1950 میں کوریا کی جنگ کے دوران امریکی افواج کو ایک موقع پر کیسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس مشکل سے انہیں کس نے نکالا ؟ پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کی معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) یہ اگست 1950ء کی بات ہے۔ کوریا کی جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ امریکی آٹھویں فوج کو چین اور شمالی کوریا کی افواج سے تقریباً شکست کا سامنا تھا۔ اگر فی الفور اس کی مدد نہ کی جاتی تو عین ممکن تھا کہ امریکی فوج کو شکست فاش ہو جاتی۔

نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس لئے کوریائی ٹروپس پر دباؤ ڈالنے کے لئے سمندر کے راستے امریکی فوج اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کوریا کی دو بندرگاہیں ایسی تھیں جن پر یہ افواج اتاری جا سکتی تھیں۔ ایک کا نام انچن (Inchin) تھا اور دوسری کا کن سان (Kunsan) تھا۔ انچن پر لینڈنگ انتہائی مشکل تھی۔ اس مقام پر مدوجزر بھی ناقابلِ اعتبار تھا۔ پورے مہینے میں صرف دو دن ایسے آتے تھے جن میں سمندر کی لہریں انچن کی طرف رخ کرکے اس کو کسی وسیع پیمانے کی لینڈنگ کے قابل بناتی تھیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ یہ لینڈنگ زیادہ سے زیادہ 15ستمبر تک ممکن ہو سکتی تھی۔ چنانچہ امریکی بحریہ اور میرین کے سینئر افسروں نے انچن لینڈنگ کو خطرناک قرار دیا اور اس کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کی مخالفت ماضی کی مختلف معلومات، اعداد و شمار اور واقعات و صورتِ احوال پر مبنی تھی۔ عقل کہتی تھی کہ یہ لینڈنگ نہ کی جائے۔ یہ ایک جواء ہے اور امریکہ کو یہ جواء نہیں کھیلنا چاہیے۔ لیکن کلاسیوٹز کا تو کہنا ہی یہ ہے کہ کاروبارِ حرب و ضرب ”بے یقینی اور ممکنات کی سلطنت“ کا ایک صوبہ ہے۔ اور ناگہانیت (Surprise) کی افادیت و اہمیت کسی بھی عسکری آپریشن کے لئے تقویت کا جو باعث بنتی ہے وہ مزید کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔23اگست 1950ء کو خطہء بحرالکاہل میں امریکی افواج کے سپریم کمانڈر جنرل ڈگلس میکارتھر نے تقریباً 70منٹ تک امریکی بحریہ اور میرین فورس کے اعلیٰ افسروں کی بریفنگ سنی۔ ان تمام کا استدلال یہ تھا کہ اس خطرناک لینڈنگ سے احتراز کیا جائے۔

لیکن یہ تمام کچھ سننے کے باوجود میکارتھر کا وجدان کہہ رہا تھا کہ لینڈنگ کامیاب ہو گی۔ چنانچہ وہ اٹھا اور اس نے فیصلہ سنایا: ”یہ لینڈنگ 13اور 15 ستمبر 1950ء کے درمیان کسی بھی دن کرنے کی تیاریاں کی جائیں“……لوگ دم بخود رہ گئے۔ ماحول پر خاموشی چھا گئی۔ بہت سے ایڈمرل اور چار ستاروں والے جنرل اس فیصلے پر حیران ہوئے۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ 15ستمبر 1950ء کو یہ لینڈنگ انچن بندرگاہ پر ہوئی۔پانی کی لہریں امریکی افواج کا ساتھ دے رہی تھیں۔شمالی کوریا والے حیران رہ گئے۔ یہ ان کے لئے شدید ناگہانیت تھی۔ اب ان کو اپنی سرزمین پر امریکی فوج سے نمٹنے کی مشکل درپیش تھی۔ آٹھویں فوج پر دباؤ کم ہو گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ میکارتھر کے اس وجدانی فیصلے نے امریکہ کو ایک خطرناک شکست سے بچا لیا۔وجدان کی اہمیت ۔۔پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی اور جدید افواج میں وجدان کی اہمیت کیا ہے۔امریکہ، برطانیہ،روس، فرانس اور جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بڑے بڑے فریقوں میں سے تھے۔ ان کی بیشتر افواج میں وجدان کی اہمیت کو تسلیم تو کیا جاتا تھا لیکن اس صفت یا اس خصوصیت کو سیکھنے اور حاصل کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی تھی۔ جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو روسی افواج وجدان کی افادیت اور اس کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھیں۔ ان کا فلسفہء زندگی جن بنیادوں پر استوار تھا اس میں غیر مادی پہلوؤں پر کم ہی توجہ دی جاتی تھی۔

خروشچیف کے زمانے میں جب 1951ء میں روس نے اپنا پہلا خلائی سیارہ سپتنک اول زمین کے مدار میں بھیجا تھا تونکتیا نے ازراہِ تمسخر عالمی پریس کو یہ بتایا کہ ”ہمارے خلانوردوں نے خلاء میں دور دور تک دیکھا لیکن ان کو تو (نعوذ باللہ) خدا کہیں نظر نہیں آیا“……۔مار کسی نظریہء حیات کی حامل سوسائٹی میں وجدان جیسی ماورائی اور وہبی ودیعتوں کا تصور جس قسم کا ہو سکتا ہے وہ ظاہر و باہر ہے۔ چنانچہ سوشلسٹ یا کمیونسٹ افواج میں وجدان کی اہمیت کی طرف کچھ توجہ نہ دی گئی۔ ان کے کمانڈ فیصلے تمام کے تمام سائنسی، منطقی اور مادی وجوہات و اسباب پر استوار سمجھے اور کئے جاتے تھے۔ فرانسیسی افواج کا حال بھی کچھ یہی تھا۔ جرمن افواج نے اگرچہ دوسری عالمی جنگ میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن ان کامیابیوں کے اسباب پر غور کیا جائے تو بظاہر یہ بڑی پر اسرار بھی نظر آتی ہیں۔ لیکن پُر اسراریت کی اس دھند کے باوجود لوگ ہٹلر کی قوتِ فیصلہ کو کسی وجدان کا مرہون احسان نہیں گردانتے تھے بلکہ اسے صرف ایک شخصی یا انفرادی خصوصیت سمجھتے تھے اور ہٹلر کو ایک مافوق الفطرت ہستی کے طور پر نمایاں کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ ہٹلر نے جو عجیب و غریب فیصلے کئے اور اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب کامیابیاں اور فتوحات حاصل کیں، وہ جرمن افواج کے کھاتے میں نہیں، صرف ہٹلر کے ذاتی کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں۔ جرمن فوج میں ”آفٹر آگس ٹیکٹیک“ کا تصور بھی وجدانی نہیں بلکہ سائنسی خطوط پر مبنی سمجھا جاتا ہے،

جس میں کم سے کم معلومات کی روشنی میں جلد سے جلد کمانڈ فیصلے کرنے کی گنجائش موجود ہے۔(آفٹر آگس ٹیکٹک کا تصور کیا ہے، یہ ایک الگ اور تفصیلی موضوع ہے جس پر اِن شاء اللہ اس موضوع کے خاتمے کے بعد بحث کی جائے گی) یہ عجب بات ہے کہ وجدان کی سب سے زیادہ پذیرائی امریکی افواج نے کی۔ انہوں نے اسے باقاعدہ ایک ایسی مہارت (Skill)کے طور پر اپنی افواج میں متعارف کروایا جو تمام سینئر کمانڈروں کے لئے لازمی سمجھی گئی۔ امریکی فیلڈ مینوئیل (FM105) میں کمانڈ فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: ”ہائر کمانڈ سائنس سے زیادہ ایک آرٹ ہے جو وجدان سے رہنمائی حاصل کرتی ہے“ امریکہ کے عسکری مورخوں نے اس موضوع پر بہت سے آرٹیکل تحریر کئے ہیں اور ان کے عسکری ادب میں اس پر بہت سا مواد موجود ہے۔ وہ سینئر کمانڈروں کو مستقبل میں جھانکنے اور نادیدہ امکانات کی تہہ میں اتر جانے کی باقاعدہ تربیت کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ برطانوی فوج کا بھی یہی حال ہے۔ اگرچہ برطانوی عسکری ڈاکٹرین میں بعض جگہ وجدان کی بجائے (Intutive Quality) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن دونوں کا مطلب تقریباً ایک ہی ہے۔ ان کی عسکری مینوئل کے الفاظ یہ ہیں: ”بعض حالات میں کمانڈر کو اپنی جبلّی حس کی بنیاد پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں“…… لیکن بعض جگہ نہایت وضاحت و صراحت سے لفظ وجدان کو استعمال کیا گیا ہے۔ برٹش آرمی ڈاکٹرین پبلی کیشن جلد دوم کے صفحہ 4پر یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: ”فیصلہ کرتے ہوئے کمانڈر اگر چاہے تو اپنے وجدان کو استعمال میں لا سکتا ہے۔

