Categories
پاکستان

سابق وزیر اعظم عمران خان سے نفرت یا وجہ کچھ اور؟؟؟موجود حکومت نے سابقہ دور کے 2300 ارب روپے کے 764 منصوبے بند کرنے کی تجویز دے ڈالی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزارت منصوبہ بندی نے نئی حکومت کو 2.3 ٹریلین روپے لاگت کے 764 ترقیاتی منصوبے بند کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ نئے منصوبوں کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے نئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو بریفنگ دی کہ سیاسی قیادت کی تبدیلی اور محدود مالیاتی وسائل بڑے منصوبوں کیلیے فنڈنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت نے احسن اقبال کو تجویز دی کہ کم اخراجات اور صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے خارج کر دیا جائے، وزارت کی تجویز کے مطابق 2.3 ٹریلین روپے کی مجموعی لاگت والی کل 764 اسکیموں کو پی ایس ڈی پی سے خارج کردینا چاہیے۔اس وقت 1169 سکیمیں پی ایس ڈی پی کا حصہ ہیں جن کی لاگت 6.3 ٹریلین روپے ہے۔ وزارت نے کل اسکیموں کا 65 فیصد بند کرنے سفارش کی ہے جس سے مجموعی طور پر پی ایس ڈی پی کی فنانسنگ میں 36 فیصد کمی ہو گی

Categories
پاکستان

حکومت نے بینظیر پٹرول کارڈ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ، نجی ٹی وی کا دعویٰ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) غریب طبقے کو پٹرول پر ریلیف دینے کیلئے حکومت نے بینظیر پٹرول کارڈ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، بینظیر پٹرول کارڈ پر رعایتی نرخ پر پٹرول دینےکی تجویز ہے ۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ سےپہلےبینظیرپٹرول کارڈکاپائلٹ پروجیکٹ تیارکیاجائےگا، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام،ایکسائزاورنادراکےڈیٹاسےاستفادہ کیاجائےگا۔

Categories
اسپیشل سٹوریز

“کون کون سے معاملات تھے جن پر سابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں تھی” اینکر پرسن شہزاد اقبال نے نشاندہی کر دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معروف اینکر پرسن شہزاد اقبال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڑھ ماہ تک ڈیڈ لاک برقرار رہا لیکن بعد میں وہی نام سامنے آیا جو فوج کی طرف سے دیا گیا ۔وہ میرے خیال میں ایسے لمحات تھے

جن کے بعد سول حکومت اور ملٹری تعلقات میں دراڑ آئی تھی۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کا بیان کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اگر تعلقات اچھے ہوتے تو وہ آج حکومت میں ہوتےزیادہ حقیقت پر مبنی ہےاگر آپ اس کا موازنہ کریں امریکی سازش کے تناظر میں تو ۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت کےآغاز سےاور ساڑھے تین سال کے دوران سول،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے دوران تعلقات بہت اچھے تھےوہ ایک پیج پر تھے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو سیاسی تعلقات تھے اس میں بھی اسٹیبلشمنٹ نے بڑی مدد دی ہے عمران خان کی حکومت کو چاہے وہ بل پاس کروانا ہویا دیگر مسائل ہوں،ان پر بھی بڑی ان کو سپورٹ ملی ہے۔تجزیہ کار کا کہنات تھا کہ فیٹف کے معاملے پر سب ایک تھے کیونکہ وہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا معاملہ تھا۔لیکن کچھ معاملات پر فوج اور حکومت ایک پیج پر نہیں تھی کیونکہ پی ٹی آئی نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کر رہے تھےاس کے علاوہ بزدار حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے دوران دوریاں پیدا کر رہے تھےکیونکہ اتنا بڑا صوبہ عثمان بزدار نہیں چلا سکتے تھے ان کے پاس نہ تو تجربہ تھا اور نہ ہی وہ اس کی اہلیت رکھتے تھے۔یہ بھی ایک وجہ تھی جس پر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر نہیں تھی۔شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ اسی طرح خارجہ محاذ پر بھی کچھ مسائل تھے جیسے ملائیشیا کی سمٹ میں عمران خان نےشرکت کی حامی بھر لی لیکن بعد میں دوست ممالک کے اعتراض پر شرکت نہیں کی۔اس پر بھی اسٹیبلشمنٹ کا یہ نقطہ نظر تھا کہ

