وہ وقت جب راجیو گاندھی نے سونیا گاندھی کی قربت حاصل کرنے کے لیے رشوت کا سہارا لیا ۔۔۔۔۔بی بی سی کی ایک دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) یہ بات مئی 1981 کی ہے۔ راجیو گاندھی اترپردیش کے انتخابی حلقے امیٹھی سے الیکشن لڑنے والے تھے۔ وہ اپنے انتخابی حلقے کا دورہ کررہے تھے۔چند گھنٹوں بعد انھیں لکھنو سے دلی کی فلائٹ پکڑنی تھی۔ لیکن تبھی خبر موصول ہوئی کہ امیٹھی سے 20 کلومیٹر دور تیلوئی کے علاقے میں

نامور صحافی ریحان فضل بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 30 سے 40 جھوپڑ پٹیوں میں آگ لگ گئی ہے۔انھوں نے لکھنو جانے کے بجائے اپنی کار کا رخ تیلوئی کی طرف موڑ دیا۔وہاں پہنچ کر انھوں نے متاثرین کو دلاسا دیا۔ اس درمیان ان کے ساتھی سنجے سنگھ نے ان کے کان میں کہا ’سر آپ کی فلائٹ مس‘ ہوجائے گي۔اس کے باوجود راجیو گاندھی نے وہاں کے لوگوں سے بات چیت جاری رکھی۔جب وہ سب لوگوں سے ملاقات کر چکے تو انھوں نے سنجے سنگھ سے پوچھا ’یہاں سے لکھنؤ پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟‘’دا لوٹس ایئرز- پولیٹکل لائف ان انڈیا ان دا ٹائم آف راجیو گاندھی’ کے مصنف اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں کہ ’سنجے سنگھ نے جواب دیا، کم از کم دو گھنٹے۔ لیکن اگر آپ سٹیرنگ سنبھال لیں تو ہم 40 منٹ میں وہاں پہنچ جائیں گے۔راجیو نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا ان کو اطلاع پہنچا دیجیے کہ ہم 15 منٹ میں اموسی ہوائی اڈے پہنچ جائیں گے۔ راجیو نے کار اس طرح چلائی جیسے خلائی جہاز چلتا ہے اور بہت کم وقت پر ہوائی اڈے پہنچ گئے۔‘لیکن تیزرفتار سے کار چلانے کے شوقین راجیو گاندھی بہت ہی سلیقے اور سوچ سمجھ کر ہوائی جہاز اڑاتے تھے۔ شروع میں وہ ڈکوٹا اڑاتے تھے لیکن اس کے بعد وہ بوئنگ جہاز اڑانے لگے تھے۔جب وہ پائلٹ کی سیٹ پر ہوتے تھے تو صرف اپنا پہلا نام بتا کر مسافروں سے بات کرتے تھے۔ ان کے کپتانوں کو بھی یہ حکم تھا کہ فلائٹ کے دوران راجیو گاندھی کا پورا نام نہ بتایا جائے۔اس زمانے

میں انھیں پائلٹ کے طور پر پانچ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی جو کہ ایک بہت مناسب تنخواہ مانی جاتی تھی۔جب راجیو گاندھی ٹرائپوس کورس کرنے کیمبریج یونیورسٹی پہنچے تو 1965 میں وہاں ان کی ملاقات اٹلی میں پیدا ہوئی سونیا گاندھی سے ہوئی اور انھیں دیکھتے ہی ان سے پیار ہوگیا۔یہ دونوں کھانا کھانے ایک یونانی ریستوران جایا کرتے تھے۔اشونی بھٹناگر بتاتے ہیں ’راجیو نے ریستوران کے مالک چارلس اینٹنی کو منایا کہ وہ انھیں سونیا کی بغل والی سیٹ پر بیٹھنے دیں۔ ایک اچھے تاجر کی طرح چارلس نے ایسے کرنے کے لیے راجیو سے دوگنے پیسے وصول کیے۔‘بعد میں انھوں نے اداکارہ سمی گریوال کی راجیو گاندھی کی زندگی پر بنائی ہوئی فلم میں کہا کہ ‘میں نے پہلے کسی کو کبھی میں اتنی بری طرح عشق میں مبتلا نہیں دیکھا۔‘جب راجیو کیمبریج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو اپنا خرچ چلانے کے لیے وہ آئسکریم فروخت کرتے تھے اور سونیا سے ملنے کے لیے سائیکل پر جایا کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے پاس ایک پرانی ووکس ویگن جس کے پٹرول کا خرچ ان کے دوست شیئر کرتے تھے۔(بشکریہ : بی بی سی )