میں روز آپ کے پیچھے نمازپڑھتا ہوں آپ نماز کے بعد اچانک چپکے سے کہاں چلے جاتے ہیں؟ پڑھیئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک بڑھیا کا ایمان افروز واقعہ

خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے پڑھتے۔ حضرت ابوبکر نماز کے فوری بعد کہیں روانہ ہوجاتے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کو اکثر نوٹ کرتے

وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوتی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے۔ ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے‘سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے،کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا‘اے اللہ کی بندی!تم کون ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا‘ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں‘ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا‘ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے‘ہمارے لئے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دھوتا ہے اور یہاں ہمارے پاس رکھ کرچلا جاتا ہے۔ حضرت عمر یہ سن کر رو پڑے اور کہا‘ اے ابو بکر! آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ کے بعد آنے والے خلیفہ اس امتحان میں کیسے کامیاب ہوں گے۔ اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر۔