Categories
پاکستان

عوام کو بڑا ریلیف دیا جا ئے صحت، تعلیم، زرا عت، صنعت کے بجٹ میں 200فیصد اضافہ کیا جائے،بڑے فورم نے آواز اٹھا دی

لاہور(ویب ڈیسک) مختلف طبقہ ہا ئے فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیا ت نے بجٹ 2022-2023پر روزنا مہ” پا کستا ن” کے مو با ئل فورم میں اظہا ر خیال کر تے ہو ئے کہا ہے کہ آئندہ ما لی سال کا بجٹ ٹیکس فری اور عوا می توقعات کے عین مطا بق ہو نا چا ہیے بجٹ میں

عوام کو بڑا ریلیف دیا جا ئے صحت، تعلیم، زرا عت، صنعت کے بجٹ میں 200فیصد اضافہ کیا جا ئے سرکا ری ملا زمین ہیلتھ پرو فیشنلز کی تنخواہیں ڈبل کی جائیں کو ئی نیا ٹیکس نہ لگا یا جا ئے۔بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ترجما ن نہیں ہو نا چاہیے اگر ایسا ہوا تو بجٹ مسترد کر یں گے۔ اس حوالے سے گفتگو کر تے ہو ئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر اشرف نظامی نے کہا ہے کہ حکومت صحت کے بجٹ میں کم از کم200 فیصد اضافہ کرے،میڈیکل کالجز اور میڈیکل یونیورسٹی میں ریسرچ کے بجٹ میں 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہیلتھ کو بجٹ میں پہلی ترجیح رکھا جائے، ہیلتھ پروفیشنل کے الاؤنسز اور تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن )کی حکومت ٹیکس فری اور عوام دوست بجٹ لائے گی، الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں ہونا چاہیے۔مسلم لیگ (ن)پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آنے والا بجٹ ٹیکس فری ہو گا عوام کو ہر شعبے میں سبسڈی دی جائے گی بجٹ عوامی توقعات کے مطابق ہوگا۔تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں عوام پر بوجھ ڈالا گیا تو بجٹ مسترد کر دیں گے۔ خواتین جماعت اسلامی کی سینئر رہنما ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا ہے کہ آنیوالے بجٹ میں لوکل انڈسٹری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے روزنامہ” پاکستان” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

ہمیں اس بجٹ میں لوکل انڈسٹری اور زراعت کو فوکس کر نا چا ہیے ۔فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرر آف پا کستان کے صدر عرفا ن اقبا ل شیخ، صدر انجمن تا جرا ن خا لد پرویز ملک، مرچنٹ ایسو سی ایشن کے صدر عارف گجر نے کہا کہ حکومت تا جر دوست بجٹ پیش کرے،ٹیکسز میں چھوٹ دی جا ئے،مقا می صنعتوں کا فر وغ دیا جا سکے غیر ضروری ٹیکسز کا خا تمہ کر کے ایکسپورٹ کی انڈسڑی میں چھوٹ دی جا نی چا ہے،تا کہ ملکی ایکسپورٹ میں اضا فہ ہو۔ بجٹ تو عوام دوست ہی ہو نا چا ہیے جس سے انڈسٹری کے فروع میں مدد ملے۔ سابق کرکٹر عبدالرزاق نے کہا کہ کرکٹ کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے تاکہ ملک میں کرکٹرز کو منظر عام لانے کیلئے آسانی ہو، نمبر ون ویمن ٹینس سٹار اوشناء سہیل نے کہا کہ بجٹ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں کسی بھی ملک میں کھیلیں اس وقت ہی ترقی کرتی ہیں جب ان کو بھرپور سہولیات مہیا ہوتی ہیں او ر یہ بڑے بجٹ کے بغیر ناممکن ہے،سینئر اداکارہ و سابق رکن صوبائی اسمبلی کنول نعمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت اگلے ماہ شاندار بجٹ پیش کرے گی مہنگائی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا، وزیر اعظم کی جانب سے امپورٹڈ اشیاء پر پابندی خوش آئند ہے سینئر اداکار خالد بٹ نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ آئندہ آنے والا بجٹ انتہائی شاندار ہوگا۔سابق آئی جی پولیس پنجاب عارف نواز نے کہا ہے کہ پولیس کا بجٹ بڑھنا چاہیے تاکہ اس ادارے کی کارکردگی میں نکھار آسکے۔ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال کے بجٹ میں ایندھن

کے لیے مختص فنڈز میں سے 40 کروڑ روپے، تفتیشی لاگت سے 7 کروڑ 70 لاکھ روپے، اسٹیشنری سے 4 کروڑ 10 لاکھ روپے، بجلی کے بلز کے لیے مختص 12 کروڑ روپے اور جاں بحق پولیس اہلکارو ں کے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے سے متعلق گرانٹ میں 25 کروڑ روپے کی کمی کردی تھی اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔سابق آئی جی پولیس طارق سلیم ڈوگر نے کہا ہے کہ پولیس بجٹ سے ہر سال یہ کٹوتی غیر منصفانہ ہے کیونکہ پنجاب پولیس کو پہلے ہی کوسٹ آف انویسٹی گیشن کی مد میں 25 کروڑ میں سے 18 کروڑ روپے ملے جبکہ اس حوالے سے مطلوبہ رقم 2 ارب 30 کروڑ روپے ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

تبدیل ہوتا موسم ہم سے ہماری نیند بھی چھین لے گا،معروف مصنفہ نے حقیقی خطرے سے آگاہ کر دیا

لندن(ویب ڈیسک) موسمیاتی تغیر کے نتیجے میں جنگلات میں آتشزدگی اور گلیشیئرز کا پگھلنا تو متوقع ہے ہی لیکن ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہم سے ہماری رات کی نیند بھی چھین لے گا۔ محققین نے دنیا بھر کے موسمی ڈیٹا اور نیند کو ٹریک کرنے والے آلے سے حاصل ہونے والی معلومات کا مطالعہ کیا تاکہ مستقبل

میں ہماری نیند پر پڑنے والے اثرات کے متعلق بتایا جا سکے۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ سال 2099 تک ہر سال درجہ حرارت ہر شخص کو 50 سے 58 گھنٹے کے درمیان کی نیند سے محروم کردے گا، یعنی ہر رات کے حساب سے نیند 10 منٹ تک کم ہو جائے گی۔ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت کے اثرات سے کم ہونے والی نیند کی زد میں آنے والے زیادہ تر افراد کم آمدنی والے ممالک سے ہوں گے جیسے کہ، بھارت۔ اس فہرست میں بزرگ اور خواتین بھی شامل ہوں گی۔ بڑی عمر کے افراد مستقبل میں دیر سے سوئیں گے جلدی اٹھیں گے اور گرم راتوں میں کم نیند لیں گے اور یہ صورت حال ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر متعدد منفی اثرات مرتب کرے گی۔ بلند ہوتا عالمی درجہ حرارت ہماری نیند کو ہم سے چھین لے گا کیوں کہ ہمارے جسم کے درجہ حرارت کو سونے کےلیے نیچے گِرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے گرم ہوتے ماحول میں اچھی مقدار میں نیند کا لیا جانا وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جائے گا۔ ڈینمارک کی یونیورسٹی آف کوپینہیگن میں کی کیلٹن مائنر، جو تحقیق کی مصنفہ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ ہمارے جسم اپنے درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی حد صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں جس پر ہماری زندگی منحصر ہوتی ہے۔ایک اور خبر کے مطابق روایتی شمسی (سولر) سیل دھوپ کی کرنوں سے بجلی تیارکرتے ہیں لیکن آسٹریلیا میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے رات کو بجلی بنانے والے شمسی سیل اور پینل میں اہم پیشرفت کی ہے۔ لیکن نظری طور پر یہ ممکن ہے کہ اگر سولر سیل کو حرارت دی جائے تو وہ روشنی خارج کرنے لگتے ہیں یعنی اس عمل کو الٹا کرسکتے ہیں۔ اب اسی کی بدولت ایک عملی نمونہ تیار کیا گیا ہے

جو رات کے وقت بھی بجلی تیار کرسکتا ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ میں رات کومنظر دکھانے والے فوجی چشموں میں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ اس کا اصول سادہ ہے کہ دن بھر دھوپ میں تپتے رہنے کے بعد شمسی سیل مغرب کے بعد دھیرے دھیرے اپنی حرارت خارج کرتے رہتے ہیں۔ یہ آلہ عین اسی موقع پر باہر بھاگتی حرارت سے بجلی بناتا ہے۔ فی الحال یہ ایک چھوٹا سا پروٹوٹائپ ہے لیکن اسے موجودہ سولر سیل ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Categories
اسپیشل سٹوریز پاکستان

صرف 47 دن میں تیار ہونے والی چکن ہماری صحت کیلئے کتنی نقصان دہ ہے؟

لاہور(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں چکن کھانے کا رجحان زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کی زیادہ پروڈکشن کے نت نئے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں اور یہ انسانی صحت پر کافی حد تک اثر انداز ہورہا ہے۔ آپ جو چکن کھاتے ہیں اس کے سائز میں پچھلے 50 سالوں میں 364 فیصد اضافہ ہوا ہے، پہلے مرغیاں

