ایک موچی کی زندگی کی سب سے بڑی نیکی۔۔۔ پڑھیے ایک ایمان افروز واقعہ

ایک موچی کی زندگی کی سب سے بڑی نیکی۔۔۔ پڑھیے ایک ایمان افروز واقعہ
لاہور (ویب ڈیسک) شیخ فرید الدین عطار ؒ نے اپنی کتاب تذکر ۃ الا و لیاء میں قرون اولیٰ کے اولیاء اللہ کے حالات زندگی بیان کیے ہیں۔ انہی میں حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ،
آپ کا شماراُس دور کے بہت بڑے عالموں اور اللہ کے نیک بزرگوں میں ہوتا تھا، ایک مرتبہ فراغت حج کے بعد آپ بیت اللہ میں سو گئے۔ سوتے میں آپ نے ایک خواب دیکھا کہ دو فرشتے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ ایک نے دوسرے سے سوال کیا کہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج مقبول ہوا۔ دوسرے نے جواب دیا کہ چھ لاکھ لوگوں نے حج ادا کیا لیکن کسی کا حج قبول نہیں ہوا مگر دمشق کا ایک موچی جو حج میں شریک نہیں ہوا تھا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس کا حج ( نیتِ حج ) قبول فرما کر اس کے طفیل سب کا حج قبول کر لیا ہے۔ آپؒ جب خواب سے بیدار ہوئے تو دل میں شوق پیدا ہوا کہ اللہ کے اُس نیک ولی کی زیارت کی جائے کہ جو حج میں شریک بھی نہیں ہوا اور اللہ نے اس کا حج قبول کر لیا ہے لہٰذا آپ نے سفر کا ارادہ کیا اور دمشق پہنچے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر آپ اس موچی تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے، آپ نے اس موچی سے اس کا نام و نسب دریافت کیا۔ جب یقین ہو گیا کہ یہ وہی موچی ہے جس کا ذکر خواب میں ہوا تھا تو آپ نے اسے اپنا تعارف کرایا۔
اپنے آنے کی وجہ بتائی اور پورا واقعہ بیان کیا۔ واقعہ سن کر اس پر ایک کیفیت طاری ہوئی اور وہ چیخ مار کر بے ہوش ہو گیا۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ بہت عرصے سے میرے دل میں حج کی تمنا تھی اور اس نیت سے میں نے تین سو درہم بھی جمع کر لئے تھے لیکن ایک دن میرے ایک پڑوسی کے ہاں سے اچھے کھانے کی خوشبو آئی تو میری بیوی نے کہا کہ بہت اچھے کھانے کی خوشبو ہے تھوڑا سا ان سے مانگ کر لے آئو چنانچہ میں نے ان کے گھر جا کر کہا کہ آج آپ نے جو پکایا ہے ہمیں بھی کچھ عنائیت فرما دیجئے لیکن اس پڑوسی نے جواب دیا کہ جو کھانا ہم نے پکایا ہے وہ آپ نہیں کھا سکتے کیونکہ سات یوم سے میں اور میرے اہل خانہ فاقہ سے تھے اور اب جان بچانے کیلئے حرام یعنی مردہ گدھے کا گوشت پکایا ہے۔ یہ سن کر میرے اوپر لرزہ طاری ہو گیا اور میں نے حج کیلئے جمع کی گئی ساری رقم اس کے حوالے کر کے یہ تصور کر لیا کہ ایک مسلمان کی امداد میرے لئے حج (نفلی) کے برابر ہے اور ،
اپنے کام میں مصروف ہو گیا، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس نے اتنا بڑا کام کیا ہے کہ اللہ نے حج کئے بغیر ہی اسے حاجیوں میں شامل کر لیا اور نہ صرف حاجیوں میں شامل کیا بلکہ اس کے طفیل تما م حاجیوں کے حج قبول کیے اور اُس دور کے عظیم نیک ولی کو اِس کی زیارت کیلئے بھی بھیجا ۔ یہاں ہمیں چند باتیں سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ حج کرنا یقینا ایک بہت بڑی افضل عبادت بھی ہے اور سعادت بھی ہے اور جب وہ ایک مسلمان پر فرض ہو تب تو اس کا ادا کرنا لازم ہے لیکن ہمارے معاشرے میں نمائش اور ریا کاری کا ایک عنصر پیدا ہو گیا ہے کہ اتنی بڑی عبادت کو بھی لوگ دکھاوے کیلئے کرتے ہیں اور اس کے اجر و ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ حقوق العباد سے غافل رہتے ہیں، رشتہ داروں، ہمسایوں، دوستوں اور تعلق داروں کے وہ حقوق جو دین نے بیان کیے ہیں اُن کو ادا نہیں کرتے اور اگر تھوڑا بہت کسی کیلئے کچھ کر بھی دیتے ہیں تو اسے بہت بڑا احسان سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ شخص اب ساری زندگی ہمارے سامنے جھکا رہے۔ یقینا ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