سائنس دانوں نے تھری ڈی پرنٹر پر مریض کے اپنے خلیوں کو استعمال کر کے وہ بنا ڈالا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ ہوشربا ایجاد

اسرائیل میں سائنس دانوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ایک مریض کے اپنے خلیوں سے ایک مکمل دل بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے- اس دل میں تمام مسلز، خون کی شریانیں اور وریدیں، اور مکمل چیمبرز موجود ہیں- اس پرنٹر کے لیے تمام میٹیریل

مریض کے اپنے جسم سے حاصل کیا گیا جس وجہ سے یہ امید کی جاتی ہے کہ مریض کا جسم اس دل کو ریجیکٹ نہیں کرے گا-دل کی ٹرانسپلانٹ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا مدافعتی نظام کسی بھی بیرونی خلیے کو پہچان کر اس پر حملہ کر دیتا ہے- اس وجہ سے آرگن ٹرانسپلانٹ کے مریضوں میں مدافعتی نظام کو عمداً کمزور کر دیا جاتا ہے جس سے اس ٹرانسپلانٹ شدہ عضو کی ریجیکشن کا خطرہ تو کم ہو جاتا ہے لیکن عمومی طور پر مریض کو دوسری بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- اس نئی ٹیکنالوجی سے ٹرانسپلانٹ کے بعد دل کی ریجیکشن کا خطرہ عملاً ختم ہو جائے گااس دل کو بنانے کے لیے سائنس دانوں نے مریض کے جسم سے مختلف ٹشو نکالے اور ان میں سے مختلف قسم کے خلیوں کو الگ الگ کیا- ان خلیوں کو جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے سٹیم سیل میں تبدیل کیا گیا اور ان سٹیم سیلز کو دل کے خلیوں میں تبدیل کیا گیا- اس کے علاوہ مریض کے جسم سے ہی میٹیریل حاصل کر کے ایک gel یعنی گاڑھا مائع بنایا گیا تاکہ ان خلیوں کو اس جیل میں ملا کر پرنٹر کو فیڈ کیا جا سکےیہ مصنوعی دل ابھی اس قابل نہیں ہے کہ اسے کسی انسان کے جسم میں نصب کیا جائے کیونکہ اس کا سائز بہت چھوٹا ہے- اس دل کی جسامت خرگوش کے دل کے برابر ہے- تاہم تکنیکی طور پر انسان کے دل کے جسامت کے دل بنانا بھی ممکن ہے اگرچہ اس کا پراسیس زیادہ پیچیدہ ہو گا- فی الحال اس ٹیکنالوجی سے جانوروں کے لی دل بنا کر جانوروں مین نصب کیے جائیں گے اور ان پر تجربات کر کے یہ دیکھا جائے گا کہ اس ٹیکنالوجی سے بنائے گئے دل کو کیسے ٹیسٹ کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ برسوں تک درست کام کر پائے گا- اس کے علاوہ ان تجربات سے اس ٹیکنالوجی میں مزید بہتری ممکن ہو گی تاکہ جب یہ ٹیکنالوجی انسانی مریضوں کے لیے دل بنانے کا کام شروع کرے تو ڈاکٹرز انتہائی اعتماد سے اسے استعمال کر سکیں اور مریضوں میں نیا دل نصب کرنے کے بعد پیچیدگی کا احتمال کم سے کم ہو