ایک دوست ممالک جو ہماری مالی طور پر مدد کر رہے ہیں ان کے خلاف علیحدہ سے بلاک نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیڑھ ماہ تک ڈیڈ لاک برقرار رہا لیکن بعد میں وہی نام سامنے آیا جو فوج کی طرف سے دیا گیا ہے۔وہ میرے خیال میں ایسے لمحات تھے جن کے بعد سول حکومت اور ملٹری تعلقات میں دراڑ آئی تھی۔

Categories
پاکستان

حکومت تبدیلی کی سازش کا آغاز کب ہوا ، شیریں مزاری نے اہم انکشاف کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کی سینئررہنما شیریں مزاری نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے آزاد خارجہ پالیسی کا آغاز کیا تو حکومت تبدیلی کی سازش ہوئی ۔نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق شیریں مزاری نے کہا کہ بھٹو کے بعد امریکہ کو ہمیشہ پیپلز پارٹی

اور ن لیگ میں فرمانبردار قائدین کی تلاش رہی، نوازشریف کوحکومت ملی توقومی سلامتی کےبھارتی مشیرکوبلاروک رسائی دی،ن لیگی دورِحکومت میں کشمیرکالفظ شاید ہی انکی زبان سےپھسلا ہو ، مقامی سہولتکاروں کی مدد سے بھکاریوں کو اقتدار میں لانے کی امریکی سازش پر کوئی حیرت نہیں۔شیریں مزاری نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے جوہری ہتھیارسےمتعلق پہل نہ کرنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا، مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں ر یمنڈ ڈیوس نےلاہور میں 2 شہریوں کو گولیاں ماریں ، مرکز میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں ن لیگ نے ملی بھگت سے ر یمنڈ ڈیوس کو بھگایا ، ر یمنڈ ڈیوس سفارتکار نہیں قتل کا مرتکب مجرم تھا۔رہنما پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے بغیر پیشگی شرط کے گفتگو کیلئے بھی مودی کومحبت نامہ بھجوایا ، شہبازشریف کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اورقتلِ عام کی پرواہ نہیں۔

Categories
پاکستان

گورنر سندھ کون ہوگا؟؟حکومت نے ایم کیو ایم سے نام مانگ لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت کابینہ کی تشکیل کے بعد گورنرز کی تعیناتی کے لیے متحرک ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سندھ کے گورنر کے لیے ایم کیو ایم پاکستان سے نام مانگ لیے ہیں جس پر متحدہ قیادت حکومت کو دو نام دے گی۔ ذرائع کا بتاناہے

کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان عوامی پارٹی سے بھی گورنر بلوچستان کے لیے نام مانگ لیے ہیں۔

Categories
منتخب کالم

ڈیڑھ سال پہلے عمران حکومت کو اکھاڑنا “بڑا سیاسی ڈیزاسٹر “ہوگا۔سینئر صحافی ڈاکٹر مجاہد منصوری نےپی ڈی ایم کی سب سےبڑی غلطی کی نشاہندہی کر دی

لاہور(ویب ڈیسک)ڈاکٹر مجاہد منصوری اپنے کالم میں لکھتے ہیں سمجھانے کی کوششیں تو بہت کیں کہ الیکشن 13 کے بعد پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں پولنگ کی جامع تحقیق کا مطالبہ حکومت اکھاڑنے کی خواہش اور پھر اسے پورا کرنے کے لیے طویل دھرنے میں تبدیل ہونا غلط تھا،

اسی طرح پی ڈی ایم کا ڈیڑھ سال کی مزید عمران حکومت کو اکھاڑنا بڑا سیاسی ڈیزاسٹر ہوگا۔ لیکن عجب الخلقت اپوزیشن اتحاد اسی پر تلا ہوا تھا کہ ہر حال میں وہ اپنا یہ غیر جمہوری مزاج کا، اور سیاسی استحکام کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہدف حاصل کرے۔ پی ڈی ایم اتحاد اس مہم جوئی میں بڑے پاپڑ بیل اور کر کچھ بھی لا حاصل رہ کر منقسم اور نیم جان بھی ہوا، تاہم وقفے کے بعد مولانا صاحب کی بے تابی اور سیاسی کرشمے سے ٹوٹے اتحاد کے تن مردہ میں جان پڑگئی۔ یوں اتحادیوں کے نزدیک وہ قومی سیاست کے مسیحا اور اب اپنے تئیں منصب صدارت کے جائز امیدوار قرار پائے۔ بحالی جمہوریت 2008-18 کے عشرے میں پی پی اور ن لیگی حکومت کی ادائیگی کفارے کی بجائے پھر وہی دھما چوکڑی حکومتوں پر بھی سیاسی استحکام قائم کرنے کے لیے پریشان حال عوام نے جس صبر جمیل کا مظاہرہ کیا، وہ بھی حیران کن تھا۔ دل جلے اور منہ پھٹ تجزیہ کاروں اور مبصرین نے اس پر عوام الناس کو دولا شاہی چوہے بے حس اور جرم ضعیفی کے بڑے مجرم ہونے کے طعنے دیئے لیکن یہ ان کی بے بسی تھی یا کمال صبر، ملک میں جیسے تیسے سیاسی جمہوری اور آئینی عمل کو تھانہ کچہری کلچر اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبے ملک میں بھی جاری و ساری رکھنے کا موقع ملا۔ 2008 سے تادم، چلو کرپشن ختم نہ ہوئی، نہ عمرانی حکومت ’’ڈاکو چوروں‘‘ سے ٹکا بھی نکلوا سکی۔

