قید اور آزادی کے چکر میں پھنسے معصوم پرندے۔۔۔ ایک سبق آموزتحریر

لاہور کے علاقہ گلبرگ، داتا دربار، آزادی چوک ، لبرٹی ، ایم ایم آلم روڈ اور انارکلی کی مختلف سڑکوں پر روزانہ دسیوں پرندے آزاد کروانے والے نظر آتے ہیں ، یوں تو پرندے آزاد کرنے کا کاروبار سارا سال ہی چلتا رہتا ہے لیکن ماہِ رمضان میں یہ دھندا اپنے عروج

پر پہنچ جاتا ہے۔ شہروں کے تقریباً تمام مین بازاروں میں کوئی نہ کوئی پرندوں سے بھرا ڈربہ لیے ضرور نظر آ جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 10 لاکھ پرندوں کو پہلے قید کیا جاتا ہے اور پھر انہیں صدقہ کے نام پر آزاد کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ ایک پنجرے والا ڈیڑھ دو سو کے قریب پرندے فروخت کرتا ہے ۔ سڑکوں پر جن پرندوں کو آزاد کروا کے ثواب کمانے کا کاروبار چل رہا ہے ان میں طوطا، لالی (مینا) فاختہ، کوا ،بیلبر عام چڑیا ، بیّا، آسٹریلین طوطے (بجیز) اور جنگلی کبوتر شامل ہیں جن کی نسل میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ سالانہ ان 10 لاکھ پرندوں میں سے 35 % پرندے بھوک ،پیاس ،دھوپ ڈر اور زخمی ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اور اس قید اور آزادی کے چکر میں ان پرندوں کے بے شمار بچے اضافی طور پر موت کے مونہ میں چلے جاتے ہیں ۔۔۔جب پرندوں کو قید کر لیا جاتا ہے تو پیچھے ان کے گھونسلوں میں ان کے بچے بھوک پیاس سے ہی مڑ جاتے ہیں ۔۔گرمیوں کا موسم ان پرندوں کی بریڈنگ کا وقت ہے اور اسی موسم میں یہ کاروبار اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے ۔۔۔لاہور ،فیصل آباد ، اسلام آباد، کراچی اور پشاور سمیت کئی شہروں میں یہ دھندا اپنے عروج پر ہے ۔۔۔۔۔اور لوگ اس نیت سے پرندے آزاد کراتے ہیں کہ اس سے انہیں اجر و ثواب ملے گا، حلاکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ ان پرندوں کی قید اور

پھر ان کے اور ان کے بچوں کے کِل کِل کر مرنے کا سبب بنتے ہیں ۔۔یہی لوگ اس کاروبار کو ہوا دے رہے ہیں ۔ براۓ مہربانی صدقہ کے نام پر یہ کام مت کریں ۔اس طرح آپ لوگ اس گناہ اور غیر اخلاقی کاروبار کے حصہ دار بن رہے ہیں ۔آپ لوگوں کی وجہ سے ہی ان پرندوں کو قید اور پھر موت کی سزا ملتی ہے ۔۔خدارا کچھ سوچیں ۔۔۔مت خریدیں یہ پرندے ۔۔۔اس کاروبار کو یہیں لگام دے دیں ۔۔۔۔یہ لوگ ان پرندوں کو صرف اس لئے پکڑتے ہیں کیونکہ آپ لوگ انہیں خرید کر آزاد کرتے ہیں ۔۔۔۔۔اگر آپ لوگ پرندے خرید کر آزاد کرنے والا کام نہیں کریں گے تو یہ کاروبار بھی بند ہو جاۓ گا ۔۔جب کوئی خریدنے والا ہی نہیں ہوگا تو کوئی کیوں ان پرندوں کو پکڑے گا ۔۔اگر آپ لوگ یہ کام چھوڑ دیں تو ایک دو ماہ میں ہی یہ کاروبار ختم ہو جاۓ گا ورنہ پھر صدقہ کے نام پر معصوموں کو قید کیا جاتا رہے گا ۔۔۔ بہت سارے پرندے ایسے ہیں جن کی نسل میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے۔ مرغابی، گھوگھی، بیا بیلبر ،جنگلی کبوتر جل مرغ، تیتر اور بٹیر ایسے پرندے ہیں جو ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اس مسئلہ کی جانب توجہ نہ دی گئی تو عنقریب یہ پرندے صرف بچوں کی کتابوں اور کہانیوں یا چڑیا گھروں کی زینت ہی ہوں گے حقیقی دنیا میں ان کا وجود ختم ہو جائے گایہاں ایک بات اہم ہے کہ ۔۔۔۔۔ حلال پرندوں کو خوراک

کے نیت سے پکڑنا تو جائز ہے اور مشکل یا مصیبت میں پھنسے پرندوں کو آزاد کرانے میں بھی بظاہر کوئی برائی نہیں ہے لیکن پرندوں کو قید کرنا بہت بڑا گناہ اور غیر شرعی عمل ہے، اسی طرح حرام پرندوں کا صدقہ دینا بھی جائز نہیں ہے، جو لوگ پرندوں کو صدقہ کے طور پر آزاد کراتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ کسی غریب یا محتاج کی مدد کردیں، یا ویسے ہی آزاد پرندوں کو دانہ ڈال دیں۔پرندے بیچنے والوں کے خلاف اکثر کارروائی ہوتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کچھ پرندے ایسے ہیں جن کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے جن میں کوے اور اس کی نسل کے دیگر پرندے شامل ہیں اسی طرح طوطوں میں بجرا بھی شیڈول میں شامل نہیں ہے، البتہ عام چڑیا کی نسل چونکہ ختم ہوتی جارہی ہے اس لئے انہیں پکڑنا ،قید کرنا قانوناً جرم ہے۔ ۔ پرندے قید کرنے والوں کو بہت معمولی جرمانہ ہوتا ہے اور ان سے پرندے لے کر آزاد کردیئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کاروبار مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔ محکمہ جنگلی حیات پنجاب پابندی کے باوجود پرندوں کو غیر قانونی طور پر قید کرنے اور پھر پیسے لے کر صدقے کے نام پر ان کی آزادی کے کاروبار کو ختم کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ خدار یہ کام مت کریں ۔۔۔۔خود بھی بعض رہیں اور اپنے رشتہ داروں دوستوں اور جاننے والوں کو بھی اس سے منع کریں ۔۔۔ چاہے ۔۔ اس پوسٹ کو کاپی کریں شیئر کریں مگر کسی نہ کسی طرح لوگوں تک پہونچایں ۔۔۔تاکہ لوگوں کو آگاہی ہو اور یہ گھنونا کاروبار یہیں بند ہو جاۓ ۔۔۔۔۔۔