Categories
پاکستان

عدم اعتماد سے ایک دن قبل ہمیں مارشل لاء کی دھمکی دی گئی،بلاول بھٹو نے سنگین الزام لگا دیا۔دھمکی کس نے اور کیوں دی ؟؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہےکہ عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مجھے پیغام آیا اور دھمکی دی گئی، ایک روز پہلے فوری انتخابات یا پھر مارشل لا کی دھمکی دی گئی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مجھے ایک پیغام پہنچایا گیا

اور دھمکی دی گئی، وزیر کے ذریعے حکومت نے دھمکی مجھ تک پہنچائی، فوری انتخابات یا پھر مارشل لا کی دھمکی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہ غیر جمہوری طاقتیں نہیں جو کہتے تھے پہلے احتساب ہو اور انتخابات ہوں، ہم پولیٹیکل انجینئر نگ پر یقین نہیں رکھتے، ہمارا پہلے ہی مطالبہ رہا ہےکہ اصلاحات ہوں، ہم جمہورتی قوتیں ہیں اور ہم شفاف انتخابت چاہتے ہیں، ہمارا مطالبہ پہلے بھی یہی تھا کہ پہلے ہم انتخابی اصلاحات کریں گے، یہ پیپلزپارٹی کی واضح پالیسی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا جمہوری اور آئینی قدم کے خلاف کیا ری ایکشن رہا؟ سابق وزیراعظم سے پوچھیں چار سال میں ملک کی معیشت کے ساتھ کیا کھیل کھیلا؟ سابق وزیراعظم سے پوچھیں آپ نے اپنی ضد ور انا کی وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کتنا نقصان پہنچایا۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے بہت مشکل حالات دیکھے ہیں ، پاکستان کی جمہوریت اور آئینی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے ، 2018 کے انتخابات میں بد ترین دھاندلی کی وجہ سے ایک حکومت ملک پر مسلط کی گئی ، ماضی میں کبھی کسی سلیکٹڈ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ، ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے تھا ، ملک میں اداروں پر حملے کیے گئے ،ہمیں نظر انداز نہیں کرناچاہیے ،ہمیں غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چار سال میں سابق وزیراعظم نے ملک میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو یاد رکھا جائے،سابق وزیراعظم آئین شکنی کرچکے ہیں ،سلیکٹڈ وزیراعظم کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا،اس وقت ملک میں ہر شعبے میں بحران ہے ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سیاسی حریف رہ چکے ہیں ،کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ یہ جماعتیں اتحادی حکومت میں ایک ساتھ ہوں گی

Categories
پاکستان

پی ٹی آئی کو کراچی سے بڑا دھچکاچ سے بلاول بھٹو کو ہرانے والے اہم ایم این اے کا سیاست چھوڑنے کا اعلان،مگر وجہ کیا بنی؟؟

کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا۔ شکور شاد نے گزشتہ عام انتخابات میں لیاری کراچی سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو شکست دی تھی تاہم اب شکور شاد نے سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

شکور شاد کا کہنا تھا کہ وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سےآئندہ سیاسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے لہٰذا انہوں نے سیاسی سرگرمیوں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے، وہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

Categories
پاکستان

مدینہ منورہ میں بلاول بھٹو کو اضافی”پروٹوکول “دیا گیا،خصوصی اہمیت دینے کی وجوہات بھی سامنے آگئیں

مدینہ منورہ(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو مدینہ منورہ اور خانہ کعبہ میں سعودی حکام نے خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو جب خصوصی نوافل کی ادائیگی کے لیےریاض الجنتہ میں خصوصی پروٹول میں لے جایا گیا تو شہباز شریف جیسے ہی اندر داخل ہوئے

تو سیکیورٹی نے درجنوں کی تعداد میں آنے والے وفد کو مسجد میں داخلے سے روک دیاگیا تھا۔لیکن تب سعودی حکومت کی اہم شخصیت نے بلاول بھٹو سے درخواست کی کہ آپ جس کو چاہیں گے اس کو ریاض الجنتہ میں داخلہ دیا جائے گا۔اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نےشاہ زین بگٹی،محسن داوڑ،سعید غنی،ناصر حسین شاہ،شرجیل میمن،قاسم نوید قمر سیمت دیگر شخصیات کو مسجد میں داخل کروانے کی سفارش کی۔

Categories
منتخب کالم

بلاول وزیرِ خارجہ بن کر نانا کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں ؟ دلچسپ اتفاق نے سب کو حیران کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) عقیل عباس جعفری لکھتے ہیں کہ” ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بےنظیر بھٹو کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ بلاول بھٹو یا ان کے کسی ترجمان کی طرف سے فی الحال اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں آئی کہ بلاول نے اس عہدے کا انتخاب کیوں کیا، لیکن ایک خیال یہ ہے کہ شاید وہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں جنہوں نے اسی عہدے پر رہ کر اپنا نام اور مقام پیدا کیا۔

دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ وزیرِ خارجہ بنتے وقت بلاول اور ان کے نانا کی عمریں تقریباً برابر ہیں۔ بلاول کی عمر اس وقت 34 برس کے قریب ہے، جب کہ ان کے نانا یہی عہدہ سنبھالتے وقت ان کے تقریباً ہم عمر، یعنی 35 برس کے تھے۔ صرف ذوالفقار علی بھٹو نہیں بلکہ بلاول کی والدہ بےنظیر بھٹو بھی وزارتِ خارجہ میں کام کر چکی ہیں اور اپنے والد کی زندگی میں تاثر عام تھا کہ بھٹو وزارتِ خارجہ کے لیے اپنی صاحبزادی کی تربیت کر رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ ساز شملہ معاہدے کے وقت بھٹو بےنظیر کو ساتھ لے کر گئے تھے۔ البتہ بلاول اور بھٹو میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ وزیرِ خارجہ بنتے وقت بلاول کے پاس ایک بڑی سیاسی پارٹی، لاکھوں وفادار اور جوشیلے کارکن اور طویل سیاسی ورثہ موجود ہے، جب کہ بھٹو کے پاس 1963 میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی، اور انہوں نے جو کیا، تنِ تنہا اپنے بل بوتے پر کیا۔ اسی لیے آج کے دن یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ بلاول نے یہ عہدہ سنبھال تو لیا ہے مگر ان کے کرشماتی شخصیت کے مالک نانا نے اس عہدے پر جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے تھے، کیا بلاول اس سطح کا کوئی کام کر پائیں گے؟ ایوب خان کی کابینہ میں وزیر:وزارت خارجہ سے بھٹو خاندان کا تعلق بہت پرانا ہے۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے 24 جنوری 1963 کو پاکستان کے وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا تھا۔ یہ عہدہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور موجودہ وزیر خارجہ محمد علی بوگرا کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوا تھا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے پاس ان دنوں وزیرِ صنعت تھے، تاہم کچھ ہی دنوں پہلے وہ پاک بھارت وزارتی مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت کے فرائض انجام دے چکے تھے اور وزیر خارجہ محمد علی بوگرا کی علالت کے دنوں میں قومی اسمبلی میں امور خارجہ کی بحث میں بھی ان کی جگہ حصہ لے چکے تھے۔ اقوام متحدہ میں ذوالفقار علی بھٹونے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی ستمبر 1957 میں کی۔ اس وقت اسکندر مرزا پاکستان کے صدر اور حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم تھے اور نوجوان ذوالفقار علی بھٹو کی عمر29 برس تھی۔ رشید اخترندوی نے اپنی کتاب ’ذوالفقار علی بھٹو سیاسی سوانح حیات‘ میں لکھا ہے کہ ’اس اجلاس میں انہوں نے جو تقریر کی اس سے ان کی قابلیت کی دھاک پوری جنرل اسمبلی پر بیٹھ گئی ہے اور ارکان اسمبلی گردن اٹھا اٹھا کرانہیں دیکھنے لگے۔‘ بھٹو کی اس تقریر نے آئندہ ملکی اور غیر ملکی سیاست میں ان کا راستہ ہموار کرنے میں بڑی مدد کی۔

مارچ 1958 میں ذوالفقار علی بھٹو نے جنیوا میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی اس کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی جو ’سمندر کا قانون‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس کانفرنس میں اس موضوع پر پانچ تقاریر کیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔ اکتوبر 1958 میں ایوب خان ملک کے صدر بنے تو ذوالفقار علی بھٹو ان کی کابینہ میں بھی شامل رہے، مگر ان کے پاس وزارت تجارت اور وزارت صنعت کے قلمدان رہے۔ سیاسی مبصرین کئی مرتبہ ان کے وزیر خارجہ بننے کی پیش گوئی کر چکے تھے۔ یہ پیش گوئی اس وقت پوری ہوئی جب 23 جنوری 1963 کو پاکستان کے وزیر خارجہ محمد علی بوگرا دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس وقت بھٹو کی عمر 35 برس تھی۔ بھٹو کا وزارت خارجہ پر فائز ہونا پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ تھا اور اس واقعے نے پاکستان کی تاریخ پر بڑے دور رس نتائج مرتب کیے۔ وہ اس عہدے پرجون 1966 تک فائز رہے۔ اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھر کی سیاست کی مرکز نگاہ بن گئی۔ دو مارچ 1963 کو پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور چین کے وزیر خارجہ چن ژی نے بیجنگ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت عوامی جمہوریہ چین کی حکومت نے دو ہزار مربع کلومٹیر کے لگ بھگ علاقہ پاکستان کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس معاہدے کے تحت کے ٹو کی چوٹی پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا اور درہ خنجراب، وادی اوپرانگ اور دروازہ دروان میں سے چھ درے بھی پاکستان کو مل گئے۔ یہ معاہدہ پاک چین دوستی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اس معاہدے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اکتوبر 1963 میں پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیر خارجہ پہلی مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر چار اکتوبر کو ان کی ملاقات امریکہ کے جواں سال صدر جان ایف کینیڈی سے بھی ہوئی اور دونوں کے درمیان چین اور بھارت کی جنگ اور بھارت کو امریکی فوجی امداد کے مضمرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ بھٹو نے امریکی صدر سے کہا کہ بھارت یہ ہتھیار پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔ بھٹو نے کینیڈی سے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی ہے۔ کینیڈی نے جواب میں کہا کہ اگر وہ دوسری مدت کے لیے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو وہ اس مشورے پر غور کریں گے۔ بھٹو کے سوانح نگار سٹینلے وولپرٹ نے اپنی کتاب ’زلفی بھٹو آف پاکستان‘ میں اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’ملاقات کے دوران بھٹو کینیڈی سے بہت متاثر نظر آئے اور اسی طرح کینیڈی کو بھی پاکستان کا یہ جواں سال وزیر خارجہ بہت بھایا۔ بھٹو رخصت ہونے لگے تو کینیڈی نے ان سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا: If you were an American you would be in my cabinet (اگر آپ امریکی ہوتے تو آپ میری کابینہ میں شامل ہوتے)۔ بھٹو نے تیزی سے جواب دیا: Be Careful, Mr. President, if I were an American, I would be in your place (جناب صدر محتاط رہیے، اگر میں امریکی ہوتا تو آپ کی جگہ پر ہوتا) بھٹو کے اس فقرے پر فریقین نے دل کھول کر قہقہہ لگایا۔

18 فروری 1964 کو عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم جناب چو این لائی پاکستان پہنچے تو ان کا والہانہ خیر مقدم کیا گیا۔ ان کے دورے کا حاصل وہ اعلامیہ تھا جس میں چین نے کشمیر کے سوال پر پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ صدر ایوب خان اور چو این لائی کے تین روزہ مذاکرات کا نتیجہ تھا اور اس پر پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے چینی ہم منصب مارشل چن ژی نے دستخط کیے تھے۔ اس اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھارت کو چین کے ساتھ سرحدی تنازع بھی جلد سے جلد طے کرنا چاہیے اور چین کو اقوام متحدہ کا رکن بھی بنایا جانا چاہیے۔ جناب چو این لائی کے اس دورے نے جہاں امریکہ اور بھارت دونوں کو تشویش میں مبتلا کیا وہیں پاکستان کے گوشے گوشے سے عوام نے اس کا خیر مقدم کیا۔ چینی رہنماﺅں کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے تعلقات کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے پاکستان اور چین کے آئندہ تعلقات میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ کشمیر کے ساتھ والہانہ لگاؤ ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ خارجہ کا محور اگر کسی مسئلے کو کہا جا سکتا ہے تو وہ مسئلۂ کشمیر سے ان کی گہری وابستگی اور لگاؤ ہے جسے حل کروانے کے لیے وہ آخر وقت تک کوشاں رہے۔ 1964 کی 24 مئی کو ’شیر کشمیر‘ شیخ محمد عبداللہ پاکستان کے دورے پر راولپنڈی پہنچے تو ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ان کا استقبال کرنے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ تھی ان کے رفیق اور دست راست مرزا افضل بیگ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی پاکستان آمد کا مقصد مسئلۂ کشمیر کا ایک ایسا حل تلاش کرنا تھا جس پر بھارت، پاکستان اور کشمیر تینوں فریق مطمئن ہوں۔ شیخ محمد عبداللہ نے پاکستان پہنچتے ہی اسی شام صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان سے اس مسئلے پر مذاکرات شروع کر دیے۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ اگلے دنوں میں بھی جاری رہا۔ اسی دوران شیخ محمد عبداللہ نے راولپنڈی میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے بھی خطاب کیا اور ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی جس میں مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے تلاش کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔مگر 27 مئی 1964 کو بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی اچانک وفات کی خبر سے مذاکرات کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور شیخ محمد عبداللہ کو پنڈت نہرو کی آخری رسوم میں شرکت کے لیے بھارت جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ پھر کبھی پاکستان نہیں آئے اور یوں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر جوں کا توں رہ گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے وزارت کے دوران ہی عالم اسلام کے تین بڑے ممالک پاکستان، ایران اور ترکی نے آپس میں انتہائی قریبی تعلقات قائم کر لیے۔21 جولائی 1964 کو پاکستان کے صدر ایوب خان، ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی اور ترکی کے صدر جمال گرسل نے استنبول میں ایک معاہدے پر دستخط کیے جسے ’علاقائی تعاون برائے ترقی‘ (آر سی ڈی) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے کروڑوں عوام کی فلاح و بہبود اور ثقافتی، فنی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ اس جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کا فریضہ جناب ایس ایم ظفر نے انجام دیا جو ان دنوں پاکستان کے مرکزی وزیر قانون تھے۔20 ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں پاکستان اور ہندوستان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب جنگ بند کر دیں۔ اس مرحلے پر صدر پاکستان نے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے روانہ کیا تاکہ وہ سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کا موقف بیان کرسکیں اور اقوام متحدہ کو باور کروائیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیے بغیر جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو 22 ستمبر کو نیویارک پہنچتے ہی فوراً اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں سلامتی کونسل کا اجلاس جاری تھا۔ اس موقعے پر جناب بھٹو نے بڑی پُراثر تقریر کی۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان پر ایک بڑے ملک نے حملہ کیا ہے اور اس وقت ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی تقریر کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’اپنی بقا کی خاطر اگر ہمیں بھارت سے ایک ہزار سال تک لڑنا پڑا تو ہم لڑیں گے۔‘ابھی ان کی تقریر جاری تھی کہ اسی دوران انہیں صدر ایوب خان کا ایک تار لا کر دیا گیا۔ اس تار میں صدر ایوب خان نے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد منظور کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس تار کے مندرجات سلامتی کونسل کے ارکان کو پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ان کا ملک جنگ بند کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان اقوام متحدہ سے الگ ہو جائے گا۔ اگلے روز دنیا کے بہت سے بڑے اخباروں نے ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا ذکر کیا۔ 25 اکتوبر 1965 کو ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی خطاب کیا، جس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ سورن سنگھ اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئے۔ یہی وہ تقریر تھی جس کے بعد پانچ نومبر کو سلامتی کونسل نے کشمیر کے سوال پر قرارداد منظور کر لی۔

