15 اور 16 دسمبر 1971 کی درمیانی رات : ایک آخری کوشش کے طور پر پاکستان کے چند بہادر بیٹوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کیا کوشش کی تھی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا تھا ؟ بھارتیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے ایک رات پہلے کا حیران کن واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) کسی بھی فوجی کمانڈر کیلئے سب سے زیادہ توہین آمیز بات دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہیں۔ ایسا نہ چاہتے ہوئے بھی تاریخ میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ بادل ناخواستہ جب کوئی کمانڈر ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے تو اُس کا پورا وجود ایک اذیت ناک

نامور کالم نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچ سے گزر تا ہے۔ اُس کے سامنے سارے عوامل ہوتے ہیں۔ اُسے پتہ ہوتا ہے کہ اُس کے ذلت آمیز فیصلے کا ملک و قوم ۔ قوم کی تاریخ۔ اُس کے زیر کمان جوانوں۔ عوام اور اس کی اپنی ذات پر کیا اثر ہوگا۔ تنقید نگاروں ۔ تجزیہ نگاروں۔ مورخین اور باقی عوام کیلئے ایسے شخص کو تنقید کا نشانہ بنا نا سب سے آسان بات ہوتی ہے لیکن وہ اُن اذیت ناک حالات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے جن سے اُس وقت کمانڈر گزرتا ہے اور یہی کچھ اُسوقت ہماری ایسٹرن کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خا ن نیازی کے ساتھ ہوا۔ جنگ لڑنا۔ ملک وقوم کیلئے جان دے د ینا اتنا مشکل نہیں جتنا ایسا ذلت آمیز فیصلہ کرنا ہے۔جب ہماری ایسٹرن کمان ایسے فیصلے پر مجبور ہوئی تو اُسکے سامنے کئی اہم مسائل تھے لیکن سب سے اہم مسئلہ اپنے لوگوں بمعہ سویلین اور فوجیوں کی زندگی اور اُن کی عزت کی حفاظت ۔ قیمتی فوجی سامان کی حفاظت اور اگر ممکن ہو تو بچائو تھا۔ جہاں تک ممکن ہو سکا اپنے لوگوں کی حفاظت کی ضمانت لی گئی لیکن قیمتی فوجی سامان کا بچانا ممکن نہ تھا۔ جہاں حالات نے اجازت دی یہ سامان تباہ کر دیا گیا تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے لیکن آخری لمحے 15دسمبر کو جب ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا تو ہیلی کاپٹروں کا سوچا گیا۔ مشرقی پاکستان میں ہمارا آرمی ایوی ایشن کا ایک سکاڈرن تھا جس میں اُس دن تک کل آٹھ ہیلی کاپٹر بچے تھے۔ ان 8ہیلی کاپٹروں میں 4روسی ساخت کے M1-8تھے اور 4فرانسیسی ساخت کے ایلو وٹ (Alluette)۔یہ سکاڈرن میجر لیاقت اسرار بخاری کمان کر رہے تھے اور خوش قسمتی سے میجر لیاقت ایک دلیر اور سمجھدار آفیسر تھا ۔ پوری جنگ میں اُس نے دلیری سے خطرناک حالات کا مقابلہ کیا۔ کمانڈ کاتسلسل اور رابطہ بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

