گاندھی کے قتل سے کچھ دیر قبل انکے قاتل ایک ہوٹل میں کیا کرتے پائے گئے تھے ؟ بی بی سی کی انکشافات سے بھر پور رپورٹ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) دلی کے کناٹ پلیس کے مرینہ ہوٹل کے سامنے موجود مسجد میں مغرب کی نماز شروع ہونے والی تھی۔رمضان کا مہینہ ہے تو اذان ہوتے ساتھ ہی روزہ کھولا جائے گا۔ مرینہ ہوٹل کے ایک کمرے میں سے ایک شخص مسجد میں ہونے والی ہلچل کو دیکھ رہا ہے۔

مشہور بھارتی صحافی وویک شکلا بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔معلوم نہیں کہ اس شخص کو پتہ ہے کہ نہیں کہ 17 جنوری 1948 کو جب دلی میں شدید ٹھنڈ پڑ رہی تھی تب اسی ہوٹل میں جسے اب ریڈیسن بلیو مرینا ہوٹل کہا جاتا ہے، ناتھو رام گوڈسے اور نارائن آپٹے آئے تھے۔وقت صبح گیارہ بجے سے پہلے کا تھا۔ دونوں نے ایس دیش پانڈے اور ایس این دیش پانڈے ناموں سے کمرہ بک کروایا تھا۔اس دور میں آج کی طرح کسی ہوٹل میں روم بک کرواتے وقت آدھار کارڈ یا کوئی دوسرا شناختی دستاویز نہیں دکھانا پڑتا تھا۔یہ دونوں دوست پندرھ بیس منٹ میں ایک ٹیکسی میں کناٹ پلیس تک پہنچے ہوں گے۔یہ ہوٹل جاتے وقت البکرک روڈ (اب تیس جنوری روڈ) سے گزرے ہوں گے۔ اس دن یہاں کے برلا ہاؤس میں 79 سال کے مہاتما گاندھی بھوک ہڑتال پر تھے۔انھوں نے دیکھا ہوگا کہ ہزاروں دلی والے گاندھی سے اس بھوک ہڑتال کو ختم کروانے کے لیے برلا ہاؤس کی طرف پہنچ رہے ہیں۔آپٹے اور گوڈسے دلی میں گاندھی کو ہلاک کرنے آئے تھے۔ انھیں ہوٹل کی پہلی منزل پر کمرہ نمبر 40 ملا تھا۔گوڈسے اور آپٹے ممبئی سے ہوائی سفر کر کے صفدر جنگ ایئر پورٹ پر اترے تھے۔ ان کے باقی ساتھی ٹرین سے دلی آ رہے تھے۔ تب تک پالم ایئر پورٹ ابھی بنا نہیں تھا تو اندرا گاندھی ایئر پورٹ کی تو بات ہی چھوڑ دیجیے۔جب انھیں 12 جنوری سنہ 1948 کو معلوم ہوا کہ گاندھی 13 جنوری سے اپنی بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں، بس تبھی انھوں نے گاندھی کو مارنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

گاندھی کے سب سے چھوٹے بیٹے دیوداس گاندھی کی پوتی اور مصنفہ سکنیا بھرت رام کہتی ہیں ‘گوڈسے، آپٹے اور ان کے ساتھی گاندھی جی سے دو وجوہات کی وجہ سے بے حد غصہ تھے، پہلا گاندھی جی نے دلی میں 13 جنوری 1948 کو اپنی بھوک ہڑتال کیوں شروع کی؟ گاندھی جی نے بھوک ہڑتال اس لیے شروع کی تھی کیوں کہ دلی میں مسلمانوں کو مارا جا رہا تھا۔ ان کے اثاثے لوٹے جا رہے تھے، تشدد اور آگ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ساری کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔’آخر میں اس پرتشدد مشتعل ہجوم پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کے ارادے سے گاندھی نے 12 جنوری سنہ 1948 کو بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کے بیٹے دیوداس گاندھی نے جو اس وقت ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے، گاندھی کو بھوک ہڑتال پر نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔دوسرا، جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی تب سرکاری اثاثے انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوئے تھے۔ سرکاری خزانے میں موجود رقم بھی تقسیم کی گئی اور پاکستان کے حصے میں 75 کروڑ آئے۔ انڈین حکومت نے شروع میں پاکستان کو 25 کروڑ روپے دے دیے اور 55 کروڑ روپے بچ گئے۔ گاندھی چاہتے تھے کہ وہ رقم بھی پاکستان کو فوری طور پر دے دی جائے۔گاندھی کے اس ردعمل کی وجہ سے گوڈسے اور ان کے ساتھیوں کو گاندھی پر غصہ تھا۔گوڈسے اور آپٹے کو اب اپنے باقی ساتھیوں کے آنے کا انتظار تھا۔ وہ کوئی دلی گھومنے نہیں آئے تھے۔شام ہوتے ہوتے ان کے ساتھی جن میں مدن لعل پاہوا، وشنو کرکرے، گوپال گوڈسے شامل تھے، مرینا ہوٹل پہنچ گئے۔

یہ دستی بم، ٹائم بم اور پستول لے کر دلی آئے تھے۔فریڈم ایٹ مڈنائٹ میں مصنف ڈمنک لوپیر اور لیری کولنز دعویٰ کرتے ہیں کہ مرینا ہوٹل کے کمرے میں گاندھی کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتے وقت کرکرے نے اپنے اور آپٹے کے لیے وسکی منگوائی۔ گوڈسے وسکی نہیں پیتے تھے، وہ کافی پسند کرتے تھے۔ وہ مرینا ہوٹل میں بار بار صرف کافی منگواتے رہتے تھے۔مرینا ہوٹل میں طے ہوا کہ گاندھی پر 20 جنوری کو پوجا کے دوران بم سے حملہ کیا جائے گا۔ اس دوران یہ سب لوگ برلا ہاؤس کا جائزہ لیتے رہے۔ناتھو رام گوڈسے،، گوپال گوڈسے، نارائن آپٹے، وشنو کرکرے اور مدن لعل پاہوا ٹیکسی لے کر برلا ہاؤس پہنچے۔ آپٹے نے ریگل سے ٹیکسی والے سے کرائے پر بحث کے بعد ٹیکسی لی۔ برلا ہاؤس میں دھماکہ مدن لعل پاہوا نے کیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دیسی ساختہ بم تھا جس سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچا۔اس دھماکے کے لیے مدن لعل پاہوا کو گرفتار کیا گیا۔یہ سب گاندھی کے جان کے پیساے تھے، ان کا ارادہ تھا کہ پہلے پوچا کے دوران بم پھینکا جائے گا اور جب وہاں پر بھگدڈ مچ جائے گی تو گاندھی پر گولیاں برسا دی جائیں گی۔پاہوا اور وشنو کرکرے پہلے برلا ہاؤس پہنچ گئے تھے۔ باقی ٹیکسی ڈرائیور سرجیت سنگھ کی ٹیکسی میں وہاں پہنچے۔سرجیت سنگھ بعد میں سرکاری گواہ بن گئے تھے۔ مدن لعل پاہوا ایک فوٹو گرافر کے روپ میں وہاں پہنچے تھے۔ دھماکے کے بعد ان کے ساتھی وہاں سے نکل بھاگے۔

ادھر پہلی بار میں کامیابی نہ ملنے کے باوجود گوڈسے اور آپٹے دس دنوں میں دوسری بار ایئر انڈیا وائکنگ کی پرواز سے ممبئی سے دلی آئے کیوں کہ یہ دونوں 20 جنوری کے بعد ممبئی چلے گئے تھے۔ پولیس کے ڈر سے یہ مرینا ہوٹل نہیں گئے تھے۔اب انھیں پرانی دلی ریلوے سٹیشن کا ویٹنگ روم ہی محفوظ نظر آ رہا تھا۔گوڈسے نے نارائن آپٹے کے ساتھ ویٹنگ روم میں رات گزاری۔ انھیں یہ خبر ملی کے گاندھی 27 جنوری کو مہرولی میں واقع صوفی بختیار کاکی کے درگاہ پر جائیں گے۔دراصل کاکی کی درگاہ کو مشتعل ہجوم نے نقصان پہنچایا تھا جس پر گاندھی بہت ناراض تھے۔ گاندھی کے اس دورے کے بارے میں معلوم ہونے پر گوڈسے اور دیگر ساتھیوں کا خون کھول اٹھا۔تاریخ دان دلیپ سیمیئن کہتے ہیں کہ گاندھی کے کاکی کی درگاہ پر جانے کے بعد ان افراد نے طے کر لیا تھا کہ انھیں جلد ہی قتل کر دیا جائے۔اس دن انھیں گاندھی کو قتل کرنا تھا۔ گاندھی پر گولی گوڈسے کو چلانی تھی جنھوں نے برلا ہاؤس کے لیے ٹانگہ لیا۔گاندھی کے آخری دن کے ہر لمحے پر نظر رکھنے والے صحافی سٹیون مرفی لکھتے ہیں ’20 جنوری کو ہونے والے حملے کے بعد برلا ہاؤس میں 30 پولیس والے تعینات تھے۔ نہرو اور پٹیل کی سکیورٹی بڑھانے کی درخواست کو گاندھی نے مان لیا تھا۔ لیکن جب ان پر گوڈسے نے گولی چلائی تب ان کے ساتھ سادہ لباس میں موجود رہنے والا پولیس والا اے پی بھاٹیا غیر حاضر تھا۔ اس دن ان کی کہیں اور ڈیوٹی لگا دی گئی تھی۔

ان کی جگہ گاندھی کی حفاظت کے لیے کوئی تعینات نہیں تھا۔ گاندھی کے ساتھ رہنے والے گروبچن سنگھ بھی نہیں تھے۔’ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا برلا ہاؤس کے اندر کوئی بھی آرام سے داخل ہو سکتا تھا۔ کیا اندر آنے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی۔بھاٹیا کی تیس جنوری کو کس نے اور کیوں ڈیوٹی کہیں اور لگا دی تھی۔ ان سوالوں کے جواب کسی نے نہیں دیے۔ہاں، یہ بات ٹھیک ہے کہ 30 جنوری 1948 کو چاندنی چوک کے علاقے میں خاکروب اپنے مطالبات کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے اور پولیس کی بھاری نفری وہاں بھیج دی گئی تھی۔تو کیا بھاٹیا بھی چاندنی چوک میں ہی تھے؟ یعنی گاندھی کو مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔افسوس تو یہ ہے کہ گاندھی کے ساتھ صبح شام رہنے والی ذاتی ڈاکٹر سشیلا نیئر بھی اس دن نہیں تھیں۔ وہ پاکستان گئی ہوئی تھیں۔گاندھی کو گولی مارے جانے کے کچھ دیر بعد ڈی پی بھارگو اور ڈاکٹر جیوا جی مہتا وہاں پہنچ گئے تھے۔ ڈاکٹر میہتا نے گاندھی کو مردہ قرار دیا تھا۔گاندھی کی سوانح حیات ‘دی لائف آف مہاتما گاندھی’ میں لوئی فشر لکھتے ہیں ‘نہرو بھی فوراً برلا ہاؤس پہنچ گئے تھے۔ وہ گاندھی کے خون سے لت پت جسم سے لپٹ کر رو رہے تھے۔ پھر گاندھی کے سب سے چھوٹے بیٹے دیوداس گاندھی اور وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزاد بھی برلا ہاوس پہنچ گئے۔’بہرحال گاندھی کی قتل کی سازش میں دو مرکزی مجرمان اور دونوں دوستوں گوڈسے اور آپٹے کو پھانسی کی سزا دی گئی اور باقیوں کو عمر قید کی سزا ہوئی۔(بشکریہ : بی بی سی )