جسے خدارا ہ سمجھا دے اسی کوئی بھٹکا نہیں سکتا اور جسے وہ راہ بھلا دے اسے کوئی راہ سمجھا نہیں سکتا۔۔۔۔قرآن سے جواب دینے والی عورت کا ایمان افروز واقعہ

حضرت عبداللہ واسطی فرماتے ہیں میں نے عرفات میں ایک عورت کو دیکھا جو تنہا کھڑی کہہ رہی تھی ،ترجمہ:جسے خدارا ہ سمجھا دے اسی کوئی بھٹکا نہیں سکتا اور جسے وہ راہ بھلا دے اسے کوئی راہ سمجھا نہیں سکتا۔ میں نے معلوم کرلیا کہ عورت راستہ بھول گئی ہے ۔

میں نے اس کے قریب جا کر اس سے کہا اے نیک عورت ! تو کہاں سے آئی ہے ؟ تو بولی ۔۔میں سمجھ گیا کہ یہ بیت المقدس سے آئی ہے میں نے پوچھا ۔تم کہاں کیوں آئی ہو تو بولی ۔۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ حج کیلئے آئی ہے ۔میں نے پوچھا آپ کا شوہر بھی ساتھ ہے یا آپ اکیلی ہیں ؟تو بولی۔۔۔اس میں ارشاد تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے ۔ نے پوچھا اونٹ پر سوار ہوگی ؟تو بولی ۔۔۔چنانچہ میں نے سواری کیلئے اونٹ بٹھا دیا اور وہ سوار ہونے لگی تو بولی۔۔۔مطلب یہ کہ اپنی نظریں دوسری طرف کر لو ۔چنانچہ میں نے نظر دوسری طرف کر لی اور وہ سوار ہوگئی۔ پھر میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے تو بولی ،واذکرنی الکتاب مریم ۔مجھے پتہ چل گیا کہ اس کا نام مریم ہے ۔میں نے پوچھا آپ کی اولاد ہے ؟تو بولی ۔۔۔میں نے سمجھ لیاکہ اس کے چند بچے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ ان کے نام کیا ہیں تو بولی۔۔۔مطلب یہ کہ ان کے نام موسیٰ، ابراہیم اور دائود ہیں ۔میں نے پوچھا وہ تمہارے بچے کون سی جگہ ہیں تاکہ میں ان کی تلاش کروں تو بولی ۔۔۔میں نے سمجھ لیا کہ وہ قاتلوں کے رہبر ہیں ۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا کچھ کھائو گی تو بولی۔۔۔یعنی میں روزے سے ہوں ۔چنانچہ جب ہم ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے بیٹوں کے پاس پہنچے تو وہ اپنی ماں کو دیکھ کر رونے لگے اور کہنے گے ،یہ ہماری ماں آج تین دن سے ہم سے علیحدہ ہوکر راستہ بھول گئی تھی ۔ پھر تھوڑی دیر گزری تو وہ اپنے بیٹوں سے کہنے لگی یعنی اس نے میرے لئے بازارسے کچھ منگوانے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نیک عورت کی حالت خراب ہوگئی اور اس کا آخری وقت آپہنچا، میں اس کے قریب پہنچا اور مزاج پرسی کی تو بولی ۔۔۔چنانچہ اس پاک باز عورت کا انتقال ہو گیا ۔ سبق:ہر مرد اور عورت کو قرآن پاک سے شغف اور محبت لازم ہے ۔افسوس کہ آج کل ہمیں قرآن پاک سے پیار نہ رہا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ عورتیں بھی اپنی ہر بات قرآن پاک کی آیات سے کرتی تھیں ۔