دو وزرا ء اعظم کے عدالتی عمل سے منصب کھونے اور پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم عمران کے ترین اور علیم خان جیسے دست راست احتسابی عمل میں جدا ہو کر جیل گئے اور ان پر مقدمات بنے اور نااہلی کی سزا پائی۔ اس سے عوامی کی نظر میں عدلیہ کا بھرم قائم اور اعتماد بڑھا۔ عوام اس عرصے میں بھی مہنگائی، بے روزگاری کے بلند گراف اور ان کے اپنے اقتدار کے بلدیاتی نظام سے محرومی کے باوجود اس قانونی عمل کی حوصلہ افزائی اور جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے، پھر تھانہ کچہری کی ہارڈ شپ کو بے حسی کے طعنوں کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اس کے برعکس پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی کے اقتدار میں آتے ہی جس بری طرح حکومت کا پیچھا باندھا انسانی تقاضوں اور قومی سوچ کے تقاضوں سے ماورا اسے عالمی وبا کے بحران میں بھی شدت سے جاری رکھا، اس میں ہماری مجموعی روایتی سیاسی قیادت کا قد پریشان عوام کے باوقار و کمال سیاسی صبر کے مقابل بونے برابر رہ گیا۔ پی ڈی ایم کی لنگڑی بطخ نما حکومت اور عوام پر طعنہ زن تجزیہ نگار اور سیاسی دانشور، تب نہیں دیکھ سکے تو اب دیکھ لیں کہ عوام بے وقوف ہیں نہ بے حس۔ اب جو پی ڈی ایم نے بیرونی یا اندرونی سازش یا بے جا اور غیر آئینی مداخلت سے ایک ایسی حکومت کو اکھاڑنے کا ’’کارنامہ‘‘ کیا جس کے مہنگائی کے باوجود آئینی مدت تک جاری رہنے پر عوام مکمل آمادہ نظر آ رہے تھے، اسے ’’سندھ ہائوس‘‘ کے ’’آپریشن روم‘‘ سے جس طرح اکھاڑا ہے

اس پر سندھ و بلوچستان کے انٹرنیٹ سے محروم دور افتادہ اَن رپورٹڈ قصبات و دیہات سے لے کر ملک کےتمام بڑے چھوٹے شہروں میں عوامی ردعمل کی باوقار و کمال کیفیت کو پڑھنا، سمجھنا اور ایکٹ کرناپی ڈی ایم کے اپنےمفاد میں ہے۔ خود عمران خان کے بھی جن کا ’’آئینی راہ‘‘ سے بھی اقتدار چھیننا عوام کے بہت بڑے اور اس سے بھی زیادہ حساس طبقے کو برداشت نہیں ہوا۔ دونوں اس سبق سے اپنی اپنی شدت سے اصلاح طلب سیاست کے رخ درست کر سکتے ہیں لیکن محسوس ہو رہا ہے کہ دونوں کو یہ کھلا سبق پڑھنے میں بھی دقت ہو رہی ہے۔ عمران نے الیکشن کےمطالبے کے ساتھ اپنا مکمل رخ پارٹی کی اصلاح اور الیکشن کی تیاری کے تناسب کی بجائے مکمل طور پر احتجاج اور جلسوں کی طرف اور پی ڈی ایم سے بے سود اور آلودہ پارلیمانی عمل میں الجھے رہنے پر رکھا ہوا ہے۔ وہ بھول رہے ہیں الیکشن نے ہونا ہی ہوتا ہے۔ جبکہ پی ڈی ایم بھی اپنا رخ غیر حقیقت پسندانہ بلکہ ڈیزاسٹر جیسے ٹارگٹ حاصل کرنے کےبعد دکھاوے کے، ایک دن کا ویک اینڈ، تنخواہ میں اضافہ اور واپسی، بس میں سیاست دانوں کا فوٹو سیشن جیسے اقدامات تک رکھا ہوا ہے۔ پھر یہ بھی کہ گہرے عوامی جذبات اور ان کے سیاسی رخ کو سمجھے بغیر شیشے کے گھر میں بیٹھ کر ’’توشہ خانہ‘‘ اور ’’فارن فنڈنگ‘‘ کا پتھرائو، نہیں سمجھ رہے، جبکہ کراچی کے جلسے میں خان نے سمجھایا بھی کہ مجھے دیوار سے لگایا تو اس کا نقصان ملک کو ہو گا نہ مجھے اور عوام کو ہو گا بلکہ انہیں ہو گا

