Categories
منتخب کالم

ملک کے مسائل کا حل کس کے پاس؟؟ کیا واقعی ملک میں صدارتی نظام نافذ ہونے جا رہا ہے؟ اہم رازدوں سے پردہ اٹھ گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) آصف محمود اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” اب کی بار جاڑے میں برف کے ساتھ ایسی دانش اتری ہے کہ راتوں رات ’ملک کی بقا صدارتی نظام‘کے ٹرینڈ چل پڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمانی نظام کو رد کرنے اور صدارتی نظام اختیار کرنے کے دلائل کیا ہیں؟۔

پارلیمانی نظام میں آخر کیا خرابی ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور صدارتی نظام میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ اسے اپنا لیا جائے؟ ملک کی 74 سالہ تاریخ میں پارلیمانی نظام کا دورانیہ ہے ہی کتنا؟ صرف 19 سال۔ جس نظام کو کبھی چلنے ہی نہیں دیا گیا خرابی کا سارا الزام اس پر کیسے دھرا جا سکتا ہے؟ قیام پاکستان کے وقت عملاً اگرچہ پاکستانی کابینہ اپنے گورنر جنرل کے انتخاب میں آزاد تھی لیکن آئینی پوزیشن یہ تھی کہ فروری 1952 تک کنگ جارج ششم ہمارے بادشاہ تھے اور گورنر جنرل کی حیثیت ان کے نمائندے کی تھی۔ چھ فروری 1952 سے 23 مارچ 1956 تک ملکہ الزبتھ پاکستان کی ملکہ اور آئینی سربراہ رہیں۔آئینی طور پر گورنر جنرل کی حیثیت ان کے نمائندے کی تھی۔ پاکستان کے سفیروں کی بیرون ملک تقرری کا پروانہ 1956 تک بادشاہ اور پھر ملکہ ہی جاری کرتے تھے۔ یہ صورت حال 23مارچ 1956 کو تبدیل ہو گئی جب پاکستان نے اپنا ایک آئین بنا لیا اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی آئینی حیثیت ختم ہوگئی۔ نہ ملکہ اب ہماری آئینی سربراہ رہیں نہ ان کے نمائندے یعنی گورنر جنرل کا عہدہ باقی رہا۔ گورنر جنرل کی جگہ اب صدر پاکستان نے لے لی۔ 23مارچ 1956کو جو آئین نافذ ہوا وہ اگر چہ پارلیمانی تھا لیکن عالم یہ تھا کہ بنگال (مشرقی پاکستان) سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت جناب سکندر مرزا اتنے طاقتور تھے کہ دو سالوں میں چار وزرائے اعظم بدل ڈالے۔ موصوف کا اسی پر دل نہیں بھرا بلکہ آٹھ اکتوبر 1958 کو موصوف نے جو ہز ایکسی لنسی بھی تھے، صدر بھی تھے، میجر جنرل بھی تھے، بیوروکریٹ بھی تھے، پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ 11 اگست 1947 سے 1956تک، ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے جو آئین نو سال کی محنت کے بعد قوم کو دیا وہ مشرقی پاکستان کے سکندر مرزا نے دو سال بھی نہ چلنے دیا۔

یہ دو سال بھی گویا پارلیمانی جمہوریت کے سال نہیں تھے، صدارتی نظام کے سال تھے۔ اسی سال بلکہ اسی مہینے، سکندر مرزا کو ایوب خان نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ 1958سے لے کر 1969 تک ملک میں فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب کا صدارتی نظام رائج رہا۔ قائداعظم کے ساتھی اسی دور میں ایبڈو کے ذریعے نا اہل قرار دے کر ایک طرف کر دیے گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ایک افسوسناک باب ہے۔ جی ایم سید سے شیخ مجیب تک جس جس نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا، غدار ٹھہرا۔ جس طرح انہیں الیکشن میں ہرایا گیا، اس نے مشرقی پاکستان کی نفسیاتی گرہوں میں ایک بہت بڑی گرہ کا اضافہ کر دیا۔ ایوب خان صاحب سے اقتدار جنرل یحییٰ خان نے چھینا اور خود کو تیسرا صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر قرار دے دیا۔ موصوف اقتدار سے اس وقت الگ ہوئے جب ملک ٹوٹ چکا تھا۔ان کے قریب تین سال کے دور اقتدار میں بھی عملاً ملک میں صدارتی نظام ہی تھا۔ 1970 کے انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کیے گئے اور ملک ٹوٹ گیا۔ ملک ٹوٹنے کے بعد اقتدار بھٹو صاحب کو ملا تو وہ بھی پارلیمانی حکومت نہ تھی۔ ملک ٹوٹنے کے چوتھے دن بھٹو صاحب صدر پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بنا کر حکومت میں بٹھا دیے گئے۔ قیام پاکستان کے 26 سال بعد 1973 کے انتخابات کے بعد ملک میں پہلی بار عملی طور پارلیمانی نظام آیا، لیکن صرف چار سال چل پایا اور پھر جنرل محمد ضیا الحق صاحب نے مارشل لا لگا دیا اور خود صدر مملکت بن گئے۔ جنرل ضیا الحق کے 11 سال بھی ملک میں صدارتی نظام ہی رائج رہا۔

ضیا الحق کے بعد جمہوریت آئی تو سہی لیکن یہ نظام پارلیمانی کم اور صدارتی زیادہ تھا۔ کہنے کو ایک عدد پارلیمان موجود تھی لیکن صدر محترم کے پاس 58(2) B کی وہ تلوار موجود تھی جو پلک جھپکنے میں کسی بھی پارلیمان کا سر قلم کر سکتی تھی۔ دسمبر 1988 میں بے نظیر صاحبہ کی حکومت بنی، ڈیڑھ سال بعد صدر غلام اسحق خان نے اسمبلی توڑ دی۔ نومبر 1990 میں نواز شریف وزیراعظم بنے، تیسرے سال صدر غلام اسحق خان نے اسمبلی توڑ دی۔ اکتوبر 1993میں پھر بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں لیکن نومبر 1996میں صدر فاروق لغاری نے اسمبلی توڑ دی۔ نواز شریف جب دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم بنے تو انہوں نے تیرہویں ترمیم کے ذریعے 58(2) B کو ختم کر دیا۔ یہ دو سال بھی پارلیمانی نظام حکومت کے سال ہیں۔ دو سال بعد پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹ دیا اور 58(2) B کو پھر سے آئین میں شامل کر دیا۔ مشرف صاحب کے دور حکومت میں بھی معین قریشی، شوکت عزیز، ظفر اللہ جمالی اور چوہدری شجاعت جیسے وزیراعظم تو موجود تھے لیکن عملاً یہ صدارتی نظام حکومت ہی تھا۔ اٹھارویں ترمیم میں 58(2) B کو ایک بار پھر ختم کر دیا گیا۔ گویا 2010 سے ایک بار پھر ہم ایک پارلیمانی نظام میں رہ رہے ہیں۔ 13 سال یہ ہو گئے، دو سال نواز شریف کے اور چار سال بھٹو کے۔ یہ کل ملا کر 19 سال بنتے ہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک 75 سالوں میں سے ملک میں پارلیمانی نظام کا دورانیہ صرف 19 سال ہے، جب کہ صدارتی اور نیم صدارتی نظام کا دورانیہ 58 سال ہے۔ ہمارے کمالات دیکھیے ہمارے ہاں شور مچا ہے کہ پارلیمانی نظام بہت برا ہے اور ملک کی بقا صدارتی نظام میں ہے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام کا تجربہ بھی مثالی نہیں رہا ہے۔ مثالی تو کیا بسا اوقات تو یہ معقول بھی نہیں رہتا لیکن اگر اس کو رد کرنا ہے تو متبادل کا اچھا ہونا بھی تو ضروری ہے۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارا صدارتی نظام کسی بھی اعتبار سے ہمارے پارلیمانی نظام سے بہتر نہیں رہا۔ صدارتی نظام معاشرے سے سیاسی حساسیت، فعالیت اور شعور تک چھین لیتا ہے۔ ایسے معاشرے کو مینیج کرنا تو شاید آسان ہوتا ہو لیکن اس کے نتیجے میں سماج اپنے فکری ارتقا اور بانکپن سے محروم ہو جاتا ہے۔ کسی بھی سماج کے لیے اس سے تباہ کن چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔

Categories
منتخب کالم

حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی باہمی رضا مندی!!! اہم قانون کا مسودہ 12 منٹ میں کیسے منظور ہوا ؟ انکشافات سن کر آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) نصرت جاوید اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” پیر کے دن اسلام آباد کے مجھ جیسے پرانے رہائشیوں کے لئے بھی سردی بہت شدید تھی۔ بستر سے نکلنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔زندہ رہنے کے لئے مگر رزق کمانے کی خاطر موسم کی شدتوں کو نظرانداز کرنا ضروری ہے اور جن دنوں قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو تو میں اس کالم کے علاوہ ’’دی نیشن‘‘ کے لئے پریس گیلری والا کالم لکھتا ہوں۔

نہادھوکر لہٰذا اپنے تئیں بالم بنا اور گاڑی سٹارٹ کرکے پارلیمان کی جانب روانہ ہوگیا۔وہاں موجود ساتھی مجھے واٹس ایپ کے ذریعے تازہ ترین بھیجتے ر ہتے ہیں۔آدھے راستے میں تھا تو اطلاع آئی کہ فقط بارہ اراکین کی موجودگی میں اجلاس شروع کردیا گیا۔تلاوت کلام پاک اور دیگر ابتدائی رسومات کے بعد پیپلز پارٹی کے آغارفیع اللہ نے کورم نہ ہونے کی نشان دہی کردی۔اسے پورا کرنے کے لئے اجلاس مؤخر کردیا گیا۔کافی انتظار کے بعد مگر بندے پورے نہیں ہوئے۔اجلاس کو بالآخر منگل کی شام تک مؤخر کردیا گیا۔ یاد رہے کہ کورم نہ ہونے کے باوجود قانون کی نگاہ میں پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس باقاعدہ منعقد ہوا ہے۔ اس کے ہر رکن کو اس روز’’کام‘‘ کرنے کا بھاری بھر کم معاوضہ ادا کیا جائے گا۔مجھے کامل یقین ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک ہمارے ’’فرض شناس‘‘ نمائندے نظر بظاہر بغیر کوئی کام کئے یہ معاوضہ وصول کرتے رہیں گے۔ حکومت کے پاس فی الوقت قومی اسمبلی سے منظور کروانے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔گزشتہ جمعرات کے دن ایک طویل ترین اجلاس کے دوران قومی اسمبلی سے منی بجٹ کے علاوہ 15مزید قوانین بھی منظور کروالئے گئے ہیں۔اسمبلی کا سیشن مگر جاری رکھا جارہا ہے۔فقط اس وجہ سے کہ ہمارا تحریری آئین تقاضہ کرتا ہے کہ ہر پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی کم از کم 120مرتبہ ملے۔مطلوبہ دن پورے کرنے کا کھانچہ ہے۔ڈھٹائی کے ساتھ ہوئی دونمبری جس کا ارتکاب حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی باہمی رضا مندی سے ہورہا ہے۔ ایسی دیدہ دلیر دونمبریوں کے عینی شاہد ہونے کے باوجود مجھ جیسے صحافی آپ کو اس گماں میں مبتلا رکھیں گے کہ وطن عزیز میں ایک منتخب پارلیمان ہے۔

