You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > اسرائیلی خاتون وزیراعظم“گولڈہ مائر” کی چالاکی :جس نے عرب اسرائیل جنگ کا پانسا ہی پلٹ کر رکھ دیا ،پڑھیے دلچسپ رپورٹ

اسرائیلی خاتون وزیراعظم“گولڈہ مائر” کی چالاکی :جس نے عرب اسرائیل جنگ کا پانسا ہی پلٹ کر رکھ دیا ،پڑھیے دلچسپ رپورٹ

عرب اسرائیل تنازعے کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کا اس مقدس زمین میں آکر آباد ہو جانا اور اپنا تسلط بزور بازو مظلوم فلسطینیوں پر نافظ کرنا تھا ۔عرب اور اسرائیل میں جنگ چھڑنے والی تھی۔امریکی سینیٹر اور اسلحہ کمیٹی کا سربرا اسرائیل پہنچ گیا‘اسلحہ کمیٹی کے سربراہ نے اسرائیلی وزیراعظم“گولڈہ مائر”سے ملاقات کی

‘گولڈہ مائر انتہائی شاطر دماغ تھی‘ اس نے کمال ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کر لیا‘ اسلحہ خریدا گیا اور عربوں سے جنگ شروع ہو گئی‘ اس جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی‘ جنگوں میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے لیکن اس جنگ کی ہار کا دکھ اس لئے بھی زیادہ تھا کہ عربوں نے ایک خاتون وزیراعظم کے ہاتھوں شکست کھا ئی تھی‘ جنگ کے کچھ عرصہ بعد میں کسی نے اسرائیلی وزیراعظم گولڈہ مائر سے پوچھاکہ امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی وہ فوراً آپ کے دماغ میں آئی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟اس کے بعد گولڈہ مائر نےگولڈہ مائر نے جو جواب دیا وہ پوری امت مسلمہ کیلئے ایک سبق ہے‘ آپ جواب پڑھئے اور پھر اس کے بعد آج مسلمانوں کے زوال کی وجہ آپ کی سمجھ میں جائے گی‘گولڈہ مائرنے جواب دیا‘میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا تھا‘میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا‘انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی‘اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھاکہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہواتو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ

چراغ جلانے کے لیے تیل خریدا جاسکے لہٰذا ان کی اہلیہ حضرت عائشہؓ نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدالیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں‘میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچاکہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں‘یہ پوری دنیا جانتی ہے لہٰذا میں نے فیصلہ کیاکہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے‘ پختہ مکانوں کے بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے‘ تب بھی اسلحہ خریدیں گے‘خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبیؐ کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے لیکن افسوس آج ہم نے اپنے نبیؐ کی زندگی کو چھوڑ دیا اور غیروں نے ہمارے نبیؐ کی زندگی کے پہلوؤں پر ریسرچ کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے دنیا میں آگے بڑھ رہے ہیں۔یہ تھی مسلم قوم کی تنزلی کی بڑی وجہ کے دشمن بھی نبی پا ک ﷺ سے سیکھتے ہیں اور ہم نے ان کے فرمانوں کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔


Top