مصباح الحق کا بین الاقوامی کرکٹ میں کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں لیکن پھر بھی اسے کوچ کیوں اور کس کے کہنے پر بنا یا گیا؟ کرکٹ کے میدان سے بڑی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) قومی ٹیم کے تجربہ کار باولر سہیل تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مصباح الحق کو کوچ بنانا بہت اچھا فیصلہ ہے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران انہوںنے کہاکہ کرکٹ کے کچھ حلقوں سے اس بات پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ مصباح الحق کا بین الاقوامی کرکٹ

میں کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن میرے خیال میں انہیں باقی کوچز کے مقابلے ایک بہت بڑی سبقت حاصل ہے۔انہوں نے بتایا کہ مصباح الحق نے حال ہی میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی ہے اور ان چھ سات سالوں میں اس کھیل میں کئی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں جس کا انہیں اچھی طرح علم ہے، وہ کرکٹ کے جدید تقاضوں کو دیگر کوچز کی نسبت بہتر سمجھتے ہیں۔سہیل تنویر نے کہا کہ نو منتخب کوچ اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجود طرز کی کرکٹ میں جیت حاصل کرنے کے لئے کس طرح کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔مصباح کو بیک وقت دو عہدے دیے جانے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نیا تجربہ ہے جس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ مصباح کے پاس اب ہر قسم کی اتھارٹی موجود ہے، تاہم انہیں اب جواب دہ بھی ہونا پڑے گا۔وقار یونس کو بولنگ کوچ تعینات کرنے کے حوالے سے رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا قومی ٹیم کی کوچنگ کا تیسرا دور ہو گا اور انہیں اس حوالے سے زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق کرکٹ ویسٹ انڈیز نے معروف آل راﺅنڈر کیرن پولارڈ کو ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی 20 ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔کیرن پولارڈ نے اکتوبر 2016ءکے بعد سے اب تک کوئی ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیلا جبکہ انہیں جیسن ہولڈر کی جگہ کپتان مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019ءمیں ویسٹ انڈیز ٹیم کی قیادت کی تھی تاہم وہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان برقرار رہیں گے۔کرکٹ ویسٹ انڈیز کے صدر رکی سکیریٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک کیرن پولارڈ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کی قیادت کیلئے صحیح وقت پر درست انتخاب ہیں جبکہ جیسن ہولڈر بہت اہم قوت ہیں اس لئے وہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان برقرار رہیں گے۔کیرن پولارڈ نومبر میں بھارت میں افغانستان کیخلاف سیریز سے کپتانی سنبھالیں گے جس دوران ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھیلے جائیں گے ۔