میں نے جہنم کی آگ میں سب سے زیادہ جلتے ہوئے عورتوں کو دیکھا ہے کیونکہ۔۔۔۔۔ رسول اکرم ﷺ عید والے دن عورتوں کی جماعت کے لیے بنی قطار سے اس طرح کیوں مخاطب ہوئے؟ ایمان افروز واقعہ

عصری معاشروں میں بسنے والے لوگ مختلف طرح کے معاشی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ جہاں پر کتاب وسنت نے ان مسائل کے حل کے حوالے سے بہت ہی خوبصورت تدابیر کو بیان کیا گیاہے ‘جن میں سے ایک اہم تدبیر اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ

کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ سباء کی آیت نمبر 39 میں اس بات کا اعلان فرماتے ہیں ”اور جو تم خرچ کرتے ہو کوئی چیز تو وہ عوض دیتا ہے اس کا (یعنی اور دیتا ہے) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘اسی طرح اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 274میں ارشاد فرماتے ہیں”وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات اودن ‘ چھپا کر اور اعلانیہ طور پر تو ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس۔‘‘اس کے برعکس اپنے مال کو نہ خرچ کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ ماعون کی آیت نمبر 123میں اس بات کا ذکر کیا کہ ”کیا آپ نے دیکھا اسے جو جھٹلاتا ہے یومِ جزا کو ‘ تو یہ وہ شخص ہے‘ جو دھکے دیتا ہے یتیم کو اور ترغیب نہیں دیتا مسکین کو کھانا کھلانے پر۔‘‘اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ مدثر میں جہنم میں لے کر جانے والے گناہوں میں نماز کی عدم ادائیگی کے بعد مساکین کو کھانا نہ کھلانے کا ذکر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ توبہ کی آیت نمبر34‘35 میں اسی حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں ”اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو وعید سنا دیں انہیں دردناک عذاب کی‘ جس دن تپایا جائے اس کو جہنم کی آگ میں (سونا ‘چاندی) پھر دغا جائے گا اُ ن سے ان پیشانیوں‘پہلوؤں اور پشتوں کو ۔‘‘اسی طرح احادیث سے بھی صدقے کے

متعلق بہت سی باتیں واضح ہوتی ہے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں: 1۔ جہنم سے دوری کا سبب:صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ رسول اکرم ﷺعید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ ؐعورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو‘ کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ ؐنے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔2۔ قیامت کے دن سائے کا ملنا: بخاری شریف میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے‘ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا‘ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ‘ دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا‘ تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے‘ چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے‘ پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا‘ لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں‘ چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا‘ مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (بے ساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔3۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حلال مال سے کیے گئے صدقے کو بڑھاتا ہے:بخاری شریف میں مذکور ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے‘ پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کیلئے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے ‘تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔4۔ معمولی صدقے کے سبب آگ سے بچاؤ: بخاری شریف میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں دو شخص آئے ‘ ایک فقر و فاقہ کی شکایت لیے ہوئے تھا اور دوسرے کو راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو بہت جلد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا۔ ( اور اسے راستے میں کوئی خطرہ نہ ہو گا ) اور رہا فقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ( مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے یہ حال نہ ہو جائے کہ ) ایک شخص اپنا صدقہ لے کر تلاش کرے ‘لیکن کوئی اسے لینے والا نہ ملے‘پھر اللہ تعالیٰ کے

درمیان کوئی پردہ نہ ہو گا اور نہ ترجمانی کے لیے کوئی ترجمان ہو گا‘ پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں دیا تھا‘ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں بھیجا تھا۔ پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا پھر بائیں طرف دیکھے گا اور ادھر بھی آگ ہی آگ ہو گی۔ پس تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے ہی ( کا صدقہ کر کے اس سے اپنا بچاؤ کر سکو ) اگر یہ بھی میسر نہ آ سکے تو اچھی بات ہی منہ سے نکالے۔5۔ محنت مزدوری کرکے صدقہ کرنا: بخاری شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو صحابہؓ میں سے بہت سے بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد ( غلہ یا کھجور وغیرہ) حاصل کرتے۔ ( جسے صدقہ کر دیتے )۔ 6۔ تونگری کی امید اور غربت کے خوف کے دوران صدقہ کرنا:بخاری شریف میں مذکور ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو۔ تمہیں ایک

طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مالدار بننے کی تمنا اور امید ہو اور ‘ اس صدقہ خیرات میں‘ ڈھیل نہ ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آ جائے تو اس وقت تو کہنے لگے کہ فلاں کیلئے اتنا اور فلاں کیلئے اتنا حالانکہ وہ تو اب فلاں کا ہو چکا۔7۔ اُمہات المومنین میں سے زیادہ صدقہ کرنے والی کی فضیلت: بخاری شریف میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺکی بعض بیویوں نے آپ ؐسے پوچھا کہ سب سے پہلے ہم میں آخرت میں آپﷺ سے کون جا کر ملے گی‘ تو آپ ؐنے فرمایا: جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو گا۔ اب ہم نے لکڑی سے ناپنا شروع کر دیا‘ تو سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھ والی نکلیں۔ ہم نے بعد میں سمجھا کہ لمبے ہاتھ والی ہونے سے آپ ؐ کی مراد صدقہ زیادہ کرنے والی سے تھی۔ اورزینب رضی اللہ عنہا ہم سب سے پہلے نبی کریم ﷺسے جا کر ملیں ‘ صدقہ کرنا آپ ؐکو بہت محبوب تھا۔8۔ غیر مستحق کو صدقہ جانے کے باوجود صدقے کا قبول ہو جانا: بسا اوقات انسان اچھی نیت سے صدقہ کرتا ہے ‘لیکن صدقہ غیر مستحق کو چلا جاتا ہے‘ ایسی صورت میں انسان کو اس حدیث کو مدنظر رکھنا چاہیے؛ بخاری شریف میں مذکور ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک شخص نے ( بنی اسرائیل میں سے ) کہا کہ مجھے ضرور صدقہ ( آج رات ) دینا ہے؛ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ( ناواقفی

سے ) ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ آج رات کسی نے چور کو صدقہ دے دیا۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ (آج رات ) میں پھر ضرور صدقہ کروں گا؛ چنانچہ وہ دوبارہ صدقہ لے کر نکلا اور اس مرتبہ ایک فاحشہ کے ہاتھ میں دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو پھر لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج رات کسی نے فاحشہ عورت کو صدقہ دے دیا۔اس شخص نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے ‘ میں زانیہ کو اپنا صدقہ دے آیا۔ اچھا آج رات پھر ضرور صدقہ نکالوں گا؛ چنانچہ اپنا صدقہ لیے ہوئے وہ پھر نکلا اور اس مرتبہ ایک مالدار کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں کی زبان پر ذکر تھا کہ ایک مالدار کو کسی نے صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ اے اللہ! حمد‘ تیرے ہی لیے ہے۔ میں اپنا صدقہ ( لاعلمی سے ) چور ‘ فاحشہ اور مالدار کو دے آیا۔ ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) بتایا گیا کہ جہاں تک چور کے ہاتھ میں صدقہ چلے جانے کا سوال ہے۔ تو اس میں اس کا امکان ہے کہ وہ چوری سے رک جائے۔ اسی طرح فاحشہ کو صدقہ کا مال مل جانے پر اس کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے اور مالدار کے ہاتھ میں پڑ جانے کا یہ فائدہ ہے کہ اسے عبرت ہو اور پھر جو اللہ عزوجل نے اسے دیا ہے ‘ وہ خرچ کرے۔ ان آیات مبارکہ اور احادیث طیبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی خوشنودگی کے حصول اور دنیا اور آخرت کی کامیابی کیلئے اللہ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)