کرکٹ کی تاریخ میں نیاناقابل یقین کارنامہ۔۔وہ کھلاڑی جس نے ایک ہی میچ میں سنچری کے بعد 8 وکٹیں لے کر زبردست ریکارڈ بنا لیا

بنگلورو(ویب ڈیسک) بھارتی کرکٹر نے کرناٹکا پریمیئر لیگ میں ایک تیر سے دو شکار کرلیے، مذکورہ کھلاڑی نے اپنے بلے سے سنچری سکور کرنے کے بعد میچ میں8وکٹیں بھی حاصل کیں۔کرناٹکا پریمیئر لیگ2019ءمیں بیلاری ٹسکرز کی جانب سے کھیلنے والے کرشنپا گوتھم نے شیواموگا لائنز کے خلاف یادگار پرفارمنس دے ڈالی۔ٹسکرز نے اس مقابلے میں ٹاس جیت

کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو تیسرے نمبر پر آنے والے کرشنپا گوتھم نے اپنی پہلی نصف سنچری 24گیندوں پر مکمل کی اور پھر محض 39 گیندوں پر سنچری مکمل کی ،انہوں نے 56گیندوں پر134رنز کی ناقابل شکست باری کھیلی جس میں 7چوکے اور13چھکے شامل تھے،یہ اس ٹورنامٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا سکور بن گیا،اس سے قبل2016ءمیں میانک اگر وال نے119رنز کی باری کھیلی تھی۔لائنز کی ٹیم نے203رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اس کی پوری ٹیم133رنز بنا کر آل آﺅ ٹ ہوگئی ،کرشنپا نے بیٹنگ کے بعد باﺅلنگ میں بھی اپنے جوہر دکھاتے ہوئے8کھلاڑی پوویلین بھیجے،ان کی یہ شاندار کارکردگی ریکارڈ بکس کا حصہ نہیں بن سکے گی کیوں کہ ان میچز کو آفیشل ٹونٹی ٹونٹی مقابلوں کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔میچ کے بعد جب ان سے سوال ہوا کہ وہ اپنی بیٹنگ یا باﺅلنگ میں سے کس پرفارمنس سے زیادہ لطف اندوز ہوئے تو ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ وہ اپنی گرل فرینڈکی مسکراہٹ سے لطف اندوز ہوئے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق قومی کپتان سلمان بٹ نے پاکستان میں ٹیسٹ کھیلنے سے انکار پر سری لنکن ٹیم کو کھری کھری سنادیں۔ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک تقریب کے بعد خصوصی بات چیت میں سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی ٹیم 5 دن ٹی 20 اور اتنے ہی دن ایک روزہ میچوں کے لئے لاہور اور کراچی میں موجود رہے گی، آئی لینڈرز اس دوران 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیل سکتی تھی، پاکستان کے حالات سری لنکا سے بہت بہتر ہیں اور ہماری سکیورٹی ایجنسیز نے بہت اچھا کام کیا ہوا ہے۔سلمان بٹ نے کہا کہ غیرملکی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کے لیے آئیں گی تو انہیں اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں حالات کتنے بہتر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق تجربہ کار ہیں، امید ہے کہ وہ ٹیم کے لئے بہتر ہوں گے، مکی آرتھر کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم کی پوزیشن ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بہت نیچے گئی ایسے میں ٹیم منیجمنٹ میں تبدیلی ناگزیر تھی۔سابق کپتان نے کہا کہ میرٹ پر آپ ٹیم کا انتخاب کریں گے تو ہی کامیاب ہوں گے، جب آپ اپنے چہیتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا گروپ کونسا ہے تو پھر ٹیم کا نقصان ہوتا ہے اور رزلٹ نہیں آتے، یہ میری ہی بات نہیں، ڈومیسٹک سطح پر جتنے بھی لوگ پرفارم کر رہے ہیں، آپ ان کی طرف بھی دیکھیں، بڑے بڑے اچھے لڑکے ہیں ان کو سپورٹ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میرٹ پر کام نہیں کریں گے تو جس کا حق بنتا ہے، اس کو نہیں کھلائیں گے تو کام نہیں چلے گا، آپ آسٹریلین سسٹم لے آئیں یا اپنے نظام سے ہی کام چلا لیں لیکن اگر حقدار کرکٹر نہیں کھیلے گا تو پھر مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