Categories
Uncategorized

ایک بھائی اداروں کیخلاف بولتا ہے تو دوسرا”بوٹ پالش” کرنے لگ جاتا ہے،عمران خان ایک بار پھر ن لیگ پر چڑھ دوڑے،وزیر اعظم پر بڑے الزامات بھی عائد کر دیے

جہلم(ویب ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف ملک سے باہر جاتا ہے تو فوج کو برابھلا کہتا ہے اور چھوٹا بھائی بوٹ پالش کرتاہے کہتےہیں عمران خان فوج کیخلاف باتیں کر رہا ہے شہبازشریف شرم کرو،کچھ تو شرم کرو۔ پی ٹی آئی کے جسلہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف

تم ہو میرجعفر! میرجعفر وہ تھااس نے سراج الدولہ سےغداری کی تواسےاقتدارمیں بٹھایاگیا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی فوج ہی پاکستان کواکٹھارکھ رہی ہے دوسراپی ٹی آئی وفاقی جماعت ہے اور پاکستان کومتحدرکھ رہی ہے میری ساری جائیدادپاکستان میں ہے اورتم کہتےہوعمران خان فوج کیخلاف بات کر رہا ہے میراجینا مرنا پاکستان میں ہے میرانام ای سی ایل پرڈال دیں میں پاکستان سےباہرجاناہی نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف جب بھارت گیاتوکسی حریت رہنماکیساتھ نہیں ملا ڈان لیکس میں نوازشریف نےکہاتھامیں دوستی چاہتا ہوں فوج نہیں چاہتی مودی کہتا تھا نوازشریف ہمارادوست شہبازشریف نےآتےساتھ ہی کہاہم مودی کیساتھ دوستی چاہتےہیں یہ دوستی اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ جوانہیں لائےانہوں نےحکم دیاہے۔ عمران خان نے واضح کیا کہ روس کیساتھ معاہدہ کرنےجارہےتھےروس ہمیں سستی گندم اورتیل دینے کیلئے تیار ہو گیا تھا کیا شہبازشریف تم روس کیساتھ معاہدہ کر سکتے ہو شہبازشریف پہلے ان سےاجازت لےگا جو انہیں لےکر آئے ہیں شہبازشریف ان کےبھی بوٹ پالش کرے گا لیکن پھربھی اجازت نہیں ملےگی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اس سے شرمناک بات کوئی نہیں کہ ملک کا سربراہ باہر جاکر قرضے مانگے، میرے دور میں نریندر مودی کی جرأت نہیں تھی کہ ہماری فوج کے خلاف بات کرتا، شہبازشریف جو میں میر جعفر کہتا ہوں وہ تم ہو۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ تیس سال سے جو بڑے ڈاکو اس ملک کو لوٹ رہے تھے ان کو مسلط کیا جاتا ہے، اس سب میں اللہ کرم کرتا ہے اور قوم کو بیدار کردیتا ہے، خودداری جگا دیتا ہے، ہماری خودداری کو کرپٹ لیڈروں نے ختم کردیا تھا، 26 سال سے قوم کی خودداری کو جگانے کی کوشش کررہا تھا، آج پاکستان کو ایک قوم بنتے دیکھ رہا ہوں یہ اللہ کا بڑا کرم ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور اس کی بیٹی فوج کو برا بھلا بول رہی ہے ،

میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے ، میرا نام ای سی ایل میں ڈالو ، تم شہبازشریف کہہ رہے ہو کہ عمران خان فوج کے خلاف بات کررہا ہے ؟ نوازشریف بھارت گیا تو حریت رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی ، میرے دور میں نریندر مودی کی جرات نہیں تھی کہ ہماری فوج کے خلاف بات کرتا، کبھی نوازشریف اور شہبازشریف کے منہ سے کمشیر کی بات سنی؟ میں نے روس کے صدر سے 30 فیصد کم قیمت پر تیل خریدنے کی بات کی، روس 30 فیصد کم قیمت پر تیل اور گندم دینے پر تیار ہوگیا تھا، شہبازشریف کیا تم میں جرات ہےکہ روس سے گندم تیل خریدنے کی بات کرو؟ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھارت کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ ان کی خارجہ پالیسی آزاد تھی ، پیسے کے غلام کبھی قوم کے لیے نہیں کھڑے ہوئے ،ایک ذوالفقار علی بھٹو کھڑے ہوئے تو سب اسے کے خلاف ہوئے اور پھانسی دی گئی، ساڑھے تین سال میں سب سے زیادہ شرم تب آئی جب باہر جاکر دوست ممالک سے قرض مانگنا پڑا، میں نے کبھی غیروں سے پیسے نہیں مانگے ، انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا تھا اس لیے باہر سے پیسے مانگنے پڑے،اس سے شرمناک بات نہیں کہ ملک کا سربراہ کسی سے قرض مانگے ،ماں باپ بھی اس اولاد کی عزت کرتے ہیں جو خود دار ہو ،کس نے ہمیں مقروض کیا ، 30 سال سے یہ دو خاندان حکومت کررہے ہیں، جب کہتے ہو بھکاری ہیں تو ہمیں بھکاری بنایا کس نے ؟ کون اس ملک سے پیسا باہر لے کر گیا ہے ؟ یہ ڈاکو ملک سے منی لانڈرنگ کرکے پیسا باہر بھیجتے ہیں۔

Categories
پاکستان

اپوزیشن دیکھتی رہ گئی،صدر مملکت نے بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانےکی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی۔ ایون صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر مملکت کا کہنا ہےکہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا، آئین کے آرٹیکل 101کی شق 3 کے مطابق گورنر، صدرکی رضامندی تک اپنے عہدے پر رہےگا۔

صدر مملکت کا کہنا ہےکہ گورنر پر بدانتظامی کاکوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی، گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، اس لیے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا، صدرکا فرض ہے کہ آئین کےآرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے۔ صدر عارف علوی کا کہنا ہےکہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر رپورٹ ارسال کی تھی، گورنر پنجاب نے وزیراعلٰی پنجاب کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر رپورٹ ارسال کی تھی، مجھے یقین ہےکہ گورنرکو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ صدر پاکستان کا کہنا ہےکہ اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں، ضروری ہے کہ موجودہ گورنرصاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی کے لیے عہدے پر قائم رہے۔ خیال رہےکہ گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نےدوسری سمری یکم مئی کو ایوان صدر بھیجی تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں، اس سے ہٹنا آئین شکنی ہوگی، صدرمملکت، گورنر پنجاب آئین اور سپریم کورٹ کےحکم پر چلیں، خلاف ورزی سے باز رہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں صدر کا منصب علامتی ہوتا ہے، ان کے پاس ویٹو کا اختیار نہیں، ایوان صدر پی ٹی آئی سیکرٹریٹ نہیں، عمران خان کےغلام نہ بنیں، آئین پر چلیں، عمر چیمہ جاتے جاتے کوئی نیا گند گھولنے سے باز رہیں، شرافت سے گھر چلے جائیں، آئین سے ہٹنے والوں کو آئین، عدالت اور عوام کی سزا کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

Categories
پاکستان

پاکستان کے بعد ایک اور ملک کی اپوزیشن نے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی

سری لنکا(ویب ڈیسک) سری لنکا کی حزب اختلاف کی اہم جماعت نے وزیر اعظم مہندا راجاپکسے اور ان کی کابینہ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ’عدم اعتماد‘ کی تحریک پیش کردی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق اپوزیشن نے حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے

کہ وہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار پیدا ہونے والے سنگین معاشی بحران کے دوران قوم کو معتبر معیاری زندگی دینے سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سری لنکا کی اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ پیپلز فورس (یو پی ایف) نے سجیتھ پریمادسا کی سربراہی میں سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابی واردنا کے پاس ملک کے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹ کی تحریک پیش کردی ہے۔ ملک بھر میں صدر گوٹابایا راجاپکسے اور ان کے بھائی و وزیر اعظم مہندا راجاپکسے کے استعفوں کے لیے عوامی احتجاج جاری ہیں کیونکہ ملکی عوام معاشی بحران کا ذمہ دار صدر گوٹابایا راجاپکسے کو قراد دیتے ہیں۔ ملک بھر میں احتجاج کے بعد اپوزیشن جماعت نے عدم اعتماد پر ووٹ لینے کی تحریک پیش کی ہے۔ تاہم یو پی ایف کے پاس صرف 54 ووٹ ہیں مگر انہیں امید ہے کہ وہ چھوٹی مخالف جماعتوں اور حکومتی جماعت سری لنکا پیپلز فرنٹ پارٹی کے منحرف اراکین سے بھی تحریک عدم اعتماد پر ووٹ لیں گے۔ یاد رہے کہ صدر اور ان کی کابینہ کو اقتدار سے نکالنے کے لیے پارلیمنٹ میں 225 اراکین کی ضرورت ہوگی۔ حکومتی جماعت کے پاس 150 ووٹ ہیں لیکن ملک میں معاشی بحران کے سبب اس میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے عدم اعتماد کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد مکمل ہونے کا امکان ہے۔