محبت تو واقعی اندھی ہوتی ہے ۔۔۔ شاہد آفریدی کو بیوقوف بنانے والی لڑکی کون نکلی ؟ سابق کپتان کس کے ساتھ گھنٹوں فون پربات کرتے تھے ؟ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ 2009 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے قبل ہی انہیں معاملے کا علم ہو گیا تھا اور انہوں نے کوچ وقار یونس اور ٹیم منیجر یاور سعید کو اس معاملے سے آگاہ کردیا تھا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنی کتاب

‘گیم چینجر’ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ مظہر مجید کے بیٹے نے موبائل پانی میں گرا دیا تھااور وہ جس دکان میں مرمت کے لیے آیا وہ میرے جاننے والے تھے اور اسی کی بدولت مجھے مظہر مجید کی چند کھلاڑیوں سے ہونے والی گفتگو کے حامل پیغامات پڑھنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ اس موبائل میں انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی 20 کے دوران ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ تھا جو مجھے مل گیا اور مجھے ان باتوں پر نہ یقین آرہا تھا اور نہ ہی سمجھ آ رہا تھا کیونکہ یہ سارے کرکٹر میرے بھائیوں کی طرح تھے، یہ کن کاموں میں لگ گئے حالانکہ ان کو اچھی خاصی میچ فیس ملتی ہے۔ان کا کہنا تھا میں نے اس وقت کے ٹیم کے کوچ وقار یونس کو معاملے سے آگاہ کیا اور مینجمنٹ کو بتایا لیکن مینجمنٹ کی جانب سے آنے والا جواب انتہائی حیران کن تھا کیونکہ انہوں نے کہا کہ ‘بیٹا ہم کیا کر سکتے ہیں۔سابق آل راؤنڈر نے بتایا کہ ٹیم مینجنٹ نے میٹنگ میں لڑکوں کو آگاہ کیا کہ وہ ان افراد سے دور رہیں لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ لڑکے ڈریسنگ روم میں آتے رہے اور ہمارے لڑکے بھی ان سے ملتے رہے۔شاہد آفریدی نے بتایا کہ میں نے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا کہا تو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اعجاز بٹ نے مجھے قیادت جاری رکھنے کا مشورہ دیا لیکن آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بھی وہ لڑکے کھلاڑیوں سے ملتے رہے،

پروگرام میں شاہد آفریدی کی زندگی کے اس دلچسپ واقعے کا بھی ذکر ہوا جب ایک لڑکی فون پر شاہد آفریدی کو بے وقوف بناتی رہی۔یہ اس دور کی بات ہے کہ موبائل فون زیادہ عام نہیں تھے اور کال انتہائی مہنگی تھی لیکن اس وقت غیر شادی شدہ شاہد آفریدی ان سے گھنٹوں بات کیا کرتے تھے اور لڑکی کو عید کے دن گھر آنے کی دعوت دی تاکہ اپنے والدین سے ملا سکیں۔جب عید کے دن وہ لڑکی کو لینے دروازے پر پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر شدید دھچکا لگا کہ ایک لڑکا ہاتھ میں پھول لیے کھڑا ہے اور اس نے بتایا کہ وہ ہی معروف کرکٹر کو لڑکی بن کر فون کرتا تھا۔یاد رہے کہ 2009 کے لارڈز ٹیسٹ میں اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر اسپاٹ فکسنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے جس کے جرم میں انہیں جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ 5 سال پابندی کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔عالمی شہرت یافتہ آل راؤنڈر نے کہا کہ میں سلمان بٹ کو بہت پسند کرتا تھا، میرے سامنے اعجاز بٹ صاحب نے 3 نام رکھے کہ تم اپنا نائب کپتان کسے چاہتے ہو تو میں نے ان تینوں میں سے سلمان بٹ کا نام لیا کیونکہ بحیثیت اوپنر سلمان بٹ مجھے بہت پسند تھا اور وہ بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا جبکہ نوجوان ہونے کی وجہ سے قیادت کے لیے بھی موزوں تھا۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے تمام معاملے بالکل کھل کر پتہ چل گئے تھے تو میں نے طنزیہ سلمان بٹ سے کہا کہ اب تو میں ہٹ رہا ہوں، اب جیسے کپتانی کرنے سے کر لو۔