You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > قائد اعظم سرکاری عمارت میں جب بھی قیام کرتے تو کن چیزوں کا خیال رکھتے تھے ؟ بانی پاکستان کی طرز حکمرانی کا ایسا واقعہ جسے پڑھ کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی

قائد اعظم سرکاری عمارت میں جب بھی قیام کرتے تو کن چیزوں کا خیال رکھتے تھے ؟ بانی پاکستان کی طرز حکمرانی کا ایسا واقعہ جسے پڑھ کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی

“بانی پاکستان کی ذات کو اگر پاکستان کا محور سمجھا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں گزار دی اور پاکستان کے حصول کے بعد دن رات اس کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا بانی پاکستان کا ہر لمحہ پاکستان کے لیے تھا ۔یہ واقعہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں

بھی نم ہو جائیں گی ۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یہ عادت تھی کہ کمرے سے نکلتے وقت بجلی کے سارے بٹن بند کر دیا کرتے تھے۔ اپنے گھر میں‌ ہوں، میرے یہاں ہوں یا کسی میزبان کے گھر میں، ہر جگہ ان کا یہی معمول ہوتا تھا اور جب میں ان سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں ایک وولٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔ میں ان سے آخری بار 31 اگست 1947ء کو گورنر جنرل ہاؤس میں ملا تھا۔ ہم کمرے سے نکلے تو وہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت انہوں نے حسبِ عادت خود ہی تمام سوئچ آف کئے۔ میں نے ان سے کہا جناب آپ گورنر جنرل ہیں اور یہ سرکاری قیام گاہ ہے۔ اس میں روشنیاں جلتی رہنی چاہئیں۔ قائد نے جواب دیا کہ یہ سرکاری کہ یہ سرکاری قیام گاہ ہے اس لئے تو میں اور بھی محتاط ہوں۔ یہ میرا اور تمھارا پیسہ نہیں‌ ہے۔ یہ سرکاری خزانے کا پیسہ ہے اور میں اس پیسے کا امین ہوں۔ اپنے گھر میں تو مجھے اس بات کا پورا اختیار تھا کہ اپنے گھر کی بتیاں ساری رات جلائے رکھوں لیکن یہاں میری حیثیت مختلف ہے۔ تم زینے سے اُتر جاؤ تو یہ بٹن بھی بند کر دوں گا”(مرزا ابوالحسن اصفہانی کا مضمون “بے مثال لیڈر” سے اقتباس)


Top