تمہیں خدا کا واسطہ : میری بیوی کی طلاق پر دستخط کروا لو مگر مجھے یہاں سے باہر نکالو ۔۔۔۔۔۔۔۔ گرفتاریوں اور حوالات کی سیر کے تناظر میں لاہور کے ایک پھنے خان کا سبق آموز واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) منشیات کیس میں سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے اکثر رہنمائوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے کہ وہ بھی جلد یا بدیر گرفتار ہو جائیں گے۔ سنگین مالیاتی جرائم میں ملوث ان لیڈروں کے میڈیا منیجر شب و روز اس پروپیگنڈے

نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مصروف ہیں کہ عمرانی حکومت اپنی ناکامیوںکو چھپانے کے لئے انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئی ہے اور فوج‘ نیب ‘ اے این یف سمیت تمام ریاستی ادارے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود چونکہ حکومت اب تک کسی سزا یافتہ مجرم سے لوٹی قومی دولت واپس لے سکی‘ اسحق ڈار اور دیگر مفرور واپس آئے اور نہ اندرون ملک مافیاز کی جائیدادیں ضبط ہوئیں پس ثابت ہوا کہ احتساب محض ڈھکوسلہ ہے اور معیشت کا پہیہ رکنے کا بنیادی سبب۔ ایسٹ ڈیکلریشن سکیم کی مدت ختم ہونے پر زرداری گروپ‘ اومنی گروپ‘ سینیٹر چودھری تنویر کی کچھ جائیدادیں ضبط ہوئیں ‘مریم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سے مہنگی مرسیڈیز گاڑیاں واپس لی گئیں مگر پھر خاموشی چھا گئی۔ یوں قومی مجرموں اور ان کے حامیوں کو کھل کر یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ حکومت مجرموں سے مال مسروقہ برآمد کیوں نہیں کرتی اور لوٹی قومی دولت کو واپس لا کر ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے استعمال میں کیوں نہیں لایا جاتا۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں سرائیکی وسیب کے ایک پولیس افسر کی تحریر گردش کر رہی ہے جس کے ایک دو اہم کرداروں سے میں واقف ہوں اور اس واقعہ کی ذاتی طور پر تصدیق کر چکا ہوں‘ لکھتے ہیں ’’میں 1999ء میں ایس ایچ او تھانہ کوٹ سبزل تعینات تھا۔ میرے موبائل پرڈی آئی جی رانا عابد سعید صاحب مرحوم کی کال آئی ۔اْنہوں نے کہا کہ

مخدوم احمد محمود آپ سے ملیں گے ان کا کام ضرور کرنا ہے اور فون بند ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد مخدوم صاحب کی کال آئی اْنہوں نے بتلایا کہ لاہور کے ایک بٹ صاحب نے ہمیں دھوکا دیا ہے، یہاں بزنس اور پولٹری کے کام کا کہا ‘میرے اور یوسف رضا گیلانی کے تقریباً 5 لاکھ ڈالر کھا گیا جو وصول کرنے ہیں۔کیونکہ میرا بھی مخدوم صاحب سے اچھا تعلق تھا اور ھے تو میں نے قانونی کارروائی کا وعدہ کیا ۔اگلے دن اسلم گیلانی اور ظفر عباسی صاحبان میرے پاس آئے تمام کاغذات دیکھنے کے بعد مقدمہ بجرم 406ت پ درج کر لیا اور تفتیش سب انسپکٹر رانا کو دی۔ ملزم لاہور کا کافی بااثر شخص تھا پولیس ہلکاروں کے ہمراہ لاہور کے لیئے روانہ ہوا ملتان سے یوسف رضا گیلانی کے ایک کزن بھی ہمارے ساتھ نشاندھی کے لیے ساتھ ہو لیے۔ اگلے دن تیار ہو کے شام کو تھانہ گلبرگ اپنی آمد کی رپورٹ درج کرائی لیکن وہاں سے کسی کو ساتھ نہ لیا۔رات کو کافی دیر تک بٹ کے دفتر واقع مین بلیوارڈ گْلبرگ کے باہر انتظار کیا، تقریباً رات12بجے بٹ صاحب اپنی نئی ہونڈا سوک میں بیٹھنے لگے تو ہم نے لپک کر قابو کر لیا۔ ویگن میں بٹھایا اور فوری طور پر رحیم یار خان کیلئے روانہ ہو گئے۔راستے میں موصوف کے موبائل پر کالز آتی رہیں۔واپسی پر مجھے اپنے ایس ایس پی صاحب کی کال آئی کہ کس کو اْٹھا لائے ہو، پورا لاہور ہلا ہوا ہے۔میں نے اْنہیں بتایا کہ ڈی آئی جی صاحب نے حکم دیا تھا۔ اب وہی اس کو سنبھالیں گے یا پھر میں معطل ہوں گا ،

آپ تسلی رکھیں آخر کار ہم کوٹ سبزل پْہنچ گئے، بٹ صاحب کھانے پینے کے کافی شوقین تھے ۔باوجود گرفتاری و پریشانی ، اْن کی خوش خوراکی میں کوئی فرق نہ آیا اور کیونکہ خرچہ بذمہ مدعی تھا مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔تھانہ پْہنچ کر بٹ صاحب سے پیسوں کا بڑے آرام سے پوچھا کیونکہ بٹ صاحب نے ہمیں راستے میں خبردار کر دیا تھا کہ وہ بلڈ پریشر ،دل اور شوگر کے مریض ہیں‘ اْن سے کی گئی کسی قسم کی زیادتی ہمارے لیے بہتر نہ ہوگی۔ چونکہ بٹ صاحب کو اندازہ تھا کہ اْن کی سفارشیں تگڑی ہیں اور وہ جلدی چھوٹ جائیں گے اس لیئے وہ میرے سامنے کرسی پر بیٹھے بڑے تحمل اور آرام سے چائے پیتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ کْچھ دیر بعد دو تین بڑی گاڑیاں آ کے تھانہ کے باھر رْکیں، جن سے کافی خوش پوش افراد اْترے، پورا تھانہ پریشان ہو گیا کہ اب کیا ہوگا ۔شام تک کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔بٹ صاحب کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھے اور میں تھا کہ کبھی کسی ڈی آئی جی کبھی ایس ایس پی کبھی سیاستدانوں کے فون پر فون سن رہا تھا جو کبھی آرام سے اور کبھی دھمکیوں کے ساتھ مجھے سمجھانے کی کوشش فرما رہے تھے کہ بٹ کو نہ چھوڑا تو میرے حق میں بہتر نہ ہو گا۔پھر مجھے اپنے ڈی آئی جی رانا عابد سعید کی کال آئی ۔وہ بھی مجھ پہ ناراض ہو رہے تھے کہ میں نے معاملے کو درست طریقہ سے ہینڈل نہیں کیا اور ساتھ یہ بھی بولا کہ اگر اس میں کوئی گڑبڑ ہوئی

