہا جائے گا ⁦

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ جتنے میں ایک بنچ خریدا جارہا ہے اتنے میں تو حفیظ سنٹر سے سیکنڈ ہینڈ اچھی حالت کا آئی فائیو کمپیوٹر خریدا جاسکتا ہے۔


ایک اندازے کے مطابق سندھ حکومت جو ڈیسک 22 ہزار روپے میں خرید رہی ہے اسکی مارکیٹ میں قیمت 5000 سے 6500 کےلگ بھگ ہے لیکن سندھ حکومت ڈیڑھ لاکھ ڈیسک خرید رہی ہے تو اس حساب سے ڈیسک کی قیمت کم ہونی چاہئے۔