Categories
پاکستان

عمران خان اور ساتھیوں پر مقدمے بنانے کے لیے کابینہ اجلاس طلب،اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس کل ہوگا، کابینہ اجلاس کا چار نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔اجلاس کے ایجنڈے میں زائد المعیاد ویزے پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کیلئے مہلت کی اسکیم کی منظوری بھی شامل ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سیلاب کی

صورتحال پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی گی جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 5 اور 7 جولائی کے فیصلوں کی توثیق بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی غور ہوگا اور سپریم کورٹ کے اسمبلی کی تحلیل سے متعلق کیس کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی پر مشاورت ہوگی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کو آئی ایم ایف سے معاہدے پر بھی اعتماد میں لیے جانے کا امکان ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے۔۔۔۔چوہدری پرویز الہیٰ نے مسلم لیگ ن کو آئنہ دکھا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں۔ ایک بیان میں چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن حکمران عمران خان سے خوفزدہ ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں، حکومت آج گری یا کل گری۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی آزادی اور لانگ مارچ کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں لیکن جعلی حکمران ہر وہ غیر قانونی کام کر رہے ہیں جس سے لانگ مارچ کو روکا جا سکے، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کروانے سے تیاریوں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ عوام کی ایک ہی دہائی ہے کہ اگر حکومت سنبھال نہیں سکتے تھے تو آئے کیوں، عوام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کو بھی عارضی حکومت پر اعتبار نہیں ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عمران خان نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستے تیل کا معاہدہ کیا تھا لیکن آج مہنگائی کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔دوسری طرف مریم نوا ز نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالا کے بجائے پشاور میں کیوں بیٹھے ہیں عمران خان جتنا لانگ مارچ کرلیں حکومت کہیں نہیں جارہی، عوام وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا نے عمران خان کے لانگ مارچ کو “ایبسولیوٹلی ناٹ ” کہہ کر مسترد کردیا ، انقلاب اس لیے ناکام ہوا کہ وہ ہیلی کاپٹر سے نہیں آتا، پیراشوٹ سے لینڈ نہیں کرتا، یوٹرن لےکر بنی گالا نہیں پہنچتا، عمران خان نے نااہلی سے پاکستان کے سینے پر زخم لگائے ، اس کا سارا بیانیہ دو نمبر ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان نےخیبرپختونخواکے عوام کی خون پسینےکی کمائی پانی کی طرح بہائی، جن پیسوں سے اسکول کالج بننے چاہیے تھے وہ وسائل ناکام انتشار میں جھونکے گئے،عمران خان کا مقصد فتنہ اور انتشار تھا،

عمران خان جس ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر آیا وہ کے پی حکومت کا تھا،فرح گوگی نے بھی خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا، دھرنے میں استعمال گاڑیاں کے پی اور جی بی حکومت کی نمبر پلیٹ والی تھیں، وہ کرین جنہیں لےکرچڑھائی کے لیے آیا وہ کے پی کےعوام کے ٹیکس کی تھیں، کرینیں اس لیے واپس ہوگئیں کہ عوام تو دھرنے میں آئے نہیں۔ نائب صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے لوگوں کو دھرنےکا بتایا لیکن صبح فرار ہوگیا، قوم کے بچے سڑکوں پر مرنےکے لیے اور اس کے بچے لندن کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھے تھے، قوم کے غریب بچے سڑکوں پر لو کے تھپیڑے کھاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 40 دن بھی نہیں ہوئے، شہباز شریف نے آٹا،چینی سستی کر دی،عمران خان کی تباہی کو ٹھیک کرنے کےلیےمشکل فیصلے کرنے پڑے، عمران خان جتنا لانگ مارچ کرلے حکومت کہیں نہیں جارہی،عوام وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Categories
پاکستان

سپورٹرز کا ریحام کو بھی عمران خان کا بار بار نام نہ لینے کا مشورہ ،ریحام خان نے کیا ردعمل دیا؟؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کو ٹوئٹر پر ان کے سابق شوہر کا نام نہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ٹوئٹر پر ریحام خان نے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے عمران خان سے متعلق ملنے والے مشورے پر رد عمل کا اظہار کیا۔

ٹوئٹ میں ریحام خان کو مشورہ دیا گیا تھا کہ’ اب میرے خیال میں نیازی کا نام لینا بھی چھوڑ ہی دینا چاہیے، جتنا نام لیں گے اتنی ہی اس کو اہمیت دیں گے، نیازی پاکستان کے لیے ایک بھیانک خواب تھا جو ختم ہو گیا‘۔ریحام خان نے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ’ بہترین مشورہ ہے، ہمیں عمران خان کے لیے ہرجگہ پی ایم اور ایف ایم مینشن کرنا چاہیے۔ادھر عمران خان نے ٹوئٹر پر دو لڑکوں کی تصویر شیئر کی اور ساتھ میں ایک کیپشن بھی تحریر کیا۔ شیئر کی گئی تصویر میں عمران خان کو دونوں لڑکوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے لکھا کہ چارسدہ میں اپنے دو زخمی کارکنان یاسر اور حمزہ کے ساتھ! ٹانگوں پر لگے شدید زخموں کے باوجود ذرا ان کا حوصلہ ملاحظہ کیجیے۔ اس سے قبل عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ بیرونی سازش کے ذریعے ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کیے جانے کے بعد پورا پاکستان بدل چکا ہے۔

Categories
پاکستان

چھبیس مئی کی رات ایک بجے سے صبح 8 بجے تک 7 گھنٹوں کے دوران کے عمران خان نے کیا دیکھا؟؟

پشاور(ویب ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش کے ذریعے امپورٹڈ حکومت کو ہم پر مسلط کیے جانے کے بعد پاکستان ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عمران خان نے لکھا کہ لانگ مارچ کے دوران کنٹینر پر 26 مئی کی رات ایک بجے

سے صبح 8 بجے تک 7 گھنٹوں کے دوران جو دیکھا وہ میں پہلے ہی محسوس کر چکا تھا۔ عمران خان نے ٹوئٹر پر مزید لکھا کہ جب سے بیرونی سازش کے ذریعے ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے اس وقت سے پاکستان ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ بالآخر ذہنی غلامی کا طوق ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا ہے۔ یاد رہے کہ سابق متحدہ اپوزیشن نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی لیکن اس پر آئین میں درج مقررہ مدت پر ووٹنگ نہ ہو سکی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی وزیراعظم کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے 9 اپریل کو ہر صورت تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا حکم دیا تاہم ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے 9 اپریل کی رات 12 بجے سے کچھ منٹ پہلے ہی استعفیٰ دے دیا جس کے بعد پینل آف چیئر ایاز صادق نے اسمبلی اجلاس کی صدارت کی اور پھر 10 اپریل کو 174 تحریک عدم اعتماد کے حق میں 174 اراکین نے ووٹ دیکر عمران خان کو وزات عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا۔ دوسری جانب عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیا۔) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ بیرونی سازش کے ذریعے امپورٹڈ حکومت کو ہم پر مسلط کیے جانے کے بعد پاکستان ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عمران خان نے لکھا کہ لانگ مارچ کے دوران کنٹینر پر 26 مئی کی رات ایک بجے سے صبح 8 بجے تک 7 گھنٹوں کے دوران جو دیکھا وہ میں پہلے ہی محسوس کر چکا تھا۔

Categories
پاکستان

بڑی تعداد میں کارکن کیوں نہیں لائے؟؟عمران خان اراکین اسمبلی سے سخت ناراض

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد مارچ کے دوران کارکنوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانے میں ناکامی پر عمران خان پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے خفا ہو گئے۔نجی نیوز چینل کے مطابق موصول ہوئی تفصیلات کے مطابق عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے کم تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے پر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی

سے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے جبکہ اراکین اسمبلی نے پارٹی چیئرمین کی جانب سے بغیر مشاورت کے 6 روز کی ڈیڈ لائن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز 25 مئی کو صوابی سے ہوا تھا اور عمران خان نے ہر صورت ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا تاہم 26 مئی کی صبح ڈی چوک پہنچنے سے پہلے ہی عمران خان نے حکومت کو نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے لیے 6 روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے دوبارہ اسلام آباد آنے کا اعلان کر دیا۔ گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم بغیر تیاری کے اسلام آباد گئے تھے لیکن اس بار ہم بھرپور تیاری کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد جائیں گے اور پوری قوم میرے ساتھ ہو گی۔ دوسری طرف عمران خان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہا جا رہا ہے کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے تھے، کیا کوئی اپنے بچوں اور عورتوں کو لیکر جاتا ہے انتشار کرنے کے لیے، جس طرح سے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، یہ یزید کے فالوورز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، اسے کوئی ہماری کمزوری نہ سمجھے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں

اگر الیکشن کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے۔ کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس سے ساری قوم کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ کون اس قوم کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہے اور کون قومی اداروں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق نہیں ہے، چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟ اگر احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جائے گا تو پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے، 6 دن میں ہمیں پتہ چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں، ہمیں عدالت سے پروٹیکشن چاہیے جو ہمارا حق ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان کو بڑا سرپرائز مل گیا، حکومت مدت مکمل کرے گی،شہباز شریف کی اتحادیوں کو بڑی یقین دہانی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف نے اتحادیوں کو یقین دلایا ہے کہ کوئی غیریقینی نہیں ہے ہم مدت مکمل کریں گے لیکن ڈی چوک پر کسی کو نہیں آنے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت اتحادیوں کا اہم اجلاس ہوا جس میں حکومت نے اگست 2023 تک آئینی مدت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتحادیوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ غیریقینی صورتحال سے ملک کو نکالا جائے جس پر وزیراعظم نے یقین دلایا کہ سب کو بتادیں کوئی غیریقینی نہیں مدت مکمل کریں گے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ دباؤ میں آکر کوئی انتخابات نہیں ہوں گے اور ڈی چوک پر بھی کسی کو دھرنا نہیں دینے دیں گے، عمران خان6 دن بعد آئیں اور مختص جگہ پراحتجاج کا شوق پورا کرلیں۔شہبازشریف نے امید دلایا کہ دسمبریاجنوری تک حکومتی پالیسیوں کےثمرات سامنےآئیں گے وقت آگیا ہے تصادم کے بجائے ملک کیلئےکام کریں۔اجلاس میں موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کو ریلیف پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کو پیکج بی آئی ایس پی اسکیم کے ذریعے رعایت دی جائے گی۔دوسری طرف مریم اورنگزیب نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ عمران خان نے تسلیم کرلیا وہ تیاری کر کے نہیں آئے تھے، ان کی ساری ڈنڈے جمع کرنے پر تھی۔ان کا کہنا تھاکہ جب سپریم کورٹ کا حکم آیا اس وقت کوئی رکاوٹ نہیں تھی، آپ آوازیں مارتے رہے لیکن لوگ نہیں آئے، خیبرپختونخواحکومت نے 35، 35 لاکھ روپے لانگ مارچ کے وسائل کیلئے دیے لیکن عمران خان 35 ہزار لوگ بھی اکٹھا نہ کر سکے۔وزیراطلاعات کا کہنا تھاکہ عمران خان کان کھول کر سن لیں الیکشن حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ہی ہوں گے، الیکشن کی تاریخ کا اعلان اتحادی حکومت کرے گی، آپ اپنے گھر جا کر بیٹھیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر مریم کا کہنا تھاکہ آج پیٹرول جو مہنگا ہوا ہے اس کی وجہ عمران خان ہے، چار سال ملک پر مسلط رہ کر عمران خان نے معیشت کا قتل کیا اور آئی ایم ایف کے معاہدے پر دستخط کیے جس کی وجہ سے پیٹرول مہنگا ہوا۔

Categories
پاکستان

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، سابق وزیر اعظم عمران خان بھی میدان میں آگئے،بڑا بیان جاری کر دیا

پشاور(ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سابق وزیراعظم عمران خان کا ردِعمل سامنے آگیا ہے۔ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 یا 30روپے فی لیٹر اضافہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا یکمشت اضافہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ قوم نے امپورٹڈ سرکار کی بیرونی آقاؤں کی غلامی کی قیمت ادا کرنا شروع کر دی ہے، نا اہل اور بےحس حکومت نے 30 فیصد سستے تیل کی خریداری کیلئے روس سے ہمارا سودا حاصل نہیں کیا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے برعکس امریکا کے اسٹریٹجیک شراکت دار بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر ایندھن کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری قوم اب مجرموں کے اس گروہ کے ہاتھوں مہنگائی کا ایک بڑا طوفان بھگتے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزحکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافےکا اعلان کیا۔ قیمت میں اضافےکے بعد ایک لیٹر پیٹرول 179.86روپے ، ایک لیٹر ڈیزل 174.15 روپے اور لائٹ ڈیزل 148.31 روپےفی لیٹر ہو گیا، مٹی کاتیل 155.56 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے، حکومت نے پیٹرول، ڈیزل اور کیروسین آئل کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے اضافےکا فیصلہ کیا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف آج قوم سے خطاب کریں گے۔ ذرائع کےمطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں ملک کی مشکل معاشی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیں گے جب کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حقائق پر بھی گفتگو کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیراعظم شہباز شریف قوم کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے اور ان کی طرف سے ریلیف پیکج کا اعلان بھی متوقع ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے تک کا بڑا اضافہ کیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے

کہ غریب لوگ جو مہنگا پیٹرول افورڈ نہیں کر سکتے، ان کے لیے وزیراعظم شہباز شریف آج ریلیف کا اعلان کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دے کر ماہانہ 120 ارب روپے کا نقصان کر رہی تھی، یہ نقصان سول حکومت چلانے کے خرچے سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی ختم ہو جائے تو آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں سے معاملات نمٹ جائیں گے۔

Categories
پاکستان

عمران خان نے اپنا لانگ مارچ اچانک ختم کیوں کیا؟؟ ممکنہ ڈیل کیا ہے اور کس سے ہوئی؟؟سینئر صحافی انصار عباسی نے الجھی گتھیاں منٹوں میں سلجھا دیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) عمران خان کے گرد موجودہ بیشتر افراد کو علم نہیں کہ اپنے اعلانیہ مقام (ڈی چوک اسلام آباد) تک پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے اچانک ہی اپنا حقیقی آزادی مارچ کیوں ختم کیا۔ پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف مارچ کے ڈراپ سین کے حوالے سے یہ تاثر بھی غلط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے

خفیہ طور پر مداخلت کی کیونکہ دفاعی فورسز کے قابل بھروسہ ذرائع دو ٹوک الفاظ میں اس معاملے میں فوج کے کسی کردار سے انکار کرتے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ کیا اور نہ انہیں مارچ ختم کرنے کیلئے کوئی یقین دہانی کرائی، اس سلسلے میں ممکنہ ڈیل کے حوالے سے جو تاثر پیش کیا جا رہا ہے وہ بھی غلط ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی آخری مداخلت اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی والوں کے درمیان بدھ کو ملاقات کے حوالے سے ثالثی کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس ملاقات میں بھی دونوں فریقوں سے اسٹیبلشمنٹ نے کہہ دیا تھا کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل خود حل کریں اور باہر سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ بدقسمتی سے گزشتہ ملاقات بھی بے نتیجہ رہی۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کا مسلسل یہ کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے اور قومی اسمبلی تحلیل ہونے تک مارچ اور دھرنا ختم نہیں ہوگا تو پھر عمران خان نے مارچ اور دھرنا کیوں ختم کیا؟ پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنمائوں سے جب رابطہ کیا گیا تو انہیں فیصلے کی وجوہات کے حوالے سے کچھ علم نہیں تھا کہ جمعرات کی شام آزادی مارچ کا ڈراپ سین کیوں ہوا۔ ایک رہنما نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ شاید عمران خان نے ایسا ملک کی معیشت کیلئے کیا ہوگا جو سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ وہ وجہ نہیں جانتے لیکن مارچ پہلے ہی تھکا دینے والا ثابت ہو رہا تھا اور اسے مزید دن تک جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کا حقیقی آزادی مارچ ختم کیے جانے کے حوالے سے تین عمومی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ اول، عمران خان اسلام آباد میں متاثر کن تعداد میں لوگوں کو لانے میں ناکام ہوگئے۔ دوم، سپریم کورٹ

کے فیصلے کی خلاف ورزی کے حوالے سے انہیں عدالت عظمیٰ کی طرف سے ممکمنہ کارروائی کا ڈر تھا۔ سوم، سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے نتیجے میں ریڈ زون میں فوج تعینات کر دی گئی تھی۔ جمعرات کی صبح اپنے خطاب میں عمران خان نے مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا اور 6؍ دن کی اگلی ڈیڈلائن دیدی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی، فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی پیدا ہو اور یہ وہ ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انارکی چاہتی ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان سے پس پردہ مذاکرات میں کونسے کونسے معاملات پر بات چیت ہوئی؟؟احسن اقبال نے سر عام سب کچھ بتا دیا

کراچی(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کر دی۔نجی نیوز چینل کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت سے ایک ملاقات ہوئی تھی، اگر ہمارے سر پر بندوق نہ رکھی جاتی تو شاید

جلد الیکشن کا مطالبہ تسلیم کر لیتے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ الیکشن ریفارمز پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ جب عمران خان نے دھمکی کی سیاست کی تو ہماری پارٹی اور اتحادیوں میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہمیں ڈٹے رہنا چاہیے اور اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے 25 مارچ کو صوابی سے لانگ مارچ شروع کیا تھا تاہم اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے سے پہلے ہی 26 مارچ کو انہوں نے حکومت کو الیکشن کی تاریخ کے لیے 6 روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے نئے الیکشن کا اعلان نہ کیا تو دوبارہ اسلام آباد آؤں گا۔دوسری طرف سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق : عمران خان کے گرد موجودہ بیشتر افراد کو علم نہیں کہ اپنے اعلانیہ مقام (ڈی چوک اسلام آباد) تک پہنچنے سے قبل ہی انہوں نے اچانک ہی اپنا حقیقی آزادی مارچ کیوں ختم کیا۔ پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف مارچ کے ڈراپ سین کے حوالے سے یہ تاثر بھی غلط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے خفیہ طور پر مداخلت کی کیونکہ دفاعی فورسز کے قابل بھروسہ ذرائع دو ٹوک الفاظ میں اس معاملے میں فوج کے کسی کردار سے انکار کرتے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ کیا اور نہ انہیں مارچ ختم کرنے کیلئے کوئی یقین دہانی کرائی، اس سلسلے میں ممکنہ ڈیل کے حوالے سے جو تاثر پیش کیا جا رہا ہے وہ بھی غلط ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی آخری مداخلت اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی والوں کے درمیان بدھ کو ملاقات کے حوالے سے ثالثی کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اس ملاقات میں بھی دونوں فریقوں سے اسٹیبلشمنٹ نے کہہ دیا تھا کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل خود حل کریں اور باہر سے کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ بدقسمتی سے گزشتہ ملاقات بھی بے نتیجہ رہی۔

Categories
پاکستان

عمران خان کے لانگ مارچ کا پریشر یا وجہ کچھ اور،الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاری شروع کر دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2023 کی تیاریوں کا آغاز کر دیا، وزارت پارلیمانی امور نے اخراجات کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کر دی۔ وزارت پارلیمانی امور کے تحریری جواب کےمطابق عام انتخابات 2023 میں 47ارب 41 کروڑ 73لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ اس حوالے سے وزارت پارلیمانی امورکا مزید کہنا ہے کہ ٹریننگ ونگ

کے لیے 1 ارب 79 کروڑ اور 90 لاکھ روپے خرچ ہوں گے جبکہ بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کے لیے 4 ارب 83 کروڑ 55 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ تحریری جواب میں وزارت پارلیمانی امور نے کہا کہ انتخابی فہرستوں پر 27 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوں گے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور آئی ووٹنگ پر 5 ارب 60 کروڑ 6 لاکھ روپےخرچ ہوں گے۔ وزارت پارلیمانی امور کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتخابات کیلئے آرمی کی خدمات اور سیکیورٹی پر 15ارب روپےخرچ ہوں گے۔ دوسری جانب طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دے دی۔جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل نہ کی گئیں تو وہ عوام کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو انتشار کی طرف لے جارہی ہے۔ حکومتی ایما پر تحریک انصاف کے 2 کارکن شہید کیے گئے۔عمران خان نے کہا کہ آزادی کی تحریک کو ناکام کرنے کیلئے ہر قسم کا طریقہ استعمال کیا گیا، کارکنوں نے جس طرح آنسو گیس کا مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت ہزاروں افراد گرفتار ہیں۔ سپریم کورٹ گرفتاریوں اور ڈی چوک، لبرٹی چوک پر آنسو گیس کی شیلنگ کا نوٹس لے۔عمران خان کا قافلہ رات 11 بجے اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام نے آج ان کو مسترد کیا ہے، مہلت ان کو عوام نے دی ہے۔

نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے جس طرح فرائض انجام دیئے وہ قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کی ترقی اور عوام کے روزگار کے خلاف ہے، وہ آج خالی ہاتھ گھر واپس گئے ہیں۔ خیال رہے کہ جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دی۔

Categories
پاکستان

مہلت عمران خان نے نہیں بلکہ ۔۔۔۔مریم اورنگزیب کا حیران کن بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام نے آج ان کو مسترد کیا ہے، مہلت ان کو عوام نے دی ہے۔نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے جس طرح فرائض انجام دیئے وہ قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کی ترقی اور عوام

کے روزگار کے خلاف ہے، وہ آج خالی ہاتھ گھر واپس گئے ہیں۔ خیال رہے کہ جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دی۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل نہ کی گئیں تو وہ عوام کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔دوسری جانب رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ عمران خان چھ دن بعد 6 لاکھ آدمی لے آئیں میں ان کے مطالبے کی حمایت کردوں گا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ نئے الیکشن کا فیصلہ اتحادی جماعتیں کریں گی، عمران خان الیکشن ہارجائے گا تو پھر کہے گا دوبارہ الیکشن کراؤ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان خیبرپختونخوا حکومت اور جی بی حکومت کے وسائل استعمال کرکے یہاں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری رات میں نے خود سیکیورٹی حالات کی مانیٹرنگ کی ہے، عوام نے فسادی، فتنہ جتھے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، سپریم کورٹ سے غلط بیانی کر کے عمران نیازی شہر میں داخل ہوئے، عمران نیازی نے ڈی چوک جانے کا اعلان کرکے وعدہ خلافی کی۔ رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ میٹروبس اسٹیشن جلائے گئے اور درختوں کو آگ لگائی گئی، عدالتی فیصلے کی آڑ میں فسادی جتھہ ساری رات آگ لگاتا رہا، عمران نیازی کنٹینر سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑاتا رہا، ساری رات وہ کنٹینر سے توہینِ عدالت کے اعلان کرتے رہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے ایک بھی ربربلٹ نہیں چلائی، تمام جھوٹا پروپیگنڈا ہے، 18 رینجرز اور پولیس اہلکار شدید زخمی ہیں، پولیس اور رینجرز لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے، پولیس اور رینجرز کے

ہر جوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آج سپریم کورٹ آئین اور ریاست کی رٹ یقینی بنانے کیلئے واضح احکامات دے، رینجرز اور اسلام آباد پولیس نے بہادری سے پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھائی۔ خیال رہے کہ جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دی۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل نہ کی گئیں تو وہ عوام کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔

Categories
پاکستان

ڈی چوک میں جلسہ کرنے کا انجام ،عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر،لارجر بینچ بھی تشکیل دے دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی، سپریم کورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دیدیا۔درخواست کے متن میں تحریر ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک بھیجا، سیکیورٹی انتظامات کے رد و بدل کے بعد پی ٹی آئی ورکرز نے

سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جو سماعت ساڑھے 11 بجے کرے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے جلسے کے شرکاء ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں، سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے۔عدالت نے وفاقی حکومت کو بھی حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے اور انتخابات کے اعلان کیلئے 6 روز کی مہلت دے دی۔جناح ایونیو اسلام آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن کا اعلان اور اسمبلیاں تحلیل نہ کی گئیں تو وہ عوام کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو انتشار کی طرف لے جارہی ہے۔ حکومتی ایما پر تحریک انصاف کے 2 کارکن شہید کیے گئے۔عمران خان نے کہا کہ آزادی کی تحریک کو ناکام کرنے کیلئے ہر قسم کا طریقہ استعمال کیا گیا، کارکنوں نے جس طرح آنسو گیس کا مقابلہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت ہزاروں افراد گرفتار ہیں۔ سپریم کورٹ گرفتاریوں اور ڈی چوک، لبرٹی چوک پر آنسو گیس کی شیلنگ کا نوٹس لے۔عمران خان کا قافلہ رات 11 بجے اسلام آباد میں داخل ہوا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

Categories
پاکستان

عمران خان کہاں سے قافلے کی قیادت کریں گے؟؟لانگ مارچ کے شرکاء سے کس کس جگہ خطاب کریں گے؟؟اہم تفصیلات سامنے آگئیں

صوابی (ویب ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف آج لانگ مارچ کا آغاز صوابی سے کریں گے ، پشاور اور مردان کے قافلے بھی صوابی میں جمع ہوں بیرسٹر سیف

کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کا آغاز صوابی سے کریں گے لہذا پشاور اور مردان کے قافلے بھی صوابی پہنچ کر چیئرمین پی ٹی آئی کے قافلے میں شریک ہوں ۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آج اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومت نے عمران خان نے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینرز کھڑے کر کے سڑکیں بلاک کر دی ہیں، وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی پولیس کے ساتھ رینجرز اور ایف سی کے حوالے کر دی گئی ہے اور میٹرو بس سروس کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف اعلیٰ پارٹی قیادت کے ہمراہ گزشتہ کئی روز سے خیبر پختونخوا میں موجود ہیں اور عمران خان کے پی سے ہی اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے روانہ ہوں گے۔ اب اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عاقب اللہ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے انبار انٹرچینج صوابی پہنچیں گے جہاں پر وہ متوقع طور پر کارکنوں سے خطاب بھی کریں گے۔ ایم پی اے عاقب اللہ کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کنٹینر بھی انبار انٹرچینج پہنچا دیا گیا ہے۔ عاقب اللہ نے مزید بتایا کہ موٹروے پر کھڑی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے بھاری مشینری بھی پہنچا دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف آج 25 مئی کو لانگ مارچ کررہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کو روکنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ گزشتہ سے پیوستہ رات سے جاری ہے ، اب تک سینکڑوں پی ٹی آئی کارکنوں کو پابند سلاسل کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد رہنما روپوش ہو چکے ہیں ۔

Categories
پاکستان

عمران خان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو۔۔۔ علی امین گنڈاپور نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو وارننگ دے دی۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو وارننگ دے دی۔ علی امین گنڈا پور کا رانا ثنا اللہ کو کہنا تھاکہ اگر عمران خان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم نے فیصل آباد بھی دیکھا ہوا ہے اورآپ کا گھر بھی دیکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی اوقات اور حیثیت میں رہیں،

آپ کا وہ حال کروں گا کہ آپ کی نسلیں یاد کریں گی۔ اس سے قبل راناثنااللہ نے کہا تھا کہ عمران خان سمیت ان کے ممبران کی گرفتاری ضرور بنتی ہے، موقع ملا تو عمران خان اور ان کے ممبران کو ضرور گرفتار کیا جائے گا۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے، اسلام آباد آنے دیا جائے، دیکھیں کتنا دم ہے، کب تک بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس ڈی چوک میں جنم لیا تھا عمران کی سیاست اسی ڈی چوک میں ختم ہوگی۔ لیگی رہنما نے لاہور میں کانسٹیبل کی موت کا ذمے دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرسی کی ہوس میں بے چین عمران کو چاہیے کہ قوم کے بیٹوں کو گرمی اور لو میں سڑکوں پر لانے سے پہلے اپنے بیٹوں کو لندن سے بلوائیں اور فرنٹ لائن پر کھڑا کریں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیاہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کر رہے ہیں، عمران خان نے کہا کہ میں میر جعفر اور میر صادق کو پہچان گیا، یہ اس نے ہمیں نہیں کہا، یہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو کہتا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھاکہ یہ کونسی آزادی چاہتے ہیں؟ عمران خان نے کرسی اور فرح گوگی کا نام آزادی رکھا ہوا ہے، عدلیہ کو بہت ادب سے یہ بات کہناچاہتی ہوں،

یہ روایت مت ڈالیں کہ جو شخص سب سے بڑھ کر اداروں کو گالیاں نکالے گا، اسی کے حق میں فیصلے ہوں گے، قوم کے حق میں فیصلے کریں، ملک کے حق میں فیصلےکریں، سوشل میڈیا کو مت دیکھیں، میڈیا کو مت دیکھیں اورقوم کے مستقبل کے حق میں فیصلےکریں

Categories
پاکستان

عمران خان کو کسی صورت اسلام آباد نہیں آنے دوں گا،رانا ثناء اللہ کا دو ٹوک اعلان

لاہور(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نےکہا ہےکہ وہ کسی صورت عمران خان کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے۔نجی نیوز چینل کے پروگرام مین گفتگو کرتے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نےکہا کہ تحریک انصاف کے کارکن اسلحہ جمع کر رہے ہیں، کسی صورت عمران خان کو اسلام آباد نہیں آنے دوں گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس رپورٹس ہیں کہ عمران خان کاارادہ پر امن احتجاج کانہیں بلکہ فتنہ فسادکا ہے۔ اس سے قبل میڈیا سےگفتگو میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ریڈ زون سمیت پورے اسلام آباد کی سکیورٹی اہم ہے، ریڈ زون کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنائی جائےگی، ایجنسیوں کی رپورٹ ہے کہ ان کے جتھے خیبرپختونخوا سے اسلحہ بردار ہو کر آئیں گے، عمران خان سمیت ان کے ممبران کی گرفتاری ضرور بنتی ہے، موقع ملا تو عمران خان اور ان کے ممبران کو ضرور گرفتار کیا جائےگا۔ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ 2 سے 3 دن نہیں بلکہ کل شام تک حالات نارمل ہو جائیں گے، اگر اسلام آباد انتظامیہ نے درخواست کی تو رینجرز اور فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے، اسلام آباد آنے دیا جائے، دیکھیں کتنا دم ہے، کب تک بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس ڈی چوک میں جنم لیا تھا عمران کی سیاست اسی ڈی چوک میں ختم ہوگی۔ لیگی رہنما نے لاہور میں کانسٹیبل کی موت کا ذمے دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرسی کی ہوس میں بے چین عمران کو چاہیے کہ قوم کے بیٹوں کو گرمی اور لو میں سڑکوں پر لانے سے پہلے اپنے بیٹوں کو لندن سے بلوائیں اور فرنٹ لائن پر کھڑا کریں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیاہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کر رہے ہیں، عمران خان نے کہا کہ میں میر جعفر اور میر صادق کو پہچان گیا، یہ اس نے ہمیں نہیں کہا، یہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو کہتا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھاکہ یہ کونسی آزادی چاہتے ہیں؟ عمران خان نے کرسی اور فرح گوگی کا نام آزادی رکھا ہوا ہے، عدلیہ کو بہت ادب سے یہ بات کہناچاہتی ہوں، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو شخص سب سے بڑھ کر اداروں کو گالیاں نکالے گا، اسی کے حق میں فیصلے ہوں گے، قوم کے حق میں فیصلے کریں، ملک کے حق میں فیصلےکریں، سوشل میڈیا کو مت دیکھیں، میڈیا کو مت دیکھیں اورقوم کے مستقبل کے حق میں فیصلےکریں۔

Categories
پاکستان

عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے،مریم نواز نے بڑی خواہش کا اظہار کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے، اسلام آباد آنے دیا جائے، دیکھیں کتنا دم ہے، کب تک بیٹھتے ہیں۔

انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس ڈی چوک میں جنم لیا تھا عمران کی سیاست اسی ڈی چوک میں ختم ہوگی۔ لیگی رہنما نے لاہور میں کانسٹیبل کی موت کا ذمے دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرسی کی ہوس میں بے چین عمران کو چاہیے کہ قوم کے بیٹوں کو گرمی اور لو میں سڑکوں پر لانے سے پہلے اپنے بیٹوں کو لندن سے بلوائیں اور فرنٹ لائن پر کھڑا کریں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کیاہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کر رہے ہیں، عمران خان نے کہا کہ میں میر جعفر اور میر صادق کو پہچان گیا، یہ اس نے ہمیں نہیں کہا، یہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو کہتا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھاکہ یہ کونسی آزادی چاہتے ہیں؟ عمران خان نے کرسی اور فرح گوگی کا نام آزادی رکھا ہوا ہے، عدلیہ کو بہت ادب سے یہ بات کہناچاہتی ہوں، یہ روایت مت ڈالیں کہ جو شخص سب سے بڑھ کر اداروں کو گالیاں نکالے گا، اسی کے حق میں فیصلے ہوں گے، قوم کے حق میں فیصلے کریں، ملک کے حق میں فیصلےکریں، سوشل میڈیا کو مت دیکھیں، میڈیا کو مت دیکھیں اورقوم کے مستقبل کے حق میں فیصلےکریں۔ نائب صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستانی قوم کے بچوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ ڈنڈے اور مار کھاؤ، آزادی کی تحریک ہے تو لاؤ اپنے بچوں کو ، ورنہ آزادی کا بھاشن نہیں مانتے، اپنے بچوں کو لندن میں بٹھادیا، قوم کے بچے لو کے تھپیڑے کھائیں،جب نیب کے دفتر میں مجھ پر پتھراؤ ہوا تو چھپ کر نہیں بیٹھی، کارکنوں کو آگے نہیں کیا۔

Categories
پاکستان

لانگ مارچ کو آگے لے جاؤ!عمران خان سے بڑے ادارے نے رابطہ کر لیا، عمران خان نے کیا جواب دیا؟؟

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھ سے کہا گیا کہ لانگ مارچ کو آگے لے جایا جائے، بات ہورہی ہے ان ہی کی وجہ سے 22 مئی کو مارچ کا اعلان کیا۔ ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ مجھ سے اتنے دھوکے کیے گئے

کہ اب میں کسی چیز کو نہیں مانتا، لوگوں پر جلدی بھروسہ کرنا میری خامی تھی۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کے ذریعے مجھے اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ شہید پولیس اہل کار کے گھر والوں سے ہمدردی ہے، جس نے پولیس کو کارروائی کا حکم دیا، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ لے کر ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آج پختونخوا سے نکلوں گا اور کشمیر روڈ سے ہوتاہوا ڈی چوک پہنچوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بھی ہو سب نے نکلنا ہے اور شہر دور ہیں تو شہروں میں نکلیں، ملک میں جگہ جگہ نکلیں۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمارا ایک ہی مقصد ہے جب تک حکومت تحلیل نہیں ہوتی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتی تب تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔دوسری جانب پرویز الہیٰ نے بھی ۔ دعویٰ کیا ہے کہ فوج اور عمران خان رابطے میں ہیں ۔ ایک بیان میں پرویز الٰہی نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت تمام سرکاری ملازمین سے گھروں پر چھاپوں کا حساب لیا جائے گا ، باہر بیٹھ کر ملک چلانے والے کو روکنا پڑے گا۔دوسری جانب سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نیوٹرل رہنے کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہے ،نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو پیغام دیتاہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم سے خطاب کررہا ہوں ، آج ملک میں فیصلہ کن وقت ہے ، یہ وقت فیصلہ کرے گا کہ کس طرح کے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فاشسٹ حکومت کی تاریخ پتہ ہے کہ وہ ہمیشہ کیا کرتی رہی ہیں، تیس سال سے دو خاندان حکومت میں رہے ہیں، یہ اتنے ہی غیر جمہوری ہیں جتنے ڈکٹیٹرز رہے ہیں، انھوں نے جمہوریت کی اسی طرح دھجیاں اڑائیں، جتنا ڈکٹیٹرز نے اڑائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا انھوں نے جو شروع کیا یہ ان کی تاریخ ہے ، حکومت سے باہر جاتے ہیں تو انھیں جمہوریت یاد آجاتی ہے،

Categories
پاکستان

فوج اور عمران خان رابطے میں ہیں ،پرویز الہیٰ کا بڑا دعویٰ

لاہور(ویب ڈیسک) : اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج اور عمران خان رابطے میں ہیں ۔ ایک بیان میں پرویز الٰہی نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت تمام سرکاری ملازمین سے گھروں پر چھاپوں کا حساب لیا جائے گا ، باہر بیٹھ کر ملک چلانے والے کو روکنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ

گزشتہ روز ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا تھا کہ مجھ سے کہا گیا کہ لانگ مارچ کو آگے لے جایا جائے، بات ہورہی ہے ان ہی کی وجہ سے 22 مئی کو مارچ کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ لے کر ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آج پختونخوا سے نکلوں گا اور کشمیر روڈ سے ہوتاہوا ڈی چوک پہنچوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بھی ہو سب نے نکلنا ہے اور شہر دور ہیں تو شہروں میں نکلیں، ملک میں جگہ جگہ نکلیں۔ عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمارا ایک ہی مقصد ہے جب تک حکومت تحلیل نہیں ہوتی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کرتی تب تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نیوٹرل رہنے کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہے ،نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو پیغام دیتاہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم سے خطاب کررہا ہوں ، آج ملک میں فیصلہ کن وقت ہے ، یہ وقت فیصلہ کرے گا کہ کس طرح کے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فاشسٹ حکومت کی تاریخ پتہ ہے کہ وہ ہمیشہ کیا کرتی رہی ہیں، تیس سال سے دو خاندان حکومت میں رہے ہیں، یہ اتنے ہی غیر جمہوری ہیں جتنے ڈکٹیٹرز رہے ہیں، انھوں نے جمہوریت کی اسی طرح دھجیاں اڑائیں، جتنا ڈکٹیٹرز نے اڑائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا انھوں نے جو شروع کیا یہ ان کی تاریخ ہے ، حکومت سے باہر جاتے ہیں تو انھیں جمہوریت یاد آجاتی ہے،

انھوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، ایسی کیا چیز ہورہی ہے جس کیلئے یہ ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت یہ کتنی بار سڑکوں پر آئے اور مارچ کئے ، ہمیں بتائیں اگر ہم نے 126دن کے دھرنےمیں بھی کوئی لڑائی کی ہو ، میری 26سالہ سیاسی تاریخ میں بتائیں اگر میں نے قانون توڑا ہو

Categories
پاکستان

یہ فیصلہ کن وقت ہے اب نہیں تو۔۔۔نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو عمران خان نے اہم پیغام پہنچا دیا

پشاور(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نیوٹرل رہنے کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہے ،نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو پیغام دیتاہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم سے خطاب کررہا ہوں ،

آج ملک میں فیصلہ کن وقت ہے ، یہ وقت فیصلہ کرے گا کہ کس طرح کے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فاشسٹ حکومت کی تاریخ پتہ ہے کہ وہ ہمیشہ کیا کرتی رہی ہیں، تیس سال سے دو خاندان حکومت میں رہے ہیں، یہ اتنے ہی غیر جمہوری ہیں جتنے ڈکٹیٹرز رہے ہیں، انھوں نے جمہوریت کی اسی طرح دھجیاں اڑائیں، جتنا ڈکٹیٹرز نے اڑائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا انھوں نے جو شروع کیا یہ ان کی تاریخ ہے ، حکومت سے باہر جاتے ہیں تو انھیں جمہوریت یاد آجاتی ہے، انھوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، ایسی کیا چیز ہورہی ہے جس کیلئے یہ ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت یہ کتنی بار سڑکوں پر آئے اور مارچ کئے ، ہمیں بتائیں اگر ہم نے 126دن کے دھرنےمیں بھی کوئی لڑائی کی ہو ، میری 26سالہ سیاسی تاریخ میں بتائیں اگر میں نے قانون توڑا ہو۔ عمران خان نے کہا کہ یہ یاد رکھیں اب فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کو کس طرف جانا ہے، کیا وہ پاکستان بننا ہے جو علامہ اقبال کی سوچ تھی ، یا ایسا پاکستان بننانا ہے جو چور اور ڈاکوؤں ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کرنیوالے کابینہ کے 60 فیصد لوگ ضمانت پر ہیں ، وہ ادارے جنہوں نے ملک کے فیصلے کرنے ہیں اور عدلیہ سے کہتا ہوں قوم ملک کے اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے ، عدلیہ اپنے فیصلوں سے ملک کی جمہوریت کا تحفظ کرے۔ بیرونی مداخلت کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے توثیق کی کہ بیرونی مداخلت ہوئی، بیرونی مداخلت سے 30سال سے ملک کولوٹنے والوں کو لایا گیا۔

پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ بلاول کانپیں ٹانگنے والی مارچ لیکر آیا تو کیا کسی نے پکڑ دھکڑکی، ہم نے یہ کہا تھا کہ بلاول کے مارچ پر ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ نیوٹرل رہنے کی گنجائش کسی کیلئے نہیں ہے ، اللہ نیوٹرل رہنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، اللہ نے اجازت نہیں دی کہ بیچ میں بیٹھ جائیں ، بیچ میں رہنے کا مطلب ہے کہ آپ مجرموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کلا جمہوریت کے دفاع کیلئے کھڑے ہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عدلیہ کو سمجھنا چاہیے کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے ، اگر ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے۔ معاشی صورتحال کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں انھوں نے معیشت تباہ کردی ، ڈالر مہنگا اسٹاک نیچے چلاگیا، جب تک یہ بیٹھے ہیں قوم کو اندھیرا نظر آرہا ہے، ملک میں فی الفور شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ پاکستان کا ہفتوں میں سری لنکا جیسا حال ہوجائے گا، انھوں نے نیب کو ختم کرنا ہے ، الیکشن کمیشن میں آدھے لوگ ان کے غلام ہیں، نیوٹرلز، ججز اور وکلا کو پیغام دیتاہوں کہ یہ فیصلہ کن وقت ہے۔ انھوں نے کہا صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو آج حق کیلئے کھڑے ہیں ، حق کیلئے کھڑے صحافیوں کیخلاف آج مقدمات کئے جارہے ہیں ، صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، مجھے معلوم ہے کہ باہر سے پیسہ کہاں سے آیا اور کس صحافی کو دیا گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ یہ اپنے کیسز ختم ، نیب کو ختم ،الیکشن کمیشن کو

اپنا غلام بنائیں گے، تاریخ دیکھ لیں کتنی بارپاکستان میں اس طرح کی ترقی ہوئی جو ہمارے دورمیں ہوئی ، یہ ساری تیاری کررہے ہیں کہ جو الیکشن ہو دھاندلی سے جیتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ادوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہماری حکومت نے روزگار دیا، جنہیں تجربہ کار کہتے تھے آج اس حکومت کے حالات دیکھ لیں، صحافی مشکل وقت میں کوریج کررہے ہیں جبکہ میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان کا امریکی ٹی وی چینل پر ڈونلڈ لو کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ، مریم نواز کا سخت رد عمل بھی آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عمران خان کے امریکی حکومت سے مطالبے پر ردعمل دیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کو عہدے سے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مریم نواز نے

اس سے متعلق خبر پر تبصرہ کیا اور شدید ہنسی کا ایموجی شیئر کیا۔انہوں نے کہا کہ اب یہ امریکی حکومت سے استعفیٰ مانگے گا تو پھر یہ وائٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گا۔یاد رہے سابق وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹانےکی مبینہ بات کرنے والے نائب امریکی وزیر خارجہ ڈونلڈ لوکو عہدے سے ہٹانےکا مطالبہ کردیا۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نےکہا کہ امریکی نائب وزیرخارجہ نے7مارچ کو پاکستانی سفیر سے بات کی،امریکی نائب وزیر خارجہ نےکہا ہماری حکومت کو عدم اعتماد سے ہٹایا جائے، اس امریکی نائب وزیر خارجہ کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ میری پارٹی کے بیک بینچر سے رابطےمیں تھا، امریکی نائب وزیرخارجہ کی بات پاکستان کے معاملات میں کھلی دخل اندازی تھی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ غیر مقبول حکومت آتی ہے تو لوگوں کا غصہ امریکا کی طرف جاتا ہے، ٹرمپ انتظامیہ سے میرے اچھے تعلقات تھے، بائیڈن کے آتے ہی اور افغان انخلا کے باعث امریکی انتظامیہ نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بھارت جب روس سے تیل لیتا ہے تو امریکا کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میں نے ایساکرنےکی کوشش کی تومجھ پرامریکا مخالف ہونےکا الزام لگا، میرا دورہ روس یوکرین جنگ سے بہت پہلے طے تھا، ہماری فوج کو اسپیئر پارٹس چاہیے تھے، تیل پائپ لائن پر بات کرنا تھی۔ عمران خان نےمزیدکہا کہ وہ اگلے انتخابات میں حصہ لیں گے اور ان کی جماعت ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی