میرے اگر آپ کا بھی کوئی رب ہوتا تو آپ کی ان سے کیا مانگتے ؟ حضرت موسیٰ کا اللہ تعالیٰ سے ناقابل یقین مکالمہ

حضرت موسیٰ ؑ ان تین انبیاءکرام میں شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ سے براہ راست مخاطب ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تھی‘ پہلے نبی حضرت آدم ؑ تھے‘دوسرے حضرت موسیٰ ؑ اور تیسرے نبی اکرمﷺ ۔ حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالی سے گفتگو کےلئےکوہ طور پر تشریف لے جاتے تھے‘ کوہ طور

صحرائے سینا میں واقع ہے‘ یہ دو ہزار دو سو پچیس میٹر بلند پہاڑ ہے‘ اس پہاڑ پر حضرت موسیٰ ؑ کے دور کا درخت بھی موجود ہے اور وہ چٹان بھی جس پر حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصاءمارا تھا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تھے‘حضرتموسیٰ ؑ کا عصاءاستنبول کے توپ کاپی میوزیم میں رکھا گیا ہے‘ حضرت موسیٰ ؑ نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے عجیب سا سوال کیا‘ آپ ؑنے پوچھا”یا باری تعالیٰ اگر آپ کا بھی کوئی رب ہوتا تو آپ اس سے کیا مانگتے“اللہ تعالیٰ نے جواب دیا”میں اس سے صحت مانگتا“ اس جواب میں زندگی کا سب سے بڑا راز پوشیدہ ہے۔ آپ اگر صحت مند ہیں تو آپ زندہ ہیں ورنہ دوسری صورت میں آپ کی زندگی موت سے بدتر ہو جاتی ہے۔دنیا میں ہر سال کروڑوں لوگ بیماریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے موت کی دعا مانگتے ہیں‘ انسان کی اس مجبوری کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کے 41 ممالک نے ناقابل علاج امراض میں مبتلا مریضوں کو ان کی رضا مندی سے زہرکا انجکشن لگانے کی اجازت دے دی ہے‘ اس اجازت کو انگریزی میں یوتھنیزیا کہا جاتا ہے‘ آپ صحت کی قدر کا اندازہ اس حقیقت سے لگا سکتے ہیں۔آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔ جبکہ دوسری جانب ایک واقعہ کے مطابق کہتے ہیں کہ ایک امریکی ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو ایک روٹی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا،اس نے بجائے انکار کے اعتراف کیا

کہ اُس نے چوری کی ہے اور جواز یہ دیا کہ وہ بھوکا تھا اور قریب تھا کہ وہ مر جاتا ! جج کہنے لگا ” تم اعتراف کر رہے ہو کہ تم چور ہو ،میں تمہیں دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس یہ رقم نہیں اسی لیے تو تم نے روٹی چوری کی ہے ،لہٰذا میں تمہاری طرف سے یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں ”مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے،اور لوگ دیکھتے ہیں کہ جج اپنی جیب سے دس ڈالر نکالتا ہے اور اس بوڑھے شخص کی طرف سے یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرنے کا حکم دیتا ہےپھر جج کھڑا ہوتا ہے اور حاضرین کو مخاطب کر کےکہتا ہے ” میں تمام حاضرین کو دس دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اس لیے کہ تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں ایک غریب کو پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چوری کرنا پڑی ”اُس مجلس میں 480 ڈالر اکھٹے ہوئے اور جج نے وہ رقم بوڑھے ” مجرم ” کو دے دی۔کہتے ہیں کہ یہ قصہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں غریب لوگوں کی مملکت کی طرف سے کفالت اسی واقعے کی مرہون منت ہے سیدنا عمر رضی اللّه عنہ چودہ سو سال پہلے ہی یہ کام کر گئے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کا وظیفہ جاری کرنے کے حکم دےدیا)کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمارے ١٠(دس) روپے ہمارے لئے اتنی اھمیت نہیں رکھتے جتنے کہ اس لاچار کے لئےرکھتے ہیں جو جانے کب سے بھوکا ہے۔۔۔تبدیلی کے لیئے ہمیں خود کو بدلنا ہے۔۔آئیے مل کر ہم سب بھی اپنی سوچ بدلیں۔۔کسی کی خوشی کا موجب بننا ہی سب سے بڑی خوشی ہے۔۔۔