حکومت اس کے روبرو جوابدہ ہے۔میرے اور آپ جیسے عام شہری کے ساتھ وہ کوئی زیادتی کرنا چاہے تو منتخب پارلیمان میں بیٹھے اراکین ہمارے تحفظ کے لئے سینہ پھلاکر کھڑے ہوجائیں گے۔پارلیمانی جمہوریت کے واہمے کو حقیقت کی صورت دیتے ہوئے ہم اپنا دھندا چلاتے ہیں۔آپ کو اس گماں میں مبتلا رکھتے ہیں کہ ہم ’’جمہوری نظام‘‘ کی برکتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ سلطانوں کی من مانی کو روکنے کیلئے ’’(ہماری)نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا‘‘ والے نعرے کی بدولت منتخب پارلیمان کا ادارہ وجود میں آیا تھا۔ اس ادارے میں قانون سازی کے لئے کئی مراحل طے کرنا ہوتے ہیں۔مذکورہ مراحل کی بدولت عام شہریوں کو علم ہوتا ہے کہ کن ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر نئے قوانین متعارف اور لاگو کئے جارہے ہیں۔اس ضمن میں ہمیں باخبر رکھنے کی بنیادی ذمہ داری اپوزیشن نشستوں پر بیٹھے اراکین کی ہے۔ ہماری اپوزیشن میں ان دنوں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا ورد کرنے والوں کی اکثریت ہے۔انہوں نے تاہم اس قانون کا مسودہ دیکھے بغیر ہی اس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا تھا جو ایک ریاستی عہدے کی معیاد ملازمت میں توسیع کے لئے سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کے حکم پر تیار ہونا تھا۔وہ قانون تیار ہوگیا تو حکومت اور اپوزیشن نے کوئی بحث کئے بغیر ہی اسے 12منٹ میں متفقہ طورپر منظور کرتے ہوئے تاریخ بنائی۔ جی حضوری کی ایسی مثال دنیا کی کسی اور پارلیمان میں نظر نہیں آئی۔ مذکورہ قانون کے علاوہ دس سے زیادہ قوانین پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے نام پر بھی تیار ہوئے تھے۔

’’ہمارے نمائندوں‘‘ کا بنیادی فریضہ تھا کہ وہ ان قوانین پر بھرپور بحث کے ذریعے میرے اور آپ پر مشتمل رعایا کی رہنمائی کے لئے دریافت کرتے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں کیوں ڈالا گیا تھا۔اپوزیشن کے کسی ایک رکن نے بھی لیکن یہ جرأت نہیں دکھائی۔قومی اسمبلی کے سپیکر کے سرکاری گھر میں ریاستی اور حکومتی نما ئندوں کے ساتھ رات گئے تک بیٹھے ہوئے مک مکا میں مصروف رہے۔ ان کی جانب سے برتی فدویانہ جی حضوری کے باوجود ایک دن مخدوم شاہ محمود قریشی دندناتے ہوئے ایوان میں آئے اور نہایت حقارت سے اعلان کردیا کہ مذکورہ قوانین کی منظوری میں معاونت کے بدلے اپوزیشن جماعتیں اپنے ’’بدعنوان رہ نمائوں‘‘ کے لئے معافی تلافی والے این آر او کی طلب گار ہیں۔عمران خان صاحب مگر ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ پر ترس کھانے کو ہرگز تیار نہیں۔اپنے اصولی مؤقف کی وجہ سے وزارت عظمیٰ گنوانے کو بھی ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ذلت اچھالتی اس تقریر کے باوجود ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا سوانگ رچانے والے ’’انقلابیوں‘‘ نے تاریخی عجلت میں مذکورہ قوانین پاس کروانے میں بھرپور معاونت فراہم کی۔بہانہ یہ تراشا کہ وہ پاکستان کے ’’وسیع تر مفاد‘‘ میں کڑوا گھونٹ پی رہے ہیں۔مذکورہ قوانین کو منظور ہوئے ایک برس سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔پاکستان مگر اب بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔کسی اپوزیشن رہ نما نے ابھی تک یہ جرأت نہیں دکھائی کہ ایوان میں کھڑے ہوکر حکومت کو یہ بتانے کو مجبور کرے کہ تاریخی عجلت میں منظور کروائے قوانین کے باوجود پاکستان ابھی تک اس لسٹ میں کیوں موجود ہے۔اس تناظر میں پنجابی محاورے والی گوٹ کہاں پھنسی ہوئی ہے۔ایسے ’’نمائندوں‘‘ کے ہوتے ہوئے مجھے تو رعایا کے دُکھوں کا ذکر ہوتا بھی لیکن نظر نہیں آرہا۔ان کے ازالہ کی صورت نکالنا تو بہت دور کی بات ہے۔

Categories
منتخب کالم

حکومت کی مقبولیت میں مسلسل کمی!! چار لیگی رہنما نوازشریف کی جگہ لینے کے لئے متحرک، ان ہاؤس تبدیلی کب تک متوقع؟ اہم رازوں سے پردہ اٹھ گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) ندیم اختر ندیم اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” چار لیگی رہنما نوازشریف کی جگہ لینے کے لئے متحرک ہیں۔ جناب فواد چوہدری کی طرف سے اس راز کو آشکار کئے جانے کے بعد نہ تو ہمیں حیرت ہوئی نہ ہی کوئی مسلم لیگ(ن) میں ہم نے کھلبلی مچتی دیکھی کہ ایسے بیانات داغنا حکومت اور اپوزیشن کا وتیر ہ بن چکا ہے، لیکن ان میں صداقت کا ہونا ضروری نہیں۔

بالفرض اس بیان کو ہم سچ ہی مان لیتے ہیں کہ اب حکومتی وزراء کی ہر بات کو ٹھکرایا بھی تو نہیں جا سکتا ہے لہٰذا اگر یہ سچ بھی ہے تو بھی یہ خوش آئند ہے اور اس سلسلہ میں مسلم لیگ(ن) کو تو چنداں فکر کی ضرورت نہیں اس میں بھی تشویش تو حکومت کے لئے ہی ہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے عام آدمی عاجز آچکا ہے خود تحریک انصاف کے اپنے ووٹرز نے بھی کبھی سوچا نہ ہوگا کہ انکے خوابوں کا محل ایسے چکنا چور ہوگا نوجوانوں نے کیا کیا خواب نہ دیکھے تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی ملک میں معاشی ترقی کا سلسہ چل نکلے گا نوکریوں کی فراوانی ہوگی جیسے کہ جناب عمران خان کہا کرتے تھے غریب کو چھت میسر ہوگی قانون کی بالا دستی ہوگی انصاف ہوگا غریب امیر میں کوئی تفریق نہ ہوگی، لیکن پھر کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔ عوام تو ان حالات سے بھی گئے کہ آج اگر موجودہ حکومت کا پچھلی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو پچھلی حکومت ہمیں بڑی مہربان نظر آئے گی کہ مہنگائی کی روز بروز پھیلتی آگ ایسی تو نہ تھی ایسی قانون شکنیاں بھی نہیں تھیں، سیاستدانوں کو عوام کا کچھ نہ کچھ ڈر تھا بقول حکمران جماعت دکھلاوے کے لئے ہی سہی حاکم وقت عوام کو جوابدہ تھا حکمران سیاسی بصیرت سے کام لیتے تھے،برملا اپنے کئے وعدوں سے پھرتے نہیں تھے جیسے جناب عمران خان ایک ایک کرکے اپنی ہی کی ہوئی باتوں سے یوٹرن لیتے گئے اور ستم تو یہ کہ اس پر جناب عمران خان اپنے لئے ہر یوٹرن کو بڑ الیڈر ہونے سے تعبیر کرتے گئے عالیجاہ!۔