جو یہ ’’سعی‘‘ کر رہے ہیں۔ ان کے حساب کتاب میں یہ کیوں نہیں آرہا کہ اس کے نتیجے میں اگر اوپر بھی اور نیچے بھی ’’فرد جرم لگائو‘‘ کی اینٹیں برسنا شروع ہو گئیں تو غیر آئینی فلور کراسنگ کی بنیاد پر قائم ملوکیت کہاں پناہ لے گی۔ کیوں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس میں خود گھروں سے نکلے’’ نامنظور نا منظور‘‘ والے عوام بھی فرد جرم کے عمرانی مطالبے میں شامل ہو جائیں گے۔عدالتوں کا پہلے ہی بڑا امتحان جاری ہے، انہیں مزید کیوں مشکل میں ڈالا جا رہا ہے۔ ابھی تو صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن پر بڑی لے دے ہونی ہے جبکہ عمران خاں ہی نہیں حکومتی گھاگ اور سیانے جانتے ہیں کہ ملک ان کے حکومت ہاتھ لگ جانے کے بعد جس دلدل میں جا رہا ہے اس کا ابتدائی شاخسانہ پنجاب اسمبلی کے اکھاڑا نہیں جائے، واردات بننے کی شکل میں آیا ہے۔ بدستور جاری آئینی سیاسی بحران کے تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص حکومت اور پی ٹی آئی سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے سیاسی ابلاغ کو قابو میں لاکر اسے انتخابی مہم کے رنگ میں لائیں اوریہ کہ جلد انتخابات کب ہوسکتے ہیں ؟کیسے ہو سکتے ہیں؟ہر دو فریق کو ممکنہ حد تک کیسے مطمئن کیا جا سکتا ؟بعداز انتخاب، انتخابی عمل کو بااعتبار بنانے کے لیے کیا کیاجا سکتا ہے ؟ ضامن کون ؟الیکشن کمیشن اپنا اعتبار اور وقار کیسے قائم کرے اور برقرار رکھے؟جیسے سوالوں کے باہمی طور پر مان جانے والے جوابات سے آگاہی اور ایکشن پلانپر لگائیں۔عالمی اور خطے کی سیاست ملک پر بہت زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے اور ہونے کو ہے۔قومی اتحاد کی جس حد تک ہو سکے، شدید ضرورت ہے۔سیاسی ابلاغی آلودگی مزید پھیلانے سے پرہیز کریں۔ پارلیمان سمیت ہر اہم بڑے اور حساس ریاستی ادارے کی ساکھ اور اعتبار کا تحفظ ہر سیاسی رہنما اور شہری کی مشترکہ ذمے داری بن گئی ہے۔

Categories
پاکستان

شہباز شریف کی حکومت بنتے ہی مشکلات کا شکار! اہم اتحادی جماعت نے ساتھ چھوڑنے کی تیاری پکڑ لی،سینئر صحافی کامران خان کا تہلکہ خیز دعویٰ

کراچی(ویب ڈیسک)سینئر تجزیہ کار کامران خان نے سردار اختر مینگل کی ایک ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلیدی اتحادی نے مخلوط حکومت قیام پہلا ہفتہ مکمل ہونے پر اس اتحاد سے رخصتی اختیار کرنے کی تیاری کرلی ہے۔اپنی ٹویٹس میں کامران خان نے لکھا کہ ان کی محسن داوڑ کی

طرح شکایات کی توپوں کا رخ فوج ہے اور بے چارے وزیراعظم شہباز شریف ہکا بکا ہیں کہ ہماری فوج کے ساتھ کھڑے ہوں یا محسن داوڑ اور اختر مینگل کے ساتھ۔