انفیکشن ، شراب نوشی یا قتل : اسکندر اعظم کی پر اسرار موت کی اصل وجہ کیا تھی ؟ صدیوں بعد معمہ حل ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایک اخبار میں خبر چھپی کہ ماہرین کے لیے یہ بات ہمیشہ ہی سے پریشان کن رہی کہ سکندر اعظم کی موت کا معما اب حل ہو گیا ہے۔ سابقہ نظریات میں یہ کہا گیا تھا کہ سکندر اعظم کی موت انفیکشن، کثرت مے نوشی یا ممکنہ قتل کی وجہ سے ہوئی۔

نامور مضمون نگار تنویر ظہور اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تاہم اب نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباََ آدھی دنیا کے اس حکمران کی موت اعصابی بیماری گولین بارے سنڈروم (Gullian Barre Syndrome) کی وجہ سے ہوئی۔ جس سے متاثرہ شخص مفلوج ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی وہ اپنی عمر کے شباب میں تھا کہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ بہت زیادہ شراب خوری اور نشاط و کیف کے بعد 32 سال کی عمر میں 13 جون 323 ق۔م کو بابل کے مقام پر وہ اپنے محل میں انتقال کر گیا۔ سکندریہ میں اس کے جسد خاکی کو سنہری تابوت میں بند کر دیا گیا۔ اس نے وسیع و عریض سلطنت کا اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا۔ اس سے سوال کیا گیا کہ اس کا وارث کون ہو گا؟ اس نے جواب دیا: ’’جو اس کا بہت زیادہ مستحق ہو گا‘‘ انتہائی کم عمری میں اس عظیم فاتح کی موت، انسانی زندگی اور انسانی عظمت سے متعلق عارضی نوعیت کے لیے یادگار مثال پیش کرتی ہے۔ اس کی موت کے بعد چند سال کے اندر اس کی بیویوں، بچوں اور اس کی ماں کو ہلاک کر دیا گیا اور اس کی وسیع و عریض سلطنت کو اس کے جرنیلوں نے آپس میں بانٹ لیا۔ چناں چہ اس کے نام کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ وہ دنیا کے جس حصے میں بھی گیا، وہاں اس نے شاندار شہروں کی بنیاد رکھی۔ بڑے بڑے بحری بیڑے بنوائے۔ تجاری و کاروباری معاملات کی ترقی کے لیے نہایت موثر اقدامات کیے۔

اس نے انتہائی طاقتور اقوام کو مطیع کیا اور سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط بادشاہتوں اور سلطنتوں کو فتح کیا۔ اس نے مغرور ترین شہروں کو خاک میں ملا دیا۔ ان کے میناروں، قلعوں اور محلوں کو زمین بوس کر دیا۔ اس نے اپنا کوئی مدمقابل نہیں چھوڑا تھا۔ سکندر نے پنجاب میں حکومت کا کوئی نظام قائم نہیں کیا۔ اس نے اس ملک میں جو حکمت عملی اختیار کی وہ مقامی بادشاہتوں کے ساتھ اتحاد کو قائم کرنا اور اپنے مخالفوں کو ہتھیاروں کی طاقت سے اطاعت پر مجبور کرنا اور دوستانہ رویہ اختیار کرنے والوں کو ان کے علاقے واپس کرنا تھا۔ اس نے پنجاب میں دریائے سندھ کے راستے کے ساتھ فوجی اور بحری چوکیاں قائم کیں۔ اس نے اپنے پیچھے پنجاب اور سندھ میں مختلف مقامات پر فوجی دستے چھوڑے۔ جو اس کی طرف سے انتہائی کم عرصے بعد ملک واپس لوٹنے کے منصوبہ کی نشان دہی کرتے ہیں۔ قدیم زمانے سے آج تک کسی اور بادشاہ کو اس قدر عالمی شہرت حاصل نہیں ہوئی، جتنی سکندر اعظم کو حاصل ہوئی۔ بطورایک فاتح کے اس کی شہرت یکساں طور پر یورپ اور ایشیا کے براعظموں تک پھیل گئی۔ 300 ق۔م سے کافی عرصہ پہلے جب مغربی یورپ ابھی تک جہالت سے بالکل باہر نہیں نکلا تھا تو سکندر اعظم دریائے سندھ کے کناروں پر ان قبائل سے ملا، جنہوںنے فنون و علوم میں زبردست ترقی کر لی تھی۔ پہلے پہل سکندر کی تعلیم اپنے ایک ننھیالی رشتے دار لیونی ڈس پھر لائسی میکس تک محدود تھی۔ آخر کار ارسطو اس کا اتالیق مقرر ہوا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ

استاد، شاگرد کے شایان شان اور شاگرد، استاد، کے شایان شان تھا۔ دربار سے کافی حد تک علیحدہ کرنے کے بعد اس عظیم فلسفی نے اپنے شاگرد کو علم کی ہر شاخ کی تعلیم دی۔ خاص طو پر حکومت اور جنگ کے فنون کے بارے میں۔ اس نے اس کے ذہن میں عسکری شوق پیدا کیا اور اس کے جسم کو کسرتی کھیلوں سے مضبوط بنایا۔ سکندر نے اپنی اولین عمر میں تھنینر کے خلاف جنگ میں اپنا لوہا منوا لیا۔ فتح کے بعد اس کے والد فلپ نے اسے بغلگیر کرتے ہوئے کہا ’’میرے بیٹے اپنے لیے کوئی اور سلطنت تلاش کرو، کیوں کہ میری سلطنت تمہارے لیے بہت چھوٹی ہے‘‘ جب فلپ نے روپمسیاس سے قطع تعلق کر لیا تو باپ اور بیٹے کے درمیان جھگڑا پیدا ہو گیا۔ سکندر نے اپنی ماں کا ساتھ دیا اور اسے اپنے باپ کے انتقام سے خود کو بچانے کے لیے ایپی رس چلا گیالیکن جلد ہی حالات کے معمول پر آنے کے بعد ان میں صلح ہو گئی اور تری ھیلی کے خلاف مہم میں اس نے فلپ کا ساتھ دیا جہاں اس نے میدان جنگ میں اپنے والد کی جان بچائی تھی۔فلپ کے قتل کے بعد سکندر نے بیس سال کی عمر میں 336 ق۔م میںحکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ یہودیوں کے سوا تمام اقوام عالم اس وقت بت پرست تھیں۔ فارس کی سلطنت جس کی بنیاد سائرس اعظم نے رکھی تھی، مصر کے علاوہ پورے ایشیا پر مشتمل تھی۔ اس پر ڈیرئیس کی حکومت تھی جسے حکومت حاصل کرنے سے قبل ڈیرئیس دوم کا پڑپوتا کوڈو مینس اور عام طور پر ’’نوتھوس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سو بیس صوبوں میں مشتمل تھی۔ ان پر جابر صوبے دارحکومت کرتے تھے اور سلطنت کی حدود بشمول پنجاب کے علاقہ کے دریائے سندھ کے دونوں اطراف تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حالانکہ اس ملک کو مکمل طور پر کبھی بھی زیرنگیں نہیں بنایا گیا تھا۔ سکندر کی وفات کے بعد سلطنت کی تقسیم پر بابل کے حاکم سیلیوکس ینیاگٹر نے نہ صرف اس ملک میں بیکٹریا (بلخ) پر دوبارہ حملہ کیا اور انہیں اطاعت پر مجبور کیا بلکہ یوفرینس کے پار پورے ملک کو زیرنگیں کیا اور مگدھا یا بہار کے بادشاہ سندراکوٹس (چندرگپت) پر حملہ کرنے کے لیے 305 ق۔م میں دریائے سندھ کو عبور کیا۔ چندر گپت پہلے ہی یونانی چھاؤنیوں کو پنجاب کے علاقوں سے نکال دینے میں کامیاب ہو گیا تھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو اپنی بالادستی تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔(ش س م)