کرکٹ کے میدان سے بڑ اتہلکہ :محمد عامر کا دوسرا کورونا ٹیسٹ ۔۔۔!!! خبر نے مداعوں کو تشویش میں ڈال دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر محمد عامر اور محمد عمران کا کورونا وائرس کا دوسرا ٹیسٹ بھی ہو گیا ہے جس کی رپورٹ کل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو موصول ہو جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق محمد عامر اور محمد عمران مقامی ہوٹل کے بائیو سیکیور ماحول میں مقیم ہیں

جن کا دوسرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ بھی کر لیا گیا ہے، دونوں کھلاڑیوں کو دوسری رپورٹ منفی آنے کے بعد انگلینڈ بھجوایا جائے گا۔ دورہ انگلینڈ کیلئے ٹیم میں شامل کرنے کے بعد محمد عامر کا دو مرتبہ کرونا ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا، ایک رپورٹ منفی آ گئی جبکہ دوسرا ٹیسٹ بھی لیا جاچکا ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے دورہ انگلینڈ کیلئے حارث رؤف کی جگہ محمد عامر کو قومی سکواڈ کا حصہ بنایا۔ چیف سلیکٹر وہیڈکوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ دو ٹیسٹ منفی آنے پر محمد عامر انگلینڈ جائیں گے، ٹیسٹ اور ٹی 20 میں وہ کافی تجربہ رکھتے ہیں، کپتان سے مشاورت کے بعد محمدعامر کو سکواڈ کا حصہ بنارہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کے 14 روز قرنطینہ میں رکھنے کا عندیہ دیدیا ہے۔کورونا وائرس کی مہلک ترین وباءنے دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو متاثر تو کہیں معطل کردیا تھا تاہم کئی ماہ کے تعطل کے بعد کھیلوں کی سرگرمیاں تو شروع کر دی گئی لیکن غیر ملکی کھلاڑیوں کے 14 روز قرنطینہ میں گزارنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔کورونا لاک ڈاﺅن کے دوران انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین ناظرین کے بغیر ٹیسٹ سیریز انعقاد کیا جارہا ہے لیکن میچ شروع ہونے سے قبل ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم نے 14 روز قرنطینہ میں گزارے جبکہ پاکستانی ٹیم بھی انگلینڈ کیخلاف سیریز سے قبل 14 روزہ قرنطینہ مکمل کر چکی ہے، اسی طرح دورہ آسٹریلیا کے دوران ٹیم انڈیا کو بھی قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔کرکٹ آسٹریلیا کے عبوری چیف ایگزیکٹو او نک ہاکلی نے بھارتی ٹیم کے دسمبر میں دورہ آسٹریلیا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس ٹیم انڈیا آسٹریلیا پہنچے گی تو ٹیم کے معاونین اور کھلاڑیوں کو پہلے قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔نک ہاکلی نے کہا کہ آسٹریلیا پہنچنے پر ٹیم انڈیا کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا جائے گا اور اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ قرنطینہ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کو میچ کی پریکٹس کا موقع بھی دیا جاسکے۔