طیاروں کو پرندوں کی ٹکر سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ ایک معلوماتی تحریر جو ہر محب وطن شہری کو ضرور پڑھنی چاہیے

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا ہیلی کاپٹر منگل کو ایک بڑے حادثے سے بچ گیا اور اسے لاہور ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا تھا۔ اس حادثے کی وجہ ایک پرندہ بنا جو ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا تھا۔دوران پرواز اگر کوئی پرندہ طیارے سے ٹکرا جائے تو اس کو

’برڈ سٹرائیک‘ کہا جاتا ہے، تیکنیکی طور پر اسے بیش یعنی برڈ ایئر کرافٹ سٹرائیکس ھیذرڈ کا نام دیا گیا ہے۔ایوی ایشن کی تاریخ بتاتی ہے کہ پرندے ٹکرانے کا آغاز طیاروں کی ایجاد کے ساتھ ہوگیا تھا اور پہلی بار اورول رائیٹ کے طیارے سے پرندہ ٹکرایا تھا۔یاد رہے کہ امریکی رائیٹ برادران نے 1905 میں کامیابی کے ساتھ طیارے کی پہلی پرواز کی تھی۔چھوٹا پرندہ بڑا نقصانطیارے سے پرندہ ٹکرانے کے واقعات کبھی کبھار بڑے حادثات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں کیونکہ اس سے انجن میں خرابی، کینوپی یا وِنڈ شیلڈ میں دراڑ پڑ سکتی ہے جس سے کیبن میں ہوا کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جس سے حادثے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔پاکستان سول ایوی ایشن نے ان حادثات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایئرپورٹ کے اندر، ایئرپورٹ سے نزدیک اور ایئرپورٹ سے دور۔سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیٹرز آف پاکستان کے سربراہ ریٹائرڈ وِنگ کمانڈر سید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ اگر کوئی پرندہ ٹکراتا ہے اور طیارہ چھوٹا ہے تو اس حادثے کے نتیجے میں پائلٹ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے کیونکہ ٹکرانے سے طیارے کی کینوپی ٹوٹ سکتی ہے یا انجن بھی خراب ہوسکتا ہے۔رواں سال مارچ میں پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا تھا کہ پرندے ٹکرانے سے چار طیاروں کو گراونڈ کیا گیا تھا جن میں دو بوئنگ 777 اور دو ایئربس شامل تھے، یہ واقعات ملک کے سب سے مصروف ہوائی اڈوں کراچی اور لاہور میں پیش آئے۔دوسری جانب مقامی چینل اے آر وائی نیوز کی جانب سے

دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوری سے جولائی تک پی آئی اے کے طیاروں کے ساتھ پرندے ٹکرانے کے 34 سے زیادہ واقعات پیش آئے۔نجی فضائی کمپنی کے ایک ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر کوئی پرندہ طیارے سے ٹکرا جائے تو کم از کم خرچہ 50 ہزار ڈالر ہوسکتا ہے لیکن اگر انجن تبدیل کرنا پڑ جائے تو پھر یہ خرچہ لاکھوں ڈالرز تک پہنچ جاتا ہے۔اگر پرندہ ٹکرا جائے تو پائلٹ کیا کرتا ہے۔لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت پرندے ٹکرانے کی صورت میں دو مختلف قسم کے رد عمل اور اقدامات ہوتے ہیں۔ایک نجی کمپنی کے کپتان نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیک آف کے دوران اگر پرندہ ٹکراتا ہے تو طیارے کی رفتار اور رن وے کا کتنا حصہ رہ گیا ہے، اس کے مطابق فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ اگر ٹیک آف کے بعد پرندہ ٹکرا جائے تو فوری طور پر غیر معمولی آلات کی دیکھ بال اور ان کی پائیداری کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور اگر کوئی نقص نظر آتا ہے تو طیارے کو واپس اتار لیا جاتا ہے۔پرندے کہاں سے آتے ہیں؟سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیٹرز آف پاکستان کے سربراہ ریٹائرڈ ونگ کمانڈر سید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں پر آبی پرندوں کا نہیں بلکہ چیل اور کووں کا مسئلہ ہے جو کھانے پینے کے لیے آلائشوں اور گندگی پر آتے ہیں۔سول ایوی ایشن ہوائی اڈے کے رن وے کے آٹھ کلومیٹر کے دائرے میں صفائی کی ذمہ دار ہے۔ اتھارٹی وہ اشیا جو پرندوں کے لیے باعث کشش ہوں یا