عام آدمی کو ایسی مصلحتوں اور موشگافیوں کا علم نہیں عام آدمی کی ہے کہ اسے دووقت کی روٹی میسر ہے کہ نہیں بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں کہاں ہیں اس وقت کھاد کی کم یابی کا یہ عالم ہے کہ کسان کھاد کے لئے خوار ہوگیا اسے دگنی قیمتوں پر بڑی تگ و دو کے بعد کہیں کھاد میسر ہوئی اور وہ بھی اسکی طلب سے کم تو کیا ایسے حالات میں ملک میں گندم کا بحران نہیں ہوگا؟ چینی آٹا پر بھی عوام سے جو سلوک ہوا وہ کسے بھولا ہے کہ عوام ہنوز حکمرانوں کی جانب سے دئیے گئے زخموں کو سہلا رہے ہیں کیا جناب عمران خان اور کیا ان کے وزیر مشیر سبھی نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے حکومت کا عرصہ اقتدار تو ویسے ختم ہی ہوا کہ چار سال ہونے کو آئے عوام کے لئے حاکم وقت کی جانب سے ابھی تک کوئی قابل ِ ذکر ریلیف نہیں ملا تو اگلے سال چھ ماہ میں کون سا ایسا طلسماتی عمل ہو گا،جس سے عوام سے کئے وعدوں کو چشم زدن میں وفا کردیا جائے گا یہ ہمارا ہمسایہ ملک کا کسان ہے جس کی فصل کھیتوں سے اٹھا لی جاتی ہے وہاں بجلی کھاد میں بے پناہ ریلیف دیاجاتا ہے اور ہمارے کسان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ہمارے سرحدی ایریاز کے رہائشیوں کو آئے روز بھارتی جارحیت کا سامنا رہتا ہے قیام پاکستان کے بعد اب تک بھارت نے کبھی گولہ باروود سے آگ برسائی تو کبھی آبی دہشت گرد ی سے کام لیا بھارتی سیکیورٹی فورسز بی ایس ایف نے ہماری شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے لیکن آج تک ہم سرحد کے مکینوں کو سرحد سے پیچھے سنٹرل گورنمنٹ کی متبادل اور محفوظ جگہ ہی فراہم نہیں کرسکے اتنے تو ہم اپنے عوام کے بہی خواہ ہیں جناب عمران خان ہی کہاکرتے تھے کہ وہ کشکول توڑ دیں گے اور سب نے دیکھا کہ انہوں نے کشکول توڑ کر دنیاکے آگے جھولی پھیلا دی ملک کو مقروض سے مقروض تر کر دیا گیا روپے کی قدر میں انتہائی کمی ہوگئی نتیجتاً ملک میں مہنگائی کی آگ بھڑک اٹھی اور حکمران ہرخسارے کو پورا کرنے کے لئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے گئے اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا کیا کرنا ہے ملک کو کیسے چلانا ہے عوامی خوشحالی کے لئے کیا کرنا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں شہباز شریف نے تو پھر ٹھیک ہی کہا تھا کہ حکمران ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن دینے کے لئے بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لیں گے،لہٰذا اگر چار مسلم لیگی بھی آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لیں تو شائد کچھ حالات اعتدال پر آجائیں اور رہی بات نواز شریف کی تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ نواز شریف کا ستارا ہر افق پر اپنی روشنی لٹاتا رہاہے ۔

Categories
منتخب کالم

موجودہ حکومت کے 3 سالہ دور میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ کہاں پہنچی؟ نئی رپورٹ نے سب راز افشاں کر دیئے، جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں

لاہور: (ویب ڈیسک) اشتیاق بیگ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” گزشتہ دنوں دنیا کے ممالک کی پاسپورٹ رینکنگ پر مبنی عالمی ادارے ہینڈلے نے اپنا 2022کا پاسپورٹ انڈیکس جاری کیا۔ اس فہرست کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار پایا۔ گزشتہ سال 2021 کی رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ پانچویں نمبر پر تھا جو مزید ایک درجہ کم ہوکر چوتھے نمبر پر آگیا اور پاکستان سے نیچے شام، عراق اور افغانستان جیسے خانہ جنگی کا شکار ممالک ہیں۔

ہینڈلے پاسپورٹ انڈیکس کی عالمی درجہ بندی میں اس سال جاپان اور سنگاپور کے پاسپورٹ ایک مرتبہ پھر دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پائے جن کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر جرمنی اور جنوبی کوریا قرار پائے جن کے شہری 191 ممالک کا بغیرویزا یا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر فن لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ اور اسپین کے شہری 190 ممالک جبکہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک چوتھے نمبر پر ہیں جہاں کے شہری 189 ممالک کا ویزا فری یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے ہیں۔ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کو افریقہ کے پسماندہ ترین ملک صومالیہ سے بھی نیچے کمزور ترین ممالک کی فہرست میں دیکھ کر افسوس ہوا جہاں پاکستان، افغانستان، عراق، شام، یمن، فلسطین، نیپال، لیبیا، شمالی کوریا، سوڈان، لبنان، کوسوو اور ایران کی صف میں کھڑا نظر آیا جہاں کے شہری 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ اس انڈیکس میں بھارت اور بنگلہ دیش کے پاسپورٹ کا رینک پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے۔یاد رہے کہ 70ء کی دہائی تک پاکستانی پاسپورٹ کا شمار مضبوط پاسپورٹس میں ہوتا تھا اور پاکستانی شہری برطانیہ سمیت بیشتر یورپی ممالک بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول سفر کرسکتے تھے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان سوویت افغان جنگ کے بعد پہنچا جب لاکھوں افغان پناہ گزینوں اور پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی باشندوں نے رشوت کے عوض پاسپورٹ حکام سے پاکستانی پاسپورٹس حاصل کئے۔ یہ لوگ جب بیرون ملک پکڑے جاتے تو اُنہیں پاکستانی تصور کیا جاتا جس سے پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں بدنام ہوا جبکہ رہی سہی کسر غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں نے نکال دی جن کے بیرون ملک پکڑے جانے پر پاکستانی پاسپورٹ اور پاکستانیوں کی جگ ہنسائی ہوئی۔

ایسے میں جب عالمی انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں گراوٹ آتی جارہی ہے، پاکستانیوں کو ویزے کے حصول کیلئے مزید سختیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، فلپائن اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کے ویزے کے حصول کے لئے بھی پاکستانیوں کو ایک ایک ماہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر پاکستان کا اشرافیہ طبقہ کچھ ایسے ممالک میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کررہا ہے جہاں اسے مستقل رہائش اور پاسپورٹ کا حصول ممکن ہے۔ ان ممالک میں آج کل ترکی سرفہرست ہے جہاں دو سے ڈھائی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پر مستقل رہائش اور صرف ایک سال میں ترکش پاسپورٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ میرے کئی جاننے والے اس اسکیم سے فائدہ اٹھاچکے ہیں۔ یو اے ای حکومت کی ایک اسکیم کے تحت بھی یو اے ای میں رئیل اسٹیٹ یا کسی بھی شعبے میں 2 ملین درہم کی سرمایہ کاری کرنے پر پوری فیملی ’’گولڈن ویزا‘‘ حاصل کرسکتی ہے جس کی مدت 10 سال ہوتی ہے اور اس اسکیم میں بھی پاکستانی بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس دن میڈیا میں ہینڈلے کی حالیہ رپورٹ منظر عام پر آئی، اُسی روز حکومتی وزیر فواد چوہدری کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’حکومت نے ترکی اور دوسرے یورپین ممالک کی طرز پر غیر ملکیوں کو مستقل رہائش کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ایسے غیر ملکی جو پاکستان میں پراپرٹی میں ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، وہ پاکستان میں مستقل شہریت اور پاسپورٹ کے حقدار ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ ڈالر یا اس سے زائد سرمایہ کاری کرنے والوں کو 5 سے 10 سال تک کی رہائش یا مستقل شہریت دی جاسکے گی۔‘‘ حکومت کو امید ہے کہ افغانستان کے دولت مند افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی طرح دنیا میں مقیم سکھوں کی بڑی تعداد پاکستان میں اپنے مقدس مقامات ننکانہ صاحب، کرتاپور اور حسن ابدال میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہوگی جس پر اُنہیں پاکستان میں مستقل رہائش مل سکے گی جبکہ حکومت کو یہ اُمید بھی ہے کہ چینی باشندے بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے۔ حکومت کی یہ خام خیالی تو ہوسکتی ہے لیکن ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا بھر میں تنزلی اور کمزور ترین رینکنگ دیکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ غیر ملکی شہری اس اسکیم میں دلچسپی لیں گے کیونکہ لوگ اُن ممالک میں لاکھ یا دو لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں جن کے پاسپورٹ مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں تاکہ انہیں ویزوں کے حصول سے چھٹکارا مل سکے۔ وزیراعظم عمران خان ماضی میں اپنی تقاریر میں اکثر اس بات کا عہد کرتے تھے کہ وہ برسراقتدار آکر پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بحال کرائیں گے مگر اُن کے 3 سالہ دور میں جہاں پاکستان نے عالمی کرپشن رینکنگ میں ترقی کی ہے، وہاں پاکستانی پاسپورٹ کی تنزلی اور بے توقیری میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے حکومت کی معاشی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے دعوئوں کی تردید ہوتی ہے۔

Categories
پا کستا ن

حکومت اہم معاملے پر بیک فٹ پر آگئی!!! اپوزیشن سے مدد مانگ لی

ملتان: (ویب ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی سے جنوبی پنجاب صوبہ حقیقت کا روپ دھارسکتا ہے، اگر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے معاملے پر سنجیدہ ہے تو بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں، مسلم لیگ ن سے بھی سنجیدگی کی گزارش ہے کیونکہ تین بڑی جماعتوں کی سنجیدگی کے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی جماعتیں بھی بل کی حمایت پر تیار ہو جائیں گی، جس کے بعد خواب حقیقت بن جائے گا۔

Categories
پا کستا ن

گھر بیٹھے ہزاروں ڈالر کمائیں!!! حکومت نے نوجوانوں کے لئے بڑے پروگرام کا آغاز کر دیا، رجسٹریشن شروع

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) وزیراعظم کا نوجوانوں کیلئے مفت ہائی ٹیک کورسز کے منصوبے کے تحت کامیاب جوان “سکلز فار آل” پروگرام کے تیسرے بیچ کا آغاز کر دیا گیا اور 60 ہزار نوجوانوں کیلئے رجسٹریشن اوپن کر دی گئی ہیں۔ عثمان ڈار نے نوجوانوں کے نام پیغام میں کہا ہے ملک بھر کے 1 ہزار اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 60 ہزار سکلز سکالرشپ مختص کی گئیں ہیں، 16 جنوری سے رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، رجسٹریشن کی آخری تاریخ 31 جنوری 2022 ہے، نوجوان ہزاروں ڈالرز کما کر ملکی زر مبادلہ میں اضافہ کر رہے ہیں۔

Categories
پا کستا ن

عوام کے لئے بُری خبر!!! چُپکے سے ٹیکس میں اضافہ، اب 100 روپے پر کتنا بیلنس ملے گا؟

لاہور: (ویب ڈیسک) حکومت نے موبائل ری چارج پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے اور صارفین سے ہر ری چارج پر 15 فیصد اضافی ود ہولڈٹیکس لیا جائے گا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق 100 روپے کے موبائل ری چارج پر 9 روپے 3 پیسے اضافی ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اب 100 روپے کے بیلنس پر 86 روپے 9 پیسے کا بیلنس ملے گا۔ اس حوالے سے مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سے صارفین کو ٹیکسٹ مسیجز کیے جا رہے ہیں جس میں صارفین کو ٹیکس میں اضافے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

Categories
منتخب کالم

حکومت کی غلط پالیسیاں!! فنڈز روک لئے، ہزاروں نوجوان اساتذہ مایوس، جامعات پر تباہ کن صورتحال کے حیران حقائق

لاہور: (ویب ڈیسک) ڈاکٹر عطاء الرحمن اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” گزشتہ دنوں اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور برٹش کونسل کے زیر اہتمام بھوربن میں ایک اجلاس ہوا جس میں سابق چیئرمین ایچ ای سی کی جانب سے متعارف کرائی گئی پالیسیوں کا جائزہ لیاگیا۔ اس بڑی تقریب میں شرکت کرنیوالے 180شیوخ الجامعہ میں سے 178شیوخ الجامعہ نے ان پالیسیوں سے اختلاف کیا۔

ان کے خیال میں ان سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ایک پالیسی یہ تھی کہ پاکستان کو تعلیم کی تین واضح سطحوں (بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی) کے تقاضوں کو ترک کر دینا چاہئے، جو بولونیا پروٹوکول کے بالکل خلاف تھی جس پر دنیا کے زیادہ تر ممالک متفق و کاربند ہیں ۔یہ پروٹوکول تعلیمی قابلیت کے بنیادی خاکے پر مشتمل ہے ۔ اس پرو ٹوکول کا نام جامعہ بولونیا کے نام پر رکھا گیا ہے، جہاں 1999میں 29یورپی ممالک کے وزرائے تعلیم نے بولونیا اعلامیہ پر دستخط کئےتھے۔اس پروٹوکول کے تحت طلباء کی قابلیت، سیکھنے کی صلاحیت پرمنحصر ہے یعنی طلباء اپنی مخصوص ڈگری کی تکمیل پر کتنی علمی صلاحیت کے حامل ہوں گے اور آگے کیا کرسکیں گے ۔اس کے علاوہ یہ پروٹوکول ان تینوںڈگریوں بیچلرز، ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی اہلیت کی حد ود کی بھی وضاحت کرتا ہے ۔ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالجوں سے بیچلر ڈگری سےفارغ ہونے والے ہمارے طلبا کا معیار کیا ہے۔ ان سے ماسٹر ڈگری کے بغیر براہ راست پی ایچ ڈی پروگرام میں جانے کی توقع رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اگر واقعی اس پالیسی پر عمل درآمد ہوجاتا تو پاکستان کے پی ایچ ڈیز کی شناخت ہی ختم ہو جاتی۔اجلاس میں اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیاگیا کہ ایسی پالیسیاں وضع کرتے وقت کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور اس طرح کی بنیادی تبدیلیاں شیخ الجامعہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر اور ان کا نقطہ نظر حاصل کئے بغیر متعارف کرائی گئیں۔

اجلاس میںشریک افرادکے خیال میںان پالیسیوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کوایک نقصان یہ پہنچا کہ ایچ ای سی نے نوجوان فیکلٹی ممبران کے لئےتحقیقی گرانٹس جو کہ قومی تحقیقی پروگرام برائے جامعات کے نام سے دی جاتی تھیں ،جو hec کا ایک انتہائی اہم پروگرام تھا ، اس کو گھٹا کر تقریباً بند کر دیا، اس کے ذریعےتحقیق اورجدت طرازی میں ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی تھی۔اس کے تحت ہماری جامعات کے 1200سے 1500 ابھرتے ہوئے نوجوان فیکلٹی ممبران کو ہر سال تحقیق کے لئے کثیررقم دی جاتی تھی،اسے روک دیا گیا اور صرف نوےپروجیکٹس منظور کئے گئے ۔ یہ پاکستان بھر کے نوجوان اساتذہ کے لئے ایک شدید دھچکا تھا۔ ان تحقیقی فنڈز کو کم کر کے صرف90گرانٹس کرنا ہماری جامعات کے لئے ایک تباہ کن قدم تھا ، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں نوجوان فیکلٹی ممبرجو ا پنے مستقبل کے ابتدائی مراحل میں خود کومضبوط کرنے کیلئے ان تحقیقی گرانٹس پر انحصار کرتے تھے وہ ایچ ای سی میں فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود تحقیقی فنڈز سے محروم ہو گئے، تقریباً 4000تحقیقی فنڈز کیلئے درخواستیں موصول ہوئیں جو بیکار گئیں جبکہ پاکستان بھر میں ہزاروں فیکلٹی ممبران یاد دہانیاں بھیجتے رہے اور hec کے جواب کا انتظار کرتے رہے، جس سے ملک کے نوجوان محققین میں بڑے پیمانے پر مایوسی پھیل گئی۔خوش قسمتی سے، ایچ ای سی اب بحالی کی طرف گامزن ہے اس لئے کہ کئی مثبت قدم اٹھائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے حکومت نے ایچ ای سی کے بجٹ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

جامعات کےعملیاتی بجٹ میں 15ارب روپے اضافی رکھے گئے ہیں۔درحقیقت مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور آلات اور استعمال کی اشیاء کی درآمد کے لئے درکار غیر ملکی کرنسی کی لاگت میں 40فیصد اضافے کی وجہ سے جامعات کے بجٹ میں حقیقی معنوں میں 70 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہےجس کی وجہ سے جامعات ایک تباہ کن صورتحال سے دو چار ہیں ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کنٹریکٹ تقرری نظام کو زوال پذیر ہونے دیا گیا۔ اس نظام کے تحت ہزاروں ذہین نوجوان پاکستانی ا سکالرز کوجامعات میں بہت زیادہ تنخواہوں پر تعینات کیا گیا تھا لیکن ایسی تقرریوں کےلئے باقاعدہ بین الاقوامی تشخیص کی ضرورت تھی۔ اندرون ملک اور بیرون ملک بہترین اساتذہ کو راغب کرنے کے لئے اس تقرری نظام کو رائج کیا گیا تھا ۔ اس نظا م کو دوبارہ سے میں نے، وزیر اعظم عمران خان کو اس کی اہمیت کی جانب توجہ دلانے کے بعد بحال کیا ۔ نتیجہ یہ کہ حکومت نے تمام ٹینیور ٹریک نظام کے تحت مقررین فیکلٹی ممبران کی تنخواہوں میں 35 فیصد اور اس نظام کے تحت تعینات بہترین کارکردگی دکھانے والے فیکلٹی ممبران کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، اس طرح سب سے زیادہ ذہین نوجوان اساتذہ کو تعلیم و تحقیق کو بحیثیت مستقبل اپنانے کا انتخاب کرنے کےلئے اہم محرک فراہم کیا گیا ہے ۔ درحقیقت، اس نظام کو میں نے متعارف کرایا تھا جب میں 2004میں ایچ ای سی کا چیئرمین تھا،اس نظام نے ہندوستان میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں ، اس کے نتیجے میں 22 جولائی 2006 کو ہندوستانی کابینہ اور وزیر اعظم کو ہمارے ایچ ای سی کے پروگرام پر ایک تفصیلی رپورٹ دی گئی تھی جسے 23جولائی 2006کو روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں ’’ہندوستانی سائنس کو پاک خطرہ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا تھا۔ تیسرا اہم اقدام یہ ہے کہ ، حکومت نے نالج اکانومی ٹاسک فورس جس کی سربراہی وزیر اعظم خود کر رہے ہیں اور جس کا میں وائس چیئرمین ہوں،کے تحت کئی اہم منصوبوں کو فنڈز فراہم کر کے سائنس، ٹیکنالوجی اورجدت طرازی کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبے پاکستان کے اندر اور بیرون ملک دستیاب پاکستانی ماہرین کے ساتھ مشاورت سے تیار کئے جا رہے ہیں۔ انہیں صنعتی بائیوٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت، جدید زراعت ، میٹریل انجینئرنگ اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر کے سائنسی اداروں میں اس وقت تقریباً 100 ارب روپے کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ غورطلب بات یہ ہے کہ تقریباً 2 سال قبل وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقیاتی بجٹ صرف 0.8ارب روپے تھا۔ اب ان ترقیاتی منصوبوں کی بدولت پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں بہت تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔

Categories
منتخب کالم

کیا حکومت مدت کر پائے گی؟ حکومتی وزراء نے اُڑن بھرنے کیلئے ہوم روک کرلیا، ناقابل یقین حقائق سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) نسیم شاہد اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” کابینہ میں ملے جلے وزراء موجود ہیں ایک طرف پرویز خٹک جیسے ہیں جو کبھی نہ کبھی سچ بولنے کی جرأت کر جاتے ہیں اور دوسری طرف شیخ رشید احمد اور فواد چودھری جیسے وزیر ہیں جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔

انہیں آج بھی اور آنے والا کل بھی ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ شیخ رشید احمد تو آئندہ سیاست سے چاروں شریفوں یعنی نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کو مائنس کر چکے ہیں جبکہ فواد چودھری نے کہا ہے 2023ء کے بعد شریف اور زرداری خاندان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ دوسری طرف پرویز خٹک ہیں جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کہہ دیا ہے حالات یہی رہے تو لوگ ہمیں ووٹ نہیں دیں گے، بیشتر وزیروں اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی رائے یہی ہے کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ لینا مشکل ہو جائے گا مگر وہ کھل کر یہ بات نہیں کر سکتے، البتہ اپنے حلقہ انتخاب میں کم کم ہی جاتے ہیں، اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے منی بجٹ کی منظوری کے بعد عوام کا پارہ زیادہ ہائی ہو چکا ہے، اس لئے وزراء ہوں یا ارکان اسمبلی عوام سے دوری ہی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں جہاں عوامی غصے کا یہ عالم ہو کہ کھاد نہ ملنے پر کسان اسسٹنٹ کمشنر کی درگت بنا دیں وہاں رکن اسمبلی کا حال کیا کریں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اسسٹنٹ کمشنر تو براہ راست حکومت ہوتا ہے، اس کا حکم چلتا ہے، اس کا ایک خوف ہے، جب اس کی دھاک جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ہے تو ارکان اسمبلی کیسے خود محفوظ رکھ سکیں گے۔فرمایا ہے شیخ رشید احمد نے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ شریفوں کے کاندھے پر نہیں گردنوں پر آئے گا۔

واہ واہ کیا انداز سیاست ہے، کیا بے خوفی ہے بلکہ کیا غیر جمہوری سوچ ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ یہ کہنے کی بجائے عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے یہ کہہ رہا ہے اسٹیبلشمنٹ یہ کرے گی وہ کرے گی۔ لگتا ہے حکومتی شخصیات کو زمینی حقائق کا کچھ علم نہیں وہ صرف یہی سمجھتی ہیں ملک سے شریفوں کی مقبولیت ختم ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مقبولیت بھی وہ اپنے کارناموں سے ختم نہیں کرنا چاہتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ ہم عوام کو اس قدر زیادہ ریلیف دیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، ان کی معاشی مشکلات کو ختم کر دیں گے کہ وہ شریفوں کا نام تک نہیں لیں گے بلکہ یہ کہتے ہیں شریفوں کو ہمارے سر پر موجود ہاتھ گردن سے پکڑے گا۔ کسی اور جمہوری ملک میں ایسی کھلی ڈلی باتیں شاید سننے کو ملتی ہوں۔ اسٹیبلشمنٹ تو ہر ملک میں ہوتی ہے مگر کہیں بھی اس کے سرپر حکمرانی نہیں کی جاتی، یا کم از کم اس طرح علی الاعلان اس کے ہاتھ کو اپنے حق اور مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی تصویر کشی نہیں کی جاتی۔ حالت یہ ہے ایک طرف منی بجٹ کے ذریعے 360 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے اور اسی دن بجلی چار روپے تیس پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی۔ پٹرول مہنگا کرنے کی تیاری بھی جاری ہے اس سے تو صاف لگتا ہے حکومت کو عوام کی ذرہ بھر پرواہ نہیں اور اسے یقین ہے جس ہاتھ نے اس کا اقبال بلند کر رکھا ہے وہ ہمیشہ سر پر موجود رہے گا۔

