کپتانی تو کیا ٹیم سے ہی فارغ ۔۔۔۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے خلاف انتہائی قدم اٹھا لیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) ستی لنکا سے ٹی 20 سیریز میں وائٹ واش کے بعد پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کے ممبران بھی شدید غصے میں آ گئے اور قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق قرارداد

مسلم لیگ (ن) کے رکن ملک ظہیر اقبال کی جانب سے جمع کرائی گئی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پاک سری لنکا ٹی ٹونٹی کرکٹ سیریز میں پاکستان کے وائٹ واش پر گہرے افسوس اور غصے کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ٹی ٹونٹی کی نمبر ون ٹیم 8ویں نمبر کی ٹیم سے سیریز ہار گئی، سری لنکن ٹیم کے نوزائیدہ کھلاڑیوں نے باآسانی تینوں میچ جیت لیے۔متن کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کی شکست سے پاکستانی قوم میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔قرارداد میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) احسان مانی سے مطالبہ کیا گیا کہ وائٹ واش شکست کی تحقیقات کرائی جائیں۔متن کے مطابق کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بطور کپتان اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے پائے اور وہ کپتانی کے مزید اہل نہیں لہٰذا ان کو کپتانی سے فوری ہٹایا جائے۔ کئی ارکان نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ انہیں کپتان کیا ٹیم سے ہی نکال دینا چاہیے اور ایک اچھا وکٹ کیپر تلاش کیا جائے ، اور چیئرمین پی سی بی سے مطالبہ کیا گیا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کسی ذمہ دار اور تجربہ کار کھلاڑی کو دی جائے جو ٹیم کو متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی ہوم سیریز میں آٹھویں نمبر پر موجود سری لنکن کرکٹ ٹیم جن میں کوئی ایک بھی نامور کھلاڑی شامل نہیں تھا سے کلین سویپ ہو گئی ، پاکستان کرکٹ ٹیم میں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو موقع دیا گیا جو کہ بری طرح ناکام ہو گئے ، فخر زمان اور بابر اعظم بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور فیلڈنگ بھی انتہائی ناقص رہی ، جس کے بعد قوم کا پارہ اس وقت ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا ہے ۔