لو جی ایدی کمی رہ گئی سی ….معروف برانڈز پرفیوم کی بوتلوں میں پیشاب کی پیکنگ ،جلدی امراض پھیلنے لگے

متحدہ عرب امارات میں گزشتہ کچھ عرصے سے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں جن میں عوام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کچھ معروف برانڈز کے پرفیومز میں سے پیشاب کی سی بدبو آتی ہے۔ اس حوالے سے اسطر ہسپتال کے شعبہ امراض جلد میں بطور سپیشلسٹ تعینات ڈاکٹر راما چندرن راجا گوپال کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پرفیومز میں پیشاب مِلے ہونے کی خبریں بالکل ٹھیک ہیں۔متحدہ عرب امارات میں بہت سے دھوکے باز افراد مہنگے برانڈز کے جعلی پرفیومز تیار کرتے

وقت اس میں میتھانول، بیکٹیریا، اینٹی فریزاور اینٹی فریز کیمیکلز شامل کر رہے ہیں جس کے باعث جلدی امراض لاحق ہو سکتے ہیں اور جلن کی بھی شکایت ہوتی ہے۔ جبکہ میتھانول آنکھوں اور اعصابی نظام کے لیے انتہائی مضر ہے۔جبکہ بہت سی جعلی پرفیومز مصنوعات میں پیشاب بھی ملایا جا رہا ہے، تاکہ اس کی مخصوص پیلاہٹ کی وجہ سے جعلی پرفیوم کی رنگت اصل جیسی دکھائی دے جبکہ یہ مائع پرفیوم کو جم جانے سے بھی روکتا ہے۔زیادہ تر جعلی پرفیومز آئن لائن یا چھوٹی چھوٹی دُکانوں پر انتہائی کم قیمت میں بیچے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اکثر لوگ جب معروف برانڈز کے ان جعلی پرفیومز کو انتہائی کم قیمت میں بِکتا دیکھتے ہیں تو انہیں خریدنے میں دیر نہیں لگاتے اور آسانی سے دھوکا بازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اکثر سڑکوں کے کنارے پرفیومز بیچنے والے بھی زیادہ تر جعلی پرفیومز ہی بیچ رہے ہوتے ہیں۔اگر کوئی اچھی برانڈ کا پرفیوم کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں 500 درہم میں دستیاب ہوتا ہے تو اسی برانڈ کے نا م پر بکنے والا جعلی پرفیوم سڑک کنارے بیٹھے یا آئن لائن دھوکے بازوں کی طرف سے 300درہم میں مِل جاتا ہے۔ بدقسمتی سے متحدہ عرب امارات میں سوائے بڑے سٹورزکے زیادہ تر چھوٹے اسٹورز یا آن لائن شاپس پر بڑی گنتی میں جعلی پرفیومز ہی فروخت کیے جا رہے ہیں۔جب جعلی پرفیومز بیچنے والوں سے پوچھا جائے کہ وہ اصل قیمت کے مقابلے میں اتنا سستا کیوں فروخت کر رہے ہیں تو اُن کا گھڑا گھڑایا جواب یہ ہوتا ہے ” بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور شاپنگ مالز والوں کو ملازمین کی تنخواہیں، انشورنس اور کرائے کے لیے رقم بھی نکالنا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پرفیومز کو اصل قیمت کے مقابلے میں مہنگا کر کے بیچتے ہیں مگر ہم آن لائن یا سڑک کنارے بیچنے والوں کو ایسے اضافی اخراجات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اسی وجہ سے ہم اصل قیمت میں بیچ رہے ہیں۔“ بہت سے سادہ لوگ ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ ایک بڑے ڈیپارٹمنٹ اسٹور کے مالک کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں بہت سے چھوٹے دُکاندار جعلی پرفیومز بیچ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ نے Gucci کا تازہ ترین پرفیوم بھی خریدا ہے تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اصلی ہے یا پھر شارجہ انڈسٹریل ایریا کے کسی مقام پر نوسربازوں نے باتھ ٹب میں تیار کیا ہے۔متحدہ عرب امارات میں جو جعلی مصنوعات بڑی مقدار میں پکڑی جاتی ہیں اُن میں سرفہرست کاسمیٹکس، اس کے بعد سپیئر پارٹس اور پھر تیسرے نمبر پر پرفیومز ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پرفیومز ہمیشہ بڑے اسٹورز سے خریدیں تاکہ انہیں اصل چیز مِل سکے۔ یقینا ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ بھاؤ تاؤ کر کے کوئی بھی چیز نسبتاً کم دام میں خرید لے تاہم اگر کوئی پرفیوم یا کاسمیٹک مصنوعات انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہے تو جان لیں کہ یہ سو فیصد جعلی ہے۔ایک معروف برانڈز کے ریٹیلرز صابری کا کہنا تھا ” میں نے سڑکوں کے کنارے کچھ افراد کو کیرولینا ہریرا گُڈ گرل جیسا برانڈ صرف 75 درہم میں بھی فروخت کرتے دیکھا ہے حالانکہ اس کی اصل قیمت 520 درہم ہے۔ اب کوئی انتہائی بے وقوف ہی ہو گا جو قیمت کے اتنے بڑے فرق کے باوجود ان جعلی مصنوعات کو اصل سمجھ کر خرید لے گا۔ “ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جس پرفیوم پر بار کوڈ بنا ہے، وہ اصلی ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ اصل پرفیوم جیسا جعلی بار کوڈ تیار کرنا اصل سے بالکل مشابہ پرفیوم اور اس کی پیکنگ تیار کرنے سے کہیں زیادہ آسان کام ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اکثر آن لائن ویب سائٹس پر معروف برانڈ Versace کے نام سے جعلی پرفیومز دھڑا دھڑ بیچے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال صرف نومبر کے مہینے میں راس الخیمہ کے ایک فارم ہاؤس سے جعلی پرفیومز کی ایک لاکھ 19ہزار سے زائد بوتلیں پکڑی گئی تھیں، جن کی کُل مالیت 3 کروڑ 30 لاکھ درہم سے زائد بنتی ہے۔ 2019ء میں ہی دُبئی کے القصیص علاقے کے ایک گودام سے جعلی پرفیومز کی 20 ہزار بوتلیں پکڑی گئی تھیں۔