15دسمبر کی شام کو اس مسئلے پر سوچ بچار کی گئی کہ ان ہیلی کاپٹروں کا کیاکیا جائے تاکہ یہ بھارتیوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ میجر لیاقت بخاری نے پیشکش کی کہ اگر اُسے موقعہ دیا جائے تو وہ انہیں بسلامت برما تک لے جانے کیلئے تیار ہے جو غیر جانبدار ملک تھا۔ میٹنگ کے دوران ایئر کموڈور انعام الحق کمانڈر پاکستان ایئرفورس مشرقی پاکستان نے رائے دی کہ خطرہ بہت زیادہ ہے ۔ پورے علاقے پر بھارتی ایئرفورس کا کنڑول ہے ۔ بھارتیوں اور مکتی والوں نے ایئر کرافٹ گنیں بھی لگا رکھی تھیں۔ ڈھاکہ اور برما کے بارڈر کے درمیان تقریباً 2سے 3گھنٹوں کا ہوائی فاصلہ تھا۔ لہٰذا یہ فاصلہ بحفاظت طے کرنا ممکن نہ تھا اس لئے اُن کی رائے میں یہ غیر ضروری خطرناک قدم تھا ۔ میٹنگ میں جب ایڈمرل محمد شریف (مشرقی پاکستان میں کمانڈر پاکستان نیوی) سے رائے لی گئی تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ’’ میجر لیاقت کو یہ موقعہ ضرور دیا جانا چاہیے‘‘۔ لہٰذا متفقہ طور پر فیصلہ ہو ا کہ 15-16دسمبر کی رات کو کسی بھی وقت میجر لیاقت بخاری اپنے سکاڈرن کو لے کر برما کی طرف پرواز کر جائے ۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر میجر جنرل ایم رحیم خان کو ساتھ لے جائیں کیونکہ ایک تووہ زخمی تھے اور دوسرا جنرل نیازی اُن کے ہاتھ کچھ اہم قومی نوعیت کے کاغذ ات بھیجنا چاہتے تھے ۔ اُن کے ساتھ سی ایم ایچ کی نرسز ۔ کچھ خواتین اور بچے ہونگے۔

میجر لیاقت بخاری نے منصوبہ بندی کی کہ اگر وہ رات کے 3بجے محو پرواز ہوں تو وہ صبح روشنی سے پہلے برما پہنچ سکتے تھے۔ دوسرا اُس وقت زیادہ تر لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں لہٰذا بھارتی رد عمل سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ منصوبے کے مطابق 3بجے ہیلی کاپٹر پرواز کیلئے تیار تھے اور سب لوگ بیٹھ چکے تھے لیکن بدقسمتی سے نرسز اُس وقت تک کسی نہ کسی وجہ سے نہ پہنچ سکیں۔ مزید انتظا ر سے پورا مشن خطرے میں پڑسکتا تھا جو عقلمندی نہ تھی۔ کچھ عینی شاہد ین کے مطابق جنرل رحیم خان نے پرواز کیلئے جلدی کی۔ بہرحال وجوہات جو کچھ بھی تھیں نرسوں کا نہ پہنچ پانا یقینا بدقسمتی تھی۔ میجر لیاقت کے مطابق مزید انتظا ر سے وہ روشنی سے پہلے برما نہیں پہنچ سکتے تھے اور روشنی میں بنگلہ دیش کے علاقے پر سے پرواز کرنا خود کشی کے مترادف تھا۔وقت مقررہ پر میجر لیاقت کا سکاڈرن محو پرواز ہو گیا۔ تمام جہازوں کی بتیاں بند رکھی گئیں اور خدا کے فضل سے سورج طلوع ہونے سے پہلے آٹھوں ہیلی کاپٹر بسلامت برما کے ’’اکیاب‘‘ایئر پورٹ پر اُتر گئے ۔ ان جہازوں میں سکاڈرن کریو کے علاوہ 139مغربی پاکستانی خواتین اور بچے بھی تھے۔ اکیاب ایئرپورٹ پر برمی افسران نے فوری طور پران جہازوں کو حفاظتی گھیرے میں لے لیا ۔ پاکستانی سفار تخانے کے لوگ بھی پہنچ گئے اور تمام لوگوں کو وقتی طور پر سیاسی پنا ہ دے دی گئی۔ خواتین اور بچوں کو پاکستان بھیجنے کا بندوبست اپنے سفارتخانے نے کیا۔ ہیلی کاپٹر وہاں سے پرواز کر کے ہانگ کانگ لے جا ئے گئے جہاں انہیں بحری جہازوں پر کراچی بھیج دیا گیا۔اتنے لوگوں کی زندگیاں اور ان ہیلی کاپٹروں کو بچانا قطعاً ممکن نہ ہوتا اگر میجر لیا قت اسرار بخاری جیسا دلیر آفیسر وہاں موجود نہ ہوتا۔ اس سکاڈرن کے باقی افسران اور کریو نے بھی مثالی دلیری کا ثبوت دیا۔ لہٰذا میجر لیاقت بخاری اور اُس کا کریو قوم کی طرف سے شکریے کے مستحق ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔ آمین۔