کل رات قطر میں ہونیوالی خواتین کی میراتھن ریس کی 68 میں سے 28 ایتھلیٹس نے دوڑ سے کچھ دیر قبل مقابلے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

دوحہ (ویب ڈیسک) قطر میں جاری 2019 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپس کے تحت ہونے والی خواتین کی میراتھن دوڑ میں صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب شدید گرم موسم کے پیشِ نظر دوڑ میں حصہ لینے والی 41 فیصد ایتھلیٹس نے مقابلے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔اگرچہ دوڑ مقامی وقت کے مطابق

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ نصف شب کو شروع ہوئی تھی تاہم 32 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور فضا میں نمی کا تناسب 70 فیصد ہونے کے باعث دوڑ کی ابتدا کرنے والی 68 خواتین میں سے 28 نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر دیا۔اس سے قبل اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ دوحہ میں موسم کی صورتحال میراتھن دوڑ کے لیے شاید سازگار نہ ہو تاہم منتظمین نے کھیل کا انعقاد طے شدہ وقت پر کروانے کا اعلان کیا تھا۔مقابلہ ہوا اور کینیا کی روتھ چیپنگتچ میراتھن دوڑ کی فاتح رہیں۔بریٹن کارلوتھ پرڈیو بھی مقابلے سے دستبردار ہونے والی ایتھلیٹس میں شامل تھیں۔دوڑ میں شامل یوگینڈا کی ایتھلیٹ لینت چیبیٹ کو حالت خراب ہونے پر ایمبولینس کے ذریعے میدان سے باہر لے جایا گیا جبکہ اٹلی کی سارہ ڈوسینا بھی فائل لائن کراس نہ کر پائیں اور بعد ازاں وہ ویل چئیر پر میدان سے جاتی نظر آئیں۔ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے میراتھن کوچ حاجی عدیلو روبا کی تربیت یافتہ تین ایتھلیٹس بشمول ٹوکیو میراتھان کی فاتح روتی آگا بھی دوڑ مکمل نہ کر پائیں۔حاجی روبا نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ‘ہم اپنے ملک میں کبھی بھی ان حالات میں میراتھن کا انعقاد نہ کرتے۔’کینیا کی روتھ چیپنگتچ کا کہنا تھا کہ ‘یہ بہت مشکل ریس تھی مگر مجھے اندازہ تھا کہ کیا کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ میں دبئی میراتھن میں دوڑ چکی ہوں۔”میں دوپہر کے وقت جب سورج بلند ہوتا ہے دوڑنے کی تربیت لے چکی ہوں۔’23 سالہ روتھ کا چیمپیئن شپس کا یہ پہلا گولڈ میڈل ہے

جو انھوں نے دو گھنٹے، 32 منٹ اور 43 سیکنڈ دوڑنے کے بعد حاصل کیا۔بحرین سے تعلق رکھنے والی دفاعی چیمپیئن 39 سالہ روتھ چیلیمو دوسرے جبکہ کامن ویلتھ چیمپیئن ہیلالیا جوہانس تیسرے نمبر پر آئیں۔برطانیہ کی تیسری تیز ترین میراتھن رنر بریٹن کارلوتھ پرڈیو نے تیسرے چکر کی ابتدا پر ہی دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔اس سے قبل ایتھلیٹس گورننگ باڈی آئی اے اے ایف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میراتھن کا انعقاد کروایا جائے گا کیونکہ انھوں نے ‘وہ سب ممکن اقدامات کیے ہیں جو گرمی سے متعلقہ خطرات کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔’آئی اے اے ایف کا کہنا تھا کہ میراتھن ‘صحت کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر ایک قابل قبول سطح پر دوڑی جائے گی۔’میراتھن میں پانچویں نمبر پر آنے والی بیلاروس کی ایتھلیٹ ولہا مازرونک آئی اے اے ایف حکام سے ناراض نظر آئیں۔ دوڑ کے بعد انھوں نے کہا کہ ‘ہوا میں نمی آپ کو مار دیتی ہے۔ سانس نہیں لیا جا سکتا۔ مجھے خیال آیا کہ شاید میں دوڑ مکمل نہ کر پاؤں گی۔”یہ کھلاڑیوں کی توہین ہے۔ اعلی عہدیداروں کا ایک گروپ اکٹھا ہوا اور فیصلہ کیا کہ وہ یہاں (قطر) چیمپیئن شپ کروائیں گے۔ یہ فیصلہ انھوں نے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر کیا اور شاید اس وقت وہ سو رہے ہوں گے۔’میراتھن میں نویں نمبر پر آنے والی کینیڈا کی ایتھلیٹ لینڈسے ٹیسر کا کہنا تھا کہ ‘دوڑ کے دوران آپ کسی کو گرتے دیکھتے ہیں اور ایسا دیکھنا ڈرا دینے والا اور حوصلہ پست کرنے والا ہوتا ہے۔ اگلے 500 میٹر یا ایک کلومیٹر کے بعد یہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔”میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر دوڑ کا اختتام کرنے پر درحقیقت بہت مشکور ہوں۔’قطر میں جاری چیمپیئن شپس کے بہت سے مقابلے خلیفہ سٹیڈیم کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھا گیا ہے۔تاہم سنیچر کو 50 کلومیٹر طویل میراتھن ایئر کنڈیشن کے بجائے کھلی فضا میں ہوئی۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی)