’’ بانوے میں ’ عامر سہیل‘ اور انیس میں ’ حارث سہیل ‘۔۔۔‘‘ 1992 اور 2019ء کے ورلڈ کپ کی دلچسپ مماثلت سامنے آگئی

لندن(نیوز ڈیسک ) ورلڈ کپ 1992ءاور2019ءکے میگا ایونٹ میں پاکستان کے چھٹے میچ میں ناقابل یقین مماثلت سامنے آگئی۔1992ءکے میگا ایونٹ میں پاکستان کا چھٹا میچ اس وقت کی عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف تھا اور گرین شرٹس کے لیے یہ مقابلہ جیتنا انتہائی ضروری تھا،پاکستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے عامر سہیل کے76رنز

کی بدولت مقررہ50اوور ز میں9وکٹوں کے نقصان پر220رنز سکور کیے جس کے بعد قومی باﺅلرز نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ کو محض172رنز پر ڈھیر کرکے پاکستان کو48رنز سے کامیابی دلا دی،پاکستان کے لیے عاقب جاوید اور مشتاق احمد نے تین تین وکٹیں لیں تھیں،عامر سہیل مین آف دی میچ قرار پائے۔ورلڈ کپ2019ءمیں پاکستان نے حارث سہیل کے89رنز کی بدولت 308رنز کا مجموعہ سکور کیا جس کے بعد پاکستانی باﺅلرز نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کو 49رنز سے کامیابی دلاکر سیمی فائنل تک پہنچنے کی امیدیں برقرار رکھیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 27سال پہلے قومی ٹیم کے چھٹے میچ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کا آخری نام بھی سہیل تھا اور اب اس ورلڈ کپ میں بھی جنوبی افریقہ کے خلاف بہترین باری کھیلنے والے بلے باز کا آخری نام بھی سہیل تھا ۔