تو تمہاری خیر نہیں۔اب یہ صورت حال تھی کہ آگے گڑھا پیچھے کھائی؟ملزم کے سفارشی اْسے چھوڑنے کا کہہ رہے تھے اور مدعی یہ چاہتے تھے کہ 5 لاکھ ڈالر ابھی مل جائیں.اب میری یہ حالت تھی ‘بٹ کو چھوڑتا تھا تو مرتا تھا اور نہیں چھوڑتا تو بھی مرتا تھا میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سوچتے ہوئے خود ہی یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ہونا ہے میرے ساتھ ہی ہونا ہے کسی بھی افسر نے میری مدد نہیں کرنی ۔چنانچہ میں تھانہ کے اندر گیا اور تمام سفارشیوں کو کہا کہ آپ لوگ جائیں یہ ایف آئی آرکا مْلزم ہے میں اسے گرفتار کرتا ہوں،سب میرا مْنہ دیکھنا شروع ہو گئے کہ ایس ایچ اوکو کیا ہو گیا ہے۔جونہی مدعی مقدمہ کے سفارشی اور ملزم کے سفارشی باہر گئے، میں نے بٹ صاحب کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کرسی سے کھڑا کیا ۔محرر کو کو کہا کہ ان کو حوالات میں بند کر دے اور گرفتاری ڈال دے ۔ان کا پر ہیزی کھانا (کڑاہی گوشت‘ نہاری، ہریسا، مٹن پالک، سری پائے) بھی بند کر دے اور میں ساتھ ہی واقع اپنی رہائش گاہ پر چلا گیا ۔گرمیوں کے دن تھے جون کا مہینہ تھا اور جنوبی پنجاب کی مشہور زمانہ گرمی‘ تقریباً دس بجے رات محر ر تھانہ میری رہائش پر بھاگتا ہوا آیا اور بولا سر تھانے میں چلیں بٹ نے شور مچا کے تھانہ سر پر اٹھا رکھا ہے۔میں فوری تھانہ گیا، بٹ صاحب حوالات کے جنگلے سے مْنہ لگائے رو رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ مجھے باہر نکالو،

میری بیوی کی طلاق پہ دستخط کروا لو، پر مجھے باہر نکالو۔ گرمی تھی حوالات میں ایک پنکھا اور 22/23 حوالاتی اور موٹے بٹ صاحب! طبیعت درست ہو گئی۔ انہیں حوالات سے نکال کر میرے دفتر میں لایا گیا،بٹ بولا میرے سفارشیوں کو بلوائیں۔ چنانچہ مدعی اور سفارشیوں کو بلایا گیا۔بٹ صاحب نے اپنا قصور مانا اور فوری طور پر ادائیگی کا فیصلہ ہو گیا اور ادائیگی کر دی گئی مگر میں نے بٹ کو رات تھانے میں رکھا۔ صْبح مدعی نے عدالت میں صْلح نامہ دیا اور بٹ کی ضمانت ہو گئی۔اس ساری کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جیل میں اے اور بی کلاس، گھر سے چٹخارے دار وی آئی پی کھانے ، اپنی مرضی کے پروڈکشن آرڈرز ، جسمانی ریمانڈ پر انٹرویوز اور پریس کانفرنسز ، دوران پیشی وی وی آئی پی پروٹوکول‘ میڈیکل پر عیاشی، شہد کی بوتلیں ! عمران خان صاحب اس طرح تو مْلک و قوم کا پیسہ نہیں نکلے گا۔آپ کو اْنگلی ٹیڑھی کرنی پڑے گی ورنہ آپ قوم سے کیا گیا وعدہ کبھی پورا نہیں کر سکیں گے اور پھر جو آپ کا اور ملک و قوم کاحال ان سب نے مل کے کرنا ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے !عزت، ذلت، زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے،اب بھی وقت ہے کچھ کر جاؤ اس مْلک کو بچا لو‘‘ پولیس اہلکار نے اپنے تجربے کی روشنی میں جو لکھا وہ قومی مجرموں سے مال مسروقہ نکلوانے کا نسخۂ کیمیا ہے۔ جو سلوک پولیس حوالات اور جیل میں بکری چور‘ موبائل چور اور جیب کترے سے ہوتا ہے وہی قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگانے‘ اقتدار و اختیار کو ذاتی خاندانی مفاد کے لئے بُری طرح استعمال کرنے اور ملک کو مقروض ‘ قوم کو کنگال کر کے اندرون و بیرون ملک اثاثے بنانے والوں سے ہو گا تو وصولی ہو گی ورنہ یہ اور ان کے اہل خانہ‘ حواری اور چاپلوس دندناتے پھریں گے۔مریم نواز فوج‘ عدلیہ اور دیگر اداروں کو کٹہرے میں کھڑی کریں گی اور فردوس عاشق اعوان وضاحتیں کر رہی ہوں گی۔ مجرم حسن سلوک نہیں‘ چھترول کے حق دار ہیں۔ (ش س م)