یعنی اگرچہ اس کو مشن اور مقصود کے حصول کے لئے بعض باتوں کا پابند کر دیا گیا ہے لیکن وہ ان سے قطع نظر اپنی ذاتی اور وجدانی حس کو بروئے عمل لا سکتا ہے“۔ آگے چل کر اسی ”پبلی کیشن“ میں مرقوم ہے: ”وجدان ایک ایسی صفت ہے جو تخیل اور قوتِ تخلیق سے گہرا ربط رکھتی ہے۔ لیکن عسکری حوالے سے اسے معلومات اور تجربات پر استوار کیا جانا چاہیے۔ وجدان ایک نہایت نازک الوجود صفت ہے جو دباؤ، ناقابلِ اعتماد معلومات اور ہیجان انگیز صورت حال کی موجودگی میں بڑی آسانی سے متاثر ہو جانے کا رجحان رکھتی ہے“۔ وجدان کی ٹریننگ ۔۔ لیکن ان تمام تحریروں اور ڈاکٹرین کی موجودگی کے باوجود اب تک کوئی ایسا طریقہء تدریس وضع نہیں کیا جا سکا جو وجدان کی سکھلائی دے سکے۔ کمانڈ کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں اور جوں جوں اوپر جائیں کمانڈ کے فیصلے زیادہ دور رس اہمیت کے حامل ہوتے جاتے ہیں۔ ایک آرمی کمانڈر کا فیصلہ جو وقعت و حیثیت رکھتا ہے وہ کس ڈویژن یا بریگیڈ کمانڈر کا فیصلہ نہیں رکھتا اور بریگیڈ کمانڈر کا فیصلہ جو اہمیت رکھتا ہے وہ بٹالین کمانڈر، کمپنی کمانڈر یا پلاٹون کمانڈر کے فیصلوں کی اہمیت سے کہیں زیادہ وقیع ہو گا۔ سینئر کمانڈر جب ایک بار اپنے وجدان کے سہارے کوئی فیصلہ کر دیتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں رہتا بلکہ اس کی سپاہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ یعنی آپریشن کو متصوّر (Conceive) کرنا تو سینئر کمانڈر کی ذمہ داری ہے لیکن اس کی تکمیل (Execution) جونیئر لیڈروں، این سی اوز اور جوانوں پر آن پڑتی ہے۔ یہی وہ تعامل (Interaction) ہے جو وجدان کے سہارے کئے گئے فیصلوں اور ان کو روبہ عمل لانے میں حائل ہوتا ہے اور جہاں وجدانی پُراسراریت، حقیقی ٹریننگ کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔ جب تک کسی کمانڈر کی سپاہ اپنے کمانڈر کے تخیل کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مطلوبہ ٹریننگ کی حامل نہیں ہو گی، اس کا وجود اسے ناکامیوں اور شکستوں کی طرف لے جائے گا۔ اسی لئے اچھی کمانڈ اپنی سپاہ کو تربیت دیتے وقت سخت سے سخت اور کڑے سے کڑے معیاروں کو مدنظر رکھتی ہے اور پھر جب اس معیار کو آزمانے کی گھڑی آتی ہے تو کمانڈر کا وجدان ایک ایسے اعتماد و یقین پر استوار ہوتا ہے جس میں فتح کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ (ش س م)