You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > اقبالؒ نے فارسی شاعری کیوں کی ? دلچسپ وجہ سامنے آگئی

اقبالؒ نے فارسی شاعری کیوں کی ? دلچسپ وجہ سامنے آگئی

لاہور(ویب ڈیسک)کہا جاتا ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ نے فارسی میں شعر کہنا اس وقت شروع کیا جب ایک واضح مقصد ان کے سامنے آیا۔ یعنی 1911ء میں، یا اس سے کچھ پہلے جب حضرت قلندر کے تتبع میں وہ اپنے والد ماجد کی فرمائش پر ایک مثنوی لکھ رہے تھے۔ لاہور کے ابتدائی زمانہ میں

تو یقینا وہ فارسی میں شعر کہتے تھے لیکن سیالکوٹ کے زمانۂ طالب علمی ہی میں اس کا آغاز ہو چکا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ ایک ایسی زبان میں، جس سے انھیں فطری مناسبت تھی، وہ ابتدا میں محض شوقیہ شعر کہتے ہوں، یا یہ فطری مناسبت آپ ہی آپ فارسی میں شعر کہلوانے لگی جسے محمد اقبالؒ ابتدا میں کوئی اہمیت نہ دیتے۔ بہت کم احباب سے ذکر کرتے۔ یوں بھی مشاعروں کی زبان اردو تھی۔ مشاعروں میں اردو کلام ہی سناتے۔ یہ خیال ہی نہیں تھا کہ فارسی زبان کا شاعر بنیں۔ لیکن 1905ء سے پہلے وہ فارسی میں نہایت اچھی غزلیں کہہ چکے تھے۔ مثلاً منشی صاحب سراج الدین کی بھیجی ہوئی انگشتریوں کے شکریے میں فارسی کا ایک طویل قطعہ اور وہ نظم جس کا عنوان ہے ’’اسلامیہ کالج کا خطاب پنجاب سے‘‘ جسے محمد اقبالؒ نے 1903ء میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھا اور جو اس امر کی دلیل ہے کہ 1903ء تک انھوں نے فارسی زبان میں شعر گوئی پر اتنی قدرت حاصل کر لی تھی کہ بلا تکلف اتنی بڑی نظم کہہ ڈالی۔ لیکن یہاں تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس غلط فہمی کی ذمہ داری جس کا تعلق محمد اقبالؒ کی

فارسی شاعری سے ہے، کس پر رکھی جائے۔ کیا شیخ عبدالقادر پر؟ ہرگز نہیں۔ بانگ درا کے دیباچے میں وہ لکھ چکے تھے کہ فارسی میں شعر کہنے کی رغبت اقبالؒ کی طبیعت میں کئی اسباب سے پیدا ہوئی ہو گی…جس چھوٹے سے واقعے سے ان کی فارسی گوئی کی ابتدا ہوئی وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک دوست کے ہاں مدعو تھے جہاں ان سے فارسی اشعار سنانے کی فرمائش ہوئی اور پوچھا گیا وہ فارسی اشعار بھی کہتے ہیں یا نہیں۔ انھیں اعتراف کرنا پڑا کہ سوائے ایک آدھ شعر کہنے کے فارسی لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر کچھ ایسا وقت تھا اور اس فرمائش نے ایسی تحریک ان کے دل میں پیدا کی کہ دعوت سے واپس آ کر بستر پر لیٹے ہوئے باقی وقت وہ شاید فارسی اشعار کہتے رہے اور صبح اٹھتے ہی مجھ سے ملے تو دو تازہ غزلیں فارسی میں تیار تھیں۔ میرا خیال ہے شیخ صاحب بسبب قلیل الفرصتی محمد اقبالؒ کی فارسی شاعری کا معاملہ کھول کر بیان نہیں کر سکے۔ انھوں نے یہ نہیں لکھا دعوت کس دوست کے یہاں تھی اور کب؟ 1905ء سے بہر حال پہلے۔ مخزن، جنوری 1905ء میں انھوں نے محمد اقبالؒ کی ایک نظم بعنوان ’’سپاس امیر‘‘ شائع کی۔ تمہیداً لکھتے ہیں ’’ذیل کی نظم درج کر کے ہم ان احباب کے تقاضوں سے

سبکدوش ہوتے ہیں جو پروفیسر اقبال صاحب کے فارسی کلام کے لیے بے حد اشتیاق ظاہر کرتے ہیں۔ فارسی نظمیں عموماً مخزن میں درج نہیں ہوتیں، تاہم احباب کے اصرار سے ہم اسے ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ یہی نظم بہ اظہارِ عقیدت شیخ صاحب صبح کے وقت پڑھا کرتے ہیں‘‘۔ اظہارِ عقیدت کا تعلق جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ہے۔ پیام مشرق میں اس نظم کا صرف دوسرا بند شامل کیا گیا۔ مخزن کا یہ شذرہ اس امر کا ثبوت ہے کہ محمد اقبالؒ 1905ء تک فارسی میں بہت کچھ کہہ چکے تھے۔ دراصل شیخ صاحب وہی کچھ کہنا چاہتے تھے جو محمد اقبالؒ نے آگے چل کر کہا کہ فارسی زبان کو انھوں نے اپنی شاعری کے لیے اختیار کیا تو اس لیے کہ ان کی شاعری عالم اسلام کے لیے ایک پیغام کا کام دے اور یہ پیغام فارسی زبان ہی میں دیا جا سکتا تھا۔ شیخ صاحب نادانستہ یہ کہہ گئے کہ محمد اقبالؒ کی فارسی شاعری کا آغاز ایک اتفاقی امر تھا۔ شیخ صاحب کے لیے تو اتفاقی لیکن محمد اقبالؒ بہت پہلے حتیٰ کہ سیالکوٹ ہی سے فارسی میں شعر کہہ رہے تھے۔ گویا فارسی آپ ہی آپ ان کی زبان بن رہی تھی۔ ۔۔(سید نذیر نیازی)(م،ش)


Top