“گھر کی مرغی دال برابر” وہ بھی ایک وقت تھا جب بکرے، بھیڑ یا گائے سے کہیں زیادہ مہنگا گوشت مرغی کا ہوا کرتا تھا لیکن اب دنیامیں مرغی اتنی سستی کیوں ہے؟ وہ تلخ حقائق جو کوئی نہیں جانتا

دنیا میں اس وقت 23 ارب مرغیاں ہیں۔ تعداد میں کسی بھی اور پرندے سے دسیوں گنا زیادہ۔ یہ پرانی بات نہیں جب یہ صرف امیروں کی خوراک ہوا کرتی تھی۔ “گھر کی مرغی دال برابر” جیسے محاوروں سے لے کر لٹریچر اور کلچر میں مرغی کھانا امارت کا نشان سمجھا جاتا تھا۔

بکرے، بھیڑ یا گائے سے کہیں زیادہ مہنگا گوشت اس پرندے کا ہوا کرتا۔ پچھلی دہائیوں میں اس کی قیمت دوسرے پروٹین کے مقابلے میں انتہائی تیزی سے کم ہوئی ہے اور اب یہ دنیا بھر میں عام صارف کی پہنچ میں ہیں اور محض خاص مواقع کی خوراک نہیں رہی۔ یہ سب ہوا کیسے؟چکن فارمنگ کی بدلتی تکنیک اس کی بڑی وجہ ہے۔ مرغی کو آٹھ ہزار سال قبل انسان نے ڈومیسٹیکیٹ کیا۔ یہ پہلے جنوب مشرقی ایشیا کا ایک جنگلی پرندہ تھا۔ 1940 کی دہائی میں سب سے پہلے اس کی ایک سپر نسل تیار کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ امریکہ میں 1948 میں “مستقبل کی مرغی” کے نام سے ایک مقابلہ منعقد کیا گیا جس کے بعد یہ پرندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل گیا۔ سپربریڈ میں ایسا پرندہ چاہیے تھا جس کے بڑھنے کی رفتار تیز ہو اور یہ اپنی خوراک کو پروٹین میں زیادہ ایفیشنسی سے بدل سکے۔ قیمت کو کم کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ اس مقابلے کی کامیابی نے ثابت کیا کہ بہتر گوشت کی خاصیتوں والا پرندہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔آج کا برائلر مرغ، جس کو صرف گوشت کے لئے پالا جاتا ہے، یہ اس کا نتیجہ ہے۔ یہ انتہائی تیزی سے بڑھنے والا پرندہ ہے اور صرف انسانی ٹیکنالوجی کی سپورٹ کی وجہ سے زندہ رہ سکتا ہے۔ جدید چکن فارم ایک مکمل طور پر بند سسٹم ہے۔ اس میں مصنوعی روشنی ہوتی ہے، مصنوعی درجہ حرارت ہوتا ہے۔ عملی طور پر ان کی زندگی کا ہر سٹیپ ٹیکنالوجی کنٹرول

کرتی ہے۔ پچھلے پچاس سال میں مرغی میں اتنی زیادہ تبدیلی آئی ہے کہ اس کا اوسط وزن چار گنا ہو چکا ہے۔ (اگر آپ 1970 کی دہائی میں مرغی لینے بازار جاتے تو ایک کلوگرام وزنی پرندہ بھاری سمجھا جاتا تھا)۔ ایک فارم میں اس کی کیپیسٹی کے لحاظ سے چند ہزار چوزوں کو ایک وقت میں داخل کیا جاتا ہے۔ روز کا حساب رکھا جاتا ہے۔ چونتیسویں سے انتالیسوں روز کے درمیان یہ مذبح خانوں کو بھیجی جانے کے لئے تیار ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اگلے سات سے دس روز تک اس جگہ کی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے اور اگلی کھیپ کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک پولٹری فارم سال میں ساتھ سے آٹھ کھیپ پیدا کرتا ہے۔ ایک اچھے فارم کو چلانے کے لئے افرادی قوت بھی بہت کم درکار ہے۔ یہ ایفی شینسی ہے، جو صارف تک کم قیمت کی صورت میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس کی مسلسل اور تیزی سے بڑھتی کھپت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم لوگ اس کا گوشت پسند کرتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے گوشت کے پیچھے ایسے ہی ہے کہ کم سے کم لاگت میں جانور کا گوشت انسانوں کی خوراک کے لئے تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتالیس دنوں کے اندر اندر مرغی کو اس حالت میں پہنچا دینا پولٹری فارمنگ کی کامیابی ہے۔ اس کے مقابلے میں باڑے کی مرغی دس سال تک کی زندگی رہ سکتی تھی۔ یہ ایک حیران کن اور تیزرفتار سفر ہے۔عالمی سکیل پر مصنوعی بریڈنگ کی اپنی

ایک قیمت ہے۔ اگر یہ مرغیاں اپنی پلانڈ زندگی سے زیادہ رہ جائیں تو زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کا جسم ایک خاص حد سے زیادہ تیزرفتار سے بڑھنے کا بوجھ نہیں سہار سکتا اور بڑھتا وزن ان کے اندرونی اعضاء پر پریشر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے ہی چھوٹے جین پول پر انحصار کرنا ایک اور تشویش ناک مسئلہ ہے۔ ایک فارم میں مرغیوں کی ایک ہی جینیات ہیں اور ایک ہی خوراک۔ اس لئے یہ بیماریوں کے خلاف کچھ بھی مدافعت نہیں رکھیتیں۔ اگر ایک پرندہ متاثر ہو گا تو تمام پرندے متاثر ہوں گے۔ اس لئے ان کو مکمل طور پر بند اور کنٹرولڈ سسٹم میں رکھا جاتا ہے۔پولٹری فارمنگ کی دو مزید اقسام ہیں۔ فری رینج چکن، جن میں مرغیوں کو کچھ بھاگنے دوڑنے کی آزادی ہوتی ہے اور آرگینک چکن جس میں ان کو سنتھیٹک خوراک نہیں دی جاتی۔ فری رینج چکن کی زندگی کم سے کم 56 دن ہے جبکہ آرگینک چکن کی زندگی 81 دن ہے جبکہ عام پولٹری فارم کی انٹینسو رئیرڈ مرغی 35 سے 40 دن کے درمیان۔ فی سکوائیر میٹر میں انٹینسو رئیرنگ میں 17 مرغیاں آتی ہیں، فری رینج میں 12 جبکہ آرگینک میں 10۔ اس سب کا اثر اس کی قیمت پر پڑتا ہے۔ اور صارف کے لئے بڑی اہمیت قیمت کی ہے جس کی وجہ سے آرگینک یا فری رینج کی ڈیمانڈ بہت کم ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والی 95 فیصد مرغیاں اب انٹینسو رئیرنگ والی ہیں۔پالا وہی جاتا ہے جس کی مارکیٹ ہو اور جو بکتا ہو۔ بکتا وہ ہے جو سستا ہے اور سستا وہ ہے جو ایفی شنٹ ہے۔ خوراک کو پروٹین میں بدلنے میں یہ کام پولٹری فارم کے برائلر چکن سے بہتر کوئی اور جانور نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے یہ اب دنیا میں اربوں کی تعداد میں ہیں۔ اس وجہ سے ان کو مزید ایفی شنٹ اور سستا کرنے کی دوڑ جاری رہے گی۔