سائنسدانوں نے ایک 18سال کی لڑکی کے 9ہزار سال پرانے ڈھانچے سے اسکا چہرہ بنا ڈالا،یہ کیسی دکھائی دیتی تھی،دیکھ کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

یونان کی ایک غار سے سائنسدانوں کو کچھ عرصہ قبل 18سالہ لڑکی کا 9ہزار سال پرانا ڈھانچہ ملا تھا جس سے انہوں نے اب اس کا چہرہ بنا ڈالا ہے اور یہ لڑکی کیسی دکھائی دیتی ہے؟ دیکھ کر آپ بھی چونک اٹھیں گے۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا
کہنا ہے کہ ”اس لڑکی کا نام ایوگی (Avgi)تھا اور کسی نے آج سے لگ بھگ 9ہزار سال قبل آخری بار اس کا چہرہ دیکھا ہو گا جب یہ یونان میںزندہ تھی۔ ا اب لوگ ایک بار پھر اس کا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔ “ایوگی کے ڈھانچے سے سائنسدانوں نے اس کی جو تصویر بنائی اس میں وہ خوبصورت اور تنومند خاتون دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے چہرے کی ہڈیاں نسبتاً ابھری ہوئی، گھنی بھنویں اور ڈمپل والی ٹھوڑی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ایوگی 7ہزار قبل مسیح کے زمانے میں یونان میں زندہ تھی۔۔واضح رہے کہ ایوگی کے معنی طلوع آفتاب یا زمانے کی شروعات کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں نےاس کا یہ نام رکھا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مردان پولیس نے بھائی کی غلطی پر بہن کو سوارہ میں دیے جانے پر کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو بازیاب کرا کے لڑکی کے بھائی سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ۔معروف سماجی کارکن ثمرمن اللہ اور رخشندہ ناز نے مردان میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی۔ ثمر من اللہ نے کہا کہ سوارہ ایک غیرقانونی، غیر اسلامی اور ظالمانہ رسم ہے جس کے مطابق مرد کی غلطی کی سزا عورت کو دے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوارہ جیسی ظالمانہ رسموں کہ ذمہ دار ہماری سوسائٹی ہے جو سوارہ اوراس جیسی کئی رسموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام کیا لیکن عوام بھی ایسے واقعات کی اطلاع پولیس کو دیں تاکہ
ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔رخشندہ ناز نے کہا کہ یہ پہلا کیس نہیں ہے، اس سے قبل بھی اس قسم کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایسے واقعات کی نشاہدہی اور روک تھام کے لیے کمیٹی بنائی تھی جو ابھی تک آپریشنل نہیں ہو سکی۔ مردان پولیس نے بھائی کی غلطی پر بہن کو سوارہ میں دیے جانے پر کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو بازیاب کرا لیا۔ذرائع کے مطابق مردان پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کے بھائی سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔معروف سماجی کارکن ثمرمن اللہ اور رخشندہ ناز نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے مردان میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی۔ ثمر من اللہ نے کہا کہ سوارہ ایک غیرقانونی، غیر اسلامی اور ظالمانہ رسم ہے جس کے مطابق مرد کی غلطی کی سزا عورت کو دے دی جاتی ہے۔نجی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوارہ جیسی ظالمانہ رسموں کہ ذمہ دار ہماری سوسائٹی ہے جو سوارہ اور اس جیسی کئی رسموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام کیا ۔لیکن عوام بھی ایسے واقعات کی اطلاع پولیس کو دیں تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ یہ پہلا کیس نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اس قسم کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایسے واقعات کی نشاہدہی اور روک تھام کے لیے کمیٹی بنائی تھی جو ابھی تک آپریشنل نہیں ہو سکی۔