لذیذ ہوتی تھیں اور مہنگی بھی ہوتی تھیں۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران گوشت کو راشن کیا گیا تو مرغیوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا اور کئی کمپنیوں نے پولٹری پر اپنی اجارہ داری کا جال بچھا دیا۔ مرغیوں کے سائز میں اضافہ مصنوئی ہارمونز اور کیمیکلز سے بھرپور غذا کے ذریعے کیا گیا، عموماً جو مرغیاں قدرتی ماحول میں نشوونما پاتی ہیں وہ قدرتی غذا جیسے گھاس پھوس، گرینز وغیرہ کھاتی ہیں۔ تاہم فارمی مرغیوں کو بنیادی طور پر مکئی اور سویا کھلایا جاتا ہے، تاکہ انہیں جلد از جلد موٹا اور بڑا کیا جائے اور پاکستان میں تو ان کی غذا کافی مشکوک ہے۔ آج کاربوہائیڈریٹ مرغی کی بنیادی خوراک ہے، جسے ہم ہائی انرجی ڈائیٹ کہتے ہیں جو یقیناً موٹاپے کا باعث ہوتا ہے۔ یہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ جب ہمیں وزن کم کرنا ہوتا ہے تو ہم اپنی غذا سے کاربوہائیڈریٹ سب سے پہلے کٹ کرتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مانا جاتا ہے کہ ایک بالغ چکن ذائقہ دار اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے، 1900 کی دہائی کے اوائل میں مرغیوں کو تقریباً 4 ماہ کے بعد ذبح کیا جاتا تھا جبکہ آج کا برائلر 47 دن پر ذبح ہو رہا ہے تاکہ ڈیمانڈ پوری کی جا سکے۔ فارمی چکن میں اومیگا 6 سے اومیگا 3 کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جبکہ چراگاہوں میں پالے ہوئے چکن میں یہ تناسب بہت کم ہوتا ہے، نان ویجیٹیرین کھانا صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ چکن تمام ضروری غذائی اجزاء کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، چکن پروٹین، کیلشیم، امینو ایسڈ، وٹامن B-3، وٹامن B-6، میگنیشیم اور دیگر اہم غذائی اجزاء کا بھرپور ذریعہ ہے۔ ہر قسم کا چکن صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔ دیسی مرغی کے مقابلے میں برائلر مرغی کی افادیت کافی کم ہے ۔ برائلر چکن کو ریگیولر کھانے

سے آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کم کھائیں لیکن غذائیت سے بھر پور کھائیں مثلاً بیلنس ڈائیٹ اپنائیں جس میں مچھلی ، ریڈ میٹ اور سبزیاں شامل کریں، برائلرز کے بجائے دیسی چکن پر جائیں تو اچھا ہے دیسی چکن اور ان کے انڈے صحت کے لیے بہت اچھے ہیں۔

Categories
Uncategorized

فاسٹ فوڈ کھانا ہی نہیں بلکہ فاسٹ فوڈ کے آس پاس رہنا بھی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے! تحقیق نے نئی بحث کو جنم دے دیا

لندن(ویب ڈیسک) جنوبی ایشیا کے دو ممالک کے سروے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہیں تو وہاں سے بار بار کھانا منگواکر کھانے کا جی کرتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

امپیریئل کالج لندن کی پروفیسر میلیسا اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہماری رہائش اور اطراف کے ماحول کا ہماری غذائیت پر اثر پڑسکتا ہے۔ اگرچہ اس پر ترقی یافتہ ممالک میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن اب جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک میں اس پر ایک سروے کیا گیا ہے جس کے دلچسپ نتائج سامنے آیا ہے۔ اس کا مقصد گھر کے پاس غیرصحت بخش کھانوں کی دکانوں اور اطراف کے گھروں پر اس کے اثرات نوٹ کئے گئے ہیں۔ اس کے لیے سال 2018 سے 2020 کے دوران بنگلہ دیش اور سری لنکا کے 12167 افراد سے ڈیٹا اور معلومات لی گئی ہیں۔ سب سے پہلے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے افراد سے ذیابیطس کی کیفیت اور گلوکوز کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان کے گھر کی اطراف کھانے کی دکانوں بالخصوص فاسٹ فوڈ ریستورانوں کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ بالخصوص گھر سے 300 میٹر دور یعنی پیدل مسافت پر مرغن فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بطورِ خاص امل کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوکانوں پر ملنے والے کھانوں کو صحت بخش اور مضرِ صحت کھانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کے قریب رہنے والے افراد وقت بے وقت معمولی بھوک پر بھی باہر نکل کر کھانا لے آتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس لحاظ سے فاسٹ فوڈ دکانوں کی آسان دسترس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر گھر کی قربت میں ایک فاسٹ فوڈ دکان ہوتو اوسطاً خون میں شکر کی

مقدار 2.14 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب خواتین اور بلند آمدنی والے لوگوں میں اس کا رحجان زیادہ دیکھا گیا جو اشتہا کے ہاتھوں فاسٹ فوڈ سے ہاتھ نہیں روک سکتے۔ ایسے لوگوں میں شوگر کا رحجان زیادہ دیکھا گیا تھا۔ تاہم اس رپورٹ میں کچھ کمی رہ گئی ہے کیونکہ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون میں شکر کی تازہ مقدار اور ریڈنگ سے بھی آگاہ کریں اور کسی وجہ سے یہ ڈیٹا تسلسل سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ اپنے نتائج میں ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کی دکانیں ہیں تو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور اس چکر میں آنے سے خود کو بچانا ہوگا۔