بگ بیش میں دھوم مچانے والے حارث رؤف اب پاکستانیوں کو کیا سرپرائز دینے والے ہیں ؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) بگ بیش لیگ میں دھوم مچانےوالے پاکستانی پیسر حارث رﺅف کا کہنا ہے کہ تینوں فارمیٹس میں ملک کی نمائندگی کا خواہاں ہوں،باﺅلنگ کوچ وقار یونس کے فون نے حوصلہ بڑھا دیا، آسٹریلیا میں2سال کھیلنے سے کنڈیشنز کو سمجھنے اور کارکردگی دکھانے میں مدد ملی۔ایک انٹر ویو میں حارث رﺅف نے کہا

کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میری توجہ صرف ٹی ٹونٹی کرکٹ پر مرکوز ہے، میں نے ون ڈے میچز میں بھی کارکردگی دکھائی، فرسٹ کلاس کرکٹ میں لمبے سپیل بھی کیے،صرف ٹی ٹونٹی بولر ہونےکا ٹائٹل درست نہیں، تینوں فارمیٹس میں ملک کی نمائندگی کرنا چاہتا ہوں ۔انھوں نے کہا کہ لاہور قلندرز نے مجھے آسٹریلیا بھیجا، وہاں کھیلنے کا تجربہ 2سال بعد بگ بیش میں کام آیا،کنڈیشنز کا علم ہونےکی وجہ سے میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا، میلبورن میں ہیٹ ٹرک ایک یادگار لمحہ تھا، ابھی ملک کی نمائندگی کا موقع نہیں ملاتاہم اسکے باوجود بگ بیش کا کنٹریکٹ ملنے کو بڑی کامیابی خیال کرتا ہوں، میلبورن سٹارز کا ماحول بڑا شاندار اور فیملی جیسا ہے، آئندہ سیزن میں بھی انہی کیلئے کھیلوں گا۔ حارث رﺅف کا مزید کہنا تھا کہ لاہور قلندرز اور عاقب جاوید نے میرا کیریئر آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، فرنچائز کے ٹرائلز نے زندگی بدل دی،کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس سطح کی کرکٹ کھیلوں گا اور اب ہر کوئی مجھے پاکستانی ٹیم میں شامل کرنے کی بات کررہا ہے۔پیسر نے کہا کہ قومی ٹیم کے باﺅلنگ کوچ وقار یونس کی جانب سے حوصلہ افزائی پر بڑی خوشی ہوئی، انھوں نے مجھے محنت جاری رکھنے کیلئے کہا، اگر پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا تو بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا۔ حارث نے کہا کہ بگ بیش کے دوران ڈیل سٹین کے ساتھ نیٹ، میچز اور ڈریسنگ روم میں زیادہ وقت گزارتے ہوئے سیکھنے کی کوشش کی، ان سے آﺅٹ سوئنگ کنٹرول کرنےکا ہنر سیکھا۔حارث رﺅف نے اعتراف کیا کہ وکٹ حاصل کرنے پر گلا کاٹنے کا ایکشن بنانا درست نہیں تھا، غلطی پر معافی بھی مانگ لی، کوچ عاقب جاوید نے بھی فون کرکے میری سرزنش کی تھی،میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلطی آئندہ نہیں دہراﺅں گا،اگلے میچ میں اسی لیے اس غلطی پر معافی کا سٹائل اپنایا۔یاد رہے کہ حارث رﺅف کا وکٹ لینے پر جشن کا یہ انداز شائقین کو نہیں بھایا تھا، خاص طور پر سوشل میڈیا پر بھارتیوں نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