You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > تاریخی وا قعات > حضرت امیر معاویہ ؓ کی زندگی کے چند ایمان افروز واقعات

حضرت امیر معاویہ ؓ کی زندگی کے چند ایمان افروز واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) حضرت امیر معاویہ ؓ جلیل القدر صحابی رسولؐ ہیں،اور آپ کا شجرہ نسب چوتھی پشت میں’’عبدمناف ‘‘پر جاکر نبی کریمؐ سے ملتا ہے ، آپ کی ہمشیرہ سیدہ اُم حبیبہؓنبی رحمتؐ کی زوجہ محترمہ تھیں ،وہ عمرۃ القضاء کے موقع پراسلام لائے لیکن دیگر کئی قریشی مسلمانوں کی طرح

معروف رائٹڑ ابن اختر قادری اپنی تحریر میں لکھتے ہیں۔۔۔اپنے اسلام کو ظاہر آپ نے فتح مکہ کے دن کیا، فتح مکہ کے بعد انہوں نے مدینۃ الرسول ؐ میں سکونت اختیار کی تو ان کو کاتب وحی مقرر کیا گیا ۔ بعض علما نے لکھا ہے کہ وہ کاتب وحی نہیں ،بلکہ کاتب خطوط نبویؐ تھے ، قرآن کریم کی رو سے نبی کریمؐ کا ہرفرمان وحی ہوتا ہے ،وہ وحی متلو ہو یا غیر متلو۔ان کا شمار عرب کے چار مدبرین میں ہوتا تھا ،وہ حلم وبردباری کی مثالیں اہل عرب میںرائج ہیں ۔ ان کاتعلق قریش کی شاخ قبیلہ بنوامیہ سے تھا اور یہ قبیلہ زمانہ جاہلیت میں بھی سیاسی وسپہ گری کے فرائض انجام دیتا تھا ،اس نسبت سے ان کو سیاسی ملکہ حاصل تھا ،جس کی بدولت آپ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل علاقے پر حکمرانی کی۔ان کے سخت ترین دشمن ان سے ملتے تو ان کے دوست بن جاتے ،22رجب المرجب کو حضرت امیر معاویہ ؓ کا یوم وفات ہے ، ان کے بارے میںنبی کریمؐ کے فرامین اور حضرات اصحاب رسول ،ائمہ فقہاء ؒ اور ائمہ محدثین ؒ کے اقوال حسب ذیل ہیں ،جس سے انکے مقام ومرتبہ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔جامع ترمذی کی

روایت ہے کہ :’’نبی کریمؐ نے فرمایا ،اے اللہ ! معاویہ کو ہادی اور مہدی بنا اور ان کے سبب سے لوگوں کو ہدایت دے ‘‘۔اسی طرح’’ حضرت عرباض بن ساریہ ؓسے روایت ہے کہ رسول پاک ؐنے دُعا فرمائی کہ اے اللہ! معاویہ کو لکھنا اور حساب کرنا سکھا دے اور اس کو عذاب سے محفوظ رکھ ‘‘۔ (مجمع الزوائد ،جلد۹،صفحہ۳۵۶) اسی حدیث کی کتاب میں موجود ہے کہ :۔’’ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل ؑ رسول کریم ؐ کے پاس آئے اور کہا اے محمد ؐ ! معاویہ سے خیر خواہی کرو ،کیونکہ وہ اللہ کی کتاب پر امین ہیں اور کیا ہی اچھے امین ہیں ‘‘(مجمع الزوائد ،جلد۹،صفحہ۳۸۷)حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ رسول اللہ ؐ کے سامنے لکھا کرتے تھے ‘‘۔(رواہ الطبرانی ،واسنادہ حسن )اگر حضرت معاویہ ؓ کے بارے میں جملہ احادیث نقل کریں تو اس کے لیے ضخیم دفتر درکار ہیں ۔حضرت عمر فاروقؓنے فرمایا کہ :۔’’ اے لوگو! تم میرے بعد فرقہ بندی سے بچو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جان رکھو کہ معاویہ شام میں موجود ہے‘‘۔(الاصابہ ،ابن حجر ،جلد ۳،صفحہ۳۱۳)اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ :۔’’ تم قیصر وکسریٰ کی تعریف کرتے ہو حالانکہ تم میں معاویہ موجود ہے ‘‘۔