ارے بھائی یہ کیا اندازِ حکمرانی ہے، جس میں عوام کے لئے سوچنا ایک شجر ممنوعہ بن چکا ہے۔ ایک ہی راگ کب تک الاپا جا سکتا ہے کہ ملک میں مہنگائی نہیں بلکہ اب بھی بہت سستا ملک ہے۔ خود حکومتی محکموں کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کم آمدنی والوں کے لئے مہنگائی 20 فیصد بڑھ چکی ہے۔ یعنی ایک طرف ان کی آمدنی کم ہے اور دوسری طرف مہنگائی بڑھ رہی ہے اور نیرو چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ تحریک انصاف میں جو پیرا شوٹرز نہیں اور دیرینہ کارکن ہیں، ان کا دل یقیناً اس صورت حال پر کڑھ رہا ہے۔ شیخ رشید احمد کی اپنی جماعت ہے اور فواد چودھری گھاٹ گھاٹ کی جماعتوں کا پانی پی چکے ہیں۔ یہ افواہیں بھی گرم ہیں کابینہ کے بہت سے ارکان اپنے سیاسی مستقبل کے لئے کسی دوسری سیاسی جماعت میں جانے کے لئے ہوم ورک کر رہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ چکے ہیں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات اور ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابی معرکوں میں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا ہے۔ پرویز خٹک چونکہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کا مزاج جانتے ہیں اور وہ بلدیاتی انتخابات کا بیرو میٹر بھی چیک کر چکے ہیں۔ اس لئے انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے زبان کھولی ہے۔ اگرچہ اس گرما گرمی کی بعد میں تردید کی گئی لیکن وقوع سے انکار نہیں کیا گیا۔ پھر جس طرح پرویز خٹک کو منانے کے لئے پارٹی کے اندر سے ایک گروپ متحرک ہوا اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اصل آواز وہی ہے جو پرویز خٹک نے اٹھائی۔

اس وقت کپتان کا خیر خواہ وہ نہیں جو بڑھکیں ما ررہا ہے بلکہ اصل حامی و خیر خواہ وہ ہے جو انہیں حالات کی سنگینی سے خبردار کر رہا ہے۔ منی بجٹ کیسے منظور ہوا ہے اس کی سب کو خبر ہے، اتحادی آخر وقت پر کیسے دام ہوئے اس کا سب کو اندازہ ہے، خود پی ٹی آئی کے اندر جو دراڑیں موجود ہیں انہیں ہنگامی طور پر کس ہاتھ نے پر کیا، اس کی بھی اہل نظر کو سب آگاہی ہے، اسے کامیابی سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یہ کامیابی نہیں گروپ نے عوام کو مزید ناراض کر دیا۔ پانچ پورے کریں گے، کی گردان کا بھی کوئی فائدہ نہیں، اصل کام تو یہ ہے ان پانچ برسوں کو اتنی کامیابی سے گزارا جائے کہ عوام ایک بار پھر اقتدار میں لانے کی خواہش کریں۔ آج تو یہ عالم ہے کہ عوام پر ایک ایک دن بھاری گزر رہا ہے۔ کابینہ میں بیٹھے ہوئے بیشتر ارکان وزیر اعظم کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے خوش کر دیتے ہیں پرویز خٹک کی طرح یہ نہیں بتاتے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ عوام میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔ کاریگر وزرا جانتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کس بات سے خوش ہوتے ہیں وہ خود انپے ترجمانوں کو بلا کر یہ کہتے ہیں شریف خاندان کی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے۔ شیخ رشید احمد تو چونکہ ایک منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں، انہیں کئی سول و خاکی حکمرانوں کو شیشے میں اتارنے کا تجربہ ہے اس لئے ان کے لئے کیا مشکل ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے خوش کر سکیں۔ آج کل ان کا زیادہ تر وقت اس نکتے کو بیان کرنے میں گزرتا ہے کہ شہباز شریف نوازشریف سے بڑے لٹیرے ہیں۔ شاید انہیں کسی نے بتایا ہے عمران خان آج کل شہباز شریف کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں کیونکہ وہ سیاست میں خاصے ان ہو چکے ہیں اور آئے روز حکومت کے لتے لے رہے ہیں۔ فواد چودھری نے البتہ شریف برادران کے ساتھ ساتھ زرداری خانان کا محاذ بھی سنبھالا ہوا ہے۔ حیرت ہوتی ہے چار سال ہونے کو آئے ہیں، کوئی معاشی کارکردگی دکھانے کی بجائے آج بھی حکومت کا بیانیہ پہلے دن والا ہے، ماضی کی حکومتوں پر سارا الزام دھر کر اپنی ناقص معاشی پالیسیوں کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ اگر ماضی کی حکومت بری تھی بھی تو کیا حالات بھی اتنے ہی برے تھے، جتنے آج ہیں۔ اگر ماضی میں ہم 22 بار آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے تو کیا اس طرح اس کے سامنے چاروں شانے چت ہوئے تھے، جس طرح اس بار ہوئے ہیں کیا ماضی میں آئی ایم ایف نے کسی حکومت سے اپنی شرائط پر منی بجٹ منظور کروایا، کیا اسٹیٹ بنک کے حوالے سے قانون سازی کروائی؟ یہ سب کچھ تو اس حکومت کے دور میں ہوا ہے، اس کا جواب دینے کی بجائے سیاسی بیان بازی سے عوام کو کب تک مطمئن کیا جا سکتا ہے۔؟

Categories
پا کستا ن

بلاول بھٹو کا حکومت پر بڑا الزام!! عمران خان کے لئے اہم اعلان کر دیا

اسلام آباد: (دنیا نیوز) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کمر کس لیں، مہنگائی اور بے روزگاری کی ذمہ دار سرکار کے خلاف اب کھلی مزاحمت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ ملک کے عام آدمی کی آواز ہے۔ ملک بھر کے عوام 27 فروری کو نکلیں گے اور عمران خان کی حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ سنائیں گے، عوام کو ایسی حکومت نہیں چاہیے جو ان کے گھروں کے چولہے تک بجھادے۔ عوام کمر کس لیں، مہنگائی اور بے روزگاری کی ذمہ دار سرکار کے خلاف اب کھلی مزاحمت ہوگی۔