بھائی آو میں تمھیں بتاو بابا نے کسطرح بکری کوزبح کر کے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔۔۔۔۔ تاریخ اسلام سےبھائی کو بھائی کے زبح کرنے کا دلخراش واقعہ

غزوہِ خندق میں جب خندق کھودی جا رہی تھی تو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی اہلیہ محترمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مقدس پر بھوک کے آثار محسوس ہو رہے تھے، کیا تمہارے پاس کھانے پینے کے

لئے کوئی چیز ہے؟ جواب دیا تھوڑے سے جَو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ اس کے بعد اس خوش قسمت صحابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے جَو پیس لئے، بکری کے بچے کو ذبح کروایا اور کھانا تیار کیا۔حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ مُقامِ خندق پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت از خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ اور دوسری طرف حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر ایک حادثہ پیش آ گیا کہ اُن کے دو لڑکے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا کہ آؤ میں تجھے دکھاؤں کہ والدہ نے بکری کیسے ذبح کرائی۔ یہ کہا اور اپنے بھائی کو ذبح کر ڈالا۔ جب ان کی والدہ نے خون بہتے دیکھا تو چِلا اٹھی۔ لڑکا پریشانی کے عالم میں بھاگا اور تنور میں گر کر شہید ہو گیا۔ انہوں نے دونوں کو مکان کے اندر کمبل میں چھپا دیا اور خود سرکارِ دو عالم کے لئے کھانا تیار کرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مہاجرین و انصار کو لئے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر تشریف لے آئے۔ حالانکہ ان کا گھر چھوٹا سا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر! کیا تم چاہتے ہو اللہ تعالٰی تمہارے گھر کو کشادہ فرما دے؟ عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو زانو بیٹھ کر دعا فرمانے لگے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں میں دیکھ رہا تھا چھتیں بُلند ہو رہی ہیں صحن کشادہ و فراخ ہو رہا ہے

اور دیوار پیچھے ہٹ رہی ہے۔ )سبحان اللہ (یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے ازخود کھانا نکالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دس دس آدمیوں کی جماعت کو بلاتے جاؤ۔ یہاں تک کہ سب صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کھانا کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے طلب فرمایا۔ نیز فرمایا اے جابر! اپنے بچوں کو بھی بلاؤ تا کہ وہ میرے ساتھ کھانا کھائیں۔ بچوں کی والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ آرام کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تو ان کے ساتھ ہی کھائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کمرے میں داخل ہو کر ان بچوں کے پاس پہنچ گئے، کپڑا اٹھایا تو انہیں زندہ پایا گویا کہ وہ ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ کو دائیں اور ایک کو بائیں بٹھایا پھر بچوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے۔ اے جابر! میں تمہیں ایک خبر دیتا ہوں جس کی جبریل نے مجھے اطلاع دی۔ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ماجرا کہہ سنایا جس طرح انہیں پیش آیا تھا۔ اس پر حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کی اہلیہ محترمہ بے حد مسرور ہوئے اور انہیں بہت ہی زیادہ خوشی ہوئی۔)زینت المخافل ص ٣٤٩(