کملی والے محمدؐ توں صدقے میں جاں جنے آکے غریباں دی بانہہ پھڑ لئی ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) فن قوالی کے بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں اتر جاتی ہیں ۔ یہ ویسے ہی سننے والوں پر وجد طاری کرتی ہیں ، جس طرح کا سحر استاد نصرت فتح علی خان کو لائیور سننے اور دیکھنے والوں پر طاری ہوتا تھا ۔

دم مست قلندر مست مست اور علی دا ملنگ میں تاں علی دا ملنگ آج بھی روزانہ ملک بھر کے ہزاروں مقامات پر ہر وقت سننے کو ملتی ہیں ۔ جسکی آواز اسکے مرنے کے بعد بھی گونج رہی ہے اور لوگوں کے دل پر لگے زنگ کو صاف کرنے والی دوا کا کام دے رہی ہے اس کی قبر کو اللہ اور اسکے رسولؐ کیسے بے آسرا چھوڑ دیتے ۔ مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فیصل آباد میں استاد نصرت فتح علیخان کی قبر پر ہر وقت دعا کرنے اور فاتحہ پڑھنے والوں کا رش لگا رہتا ہے ۔ دوردراز سے لوگ پاکستان کے اس مشہور قوال کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آتے ہیں ، نیز انکی قبر پر ہر وقت کوئی نہ کوئی شخص قران کریم کی تلاوت کرتا نظر آتا ہے جو اللہ کی بہت بڑی عنایت اور کرم نوازی ہے ۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ مشہور اور مقتدر و طاقتور ترین لوگوں کی قبریں بھی انکے مرنے کے بعد نشان عبرت بن جاتی ہیں ۔ جیسے کہ حسن نثار آفیشل یوٹیوب چینل کے خصوصی سلسلے قبر کہانی کی اب تک کی اقساط میں دیکھنے میں آیا ہے ، وحید مراد ، سلطان راہی جیسے چاکلیٹی اور سدا بہار کرداروں کی قبریں آج فاتحہ پڑھنے والوں کی منتظر رہتی ہیں ۔ وہ جو زندگی میں لاکھوں نگاہوں کا محور و مرکز تھے ، آج شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ انکی قبر کہاں ہے ، مگر دیکھنے کو یا محمد ؐ۔۔۔۔ ہو نگاہ کرم یا محمد ؐ ۔۔۔۔۔حق علی علی ، مولا اعلی علی ، ۔۔۔۔اللہ ہو اللہ ہو ، ۔۔۔۔۔اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا ۔۔۔۔۔۔جے تو رب نوں مناؤنا پہلے یار نوں منا ۔۔۔۔۔سارے نبیاں دا نبی توں امام سوہنیا ۔۔۔۔۔۔پڑھنے اور گانے والے استاد نصرت فتح علی خان مرحوم کی قبر پر اللہ اور اسکے رسول ؐ کی رحمت ہے کہ فیصل آباد شہر میں بچے بچے کومعلوم ہے کہ انکی قبر کہاں ہے ، یہی نہیں وہاں آنے والا کوئی شخص استاد صاحب کی قبر پر فاتحہ اور تلاوت قران کیے بغیر واپس نہیں جاتا ۔ بے شک اللہ اور اسکے رسولؐ کا ذکر کرنے والے دنیا و آخرت میں کبھی ناکام نہیں ہونگے ۔