1965 کو پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966 کو پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جو ’معاہدہ تاشقند‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے کے لیے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان تین جنوری 1966 کو روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے۔ ان کے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو، وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ پاکستان اور بھارت کے یہ تاریخی مذاکرات جن میں سوویت یونین نے ثالث کے فرائض انجام دیے، سات دن تک جاری رہے۔ اس دوران کئی مرتبہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے کیونکہ بھارت کے وزیر اعظم شاستری نے ان مذاکرات میں کشمیر کا ذکر شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک یہ مسئلہ طے شدہ تھا اور یہ مذاکرات صرف ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہو رہے تھے جو حالیہ جنگ سے پیدا ہوئے تھے۔ پاکستانی وفد کا خیال تھا کہ کشمیر کے ذکر کے بغیر یہ مذاکرات بے مقصد ہوں گے اور پاکستانی وفد کو کوئی معاہدہ کیے بغیر واپس لوٹ جانا چاہیے۔مگر مذاکرات کے آخری ایام میں سوویت وزیر اعظم کوسیجین نے صدر ایوب خان سے مسلسل کئی ملاقاتیں کیں اور انھیں بھارت کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے پر رضامند کر لیا۔ یوں 10 جنوری 1966 کو صدر ایوب خان اور وزیر اعظم شاستری نے معاہدہ تاشقند پر اپنے دستخط ثبت کر دیے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج اگلے ڈیڑھ ماہ میں پانچ اگست 1965 سے پہلے والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور پر پابند رہتے ہوئے باہمی مذاکرات کی بنیاد پر حل کریں گے۔ معاہدہ تاشقند پر دستخط صدر ایوب خان کی سیاسی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ ثابت ہوئے۔ یہی وہ معاہدہ تھا جس کی بنا پر پاکستانی عوام میں ان کے خلاف غم و غصہ کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر ایوب خان کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ پاکستانی عوام کا آج تک یہی خیال ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو تاشقند کی سرزمین پر ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا اور وہ جنگ جو خود حکومتی دعوﺅں کے مطابق میدان میں جیتی جاچکی تھی، معاہدے کی میز پر ہار دی گئی۔ معاہدہ تاشقند کے بعد بھٹو اور ایوب خان کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ بھٹو کا خیال تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر پاکستان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کر کے کشمیر کو ہمیشہ کے لیے بھارت کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔ ادھر پاکستانی عوام اور حزب مخالف کے سیاست دانوں کا بھی یہی خیال تھا اور معاہدہ تاشقند کے فقط تین دن بعد 13 جنوری 1966 سے مغربی پاکستان میں معاہدہ تاشقند کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔

معاہدہ تاشقند پر بھٹو اور ایوب خان کے اختلافات جلد ہی منظر عام پر آنے لگے، حتیٰ کہ 29 جنوری 1966کو ایوب خان نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے اور بھٹو کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے اور کابینہ میں ردو بدل کی افواہ غلط ہے۔ مگر یہ افواہیں غلط نہیں تھیں۔ ایک جانب بھٹو خود کو ایوب خان کی کابینہ سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے اور دوسری جانب ایوب خان بھی انہیں فارغ کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ معاہدہ تاشقند کے بعد بھٹو چند ماہ کابینہ میں شامل رہے لیکن 17 جون 1966 کو حکومت نے یہ اعلان کر ہی دیا کہ صدر پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو خرابی صحت کی بنا پر لمبی رخصت پر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس خبر سے پاکستان کی سیاسی فضا میں ہلچل مچ گئی۔ بھٹو نے بھی اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور راولپنڈی سے بذریعہ ریل گاڑی کراچی کے لیے روانہ ہوئے۔ 22 جون 1966 کو وہ پہلے مرحلے میں لاہور پہنچے جہاں عوام نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ 23 جون کو وہ لاڑکانہ اور 24 جون کو کراچی پہنچے۔ ہر جگہ اور ہر مقام پر بھٹو کا والہانہ استقبال ہوا۔ اس پرجوش استقبال سے متاثر ہو کر ہی بھٹو نے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور پھر پاکستان کی سیاست اور بھٹو لازم و ملزوم بن گئے۔ 1971کی پاک بھارت جنگ کے دوران سات دسمبر صدر یحییٰ خاں نے نور الامین کو وزیر اعظم اور ذوالفقار علی بھٹو کو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ مقرر کیا جس کے اگلے روز ذوالفقار علی بھٹو نیویارک روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔13 دسمبرکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی نمائندے جارج بش نے ایک قرارداد پیش کی جس میں بھارت اور پاکستان دونوں سے جنگ بند کرنے اور فوجیں واپس بلانے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس موقعے پر پاکستانی وفد کے قائد ذوالفقار علی بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان اپنے ملک پر بھارت کا قبضہ نہیں ہونے دے گا۔ ہم آخری دم تک لڑیں گے۔ میں امن کی بھیک مانگنے نہیں انصاف حاصل کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں آیا ہوں۔ اگر سلامتی کونسل نے کوئی کارروائی نہیں کی تو ہم آخری فرد تک جنگ کریں گے۔‘ بھٹو کی یہ پرجوش تقریر قریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ 20 دسمبر 1971 کو ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے صدر بن گئے۔ انہوں نے وزارت خارجہ بھی اپنے ہی پاس رکھی۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دعوت پر 28 جون 1972 کو بھارت کے صوبے ہماچل پردیش کے صدر مقام شملہ پہنچے۔ اس دورے میں ان کی 19 سالہ صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی شامل تھیں، جنہیں وہ مستقبل کی وزیر خارجہ اور وزیراعظم کے عہدے کے لیے تیار کر رہے تھے۔

اس موقع پر رئیس امروہوی نے لکھا:شملہ مذاکرات تھے تاریخ گیر بھی۔۔پُرعزم بھی لطیف بھی عظمت پذیر بھی۔۔آراستہ تھی محفل صدر و وزیر بھی۔۔۔تاریخ کی نگاہ میں تھی بےنظیر بھیچ۔۔ار برس بعد 26 نومبر 1976 کو بے نظیر بھٹو، اوکسفرڈ یونیورسٹی کے مرکز مباحثہ (Debating Centre) کی صدر منتخب ہوئیں۔ اس انتخاب میں بے نظیر بھٹو نے 329 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے قریب ترین حریف صرف 265 ووٹ حاصل کر سکے۔ بے نظیر بھٹو جنوبی ایشیا کی پہلی اور اوکسفرڈ یونیورسٹی کی تاریخ کی تیسری خاتون تھیں جو یہ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ جون 1977 میں بے نظیربھٹو برطانیہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچیں، جہاں انہیں وزارت خارجہ میں تعینات کیا گیا، لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے ہی جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد دسمبر 1988 میں بےنظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم بنیں۔ ان کی کابینہ میں فوج کے اصرار پر صاحبزادہ یعقوب علی خان وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1993 میں انہوں نے یہ منصب سردار آصف احمد علی کو عطا کیا، تاہم دونوں ادوار میں وہ اس عہدے کی براہ راست نگرانی کرتی رہیں۔ اب اس وزارت کا ہما ان کے 33 سالہ صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے سر پر بیٹھا ہے۔ انہوں نے یقیناً سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے مگر اس عہدے کے تاریخی ورثے کو نبھانے کے لیے انہیں کرشماتی کارکردگی دکھانی ہو گی۔

Categories
منتخب کالم

بلاول بھٹو زرداری بحیثیت وزیر خارجہ کیسے وزیر ثابت ہوں گے؟ کس کی پالیسیوں کو لیکر چلیں گے؟؟ اندر کی خبر سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) بشیر چوہدری لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حلف اٹھا لیا ہے۔ بدھ کو ایوان صدر میں بلاول بھٹو زرداری سے صدر عارف علوی نے حلف لیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ بننے کو ایک بڑی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو سیاست میں اپنے نانا اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کئی کاموں کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ رہ چکے تھے اور ان کی سفارتی محاذ پر صلاحیتوں کی تعریف آج بھی کی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو وزیر خارجہ بنانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کہ مستقبل میں اگر وہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو بحیثیت وزیر خارجہ متعارف کرا چکے ہوں گے تو انھیں دنیا میں زیادہ بہتر انداز سے دیکھا جائے گا۔ 21 دسمبر 1988 کو کراچی میں پیدا ہونے والے بلاول کا پورا نام بلاول علی زرداری تھا جسے ان کی والدہ کی وفات کی بعد تبدیل کرتے ہوئے ’بلاول بھٹو زرداری‘ کر دیا گیا۔ ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامر سکول اور فروبلس انٹرنیشنل سکول اسلام آباد سے حاصل کی۔ دبئی منتقل ہونے کے بعد انھوں نے اپنی تعلیم راشد پبلک سکول دبئی میں جاری رکھی، جہاں وہ سٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین بھی رہے۔ 2007 میں بلاول بھٹو نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سب سے اہم کالج کرائسٹ چرچ میں داخلہ لیا۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ’بی اے آنرز‘ کی سند جدید تاریخ اور سیاست کے شعبے میں حاصل کی۔ بلاول بھٹوزرداری یہاں بھی طلبہ یونین میں سرگرم رہے۔ 2010میں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی۔ باقاعدہ سیاست کے آغاز سے قبل بلاول بھٹو زرداری پاکستانی سیاست کی سختیوں سے نبرد آزما ہو چکے تھے۔ وہ اپنی والدہ کی انگلی تھامے پاکستان کی جیلوں میں اپنے والد آصف علی زرداری سے ملاقاتوں کے لیے جایا کرتے تھے۔

1999 سے 2007 کے دوران انھوں نے اپنی والدہ کے ساتھ جلا وطنی بھی کاٹی اور اس دروان بیشتر عرصہ وہ اپنے والد سے بھی دور رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول نے جب سیاست میں قدم رکھا تو عالمی امور، علاقائی مسائل، سیاسی سوجھ بوجھ اور جمہوریت کے حوالے سے ان کے موقف کو کئی سینیئر سیاست دانوں سے زیادہ پذیرائی ملی۔انھوں نے 2008 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد پارٹی کی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی کے لیے سرتوڑ کوشش کی اور اس سلسلے میں پنجاب، کے پی کے، بلوچستان اور کشمیر میں درجنوں جلسے اور ریلیاں منعقد کیں اور اس کے کچھ نتائج بھی سامنے آئے۔ 2012 میں کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے سیاست میں انٹری دینے والے بلاول بھٹو زرداری کم عمری کی وجہ سے 2013 کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ 2018 کے انتخابات میں این اے 200 لاڑکانہ سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچنے والے بلاول بھٹو زرداری اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر تھے اور اپنے پہلے ہی خطاب میں انھوں نے وزیراعظم عمران خان کو ’سلیکٹڈ‘ کا خطاب دے دیا جو اب بھی زبان زد عام ہے۔ متعدد مواقع پر انھوں نے اسمبلی فلور پر اپنے فنِ خطابت کا لوہا منوایا ہے۔ کرکٹ، تیراکی، نشانہ بازی اور گھڑ سواری کا شوق رکھنے والے اور کراٹے میں بلیک بیلٹ کے حامل بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت خارجہ ڈپلومیسی ایک نیا چیلنج ہوگا۔ سیاسی اور خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق جہاں بحیثیت وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو ان کا خاندانی پس منظر اور تعلیم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں مدد دے گا، وہیں ان کے لیے چیلنج بھی ہوگا۔ ان کے سامنے رول ماڈل شاہ محمود قریشی نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر ہوں گے۔ سیاسی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کی بحیثیت وزیر خارجہ کابینہ میں شمولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’قومی اسمبلی میں ساڑھے تین سال میں بلاول نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلق اور بیرون ملک تعلیم کی وجہ سے وہ خارجہ امور میں خاصا علم رکھتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی اگرچہ وزیر خارجہ نہیں بلکہ دفتر خارجہ اور حکومت ملک کر بناتے ہیں لیکن وزیر خارجہ کا کام اس پالیسی کو دنیا کے سامنے رکھنا اور ملکی مفادات کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ ’زبان و بیان پر بھی عبور کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری پاکستان کی پالیسی دنیا کے سامنے بہتر انداز میں رکھ سکتے ہیں اور پاکستان کا مقدمہ بھی لڑ سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور دنیا میں اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔اسی طرح اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے بھی انھیں دنیا میں جانا جاتا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے ہیں تو یہ چیزیں انھیں ایک اچھا وزیر خارجہ بننے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘خارجہ امور کے ماہر اور سابق سفیر آصف درانی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’بلاول ایک نوجوان سیاست دان ہیں اور اپنی سیاسی تربیت کے باعث ان کا وزیر خارجہ بننا ایک مثبت قدم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری پر اس لیے بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ انھیں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی پیروی کرنا ہے۔ ’ان دونوں نے سفارت کاری کے میدان میں بہت محنت کی تھی۔ اس لیے اب بلاول کو بھی معمول سے زیادہ محنت کرنا ہوگی۔ انھیں دفتر خارجہ کی بریفنگ کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرنا ہوگی کیونکہ پوری دنیا میں یہی پریکٹس ہے۔ مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب وزرائے خارجہ دفتر خارجہ کی ایڈوائس یا بریف کو نظر انداز کرتے ہیں۔‘

Categories
پاکستان

مشن لندن!بلاول بھٹو آج نواز شریف سے ملاقات میں کونسے اہم معاملات نمٹائیں گے

لندن(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف سے لندن میں ملاقات کرے گا ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ و سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) اسحاق ڈار نے میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہا کہ

میاں نواز شریف سے ملاقات کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی نے رابطہ کیا تھا ، ملاقات کیلئے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لندن پہنچ چکے ہیں اور ان کا وفد آج ملاقات کیلئے پہنچے گا۔ وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سید خورشید شاہ ، سید نوید قمر ، شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ شامل ہونگے ۔ اسحاق ڈار نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کا وفد میاں نواز شریف کو مبارک باد دینے کیلئے آ رہا ہو گا ، ہماری بھی خواہش ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلد سے جلد ہو لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ عملی طور پر یہ کب ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ جنرل الیکشن نئی حلقہ بندیوں کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ صدر عارف علوی کو ہٹانے کیلئے 298 ووٹ چاہئے، مجھے نہیں لگتا کہ ابھی صدر کے مواخذہ کے چانس ہیں ، میرے چیئرمین سینٹ بننے والا آئٹم ایجنڈے پر نہیں ہے ،کل سے سوشل میڈیا پر میرے چیئرمین سینٹ بننے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

Categories
پاکستان

بلاول بھٹو اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان کابینہ کا حصہ کیوں نہ بنے؟؟وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں ابتدائی طور پر بلاول بھٹو شامل نہیں ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھالیا جس میں ابتدائی طورپر چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کابینہ کا حصہ نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو نے وزرا کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تاہم انہوں نے حلف نہیں لیا اور ان کی نشست خالی رہی۔ وفاقی کابینہ میں حنا ربانی کھر، عائشہ غوث پاشا اور عبدالرحمان کانجوکو بطور وزیر مملکت شامل کیا گیا ہے جب کہ مفتاح اسماعیل، انجینئر امیر مقام، عون چوہدری اور قمر زمان کائرہ کو وزیراعظم کا مشیر بنایا گیا ہے۔ واضح رہےکہ اس سے قبل یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو نئی کابینہ میں وزیر خارجہ کا قلمدان دیا جائے گا۔