(سیدنا امیر معاویہؓ ،از علامہ عرفان مشہدی ،صفحہ۵۸)حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا مشہورومعروف قول ہے کہ،میں نے حضرت معاویہ ؓسے بڑھ کر سلطنت اور بادشاہت کے لائق کسی اور کونہیں دیکھا۔(تاریخ ابن کثیر ،جلد۸،صفحہ۱۳۹) جس اصحاب رسول ؓ کے اقوال آپ نے حضرت معاویہ ؓکے بارے میں پڑھ لیے ہیں اسی طرح چند تابعین وامہ مسلمہ کے جید اکابرین کے اقوال بھی ملاحظہ فرمائیے،حضرت عبداللہ بن مبارک سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز میں کون افضل ہے ،حضرت عبداللہ بن مبارک نے نہایت جلال میں فرمایا کہ :’’ تم ان دونوں کی نسبت بارے پوچھتے ہو ،خدا کی قسم ! جو مٹی نبی اکرمؐ کے ہمراہ جہاد پر جاتے ہوئے امیر معاویہؓ کے گھوڑے کے نتھنوں میں گئی وہ مٹی بھی عمر بن عبدالعزیز سے افضل ہے ‘‘۔اسی طرح ایک بہت بڑے اللہ والے حضرت معافی بن عمر ان نے فرمایا کہ :’’ بھلا ایک تابعی ایک صحابی کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ حضرت معاویہ ؓنبی کریم ؐ کے صحابی ہیں ،ان کی بہن نبی کریمؐ کے عقد میں تھیں ،انہوں نے وحی الٰہی کی کتابت کی ،اور حفاظت کی ،اور پھر یہ حدیث مبارکہ پڑھی کہ نبی کریم ؐ

نے فرمایا : ’’جس نے میرے اصحاب اور رشتہ داروں کو برا کہا ،اس پر اللہ کی لعنت ہو ‘‘۔(البدایہ والنہایہ ،جلد ۸،صفحہ ۱۳۹) اہل عرب کے بعد اب برصغیر کے چند اجل علماء کے اقوال ہدیہ ناظرین کیے جاتے ہیں، جن سے آپ کو حضرت معاویہؓ کے مقام رفیعہ کا علم ہوگا، حضرت مجدد الف ثانی مکتوبات میں تحریر فرماہیں کہ : ’’امام مالک جو اجلہ تابعین ہیں اور اپنے ہم عصر علماء مدینہ منورہ میں بڑے عالم ہیں ،انہوںنے حضرت امیر معاویہؓ اور عمرو بن العاص کے محترم ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔(مکتوبات امام ربانی، دفتر اول ،حصہ چہارم :مکتوب نمبر۲۵۱) حضرت الامام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ :’’معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ اصحاب رسولؐ میں سے ہیں ،اور زمرۂ صحابہ کرامؓمیں بڑے صاحب ِ فضیلت ہیں۔ (ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء )اعلیٰ حضرت مولوی احمد رضاخان بریلوی تحریر فرماتے ہیں :’’ علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں جو حضرت امیر معاویہؓ صاحب فضیلت واحترام ہیں ‘‘۔ (احکام شریعت ،صفحہ۱۱۹)شیخ الاسلام علامہ قمر الدین سیالوی ؓ تحریر فرماتے ہیں :’’اجماع صحابہ ؓ ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے مناقب مسلم الثبوت ہیں ۔(ف،م،م)


Top