Categories
پا کستا ن

پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کرنے مشن !!!! چئیر مین نیب کا بڑا اعلان، اپوزیشن رہنماؤں کے لیے پریشان کن خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نیب کے چیئرمین جسٹس( ر) جاوید اقبال نے کہا کہ قومی احتساب بیورو وائٹ کالرکرائم اور بدعنوانی کے مقدمات کو اولین ترجیح دے رہا ہے، جنھوں نے پاکستانیوں کے اربوں روپے ہڑپ کیے اور بدعنوانی کی انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا بدعنوانی سے پاک پاکستان نیب کا عزم ہے

انہوں نے کہا کہ نیب کی کسی فرد، جماعت یا ادارے سے کوئی وابستگی نہیں بلکہ یہ وابستگی ملک اور اپنے فرائض کی انجام دہی سے ہے، بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے کیونکہ یہ ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،پاکستان کو بدعنوانی کے چیلنج کا سامنا ہے جو تمام مسائل کی جڑ ہے۔چیئرمین نیب نے مزید کہا نیب کے طریقہ کار کی از سر نو تشکیل نے نیب کی ساکھ کو بڑھایا ہے اور ادارہ بدعنوانی کی تمام اقسام اور اشکال کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال جیسے معروف اداروں نے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نیب کی کوششوں کی تعریف کی۔

Categories
پا کستا ن

حکومتیں کیخلاف کتنی درخواستیں دائر ہوئی،چئیرمین مین نیب نے سب بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ جو لوگ نیب پر الزام عائد کرتے ہیں کہ نیب حکومت کے خلاف ایکشن نہیں لیتا تو وہ بتائیں کہ انہوں نے حکومت کے خلاف کتنی درخواستیں دائر کی ہیں ؟۔وہ نیب کی جانب سے فراڈ متاثرین کو رقم واپس دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے

چیئرمین نیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نیب کی بنیاد پر سیاست میں زندہ رہنا اہتے ہیں ، ان کی صبح بھی نیب سے شروع ہوتی ہے اور رات بھی نیب پر ہوتی ہے ، نیب کو متنازع بنانے کیلئے بعض اوقات نان ایشوز کو بھی ایشوز بنایا گیا ہے ، ایک صاحب نے مجھے کہا کہ نیب کے کچھ افسران رشوت لیتے ہیں ، میں آج ان صاحب سے کہتا ہوں کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو مجھے دیں میں 48 گھنٹے میں کارروائی کروں گا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ صرف الزام لگا دینا غلط روایت ہے ، نیب میں ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے ، ہم نے تاجروں میں موجود دھوکے باز پکڑے ، تاجر برادری کو تو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ہم نے ان کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو پکڑا جو ان کا تشخص بھی خراب کر رہے تھے ۔ کچھ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتےتھے کہ ان کو بلا کر پوچھا جا سکتا تھا ، اگر مسلمانوں کے خلیفہ سے سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ کے پاس دو چادر یں کہاں سے آئیں اور انہوں نے جواب بھی دیا ، تو نیب ان سے بالکل پوچھ سکتا ہے کہ آپ کے پاس اربوں کھربوں روپے کہاں سے آئے ۔

Categories
پا کستا ن

نیب کی کارکردگی کیا ہے، سپریم کورٹ نے سوالات اٹھا دیے،چئیرمین نیب کو بھی بڑا حکم جاری

کراچی (ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں الحبیب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹس پر قبضے کے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر سخت برہمی کا اظہارکیا

چیف جسٹس نے کہا کہ پارکس، مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے؟ ریاست کیا کر رہی ہے؟ یا ریاست لاچار ہوچکی؟ نیب کیا کر رہی ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟ 32 پلاٹوں کا معاملہ دس سال سے چل رہا ہے، حکومت کو کچھ فکر نہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ چار افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں، پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا اختیار ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟ ۔ جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیے کہ نیب تفتیشی افسر نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا کیا؟ اگر ضمانت پر ہیں تو کیا ضمانت صدیوں تک چلنی ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی افسر صاحب، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ چیرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں، تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں، لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہیں، عوام کے کاموں کے لیے لگایا آپ کو، کسی اور کام میں لگ گئے۔سپریم کورٹ نے نیب کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیئرمین نیب کو قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکٹروں کیسز دس دس سال سے التوا ہیں، کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔سپریم کورٹ نے ملزمان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین نیب کو تفتیشی افسر اوصاف کے خلاف انکوائری کی بھی ہدایت کی اور سماعت کل کے لیے ملتوی کردی۔