امام شافعی رحمہ اللہ سے کہنا محمدﷺ نے میرے خواب میں آکرآپ کےلیے ایک آزمائش کا اعلان کیا ہے ۔۔۔۔پڑھیے ایمان کو جھنجوڑ دینے والا امام ابو حنیفہ کا خط

حاکمِ وقت کے کان میں کسی نے پھونک دیا کہ قرآن مخلوق ھے۔ یہ فتنہ عباسی خلیفہ مامون کے دور میں اٹھا اور مسلسل تین حکمرانوں (،مامون، معتصم اور واثق ) کے ادوار میں شدت سے جاری رھا پھر متوکل کے زمانے میں اپنے انجام کو پہنچا۔یہ فتنہ برپا کرنے والا شخص

قاضی احمد بن ابودائود تھا۔ یہ بڑا عالم فاضل تھا۔ معتزلی عقیدہ کا مالک تھا۔ خلیفہ مامون کے بہت قریب تھا۔ اس نے خلیفہ مامون کو پٹی پڑھائی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس عقیدے کی اشاعت کی جانی چاہیے اور دراصل یہ یہودیوں کا عقیدہ تھا۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ اس شخص نے قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ بشر مدلیسی سے لیا تھا۔ بشر مدلیسی نے جہم بن صفوان سے ٗجہم بن صفوان نے جعد بن درہم سے ٗ جعدبن درہم نے ربان بن سمعان سے اور ربان بن سمعان نے لبید بن اعصم یہودی کے بھانجے طالوت سے سیکھا تھا۔عیسائی حکمرانوں کی طرح انہوں نے جبر سے اس عقیدے کو عوام الناس پہ ٹھونسنے کی کوشش کی مگر لوگ جب بھی علماء کی طرف رجوع کرتے تو وھاں سے یہی فتوی جاری کیا جاتا کہ قرآن اللہ کا کلام ھے اس کی مخلوق نہیں جتنا بڑا عالم ھوتا اس کے فتوے کا اثر زیادہ لوگوں پہ ھوتا ،امام احمد بن حنبل علیہ رحمہ (164ھ-241ھ ) کو ایک دنیا پہچانتی تھی لہذا کوشش کی گئ کہ ان سے اس عقیدہ منوا لیا جائے تا کہ عوام کو قابو کرنا آسان ھو جائے امام احمد کے انکار پر آپ پر سختی کی گئی ،مامون نے تو کسی حد تک آپ کا لحاظ کیا اور سختی کو پابندیوں تک محدود رکھا ، مگر معتصم باللہ نے قید اور کوڑوں کی راہ اختیار کی آپ کو قید کر دیا گیا مگر جب دیکھا گیا کہ امام اپنی رائے سے

رجوع پر آمادہ نہیں تو آپ کو بھرے دربار میں بلوایا گیا رمضان کا مہینہ تھا اور منظر کچھ یوں تھا کہ امام احمد علیہ رحمہ بیڑیوں اور طوق میں لپٹے ھوئے تھے اور زنجیروں کا فالتو حصہ جو کہ کافی وزنی تھا امام احمد علیہ رحمہ کو ھی اٹھوایا گیا تھا ،، نقاھت آپ کے چہرے پہ صاف عیاں تھی معتصم نے آپ سے آخری بار پوچھا کہ آپ اپنی رائے سے رجوع کریں گے یا نہیں آپ نے جواب دیا کہ امیر المومنین ھم آپ کے نانا ھی کی امانت کا بار اٹھائے ھوئے ھیں جس کی حفاظت ھماری ذمہ داری ھے ، بخدا آپ اللہ یا اپنے نانا کا کوئی قول اس ضمن میں پیش کر دیں میں ایک لمحے میں اپے موقف سے باز آ جاؤں گا ورنہ جو امیر کی مرضی ھے وہ کر گزرے ۔ اس دن آپ کو 100 کوڑے مارے گئے ، ھر دس کوڑوں کے بعد کوڑے مارنے والا تبدیل ھو جاتا اور تازہ دم کوڑے مارنے والا شروع ھو جاتا ،، یہ سلسلہ کئی دن چلتا رھا ،کہا جاتا ھے کہ جتنے کوڑے امام احمد کو مروائے گئے کسی ھاتھی کو بھی مروائے جاتے تو وہ بلبلا اٹھتا مگر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اف تک نہ کی۔امام احمد بن حنبل علیہ رحمہ کی ثابت قدمی کے پیچھے امام شافعی کا ایک خط تھا۔ حالانکہ بہت سے علماء نے صرف خوف کی بنا پر خلق قرآن کو نہ چاہتے ہوئے قبول کرلیا تھا۔ لیکن امام احمد علیہ رحمہ ثابت قدم رہے امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک خط ربیع کے ہاتھ امام احمد کی طرف بھیجا۔ ربیع کہتے ہیں جس وقت میں ان کے پاس پہنچا ٗ وہ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہو رہے تھے۔ میں نے خط انہیں پیش کیا۔ آپ نے پوچھا ’’تم نے اس خط کو پڑھا ہے۔ میں نے بتایا کہ نہیں ٗ میں نے خط نہیں پڑھا۔ اب آپ نے خط کھول کر پڑھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے لکھا تھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے ٗ وہ فرماتے ہیں کہ احمد کو میرا سلام کہو… اور انہیں اطلاع دو کہ عن قریب خلقِ قرآن کے مسئلے میں ان کی آزمائش ہو گی… خبر دار خلقِ قرآن کا اقرار نہ کریں… اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان کے علم کو قیامت تک برقرار رکھیں گے۔ خط پڑھ کر امام احمد رونے لگے ۔ پھر اپنا کرتا اُتار کر مجھے دیا۔ میں اسے لے کر مصر واپس آ گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ سے سفر کے حالات بیان کیے۔ اس کے کرتے کا بھی ذکر کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے سن کر فرمایا ۔میں وہ کُرتا تو تم سے نہیں مانگتا… ہاں اتنا کرو کہ اسے پانی میں تر کر کے ٗ وہ پانی مجھے دے دو تاکہ میں اس سے برکت حاصل کروں۔ اس واقعہ کو امام بیہقی نے اپنی احادیث کی کتاب میں نقل کیا ہے۔