You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > اللہ کسی ملک پر بےوقوف حکمران مسلط نہ کرے۔۔۔ حضرت شیخ سعدی ؒ نے شاندار کہانی میں نصیحت بیان کر دی

اللہ کسی ملک پر بےوقوف حکمران مسلط نہ کرے۔۔۔ حضرت شیخ سعدی ؒ نے شاندار کہانی میں نصیحت بیان کر دی

اللہ کسی ملک پر بےوقوف حکمران مسلط نہ کرے۔۔۔ حضرت شیخ سعدی ؒ نے شاندار کہانی میں نصیحت بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ رعیت کی نگہداری سے بے پروا اور بے انصافی اور ظلم پر دلیر تھا اور ان دونوں باتوں کا یہ نتیجہ برآمد ہو رہا تھا کہ،

یہ بھی پڑھیں:مشرف سے معافی ۔۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے خود پر الزام لے کر کتنی بڑی قربانی دی ؟شیخ رشید کو سنائی جانے والی کوڑوں کی سزا کیسے ٹلی ؟ چوہدری شجاعت حسین کی کتاب “سچ تو ہے میں “تہلکہ خیز انکشافات

اس کے ملک کے لوگ اپنے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ ایک دن یہ کم فہم اور ظالم بادشاہ اپنے دربار میں عہدے داروں اور ندیموں کے درمیان بیٹھا فردوسی کی مشہور رزمیہ نظم شاہنامہ سن رہا تھا۔ بادشاہ ضحاک اور فریدوں کا ذکر آیا تو اس نے اپنے وزیر سے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ضحاک جیسا بڑا بادشاہ اپنی سلطنت گنوا بیٹھا۔ اور فریدوں ایک بڑا بادشاہ بن گیا۔ جب کہ اس کے پاس نہ لاؤ لشکر تھا اور نہ بڑا خزانہ ؟ اس کا وزیر بہت دانا تھا۔ اس نے ادب سے جواب دیا کہ حضور والا اس کی وجہ یہ تھی کہ فریدوں خلق خدا کا بہی خواہ اور ضحاک لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف سے بے پروا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ضحاک کو چھوڑ کر فریدوں کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور وہ بادشاہ بن گیا۔ بادشاہی لشکر اور عوام کی مدد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ پھر وزیر نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ سلطنت قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حضور اپنا رویہ بدلیں۔

لوگوں کو پریشان اور ہر اساں کرنے کی جگہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔ احسان اور انصاف کرنے سے بادشاہ کی محبت دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ فوج کے سپاہی وفادار اور جاں نثار بن جاتے ہیں۔ یہ باتیں خیر خواہی کے جذبے سے کہی گئی تھیں لیکن بادشاہ وزیر سے ناراض ہو گیا اور اسے جیل خانے بھجوا دیا۔ اس نے اپنا رویہّ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ کچھ ہی دن بعد، کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بادشاہ کے بھائی بھتیجوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور رعایا ان کی طرف دار ہو گئی۔ کیونکہ ہر شخص بے تدبیر بادشاہ کے ظلم سے پریشان تھا۔ حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں جہاندانی کا یہ زرین اصول بیان کیا ہے کہ بادشاہ کی اصل قوت رعایا کی خیر خواہی اور محبت ہے اور یہ قوت احسان اور انصاف کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر انتہائی قریب کے لوگ بھی مخالف بن جاتے ہیں۔ اور ظلم اور بے انصافی پر دلیر ہو جانے والا حاکم تنہا رہ جاتا ہے ایسی حالت میں اس کے دشمن اسے آسانی سے ختم کر دیتے ہیں۔ (س)

یہ بھی پڑھیں:پولیس گردی کی انتہا ۔۔۔ ڈیرہ غازی خان میں پنجاب پولیس کے فریادی خاتون کے ساتھ ایسے شرمناک سلوک کی تصویریں منظر عام پر آ گئیں کہ دیکھ کر آپ بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے


Top