ایک قصہ حاتم طائی کی سخاوت کا

لاہور(ویب ڈیسک) یمن کا بادشاہ بہت رعایا پرور اور سخاوت میں مشہور تھا، وہ بہت زیادہ سخی تھا. اس کی سخاوت کی وجہ سے اس کو” بخشش کا بادل” بھی کہا جاتا تھا. اس میں ایک برائی تھی اور وہ چاہ کر بھی اس برائی سے دور نہیں رہ سکتا تھا. وہ برائی تھی حسد،

وہ حسد میں مبتلا تھا. وہ حاتم طائی سے بہت حسد کرتا تھا. سخی تو وہ بھی بہت تھا مگر وہ سمجھتا تھا کہ حاتم کے آگے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا حسد بھی بڑھتا رہا اور لوگوں کو بھی اس بات کا علم ہونے لگا کہ بادشاہ حاتم سے حسد کرتا ہے. بادشاہ کہتا کہ حاتم مجھ سے زیادہ سخی نہیں ہے میں بادشاہ ہوں میرے پاس سلطنت ہے مال و دولت ہے اور مال و دولت کے بغیر کوئی سخاوت کیسے کرے گا. بادشاہ نفرت سے کہتا، خالی جیب سخاوت نہیں ہوتی. ایک دفعہ بادشاہ نے اپنی سخاوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک جشن کا اہتمام کیا اور اس جشن میں بادشاہ نے ہر ضرورت مند، خاص و عام اور بے ضرورت سب کو انعام واکرام سے نوازا اس نے اتنی دریا دلی دکھائی کہ سب لوگ بہت حیران ہوۓ. بادشاہ کی سخاوت محض دکھاوا نہیں تھی بلکہ وہ واقعی نیک دل، سخی، اور عوام کا ہمدرد تھا لوگ جان چکے تھے کہ وہ حاتم سے حسد کرتا ہے اس لئے جشن میں کسی نے مذاق کے طور پر حاتم کا ذکر چھیڑ دیا. دوسرے لوگوں نے بھی اس آدمی کی تائید کی بادشاہ سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی اور اس نے سوچا کہ جب تک حاتم زندہ رہے گا لوگ اسکو نہیں بھولیں گے اور میری شہرت نہیں ہوگی. بادشاہ نے حاتم کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے ایک سپاہی عادل کو اس کام کے لئے آمادہ کیا. بادشاہ نے عادل سے کہا اگر تم حاتم کا سر کاٹ کر لے آئے

تو میں تمہیں کوتوال بنا دونگا اور اس کے علاوہ بھی اسے بہت سے انعام کا لالچ دیا. عادل دن رات سفر کرتے ہوۓ منزل کے قریب پہنچ گیا ابھی وہ قبیلے کی بستی سے کچھ دور ہی تھا کہ اس کو ایک شخص ملا. عادل کو وہ شخص بہت ہی مخلص اور مہربان محسوس ہوا، وہ بہت ہی خوبصورت ملنسار، اور با اخلاق تھا. آپ کون ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ اس آدمی نے عادل سے شائستہ لہجے میں پوچھا، عادل نے کہا، میں مسافر ہوں، یمن سے آیا ہوں، رات اس بستی میں گزار کر صبح آگے چلا جاؤں گا، “میرا گھر اسی بستی میں ہے اگر آپ مجھے شرف میزبانی بخشیں تو مجھے بڑی خوشی ہوگی” اس آدمی نے کہا، عادل نے یہ سوچ کر اسکی دعوت قبول کرلی کہ شاید اس آدمی سے حاتم کے بارے میں کچھ معلوم ہو سکے اور اس کے ساتھ اس کے گھر آ گیا. گھر آ کر اس آدمی نے رات بھر عادل کی مہمان نوازی کی اور صبح بھی عادل کو پر تکلف ناشتہ کرایا اور اس کے باوجود بھی اس سے معذرت کی کہ وہ اس کی مہمان نوازی ٹھیک سے نہیں کر سکا جس کے لئے وہ شرمندہ ہے اور معذرت چاہتا ہے. عادل اسکی عاجزی اور اس کی خوش اخلاقی سے بہت متاثر ہوا، پھر عادل نے اس سے اجازت مانگی. اتنی جلدی کیا ہے آپ میرے پاس کچھ دن اور رہ سکتے ہیں، اس آدمی نے عادل کو کہا، اس کی درخواست سن کر عادل نے کہا نہیں مجھے ایک ضروری کام ہے جس کے لئے میں یہاں آیا ہوں. اس آدمی نے پوچھا،
آپ کس کام کے لئے آئے ہیں کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں شاید میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں؟ عادل نے کہا، نہیں یہ ایک راز ہے اور اگر یہ راز کھل گیا تو شاید میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا. اس آدمی نے عادل کو یقین دلایا کہ اس کا راز اس کے دل میں ہی رہے گا اور اگر وہ اسکی مدد کر سکتا ہوا تو ضرور کرے گا. عادل نے سوچا یہ اتنا اچھا اور اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے یہ جو کہ رہا ہے وہ سچ ہی ہوگا، اور عادل نے اس آدمی کو اپنے بادشاہ کے حسد سے لے کر حاتم کے قتل تک کی ساری بات سنا دی، وہ آدمی یہ سن کر مسکرا دیا اور عادل کو اپنی تلوار پیش کی اور اپنا سر اس کے آگے جھکا دیا، عادل نے کہا میں نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور تم مجھے اپنی تلوار کیوں دے رہے ہو اور اپنا سر میرے آگے کیوں جھکا رہے ہو؟ وہ آدمی بولا اس لئے کہ میں ہی حاتم ہوں اور تمہیں اپنے بادشاہ کے لئے میرا سر ہی چاہئے تھا ، لو جلدی کرو اس سے پہلے کہ میرے گھر والے جاگ جائیں اور شور مچائیں تم جلدی سے اپنا کام کرو اور جاؤ یہاں سے. اب تو عادل بہت شرمندہ ہوا کہ وہ کیسے کسی ایسے انسان کو مار سکتا ہے کہ جس نے اس کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا ہو اتنے اخلاق سے پیش آیا ہو اس نے حاتم سے معافی مانگی اور واپس اپنے وطن لوٹ آیا. بادشاہ نے جب اسے خالی ہاتھ دیکھا تو پوچھا کہ تم ناکام واپس کیوں لوٹے ہو کیا وہ تم سے زیادہ بہادر نکلا اور اس نے تمہیں شکست دے دی. عادل نے کہا اے ہوش مند بادشاہ چاہے تم مجھے میری ناکامی پر قتل کردو مجھے پرواہ نہیں ہے مگر پہلے میری پوری بات سن لو. بادشاہ نے عادل کو پوری بات بتانے کی اجازت دے دی، عادل نے اس بستی میں حاتم سے ملنے سے لے کر آخر تک ساری باتیں بادشاہ کے گوش گزار کیں اور پوچھا کہ بتائیں میں ایسے انسان کو کیسے مار سکتا تھا کہ جس نے سب کچھ جاننے کے بعد بھی اپنا سر میرے آگے کر دیا. اب بادشاہ کو سمجھ آ گئی تھی کہ کیوں لوگ حاتم کی سخاوت کی اتنی تعریف کرتے ہیں اب بادشاہ کو اس سے حسد محسوس نہیں ہوا، اس نے عادل کو وعدے کے مطابق انعام و اکرام سے نوازا …