سزائے موت کس نے متعارف کروائی اور دنیا کے مختلف ممالک میں سزائے موت کس طرح دی جاتی ہے؟ جانیے

موت کی سزا بیشتر ممالک میں سنگین جرائم کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی سزا ہے جس کا اختتام سزا پر عمل درآمد کی صورت میں ہوتا ہے۔ سزائے موت کو (Capital Punishment) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح لاطینی زبان کے لفظ capitalis سے نکلی ہے، جس کا مفہوم ’’سر قلم کرنا ‘‘

ہے۔ سزائے موت کے تناظر میں اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو زمانہ قدیم سے لے کر تاحال مختلف معاشروں میں ، مختلف ادوار حکومت میں ، حکم رانوں نے سزائے موت کے قانون کو رائج رکھا ہے۔ صاحبان اقتدار دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ملک دشمنوں، سیاسی مخالفین اور جرائم پیشہ عناصر کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں سزائے موت کا طریقہ مختلف بھی ہوتا ہے یعنی پھانسی کے علاوہ بھی مجرموں کو دوسری دنیا میں پہنچانے کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ بہت سارے ملکوں میں تو مجرموں کو سر قلم کرکے موت کی نیند سلانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اِس وقت دنیا کے 58 ملکوں میں سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد ہورہا ہے۔98 ملکوں نے مجرموں کو سزائے موت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اور وہاں سنگین جرائم میں ملوث افراد کو دیگر سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں سزائے موت صرف انتہائی سنگین جرم کے ارتکاب پر ہی دی جاتی ہے۔ دنیا کے 35 ملک ایسے ہیں جنھوں نے سزائے موت پر عمل درآمد10 سال یا اس سے زائد عرصے کے لیے روک دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں سزائے موت دینے اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے قوانین اور پالیسیاں مختلف ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں یونین کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت سزائے موت دینے پر پابندی ہے۔47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل آف یورپ نے بھی اپنے ارکان ممالک میں

سزائے موت دینے پر پابندی عاید کی ہوئی ہے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں بھی سزائے موت پر پابندی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 2007 ، 2008 اور 2010 میں اپنی قراردادوں کے ذریعے سزائے موت کی مخالفت کی اور اس پر پابندی لگائی۔ عالمی سطح پر سزائے موت کی مخالفت کے باوجود دنیا کی بہت بڑی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں اب بھی سزائے موت پر عمل درآمد تسلسل سے جاری ہے۔ ان ملکوں میں چین، انڈیا، امریکا اور انڈونیشیا سرفہرست ہیں، ان چاروں ملکوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی مخالفت کی ہے۔ دنیا میں سزائے موت دینے کے طریقے بادشاہوں کے دور سے لے کر اس جدید دنیا کے مختلف ادوار تک دیکھیں تو سزائے موت کے مختلف طریقے دکھائی دیں گے۔ پھانسی کی سزا تو ہمارے ملک پاکستان میں بھی دی جاتی ہے جس کی تفصیلات سے آپ باخوبی آگاہ ہوں گے۔، اس کے علاوہ بھی ایسے طریقے ہیں جنھیں اختیار کرکے مجرموں، دشمنوں اور باغیوں کو سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ مجرموں کو سزائے موت دینے کے کچھ طریقوں کے حوالے سے معلومات نذر قارئین ہیں: ٭گولی مارنا مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے گولی مارنے کا طریقہ بھی رائج ہے، اگر مجرم ایک سے زاید ہوں تو انھیں فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ پھر اشارہ ملتے ہی گولیاں برسنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ٭ کھال اتارنا۔۔۔Flaying اس طریقے سے مجرم کو موت تو ملتی ہے لیکن سے اس سے قبل بے پناہ اذیت کا

بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جلاد یا سرکاری اہل کار، بادشاہ، حکم راں یا مسند اقتدار پر بیٹھے شخص کے حکم سے سزا یافتہ شخص کے جسم کی کھال تیز دھار چھری یا چاقو سے اتارتے تھے۔ یہ اذیت ناک مرحلہ مجرم کو موت سے پہلے کئی بار مارتا تھا اور آخرکار اس کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ اس کیفیت میں اس خوف ناک سزا کے مراحل سے گزرنے والا فوری موت کی التجائیں کرتا تھا، لیکن اسے موت سے پہلے اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا۔ ٭اعضا کو کاٹنا Disembowelment مجرم کے جسم کے کچھ اعضا کو کاٹ لیا جاتا تھا، جس سے رفتہ رفتہ وہ ہلاک ہوجاتا تھا۔ عام طور پر اس طریقۂ کار کو اختیار کرتے وقت مجرم کے معدے کے قریب زخم لگائے جاتے تھے۔ یہ طریقہ صرف تشدد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا اور اس کے نتیجے میں قیدیوں کی اموات بھی ہوئیں۔ ٭سنگساری۔۔۔۔۔stonning زانی شدہ مرد و عورت کی سزا قرآن کریم میں یہ ہی بیان ہوئی ہے۔ اور اللہ فرماتا ہےکہ سنگ باری کرتے ہوئے تمہیں ان پر رحم نہ آئے۔ سزائے موت کا یہ انداز تو آج بھی مختلف ملکوں میں جاری ہے۔ کچھ ممالک کی تاریخ کے حوالے سے تمثیلی دستاویزی پروگراموں میں دیکھا ہے کہ مجرم کو ایک میدان میں آدھے جسم تک گاڑدیا جاتا تھا۔ اس کے بعد چاروں طرف کھڑے لوگ اس پر سنگ باری کرتے تھے۔ چند پتھر لگنے کے بعد مجرم کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ اگر زمین میں گاڑا نہ جائے تو

