نعیم الحق کے بعد اہم ترین حکومتی عہدیدارقومی ٹیم کی کارکردگی پھٹ پڑی، کیا کچھ کہہ دیا؟ جانیے

کراچی (ویب ڈیسک) سابق کرکٹرز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کے بعد تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید بھی قومی ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف بدترین کارکردگی پر پھٹ پڑے۔جیو نیوز کے مطابق سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ سارے ادارے تباہ حال تھے اور عمران خان بڑے محاذ پر لڑ رہے تھے،

مصروفیات کی وجہ سے وزیراعظم کرکٹ پر توجہ نہیں دے سکے تھے۔ فیصل جاوید نے کہا کہ عمران خان نے اب تک براہ راست کرکٹ پر توجہ نہیں دی تھی، عمران خان اب کرکٹ کو ٹھیک کر کے دکھائیں گے۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اب تک کرکٹ کو جگاڑ سے چلایا جاتا رہا، کرکٹ کو طویل مدتی پالیسی کے تحت ٹھیک کریں گے، کرکٹ کا نیا ڈومیسٹک ڈھانچہ نتائج دے گا۔قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اظہر علی ناکام کپتان تھے، ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی صفر رہی، اظہر علی کو واپس لانا درست فیصلہ نہیں تھا۔آسٹریلیا کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست پر بات کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ آسٹریلیا میں ہمیشہ ہارتے رہے لیکن اس بار تو بہت بری شکست رہی۔خیال رہے کہ قومی ٹیم کو آسٹریلیا میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دونوں میچوں میں اننگز کی شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا جس پر سابق کرکٹرز انتخاب عالم، عبدالرزاق ، رمیز راجہ اور معین خان نے شدید تنقید کی تھی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کے گرد قانون کا شکنجہ سخت ہونے لگا ہے اور ساتھی ملزمان کے اعتراف سے اوپنر کیلئے بھی اپنا دامن صاف ثابت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مانچسٹر کراﺅن کورٹ میں ساتھی ملزمان یوسف انور اور محمد اعجاز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بنگلہ دیش پریمیر لیگ (بی پی ایل) میں کرکٹرز کو رشوت کی پیشکش کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے باعث ناصر جمشید کیلئے بھی اپنا دامن صاف ثابت کرنا مشکلہ و گیا ہے، پی ایس ایل ٹو کے آغاز میں سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں شرجیل خان،خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور محمد عرفان ملوث پائے گئے۔ناصر جمشید پر سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا اور ان سب کھلاڑیوں کو جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف مدت کیلئے معطلی کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔دوسری جانب ناصر جمشید برطانیہ میں گرفتار اور پھر ضمانت پر رہا ہوئے تھے، نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اب ان کا کیس مانچسٹر کے کراﺅنڈ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