ایسی کوئی پیداوار جس سے طیارے کو خطرہ ہوسکتا ہے اس کی روک تھام کا حکم نامہ جاری کر سکتی ہے۔قوانین کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کی جگہ پر کسی کو بھی بچا ہوا کھانا پھینکنے کی اجازت نہیں۔ اگر ایسا کہیں پر کیا گیا ہے تو ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے تحریری طور پر ہدایت جاری کی جائے گی کہ اس فضلے کو ہٹایا جائے۔ اگر متعلقہ شخص اس پر عملدرآمد نہیں کرتا تو دس ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ کی قید کی سزا کا مرتکب ہوگا۔سی اے اےبین الاقومی طور پر پرندوں کو مارا نہیں جاتا بلکہ ایسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جیسے طیارہ آرہا ہو تو پرندے بھاگ جائیں اس کے لیے سائرن لگا کر مختلف آوزایں پیدا کی جاتی ہیں یا پردنوں پر روشنی ماری جاتی ہےسید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قوانین انھیں اختیار دیتے ہیں کہ ہوائی اڈوں کے اطراف میں تمام شادی ہال، تمام فیکٹریاں یا ایسے کوئی مقامات کو جن سے طیارے کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، بند کردیا جائے لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی اپنے اختیارات استعمال ہی نہیں کرتی۔دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم سول ایوی ایشن کے ترجمان کے مطابق پرندوں سے چھٹکارے کے لیے روایتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، جس کے تحت شوٹر ہائر کیے گئے ہیں جو پرندوں کو مار گراتے ہیں۔سید نسیم احمد کا کہنا ہے کہ بین الاقومی طور پر پرندوں کو مارا نہیں جاتا بلکہ ایسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں کہ جیسے طیارہ آ رہا ہو تو پرندے بھاگ جائیں

اس کے لیے سائرن لگا کر مختلف آوزایں پیدا کی جاتی ہیں یا پردنوں پر روشنی ماری جاتی ہے۔شہری ادارے اور عوام کی ذمہ داری سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے باہر جو ’سالِڈ ویسٹ‘ (کچرا) ہے اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے شہری ادارے وہ نتائج نہیں دے پارہے ہیں جو انھیں دینے چاہییں۔ اتھارٹی کا ایک انوائرمینٹل پروٹیکشن افسر ہوتا ہے جو ان اداروں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ عوام میں آگاہی کی مہم بھی چلائی جاتی ہے جس میں ایئرپورٹس کی آس پاس کی آبادی میں بینر لگائے جاتے ہیں اور کیبل ٹی وی پر پیغام نشر ہوتے ہیں۔عید قربان پر خصوصی مہم چلائی جاتی ہے کہ آلائشیں وغیرہ مقررہ مقامات پر پھینکیں تاکہ متعلقہ ادارے انھیں ٹھکانے لگائیں۔ایئرپورٹ کی حدود میں موجود درختوں کی چھٹائی کے علاوہ پرندوں کے گھونسلے ختم کر دیے جاتے ہیں تاکہ پرندوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔بڑے ایئرپورٹس کے لیے جدید نظام سول ایوی ایشن کے سیفٹی اینڈ کوالٹی مینیجمنٹ سسٹم کے ڈائریکٹر کی جانب سے پرندوں کو بھگانے کے لیے جدید نظام کی تنصیب کے لیے ٹینڈر کر دیے گئے ہیں۔ جس کے بعد کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے ایئرپورٹس پر یہ خودکار نظام فعال ہوجائے گا۔فضائی حادثات قوانین کے مطابق طیارے کی لینڈنگ کی جگہ پر کسی کو بھی بچا ہوا کھانا پھینکنے کی اجازت نہیں۔اس نظام کو اے بی آر ایس یعنی ’اکُوسٹک برڈ ریپیلینٹ سسٹم‘ کہا جاتا ہے، جو برقی لہریں پیدا کرتا ہے جس سے پرندے خوفزدہ ہوکر اڑ جاتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان میں اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت 27 کے قریب فعال ایئرپورٹس ہیں جن میں سے نو کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی ہے جبکہ باقی اندرون ملک پروازوں کے لیے مختص ہیں۔