شعیب اختر باﺅنسر مار کر بلے باز کے پاس جا کر کان میں کیا کہتے تھے جو وہ شرمندگی کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کو بھی نہیں بتاتا تھا؟؟ بھارت کے معروف سابق کرکٹر یووراج سنگھ نے بھانڈا پھوڑ دیا

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت کے معروف سابق کرکٹر یووراج سنگھ نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرآباد کہنے کے بعد ٹوئٹر کا میدان سنبھال لیا ہے اور شعیب اختر کی جانب سے انگلش باﺅلر جوفرا آرچر سے متعلق تنقیدی ٹویٹ کا ایسا مزاحیہ جواب دیا ہے کہ آپ بھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جائیں گے۔لارڈز میں کھیلے گئے

دوسرے ٹیسٹ میچ میں جوفرا آرچر کا باﺅنسر سٹیو سمتھ کی گردن پر لگا اور وہ زمین بوس ہو گئے تاہم جوفرا آرچر ان کے پاس جا کر خیریت دریافت کرنے کے بجائے واپس چلے گئے جس پر شعیب اختر نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ”باﺅنسر گیم کا حصہ ہیں لیکن جب بھی کوئی باﺅلر کسی بلے باز کو سر پر باﺅنسر مارتا ہے اور وہ گر جاتا ہے تو اخلاقیات کا تقاضہ یہ ہے کہ باﺅلر بلے باز کے پاس جائے اور اس کی خیریت دریافت کرے۔ سمتھ زمین بوس تھے اور درد میں مبتلا تھے مگر آرچر ان کے پاس نہ گئے جو کہ اچھی بات نہیں۔ میں ہمیشہ وہ پہلا شخص ہوا کرتا تھا جو ایسے موقع پر بلے باز کے پاس جایا کرتا تھا۔“یووراج سنگھ نے شعیب اختر کی اس ٹویٹ پر مزاح سے بھرپور ایسا جواب دیا کہ ٹوئٹر پر ہنسی کا طوفان آ گیا اور یقینا جان کر آپ بھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جائیں گے۔ یووراج سنگھ نے لکھا ”ہاں! آپ بلے باز کے پاس جاتے تھے لیکن آپ کے حقیقی الفاظ یہ ہوا کرتے تھے کہ امید ہے تم ٹھیک ہو گے میرے بھائی کیونکہ ابھی چند اور باﺅنسر بھی آنے والے ہیں۔“ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق کرکٹر شرجیل خان نے اسپاٹ فکسنگ کی سزا بھگتنے کے بعد اعتراف جرم کرتے ہوئے کرکٹ میں واپسی کے لیے پی سی بی کی تمام شرائط پوری کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث شرجیل خان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے

حکام کے درمیان ملاقات لاہور میں ہوئی، اوپنر کو کرکٹ میں واپسی کا روڈ میپ ترتیب دیا گیا، ری ہیب پروگرام کے مطابق انہیں اینٹی کرپشن کوڈ پر لیکچر لینا اور دینا ہوگا، سوشل سروس کے طور پر یتیم خانے کا دورہ کرنا ہوگا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور اسپورٹنگ اسٹاف کیساتھ بھی ایک نشست رکھنی ہوگی۔اب تک اپنے بے گناہ ہونے پر اصرار کرنے والے شرجیل خان کا کہنا ہے کہ میں پی سی بی، اپنی ٹیم، شائقین کرکٹ اور اپنے اہلخانہ سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، میرے ایک غیر ذمہ دارانہ عمل کے باعث انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،یقین دلاتا ہوں مستقبل میں ذمہ داری کا مظاہرہ کروں گا۔ تمام کرکٹرز پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر انہیں وقتی فائدہ دے سکتی مگر اس کے نتائج پورے کیرئیر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔پی سی بی کے ڈائریکٹرسکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ آصف محمود کا کہنا ہے کہ شرجیل خان نے ملاقات میں اپنے کئے پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کیا ہے، بورڈ کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔شرجیل خان پر پی ایس ایل 2 میں اسپاٹ فکسنگ پر پابندی لگادی گئی تھی۔ شرجیل خان کی سزا 10 اگست کو ختم ہوئی جس کے بعد اب وہ ایک بار پھر قومی ٹیم کی نمائندگی کے خواہش مند ہیں۔ تاہم اس کے لیے انہیں ری ہیب ہروگرام مکمل کرنا ضروری یے ۔ طریقہ کار کے مطابق انہیں اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے ساتھ سب سے معافی مانگنا پڑے گی۔مخلتف لیکچرز کا حصہ بھی بننا ہوگا۔