کرکٹ ورلڈ کپ 2019 : اب تک ہونیوالے میچز کے دوران وکٹوں پر رکھی یہ بیلز کیوں نہیں گریں ؟ کرکٹ کے مداحوں کے لیے معلوماتی خبر

لندن (ویب ڈیسک) انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا: عالمی کپ 2019: آسٹریلوی اننگز کا دوسرا اوور تھا اور گیند انڈین بولر جسپریت بمرا کے ہاتھوں میں تھی۔ آسٹریلیا کے بیٹسمین ڈیوڈ وارنر کے بیٹ سے گیند لگی اور سٹمپس سے ٹکرائی۔ بمراہ خوشی میں اچھل پڑے لیکن یہ کیا! بیلز ایک بار پھر سے نہیں گریں۔

ان دنوں ورلڈ کپ 2019 میں بیلز کے سٹمپس سے نہ گرنے پر بحث جاری ہے کیونکہ اصول کے مطابق بغیر بیلز گرے بیٹسمین کو آؤٹ قرار نہیں دیا جا سکتا خواہ گیند سٹمس کو ہی کیوں نہ لگی ہو۔ رواں ورلڈ کپ میں اب تک پانچ بار ایسا واقعہ رونما ہوا جب گیندیں سٹمپس کو چھو کر گزریں لیکن بیلز نہیں گریں۔ اس کی وجہ رواں ورلڈ میں استعمال کی جانے والی مخصوص ‘زنگ بیلز’ ہیں جن میں فلیش لائٹس لگی ہوئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے ان گلیوں کا وزن زیادہ ہو گيا ہے۔ آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے اس بارے میں کہا: ‘میرے خیال سے نئے لائٹس والے سٹمپس کے ساتھ بیلز کچھ وزنی ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے انھیں گرانے میں کچھ زیادہ ہی زور کی ضرورت ہے۔’ جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سٹمپس پر بیلز کو رکھنے کے لیے جو گڑھے بنائے جاتے ہیں وہ اس بار ذرا زیادہ گہرے ہیں اس لیے بیلز جھٹکے کے بعد بھی ان میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بیلز کے نہ گرنے کی اس وجہ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بیلز کا وزن عام بیلز اور تیز ہوا کے دوران وزنی بیلز کے درمیان کا ہے۔ لیکن چونکہ ورلڈ کپ کے 14 میچز میں پانچ بار ایسا ہوا کہ سٹمپس سے گیند کے چھو جانے کے باوجود بیلز نہیں گریں اس لیے ان کے متعلق سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ انگلینڈ کے لیگ سپنر عادل رشید نے جنوبی افریقہ کے اوپنر کوینٹن ڈی کاک کو بولنگ کی۔

ڈیکاک لیگ سٹمپ پر گرنے والی گیند کو ریورس سویپ کرنے کی کوشش کی لیکن بال بیٹ سے لگ کر آف سٹمپس لگتی ہوئی وکٹ کیپر کے پیچھے نکل گئی۔ لیکن نہ جانے کیا ہوا کہ بیلز نہیں گری۔ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے سمجھا کہ ڈی کاک بولڈ ہو گئے ہیں لیکن بیلز نہیں گریں اور ڈی کاک کو چار رنز مل گئے۔ نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر ٹرینٹ بولٹ نے سری لنکا کے بیٹسمین کرونارتنے کو بالنگ کی۔ کرونارتنے نے اگیسٹ دی سوئنگ کٹ کرنے کی کوشش کی۔ گیند بلے کا اندرونی کنارہ لے کر سٹمپس کو چھوتی ہوئی نکل گئی۔ ری پلے میں نظر آیا کہ بیلز قدرے ہلیں لیکن گرنے کے بجائے پھر اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئیں۔ نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کو مایوسی ہوئی اور کرونا رتنے خوش قسمت قرار پائے۔ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل سٹارک نے ویسٹ انڈیز کے اوپنر کرس گیل کو گیند کی اور وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہونے کی اپیل کی۔ امپائر نے کھٹ کی کوئی آواز سنی تھی اس لیے انھوں نے کرس گیل کو آؤٹ قرار دیا۔ کرس گیل کو پتا تھا کہ گیند ان کے بیٹ کو نہیں لگی ہے اس لیے انھوں نے فوراً ڈی آر ایس کا استعمال کیا۔ ری پلے اور جائزے سے پتا چلا کہ گیند کرس گیل کے بیٹ کو نہیں بلکہ سٹمپس کو چھو کر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی تھی۔ کرس گیل کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ایرون فنچ نے سر پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا اور امپائر کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔ انگلینڈ کے بولر بین سٹوکس نے شارٹ پچ گیند پھینکی۔ سیف الدین شاٹ لگانے کے لیے اکراس دی لائن چلے گئے۔ گیند ان کے جسم سے ٹکرا کر سٹمپ کے ساتھ ٹکرانے کے بعد واپس آ گئی۔ لیکن پھر بھی بیلز نہیں گریں۔ 22 سالہ آل راؤنڈر سیف الدین بھی خوش قسمت نکلے اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے چہرے پر حیرت اور پھیکی مسکراہٹ تھی۔(ش س م)