ملزم کو کھلے میدان میں بٹھادیا جاتا تھا اور پھر اس پر پتھر برسائے جاتے تھے۔ ٭گرم پانی میں پھینکنا۔۔۔ boiling to death گرم کھولتے ہوئے پانی میں کسی کو بھی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ سیکنڈوں میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ مختلف ادوار میں حاکم وقت اپنے دشمنوں، مجرموں اور مخالفین کو مارنے کے لیے یہی طریقہ استعمال کرتے تھے۔ اس کے لیے پانی کو ایک بڑے برتن میں کھولایا جاتا تھا اور مجرم کو اس میں ڈال دیا جاتا تھا۔ ٭بھاری پہیے کے ذریعے موت۔۔۔۔ breaking wheel قدیم یونان میں یہ طریقہ رائج تھا، جس نے آہستہ آہستہ جرمنی، فرانس، روس، برطانیہ اور سوئیڈن میں بھی مقبولیت حاصل کی۔ اس طریقے میں قیدی کو ایک بڑے پہیے سے باندھ دیا جاتا تھا۔ جب پہیا چلتا تھا تو آہستہ آہستہ اس شخص کی ہڈیاں ٹوٹنا شروع ہوجاتی تھیں اور پھر وہ مرجاتا تھا۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی ملزم کو سرپر چوٹ لگاکر نیم بے ہوشی کی حالت میں پہیے سے باندھ کر کہیں لٹکادیا جاتا تھا۔ اس طرح پرندے بالخصوص چیل، کوے اور گدھ زندہ انسان کی بوٹیاں نوچنا شروع کردیتے تھے جس سے اس کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ ٭ زندہ جلادینا مجرموں کو زندہ جلانا بھی سزائے موت کا ایک انداز رہا ہے۔ جن حاکموں نے یہ طریقہ اختیار کیا ، اُن کی منطق یہ تھی کہ اس طرح دوسرے لوگوں پر بھی خوف طاری ہوگا اور وہ عبرت حاصل کریں گے۔ ٭نیک لیسنگ ۔۔۔Necklacing اس طریقے میں ملزم یا مجرم کی گردن اور بازوؤں پر ایک ربڑ

کا ٹائر چڑھادیا جاتا تھا، جو گیس سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ پھر اسے آگ لگادی جاتی تھی۔ یہ طریقہ جنوبی افریقہ میں 1980تا1990 کے دوران کافی استعمال کیا گیا۔ ڈاکوؤں، چوروں یا جرائم پیشہ عناصر کو عام شہریوں نے بھی اپنی عوامی عدالتوں کے ذریعے متعدد بار Necklacing کے ذریعے سزائے موت دی۔ ٭کیڑوں کے ذریعے موت۔۔۔ scaphism اس خوف ناک طریقے کو بھی سزائے موت دینے کے لیے حکمرانوں نے استعمال کیا۔ مجرم کو برہنہ کرکے چھوٹی کشتی یا درخت کے تنے میں باندھ دیا جاتا تھا۔ پھر اسے زبردستی شہد اور دودھ پلایا جاتا تھا، اس کے بعد کھانے پینے کی اشیا بھی اس کے بدن پر ڈالی جاتی تھیں، تاکہ کیڑے ان کی بو سے آئیں۔ پھر اسے باندھ کر کسی حوض یا ندی کے کنارے لٹکادیا جاتا تھا۔ تاریخ میں موجود ہے کہ اس طریقے کو اختیار کرنے والے اپنے مجرم کی آنکھوں، کانوں، منہ اور دیگر اعضا کو خاص توجہ کا نشانہ بناتے تھے۔ کچھ ہی وقت گزرنے کے بعد حشرات الارض دودھ، شہد اور کھانے پینے کی دیگر اشیا کے ساتھ انسانی جسم بھی چٹ کرجاتے تھے۔ ٭ آری کے ذریعے جسم چیر دینا۔۔۔ sawing اس دہشت ناک طریقے کے ذریعے تیز دھار آری سے مجرم کے جسم کو دو حصوں میں کاٹ دیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ رومن دور میں کافی رائج تھا۔ اسپین میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں، جب کہ ایشیا کے بھی کچھ حصوں میں اس کے ذریعے سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔ اس طریقے میں انسانی جسم کو افقی یا عمودی

کاٹا جاتا تھا ، دیکھنے والے تو دہشت زدہ ہوتے ہی تھے، لیکن یہ دردناک موت سہنے والا موت سے پہلے ہی مرجاتا تھا۔ ٭ہاتھی کے پیروں تلے روندنا ہاتھی کے پیروں تلے روند کر مجرموں کو سزائے موت دینا بھی بادشاہوں کا شوق رہا ہے، مجرموں کو میدان میں باندھ کر لٹادیا جاتا تھا اور پھر ہاتھی اپنا بھاری بھرکم پیر جیسے ہی اس کے اوپر رکھتا تھا توسزا پانے والا منٹوں میں ہلاک ہوجا تا تھا۔ اس کے علاوہ سزایافتہ افراد کو بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دینا بھی ایک ایسا عمل ہے جسے حکم رانوں نے تفریح طبع کے لیے بھی استعمال کیا اور اس سے اپنے مخالفین کو سزائیں بھی دیں۔ بھوکے جانوروں کے پنجرے میں جانے والوں میں سے قسمت والے ہی زندہ سلامت بچنے میں کام یاب ہوتے تھے، لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ ٭زہریلا انجکشن اور کرنٹ قیدیوں کوزہریلا انجکشن لگاکر یا کرنٹ دے کر بھی مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔کچھ ممالک میں بجلی کی کرسیاں استعمال کی جاتی ہیں، جن پر مجرموں کو بٹھایا جاتا ہے اور کرنٹ چھوڑدیا جاتا ہے۔ سزائے موت کے درج بالا طریقوں کے علاوہ بھی حکومتوں نے مجرموں کے موت کے گھاٹ اتارنے کے بہت سے طریقے اختیار کیے ہیں۔ صدیوں پہلے استعمال کیے گئے طریقے اب اگر متروک ہوچکے ہیں تو ان سے زیادہ خوف ناک، دہشت ناک اور اذیت ناک طریقے متعارف کرائے جاچکے ہیں۔ ہر دور اپنے ساتھ جہاں زندگی کی ہر نئی چیز لے کر آتا ہے تو وہاں سزائے

موت کے قوانین اور طریقہ کار بھی نئے سے نیا انداز اختیار کرکے سامنے آتے ہیں۔ پرانے زمانے کے مقابلے میں دیکھا جائے تو جدید دور میں سزائے موت کے طریقے ایسے ہیں جن میں سزا پانے والے کو کم سے کم اذیت ہوتی ہے اور وہ کم وقت میں ہلاک ہوجاتا ہے، جب کہ کچھ صدیوں قبل کے طریقوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مارے جانے والے کو موت سے بے پناہ اذیت دی جاتی تھی۔ بہرحال سزائے موت ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو اگر صحیح انداز میں استعمال کیا جائے اور سیاسی مخالفین کو کچلنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے تو اس سے معاشرے میں کافی سدھار آسکتا ہے۔ قوانین کا ہونا اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل بات ان قوانین پر عمل درآمد ہے۔ دہشت گردوں اور مجرموں کو سزائے موت دے کر نشان عبرت بنانا انصاف کا تقاضا، مظلوم کی تسلی اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے لیے سبق ہے۔ اگر لوگوں میں سزا کا خوف ہوگا تو وہ جرائم کی طرف بڑھتے ہوئے کئی بار سوچیں گے، لیکن اگر پہلے ہی پتا ہو کہ سنگین سے سنگین ترین جرم کرنے کے باوجود انھیں بڑی سزائیں نہیں ملیں گی تو ہر کوئی کھل کر جرم کرے گا اور عام شہری کے لیے جینا محال ہوجائے گا۔ یہ بات ہر شعور رکھنے والا انسان کہتا ہے کہ جرم کرنے والے کو اس کے کیے کی سزا ضرور دینی چاہیے تاکہ اسے یا اس کے لواحقین و اہلخانہ کو احساس ہو کہ تکلیف کیا ہوتی ہے۔ انسان کسی دوسرے کی تکلیف کا صحیح معنوں میں احساس اسی وقت کرسکتا ہے جب وہ خود اسی تکلیف سے گزرا ہو۔ دوسروں کو مارنے والے جب خود تختہ دار تک پہنچتے ہیں تو انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ موت کیا ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقی مجرموں کو ان کے کیے کی سزا ضرور دی جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت سے ہو یا وہ معاشرے کے کسی بھی طبقے کی نمائندگی کرتا ہو۔ سزائے موت دینے کا طریقہ کار کوئی بھی اختیار کیا جائے، کسی بھی ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے سزائے موت کے قانون پر جامع اور موثر انداز میں عمل درآمد بہت ضروری ہے، تبھی امن پروان چڑھ سکتا ہے۔ اگر اللہ کی حدود کو جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو نافذ کردیا جائے۔ تو یقینا اس سے اسلامی ممالک کو فائدہ ہو۔ میں نے ایک حدیث شریف ایک عالم صاحب سے سنی تھی ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔(مفہوم) کہ اگر چالیس روز تک بارش برستی رہے تو زمین اور زمین والوں کو اتنا فائدہ اس بارش کے برسنے سے نہیں ہوتا ۔ جتنا کہ اللہ کی ایک حد نافذ کرنے سے ہوتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم