وسائل سے بڑھ کر زندگی گزارنے والے : 1960 میں گلبرگ لاہور کی رہائشی ایک فیملی کے ساتھ کیا انوکھا واقعہ پیش آیا تھا جو موجودہ حکمرانوں اور اداروں کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) 1960ء کی بات ہے کہ گلبرگ لاہور کی رہائشی ایک فیملی ہمارے گائوں کے ایک لڑکے کو گھریلو کام کیلئے ساتھ لے گئی۔ جو گھر سے کبھی نکلا نہیں تھا اور لاہور جاتے ہی سخت اداس ہو گیا۔ حتٰی کہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ فوری گائوں واپسی کا بندوبست ہوا

نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور مالک نے اسے دس روپے دیئے۔ لڑکا معصومیت سے بولا کہ پیسے بیشک رہنے دو‘ یہ جوتا مجھے دے دو۔ اور وہ جوتا پلاسٹک کی چپل تھی‘ جسے عرف عام میں ہوائی چپل کہتے تھے۔ ابھی نئی نئی آئی تھی اور قیمت بھی گیارہ روپے تھی۔ مالک فرمائش سے محظوظ ہوا اور وہ چپل بھی اسے دے دی۔ ہفتے بعد پولیس لڑکے کو پکڑ کر لے گئی کہ یہ چپل اسکے پاس کہاں سے آئی۔ یقیناً چوری کی ہوگی۔ معاملہ مالکوں تک پہنچا جنہوں نے تصیق کی کہ واقعی بچے کو تحفتہً دی گئی تھی۔ وسائل سے بڑھ کر زندگی بسر کرنے کا قانون آج بھی موجود ہے۔ بظاہر ایک روپیہ بھی نہ نمانے والے سب کے سامنے کروڑوں خرچ کررہے ہیں اورپوچھنے والا کوئی نہیں۔