جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ : وہ وقت جب حضرت عمر کے ایک فیصلے نے ہزاروں کافروں کو مسلمان کر دیا۔۔۔۔۔ پڑھیے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عدل و انصاف کا ایمان افروز واقعہ

سمر قند کے غیر مسلموں (ذمیّوں ) نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک وفد بھیجا ، اس وفد کے سربراہ نے آپ سے شکایت کی کہ مسلم سپہ سالار نے آپکی اسلامی شریعت کے اصولوں سے انحراف کیا ہے اور ہم سے کوئی بات چیت کیے

بغیر ہمارے شہر پر دھا وا بول دیا ہے اوراس پر قبضہ کرلیا ہے۔لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیں انصاف دلائیں ،آپ نے سمرقند کے گورنر سلیمان ابن ابی سریٰ کو گرامی نامہ لکھا کہ سمر قندکے شہریوں نے مجھ سے اپنے اوپر ہونیوالے ظلم کی شکایت کی ہے، میرا خط ملتے ہی ان کا مقدمہ سننے کیلئے کوئی قاضی مقرر کرو، اگر اس قاضی نے انکے حق میں فیصلہ کردیا، تو وہ لوگ دوبارہ اپنا اقتدار سنبھال لیں گے اورمسلمان پہلے والے مقام پر واپس آجائینگے ۔ گورنرنے آپکے حکم کی تعمیل میں ایک قاضی کا تقرر کردیا ۔قاضی صاحب نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ذمیّوں کے حق میں فیصلہ دیا اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ شہر اورچھاونی خالی کردیں اوراپنے پہلے والے مقام پر واپس چلے جائیں۔وہاں جاکر اہل سمر قند سے مصالحت کی کوشش کریں، اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو پھر بیشک جنگ کا راستہ اختیار کریں۔عدل وانصاف کے اس مظاہرے کو دیکھ کر اہلِ سمر قند بہت حیران ہوئے، انھیں توقع نہ تھی کہ ایک مسلمان قاضی، مسلم لشکر کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیگا۔انھوں نے متفقہ طور پر طے کیا کہ ہم پہلی والی حالت میں ہی ٹھیک ہیں۔ہم نے مسلمانوں کا اقتدار دیکھ لیاہے، وہ کوئی ظلم وستم نہیں کرتے اور ہمارے ساتھ امن وامان کی زندگی بسر کرتے ہیں، جنگ کی صورت میں قتل وخون ہی ہوگااورنہ جانے کامیابی کس کی ہوگی لہٰذا ہمیں بخوشی مسلمانوں کا اقتدار قبول ہے۔ (تاریخ طبری) ایک بار حیرہ کے ایک مسلمان نے وہاں کے ایک غیر مسلم شہری کو قتل کردیا۔حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خبر ملی تو آپ نے وہاں کے گورنر کو لکھا کہ قاتل کو فوراً گرفتار کرواوراسکا معاملہ مقتول کے ورثاء کے سپرد کردو، اگر وہ بدلہ میں اسکی جان لینا چاہیں تو انھیں اختیار ہے اگر خون بہا یا معافی پر راضی ہوجائیں تو یہ انکی صوابدید ہے چنانچہ قاتل کوگرفتار کرکے معاملہ مقتول کے ورثاء کے سپردکردیا۔جنہوں نے قتل کے بدلے میں قتل ہی کو پسند کیا۔ (نصب الرایۃ)